تصادم کی طرف بڑھتا ہوا منظر نامہ
20 جون 2019 2019-06-20

پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اودھم مچنے کے جو مناظر ہم لائیو دیکھ رہے وہ جمہورت کے لیے اچھا شگون نہیںہے پارلیمنٹ کو کرکٹ گراونڈ میں تبدیل کر لیا گیا ہے۔حکم ہے کہ کیفے پر بھی ساتھ بیٹھے نظر نہ آئیں ہمارے منصف اعلیٰ کو بھی تو دکھ ہے کہ عدلیہ کے سوا کہیں سے اچھی خبریں نہیں آرہیں ۔پارلیمنٹ نے تو مایوس کیا تھا مگرکرکٹ کا میدان بھی ایسے ہے کہ ڈسپلن غائب ۔کارکردگی ایسی مایوس کن مگر چیف جسٹس کھوسہ نے جن کی مدت ختم ہونے میں چند ماہ ہی بچے ہیں ایک مثال قائم کرکے جائیں گے قوم آپ کا احسان نہیںبھولے گی۔ایک موقع افتخار چودھری کو ملا تھا پھر با با رحمتا آگیا جو پروٹوکول کے سخت خلاف تھے مگر ان کے اپنے پروٹوکول کا یہ عالم تھا تیس تیس کیمرہ مین اور رپورٹر ان کے پیچھے بھاگتے تھے۔ مقدمات کا انبار لگتا گیا جو آپ نے از خود نوٹس کا سلسلہ ختم کرکے نمٹایا ایک سیاسی جماعت کے خلاف ان کے ریمارکس گونجتے اور گرجتے رہے، احتساب کے نام پر گرفتاریاں اور اس کے رد عمل سیاست کا کھیل بڑا بے رحم ہے آدمی کو اتنا کام کرنا چاہیے جتنا وہ برداشت کر سکے۔ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی قیادت کو جیل ڈالنے کے باوجود یہ بیانیہ نہ تو قوم اور نہ عالمی سطح پر مقبول ہو سکا ہے کہ مخالف سیاسی لیڈروں کو مجرم بنا کر پیش کریں ۔ برطانیہ کے ساتھ ملزمان کی حوالگی کے سلسلے میں جو معاہدے تبدیلی سرکار کی طرف سے ہو چکے ہیں،اس کے بعد شہزاد اکبر کا یہ کہنا درست نہیں ہے کہ اسحاق ڈار جلد پاکستان میں ہوں گے اسحاق ڈار بھی برطانیہ کی وزارت داخلہ کا دورہ کرچکے ہیں ۔ یہ کام اتنا آسان نہیں دنیا پاکستان کی انتخابی سیاست کو بھی سمجھتی ہے اور سیاسی انتقام سے بھی آگاہ ہے،جب ضیاالحق پاکستان کے اقتدار اعلیٰ پر قابض ہوا ۔ بھٹو کو جس جابرابہ انداز میں پھانسی پر لٹکائے جانے کا جو فیصلہ وہ کر چکے تھے برطانیہ کی پارلیمنٹ نے اس وقت بھی ضیا الحق کو اپنی سوچ کے بارے میں بتایا تھا، آمرانہ طرز سیاست کی دو نمبری کو جمہوری معاشرے اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو بھی بتا دیا ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔ جوبغلیں بجا رہئے تھے کہ ڈار صاحب لائے جا رہے ہیں،دوسری جانب برطانیہ نے نے دو ٹوک الفاظ میں بتا دیا ہے کہ سیاسی مقدمات پر حوالگی ملزمان کا معاہدہ نہیں کریں گے ۔ ہماری حکومت کے تنخوا خوار ترجمانوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ وزیر اعظم پر جھوٹ بولنے کا الزام حکومت اورخاص طور پرموجودہ بجٹ اجلاس میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے لگایا ہے کہ آخری بار پوچھ رہا ہوں کہ وزیر اعظم بار بار شور مچاتے ہیں کہ اپوزیشن اس لیے احتجاج کرتی ہے کہ میں ان کو این آر او دے دوں، میں مر جاؤں گا این آر او نہیں دوں گا،سوال یہ اٹھایا سپیکر کو مخاطب کر کے کہا ’’عمران بتائیں، کب، کس نے این آر اومانگا،گواہ کون ہے۔یہاں بتا دیں جناب سپیکر کو بتادیں۔اس کے علاوہ انہوںنے کپتان کے بارے میں کہا پاناما کیس کا شور نہ اٹھا نے پر میرے بارے میں کہا گیاکہ شہباز شریف نے ان کودس ارب روپے کی پیش کش کی یہ تو اسمبلی کے اندر کی بات ہے جس پر شہباز نے ہتک عزت کا دعویٰ بھی کر رکھا ہے۔ایک اینکر حکومت کے بارے میں میرے کپتان کے عنوان سے پروگرام کرتے ہیں جس میں کپتان کے تضاد سے بھری ویڈیو ہوتی ہیں۔ کپتان کے ترجمان اس سے بہت تنگ ہیں۔ لیڈر آف اپوزیشن نے زبردست تقریر کی اور سب سے طویل تقریر کر ڈالی اور پورے بجٹ کا پوسٹ مارٹم کرکے اسے مسترد کرتے ہوئے مشورہ دیا کہ نیا بجٹ لایا جائے یہ بجٹ ملک کے لیے معاشی جہنم ،اس سے لوگوں کی چیخیں نکل گئی ہیںیہ ظلم کی تلوار اور لوگوں کا سر کاٹنے آیا ہیے۔۔ اور انہوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ آئی ایم ایف کے بجٹ کو کسی صورت منظور نہیں ہونے دیا جائے گا۔اس کے جواب میں عمر گوہر ایوب نے شہباز شریف کی تقریر کے جواب میں کہا کہ معیشت کو تباہ کرنے والے مگر مچھ کے آنسو نہ بہا ئیں۔ایوب خاندان کایہ ہونہار جو 2002سے 2019تک چار مرتبہ سیاسی وفا داریاں بدل چکا ہے۔یہ اس سیاسی پنیری کا چشم و چراغ ہے جو ایوب خان نے طاقت کے بل بوتے پر عوام کے سروں پر مسلط کی تھی۔بجٹ پر بحث کے دوران بوے کہ ’’ سی پیک‘‘ کا منصوبہ تو میرے دادا جان نے بنایا تھا۔عمر ایوب صاحب آپ کے دادا جان نے سی پیک نہیں اور بھی بہت کچھ بنایا تھا۔ سب سے پہلے وہ چور دروازے سے اس ملک پر مسلط ہوئے۔پھر اپنے ہی محسن جن کے مارشل لاء کی وجہ سے وہ اقتدار میں آئے۔پھر تین جر نیلوں کو سکندر مرزا کے پاس بھیجا اور ان سے پستول کی نوک پر استعفیٰ لیا گیا بالکل ایسے ہی جیسے جنرل محمود اور ان کے ساتھیوں نے نواز شریف سے استعفیٰ لینا چاہا تھا نواز شریف کے متعمد سعید مہدی کو کہا کہ آپ لکھ دیں کہ میں نے نواز شریف کو یہ حکم دیتے سنا کہ نواز شریف نے یہ کہا اور وہ کہا مگر سعید مہدی نے وعدہ معاف گواہ بننے سے انکا ر کردیا وہ بھی مقدمے میں دھر لیا گیا۔ ایوب عمر کے دادا نے حسین شہید سہروردی جیسے ایمان دار سیاست دان پر کرپشن کے الزام لگائے جوہر ماہ اس زمانے میں وکالت سے لاکھوں روپے ماہانا کماتا تھا جو یہ رقم سیاست پر قربان کردیتا تھا جس کا خاندان بر صغیر میں قانون اورعلم کے شعبے سے وابستہ تھا مشرقی اور مغربی پاکستان کے اتحاد کی علامت تھا۔ ۔ عمر ایوب صا حب بڑی مشکل سے بننے والا 1956 کا آئین آپ کے دادا کے ہاتھوں مسمار ہوا ۔آپ کے دادا نے ملک پر جمہوریت متعارف کرائی اس کی لگامیں ڈی سی اور پولیس کپتانوں کے ہاتھوں میں تھی۔آپ کے دادا نے سیا سی جماعتوں پر پابندی لگائی۔ نان پارٹی بنیاد پر قومی اورصوبائی اسمبلیوں کے انتخاب ہوئے توآپ کو یہ بھی پسند نہ آیا۔آپ کے دادا ایوب خان کے بھائی سردار بہادر خان جواس سے پہلے تحریک پاکستان کے رہنما اور اس زمانے کے صوبہ سرحد کے سپیکر اور وزیر اعلی کے علاوہ بلوچستان کے گورنر رہے تھے وہ بھی نان پارٹی اسمبلی کے قائد حزب اختلاف بنے تو انہوں نے اپنے بھائی کے بنائے آئین پر ایسی تنقید کی کہ ایوب خان جو اس وقت صدر پاکستان تھے اپنے بھائی کی شکائت لے کر اپنی والدہ کے پاس پہنچے والدہ کی عدالت میں حکم صادر ہوا کہ بھائی کے خلاف اب نہیں بولنا۔اس طرح سردار بہادر خان نے ماں کے حکم پر اپنا عہدہ تو چھوڑ دیا مگر آخری تقریر میں یہ شعر ضرور پڑھا۔

برباد گلستان کرنے کو بس ایک ہی الو کافی تھا

ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہوگا۔

سردار بہادر کیا گئے عمر ایوب کا ماموں یوسف خٹک ان کی جگہ اس اسمبلی کا قائد حزب اختلاف بن گیا ایوب کے ایک اور بھائی سلطان خان بھی مغربی پاکستان اسمبلی کے رکن تھے ان کی جگہ گوہر اوراختر ایوب کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے رکن بن گئے۔ فاطمہ جناح کے مقابلے میں ایوب کے گورنرز نواب کالا باغ اور منعم خان نے ایسا شرمناک کھیل کھیلا۔ کراچی ڈھاکہ اور چٹاکانگ کے علاوہ ہر جگہ ایوب خان کے حق میں پانسا پلٹ دیا۔ یہ سب تاریخ کا حصہ ہے کہ کس طرح کراچی کے لالو کھیت کے مکینوں کو فاطمہ جناح کے حق میں ایسا مزا چکھایا جس کی سزا آج تک کراچی بھگت رہا ہے۔ ایوب خان کے دور میں عمر ایوب کے والد اور نانا نے جس انداز سے گندھارا انڈسٹری پر قبضہ جمایا پھر اس کوپاکستان کے بیس خاندانوں میں شامل کیا یہ بھی ان کے دادا کا کارنامہ تھا۔ جب ایوب کے دس سالہ معاشی ترقی کا جشن منایا عوام نے ایوب خان کے اقتدار کو سڑکوں پر ایسا گھٹیا کہ اقتدار سے نکالنا ہی مناسب سمجھا

حکومت پسپا ہو چکی ہے سپیکر نے آصف زرداری اور خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آدر جاری کر دیے ہیں ۔اپوزیشن کو جیلوں میں ڈال کر حکمرانی کرنا ممکن کام ہے۔پاکستان اپوزیشن اور جمہوریت سے مضبوط ہو گا۔ ہر ادارے کو اپنا اپنا کام کرنا چاہیے۔زرداری اور شہباز شریف نے اقتصادی مشکلات کا جو حل پیش کیا ہے وہ سیدھا راستہ ہے محاذ آرائی سے تو نیا پاکستان نہیں بن سکتا۔


ای پیپر