آج کی تاریخ اور مورخ کی پریشانیاں
20 جون 2019 2019-06-20

مورخ جب آ ج کے دور کی دور تاریخ لکھے گا تو خاصا پریشان ہو جائے گا۔ ایک منتخب ایوان جس کے چلتے اجلاس میں اسپیکر چیمبر کو سب جیل قرار دیا گیا۔پوری سندھ اسمبلی غلط ہے؟ یا پھر سپیکر چیمبر کو سب جیل قرار دینے کاحکمنامہ درست نہیں۔نہیں لگتا کہ واقعی شفاف احتساب ہو رہا ہے۔

مورخ ابھی تک پچاس کے عشرے کے دو واقعات پر پریشان ہے ۔ کراچی کو سندھ سے الگ کرکے وفاقی علاقہ بنانے کے فیصلے کے خلاف سندھ سراپا احتجاج بن گیا۔ اس مسئلے پر قائم ہونے والے سندھ عوامی محاذ کے سینکڑوں کارکنوں کو جیل بھیج دیا گیا۔ بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیشِ نظر وزیر اعظم لیاقت علی خان نے پنجاب کے ایک وکیل دین محمد کو سندھ کا گورنر بنایا۔ اس پر سندھ کے عوام نے مزید ناراضگی کا اظہار کیا۔ نئے گورنر نے سندھ میں اسمبلی توڑ کر گورنر راج نافذ کردیا۔ کھوڑو کو ایبڈو کے ذریعے نااہل قرار دیا گیا۔ بعد میں عبدالستار پیرزادہ نے حکومت بنانے کے لیے کراچی کی سندھ کو واپسی، مرکزی اداروں میں سندھیوں سے امتیازی سلوک کا خاتمہ، فوجی افسروں کو سندھ میں زمینیں دینے پر ممانعت جیسے مطالبات رکھے۔ ان دنوں پنجاب سے تعلق رکھنے والے نواب افتخار حسین ممدوٹ کو سندھ کا گورنر بنایاگیا جنہوں نے ستار پیرزادہ کی حکومت ختم کرکے ایوب کھوڑو کو بحال کردیا۔ پھر کھوڑو کے ذریعے ہی ون یونٹ کا بل منظور کرایا۔

سیاست میں مداخلت کی اس گتھی کو بھی جب تحریک انصاف کی وفاقی حکومت پر دبائو بڑھا، اپوزیشن نے وفاقی بجٹ بلاک کرنے کا فیصلہ کیا ، اس کے جواب میں حکومت نے مختلف طریقے اختیار کئے، ایک یہ قومی اسمبلی میں لیڈر آ ف اپوزیشن کو تقریر کرنے نہیں دی۔ خود وزراء نے بھی ہنگامہ کیا۔ پھر وزیراعظم کا یہ بیان بھی آیا کہ وہ اپوزیشن کی اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے، پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا کہ سرکاری بینچوں نے اسمبلی میں شور شرابا کیا، اسپیکر کی ایک بھی نہیں سنی نتیجے میں حکومت کے اپنے ہی طلب کردہ اجلاس کو اتناڈسٹرب کیا کہ ڈپٹی اسپیکر کو اجلاس ملتوی کرنا پڑا۔

حکومت نے دوسرا قدام یہ اٹھایا کہ اپوزیشن سے بارگین کرنے کے لئے ایوان کی روایات کے برعکس گرفتار اراکین اسمبلی آصف علی زرادری اور سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کئے۔ بعد میں جب حکومت نے اپوزیشن سے اپنا یہ مطالبہ منوا لیا کہ اپوزیشن سرکاری اراکین کی تقاریر بھی بغیر شور غل کے سنیں گے، تو پابند سلاسل اراکین کے پروڈکشن آرڈر جاری کئے گئے۔ یعنی قوانین ضابطے جو کہ کمزور کو حق دلانے کے لئے ہوتے ہیں، ان کو ایک طرف رکھ کر اس کو بطور رعایت کردیا گیا۔ یعنی حکومت مہربان ہوگی تو اراکین اسمبلی کو اجلاس میں شرکت کرنے دے گی نہیں تو نہیں۔ اور حکومت مہربان تب ہوگی جب اپوزیشن حکومت کے ساتھ رویہ درست رکھے گی۔ یہ تمام اقدامات دراصل اپوزیشن کی آواز دبانے کے لئے اختیار کئے گئے ہیں۔

تیسرا قدم حکومت نے یہ اٹھایا کہ بجٹ کے خلاف تحریک چلانے کی محرک جماعت پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت پر دبائو ڈالا گیا۔ ایک طرح سے پورے منتخب ایوان کی قانونی حیثیت کو چیلینج کیا گیا۔یہاں تک کہ گورنر سندھ عمران اسماعیل نے سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ اجلاس طلب کرنے والے اراکین کے دستخط اصلی یا نقلی ہونے کا سوال اٹھایا کر درخواست کو غیرقانونی کہا گیا۔ گورنر کے پاس کیا ثبوت ہیں کہ اجلاس بلانے کی درخواست دینے والے اراکین ملک یا شہر کے اندر ہیں یا نہیں؟ نہیں معلوم کہ گورنر سندھ اس طرح کا اعتراض کرنے کے لئے کو کس نے ایسا ’’قانونی مشورہ ‘‘ دیا ۔آئین ، یا اسمبلی کے قواعد و ضوابط میں کہیں نہیں لکھا کہ دستخط کرتے وقت اراکین اسمبلی کی صوبائی دارالحکومت میں موجودگی لازمی ہے۔ یہ سیاست اور جمہوریت میں مروجہ روایت ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے اراکین اسمبلی سے بعض درخواستوں پرپیشگی دستخط لے لیتی ہیں۔ بالکل اس طرح جیسے ٹکٹ ایوارڈ کرتے وقت کاغذات نامزدگی سے دستبرادری کے فارم پر سیاسی جماعتیں دستخط لے لیتی ہیں یا منتخب ایوان سے استعفیٰ کی درخواست پر بھی دستخط لے لیتی ہیں۔ یہ سب دستخط تب تک جائز مانے جاتے ہیں تاوقتیکہ کوئی ممبراپنے دستخط سے دستبردار نہیں ہوتا۔ جمہوریت روایات پر چلتی ہے۔ دنیا کی سب سے پرانی پارلیمانی جمہوریت برطانیہ میں سب سے بڑا قانون آئین بھی غیر تحریری ہے اور روایات پر چلتا ہے۔ سندھ اسمبلی سیکریٹریٹ نے گورنر سندھ کے اس اعتراض کو مسترد کردیا کہ کونسا ممبر کہاں ہے اس کی تصدیق کرنا ہمارا کام نہیں، تاہم دستخط اصلی ہیں۔

چوتھا قدم حکومت کا یہ تھا کہ اچانک جی ڈی اے کو ایک بار پھرسرگرم کیا گیا جب بھی پیپلزپارٹی وفاقی حکومت سے ٹکرائو کی پالیسی اختیار کرتی ہے، جی ڈی اے حرکت میں آتا ہے۔ ایک بار پھر سندھ حکومت کو یہ پیغام دیا جارہا ہے کہ اگر صوبے کی حکمران جماعت پیپلزپارٹی جو وفاق میں اپوزیشن کے ساتھ مل کر تحریک چلانے جارہی ہے، اس نے ’’مناسب ‘‘ رویہ نہ رکھا تو اس کی حکومت کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ وفاقی حکومت گزشتہ جولائی کے انتخابات کے بعد سندھ حکومت کوجی ڈی اے کا پتہ تیسری مرتبہ دکھا رہی ہے۔ تین روز قبل منعقدہ جی ڈی اے کے اجلاس میں سندھ حکومت کے خاتمے اور گورنر راج نافذ کرنے کی باتیں کی گئیِ ۔اتحاد کے سربراہ پیر پگارا نے یہ موقف اختیار کیا کہ موجودہ حکمرانوں کے ہوتے ہوئے شفاف احتساب ممکن نہیں۔ عدالتیں سندھ میں جرائم، کرپشن اور خراب حکمرانی کا نوٹس لیں۔یعنی سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت ختم کردی جائے، مزید یہ کہ عدلیہ سندھ حکومت کے لئے وہ رویہ اختیار کرے جو جسٹس ثاقب نثار نے کیا تھا۔ مطلب حکومتی معاملات میں عدلیہ کی بیجا مداخلت ۔ غوث علی شاہ کا کہنا ہے کہ جی ڈی اے سندھ حکومت کے خاتمے کے لئے اہم کردار ادا کرے گا۔ جی ڈی اے آصف علی زرداری اور دیگر کو سزائیں بھی دلانا چاہتا ہے۔ اس کا موقف ہے کہ کرپشن کرنے والوں کی صرف گرفتاریاں کافی نہیں، انہیں سزائیں ملنی چاہئیں۔ جی ڈی اے کے سیکریٹری ایاز لطیف پلیجو کا کہنا ہے کہ سندھ کارڈ اب نہیں چلے گا۔یہ کہہ کر یقین دہانی کرائی جارہی ہے کہ پیپلزپارٹی کی قیادت کو سزائوں کی صورت میں سندھ احتجاج نہیں کرے گا۔ جبکہ زمینی حقائق اس سے مختلف ہیں۔ سندھ میں گورنر راج کے نفاذ یا پیپلزپارٹی کی حکومت کے خلاف ممکنہ کارروائی کے امکان پر سوشل میڈیا میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ جس میں جی ڈی اے کے موقف کی مذمت کی گئی۔ سول سوسائٹی اور رائے عامہ بنانے والوں نے اس امکانی صورتحال میں پیپلزپارٹی کا ساتھ دینے کا موقف اختیار کیا ہے۔ یہ دعوے اور کوششیں اپنی جگہ پر، تمام شکایات اور الزامات کے باوجود سندھ پیپلزپارٹی کے خلاف کھڑا نہیں ہو سکا ہے۔


ای پیپر