شہرِ اقتدار میں ایک شام
20 مارچ 2019 2019-03-20

شہرِ اقتدار کے ایک ٹیکسی ڈرائیور سے ہم نے دریافت کیا کہ تم کیا تبدیلی محسوس کررہے ہو؟

تو وہ بولا :”باقی تو سب جوں کا توں ہے البتہ جب سے بھارت نے طیارے بھیج کر ہماری طاقت آزمانے کی کوشش کی ہے الحمد للہ ہم نے اسے یہ بتادیا ہے کہ ہم جاگتے ہیں۔ ہمارے شاہینوں نے ان کی ”چیلوں“ کو ماربھگایا ہے۔ بابو جی : اس سے قبل کی حکومت میں اگر ایسا ہوتا تو سیاسی حکومت کے کان پر جون تک نہ رینگتی ۔ عمران خان نے بروقت امن کے پیغام کے ساتھ ”جوابی کارروائی“ کا اعلان ہی نہیں کیا۔ ان کے طیاروں کو مار گراکر پائلٹ انہیں تحفے میں دیاہے۔ اس اقدام سے عوام بہت خوش ہیں۔ اب عمران عوام کا اس مہنگائی سے بھی جان چھڑوادے تو یہ بہت بڑی تبدیلی ہوگی۔“

ٹیکسی ڈرائیور بولا : سابق فوجی ہوں، نائیک بننے کے بعد میں نے فوج کی ملازمت گھریلو مجبوری کی بنا پر چھوڑ دی تھی۔ کچھ بارانی زمین ہے۔ یہ ٹیکسی میری اپنی ہے خود چند گھنٹے چلاکر گزارہ کررہا ہوں۔ بس پیٹرول مہنگا ہو گیا ہے اب کچھ زیادہ بچتا نہیں۔ شاید ابھی وہ اپنی مزید کہانی سناتا مگر منزل آگئی تھی، بولا: ”لو سرجی! باتوں میں پتہ نہیں چلا الشفا آگیا ہے ۔“ میں نے اسے یہی منزل بتائی تھی کہ رائٹرز کلب اکادمی ادبیات پاکستان عموماً ٹیکسی ڈرائیور کی سمجھ میں نہیں آتا۔

بہت دنوں بعد اسلام آباد کا چکر لگا تھا۔ اس شہر میں بہت سے مہربان دوست ہیں ۔ مگر محبوب ایک ہی ہے جس نے اپنی تپسیا سے کئی دلوں کو مسخر کررکھا ہے شاید لوگ اسی لیے اُسے محبوب ظفر کہتے ہیں۔ ائر یونیورسٹی اسلام آباد کے مشاعرے میں شرکت کے لیے وہی احباب سے رابطے میں تھا۔ شام کو ائر یونیورسٹی میں آسمان سخن کے کئی ستارے یہاں جگمگارہے تھے۔ شعراءکی آﺅ بھگت ہورہی تھی کراچی سے پیرزادہ قاسم، انور شعوراور ریحانہ روحی ، کوئٹہ سے محسن شکیل، پشاور سے اپنے ناصر علی سید ،لاہور سے یاسمین حمید، امجد اسلام امجد، خالد شریف ،شوکت فہمی، نائلہ انجم اور مقامی شعراءکی فہرست میں صدر مشاعرہ افتخار عارف ، توصیف تبسم ، انور مسعود ، نصرت زیدی ، جلیل عالی، طارق نعیم ، اختر رضا سلیمی ،علی یاسر موجود تھے ہاں یاد آیا فیصل آباد سے انجم سلیمی، عماد اظہر اور آزاد کشمیر سے احمد عطا بھی مدعوتھے ۔ مشاعرہ کے ہال میں تِل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ نظامت کے فرائض محبوب ظفر نے بطریق احسن ادا کیے۔ وائس چانسلر ایئرمارشل (ر) فائز امیر ، اساتذہ اور طلباوطالبات کے علاوہ مہمان خصوصی ایئرمارشل کلیم سعادت بھی موجودتھے ۔ تمام شعرا کو اچھے اشعار پر داد ملی۔ ایئرمارشل (ر) فائز امیر نے کہا آج کی شام قوم کے شاہینوں کے نام ہے جنہوں نے قوم کا سر نیچے نہیں ہونے دیا۔ الحمد للہ قوم جاگ رہی ہے اور افواج پاکستان سرحدوں پر چوکس وہوشیار ہیں انور مسعود نے مشاعرے میں قوم کی ترجمانی کا حق ادا کیا۔

امن وسلامتی کی روش ہے مرا شعار

دنیا کو یہ پیام دیئے جارہا ہوں میں

بھارت نے پائلٹ ”ابھی نندن “ کی شکل میں

جوکچھ مجھے دیا تھا وہ لوٹا رہا ہوں میں

............

آبدوز اس نے نکالی اپنی

ہم کو معلوم تھا ایسا ہوگا

اب وہ پانی کی طرف سے آیا

ڈوب مرنے کا ارادہ ہوگا

مشاعرہ چونکہ پاک فضائیہ یونیورسٹی کا تھالہٰذا اچھا خاصا نظم وضبط دیکھنے میں آیا۔ مشاعرہ بروقت شروع ہوا اور اپنے مقررہ وقت پر اختتام کو پہنچا۔ شاعروں نے بھی ایک دوکے علاوہ وقت کا خاص خیال رکھا۔ پرتکلف کھانا اور سلفیاں بھی ہوئیں۔ رات دیرتک ہم رائٹرز کلب میں بھی ادبی صورت حال پر گپ شپ کرتے رہے ۔ ناصرعلی سید جہاں ہوں وہاں قہقہے نہ گونجیں یہ ہوہی نہیں سکتا۔ محسن شکیل ریحانہ روحی اور خاص طوراکادمی کے دونوجوان افسران اور منفرد تخلیق کار اختررضا سلیمی ، علی یاسر کی موجودگی نے احساس ہی نہ ہونے دیا کہ رات بھیگ چکی ہے۔ زیربحث موضوعات پر الگ کچھ لکھوں گا ہاں پاکستانی اعزازات پر اہل قلم انگشت بدنداں ہیں ادبی حوالے سے ایوارڈ آٹے میں نمک کے برابر دیئے گئے۔ ادبی اداروں کی نئی تعیناتیاں بھی رہتی ہیں۔ مگر عمرانی حکومت اس سلسلے میں پھونک پھونک کر قدم رکھ رہی ہے۔ بعض احباب کا خیال ہے کہ وزارت اطلاعات قدرے کمزور ہے یہاں فواد چودھری بھی ابھی فعال نہیں ہوسکے ۔ ان کی تبدیلی کی باتیں بھی ہیں۔ ابھی تک پنجاب کے وزیراعلیٰ کی کارکردگی بھی سامنے نہیں آسکی۔ ابھی تک شفقت محمود کی صلاحیتوں سے بھی استفادہ نہیں کیا جاسکا۔ ادبی اداروں کے فنڈز جاری نہیں ہوئے جس سے ماہانہ وظائف اور دیگرمعاملات بھی لٹکے ہوئے ہیں۔ ابھی سننے میں آرہا ہے اردو سائنس بورڈ کو مقتدرہ یعنی ادارہ فروغ اردو زبان میں ضم کیا جارہا ہے۔ یہ بھی کوئی اچھا فیصلہ نہیں ہوگا۔ ہمارے ہاں حکومت بدلتے ہی ان علمی ادبی اداروں میں بھی اکھاڑ پچھاڑ شروع ہو جاتی ہے حالانکہ اس کی بنیاد سراسر کارکردگی ہونی چاہیے۔ جن اداروں کے سربراہ اچھا کام کررہے ہیں انہیں ان کے عہدوں پر رہنا چاہیے۔ نیشنل بک فاﺅنڈیشن ان اداروں میں سب سے زیادہ فعال ادارہ بن چکا ہے اور کتاب کے فروغ میں اس ادارے کی کارکردگی ڈھکی چھپی نہیں ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے اس ادارے کو ”کماﺅ پوت“ بنادیا ہے۔ سو اداروں میں تعیناتی کرتے وقت شخصیات کو سیاسی عینک سے نہ دیکھاجائے صلاحیتوں کو دیکھ کر ہرادارے میں تقرری کی جائے۔ یہ سب باتیں اہل قلم میں ہورہی ہیں۔ اس رات بھی اس طرح کے موضوعات بھی زیربحث رہے کہ اچانک ناصرعلی سید نے کہا :”یارو اب اجازت، مجھے تو اپنے بابا کی بات پر عمل کرنا ہوتا ہے کہ ”پرندوں سے پہلے جاگنے کی عادت ڈالو : شب بخیر “: میں نے کہا :

رات سویا میں پرندوں کو دعائیں دے کر

صبح جاگا تو درختوں نے کہا صبح بخیر


ای پیپر