ملکی سیاست میں نئی ہلچل ۔۔۔فارورڈ بلاک کی خبریں
20 جون 2019 (19:18) 2019-06-20

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے ہوابازی غلام سرور خان نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں فارورڈ بلاک بن سکتا ہے،دونوں پارٹیوں کے ارکان پی ٹی آئی سے رابطے میں ہیں، نہ ان ہاوس تبدیلی آئے گی، نہ چیئرمین سینیٹ تبدیل ہوں گے اور نہ ہی حکومت مخالف تحریک چلے گی، حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی جماعتیں آپس میں ایک ساتھ نہیں ہیں۔

جمعرات کو پارلیمنٹ ہاﺅس میں میڈیاسے بات چیت کرتے ہوئے غلام سرور خان نے کہاکہ جس شخص کے خلاف ریفرنس بن رہے ہیں وہ ایوان میں آکر لیکچر دیتا ہے۔ایک سوال پرپی ٹی آئی کے وزیر نے کہا کہ ان کے خیال میں جب تک الزامات سے رکن پارلیمنٹ کو مبرا قرار نہ دیا جائے اس وقت تک اسے ایوان کی کارروائی میں شرکت نہیں کرنی چاہیے۔

ذرائع ابلاغ کے استفسار پر غلام سرور خان نے کہا کہ پیش کردہ بجٹ پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کے ووٹوں کے بغیر ہی منظور کرالیں گے۔وفاقی وزیر برائے ہوابازی نے اپنے انتخابی حریف اور سابق وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کے حوالے سے کہا کہ وہ یا تو حلف اٹھائیں اور یا استعفی دے دیں۔

مولانا فضل الرحمان کے متعلق غلام سرور خان نے کہا کہ ان کے پاس چند مدرسے اور کچھ بچے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کے ساتھ عوام ہوتے تو وہ اپنی نشست ہی جیت لیتے۔پاکستان کی پارلیمانی سیاست میں فارورڈ بلاک کا کردار کوئی نیا نہیں ہے اور ماضی میں متعدد مرتبہ یہ کافی اہمیت کا حامل گردانا بھی گیا ہے لیکن آئینی ترمیم کے باعث گزشتہ کچھ عرصے سے ملکی سیاست میں اس کی بازگشت سنائی نہیں دی ہے۔


ای پیپر