”سمجھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں“
20 مارچ 2018 2018-03-20

یوں محسوس ہوتا ہے شریف برادران کی خوشامد کرنے والوں کی تعدادمیں روز بروز کمی واقع ہوتی جارہی ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے اُنہوں نے خود ہی اپنی خوشامد شروع کردی ہے۔ بلکہ خودہی اپنی خوشامد کرنے کی ویسی ہی انتہا کردی ہے جیسی انتہا اپنے وزیروں شذیروں اور پارٹی ورکروں وغیرہ سے وہ چاہتے ہیں۔ اُن ہی کی پارٹی کے ایک رہنما ایک واقعہ سناتے ہیں، ڈیڑھ دوبرس قبل جب نواز نام کے شریف لندن کے ایک ہسپتال میں زیرعلاج تھے وہ اُن کی عیادت کے لیے گئے۔ اُن دنوں پارٹی کے بے شمار رہنما اور وزیر شذیر اُن کی عیادت کرنے جاتے تھے۔ وہ رہنما چونکہ زیادہ خوشامد کرنا پسند نہیں کرتے تھے، اور اُن کی اِس ”خرابی“ کا شریف فیملی کے ساتھ ساتھ شریف فیملی کے نوکروں چاکروں کو بھی پتہ تھا، تو اُنہوں نے اُس رہنما کی نواز نام کے شریف (مریض) کے ساتھ ملاقات کروانے سے انکار کردیا، اور فرمایا ”ڈاکٹروں نے ملاقاتوں پر پابندی عائد کررکھی ہے “.... عین اُس وقت نون لیگ کے ایک وزیر جو خوشامد کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے تشریف لے آئے۔ اُنہیں کسی نے عیادت کرنے سے نہیں روکا، بلکہ اُنہیں پورے ادب احترام کے ساتھ اُس کمرے میں لے جایا گیا جہاں مریض تھا۔ خوشامد نہ کرنے والے نون لیگی رہنما نے اس پر زبردست احتجاج کیا کہ مجھے عیادت سے کیوں روکا جارہا ہے؟ اور اِس وزیر کو کیوں اندر بھیج دیا گیا ہے؟۔ اُس نے جب زیادہ شورمچایا تو اُسے بھی یہ کہہ کر اندر بھیج دیا گیا دومنٹ سے زیادہ اندر نہیں رُکنا۔ اِس موقع پر یہ بھی اُس وزیر نے فرمایا ” میاں صاحب میں کل ایبٹ آباد اپنے پیر صاحب سے ملنے گیا تھا۔ اُنہوں نے مجھ سے پوچھا ”رانا صاحب ان دنوں رمضان شریف میں تو آپ اکثر عمرے کی سعادت حاصل کرنے جاتے ہیں، اِس بار نہیں گئے؟ میں نے عرض کیا ”قبلہ پیر صاحب اِس بار میں اُس سے زیادہ بڑی سعادت حاصل کرنے جارہا ہوں، میں اپنے لیڈر کی عیادت کرنے جارہا ہوں“ ....میاں صاحب اُن کی بات سن کر مسکرائے اور نوکر سے کہا ”بھئی رانا صاحب کے لیے فروٹ وغیرہ لے کر آﺅ“ ....پھر اچانک اُن کی نظر مجھ پر پڑی تو بڑی بیزاری سے نوکر سے کہنے لگے ”اِسے بھی کوئی پانی شانی پوچھو“ ....اب جبکہ ان خوشامد پسندوں بلکہ خوشامد پرستوں کا اقتدار خاتمے کے قریب ہے بلکہ اقتدار کے بعد سیاست بھی خاتمے کے قریب ہے اور ان کی خوشامد کرنے والوں میں بتدریج کمی واقع ہوتی جارہی ہے، جس سے ان کے غصے اور ڈپریشن وغیرہ میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، تو اِس عالم میں یہ بے چارے اپنے منہ میاں مٹھو بننے کی ہرحد پار کرتے جارہے ہیں ، مجھے تو لگتا ہے کسی روز یہ دعویٰ بھی فرمادیں گے”پوری دنیا کو رزق ہم فراہم کرتے ہیں یا ہمارے بعد سیاست میں کوئی نہیں آئے گا“ ....بہرحال ” اول وآخر نواز شریف “ کا ورد کرنے والوں کی تعداد کم ہوتی جارہی ہے ،....بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ کی بھی ذرا سن لیں ۔ ایک اعلیٰ افسر بتارہے تھے کوئی ایک سال پہلے وہ بہاولپور کے دورے پر تشریف لائے ۔دورہ مکمل کرنے کے بعد خوشامدیوں اور مجبوروں کے ایک بڑے ہجوم کے ساتھ حسب عادت بڑے تیز تیز قدموں سے جب اپنے ہیلی کاپٹر کی جانب وہ بڑھ رہے تھے، پیچھے سے اچانک ایک عورت عمر، عمر کی آوازیں بلند کرنے لگی جس پر موصوف نے کوئی توجہ نہیں دی۔ پھر اس نے اونچی آواز میں تاریخ کی ایک محترم شخصیت کا نام لیا ،موصوف بڑی پھرتی سے پیچھے مڑے، اُس عورت سے کہنے لگے ”بی بی آپ مجھ سے مخاطب ہیں؟“۔ اُس نے فرمایا ” ہاں میں اِس دور کے بڑے آدمی سے مخاطب ہوں“۔ پھر اُس نے اپنی فریاد سنائی۔ اور موصوف اپنے سٹاف کو اُس کی مدد کا حکم دے کر بڑے ڈرامائی اور فنکارانہ انداز میں یہ تاثر دینے میں کامیاب ہوگئے کہ لوگ اُنہیں کس درجے پر فائز کرتے ہیں....اِس سوچ کے حامل حکمرانوں اور سیاستدانوں کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے جو چالاکی میں کوئی ثانی نہیں رکھتے مگر ثابت یہ کرنے میں لگے رہتے ہیں ان کا درجہ بہت بلند ہے ....شہزادی کا حال بھی ذرا سن لیں۔ اگلے روز راولپنڈی میں سوشل میڈیا ورکرز کنونشن میں فرمارہی تھی ”آج صبح میاں صاحب پر جوتا اُچھالا گیا میں تڑپ اُٹھی ۔ پھر مجھے اسلامی تاریخ میں، اسلامی کتابوں میں، اسلامی تعلیمات میں وہ منظر یاد اگیا جب ہمارے نبی پاک خانہ کعبہ میں نماز ادا کرتے ہوئے سجدے میں جاتے تھے تو کفار اُن کے ساتھ کیا کرتے تھے، اور فاطمہ زہرہ ؓ اُس وقت روتی جاتی تھیں۔ آپ حق کے راستے پر تھے، نواز شریف بھی حق کے راستے پر ہے“ ....توبہ توبہ ....استغفراللہ ....ایسی مثال دیتے ہوئے اُس کی روح نہیں کانپی؟ اُس کی اِس مثال پر تالیاں بجانے والے غرق کیوں نہیں ہوگئے؟ .... اپنے ”باپ شریف“ کی مخالفت کرنے والوں اور اُسے جوتا مارنے والوں کو اپنی طرف سے اُس نے ”کفار“ قرار دیا ہے۔ اِس بے خبر کو کون سمجھائے بی بی آپ کے باپ شریف کو جوتا توہین رسالت کے قانون میں تبدیلی کی ناکام کوشش کرنے پر مارا گیا ہے۔ اور آپ کے باپ شریف جب خانہ کعبہ میں سجدہ ریز ہوتے ہیں اُن کے ذہن میں تب بھی یہی فلم چلتی ہوگی مزیدلُوٹ مارکیسے کی جائے ؟ یا لوٹا ہوا مال کیسے بچایا جائے؟۔ اِن حالات میں جومثالیں آپ دے رہی ہیں۔ انتہا ہوتی جارہی ہے۔ کل ”چھوٹے شریف“ نون لیگ کی جنرل کونسل کے اجلاس میں ”بڑے شریف“ کو قائداعظمؒ سے مِلا رہے تھے۔ اِس پر بھی لوگ تالیاں بجا رہے تھے۔ مجھے اُس وقت قرآن پاک کے ارشادات مبارکہ یاد آرہے تھے ”بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلے، اور جب اللہ کسی قوم کی برائی چاہتا ہے پھر اُسے کوئی نہیں روک سکتا“۔ اور یہ بھی کہ ”جیسی قوم ہوگی ویسے حکمران اُس پر مسلط کردیئے جائیں گے“....شکر ہے ” چھوٹے شریف“ نے جوش خطابت وفنکاری میں یہ نہیں کہہ دیا ”قائداعظمؒ آج زندہ ہوتے اور ہمارے قائد نواز شریف کے مقابلے میں الیکشن لڑتے تو بُری طرح ہار جاتے “ ....اِن کا تو بس نہیں چلا نوٹوں سے قائداعظمؒکی تصویر ختم کرکے اپنی لگوادیتے۔ اب سپریم کورٹ نے سرکاری اشتہاروں پر اُنہیں اپنی تصویریں لگانے سے منع کردیا ہے تو خوشامدو شہرت پسندوں کے دلوں پر اللہ جانے کیا گزری ہوگی۔ ہرراستہ ان کے لیے کٹھن ہوتا جارہا ہے ۔ یہ کسی عمران خان کی وجہ سے نہیں ہورہا۔ یہ قدرت کا انتقام ہے جس کی شدت روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔ ....” سمجھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں“ ....اور نہ سمجھنے والوں کے لیے نشانے!


ای پیپر