گمنام سیاسی کارکن
20 جون 2019 2019-06-20

ہفت روزہ ایشیا کے ایک گذشتہ شمارے میں اچانک عمران ظہور غازی کے ایک مضمون پر نظر پڑی۔ چونکہ غازی صاحب سے ایک تعلق دیرینہ ہے، اس لیے فوراً مضمون پڑھنا شروع کر دیا، لیکن چند سطور پڑھنے کے بعد ایک بڑے صدمے کا احساس اور نقصان کا اندازہ ہوا۔ انھوں نے تحریک اسلامی کے ایک گمنام سپاہی اور بے نام مجاہد کا تذکرہ کیا ہوا تھا۔ اسی مضمون سے معلوم ہوا کہ محترم طارق محمود اب ہم میں نہیں رہے۔ دل کے حملے میں دو ایک دن ہسپتال میں رہنے کے بعد وہ اپنے رب کے حضور پیش ہو گئے۔

میری دانست میں طارق محمود ایک مثالی اور آئیڈیل سیاسی کارکن تھے، جماعت اسلامی کو انھوں نے مطالعہ کرکے قبول کیا اور پھر باقی زندگی مطالعہ اور تحریک اسلامی کے لیے وقف کر دی۔ ایسے بے لوث کارکن اب نہیں رہے۔ زمانے کی عیاری و مکاری نے ہم سے وہ سیاسی کارکن چھین لیا جو قومی شناخت تھا۔ جسے دیکھ کر، جس سے مل کر اندازہ ہوتا تھا کہ حرص و ہوس کی اس دنیا اور نمود و نمائش کے اس معاشرے میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جن کی شناخت اپنی ذات کی نفی ہے۔ جو معمولی معمولی کام کرکے خوشی محسوس کرتے ہیں۔ جو نہ کسی عہدے کے طلب گار ہیں اور نہ کسی صلہ و ستائش کے متمنی۔ بدقسمتی سے ہماری سیاست میں جب سے پیسے کی ریل پیل ہوئی ہے یہ سیاسی کارکن ازخود منظر سے ہٹ گیا ہے کہ اب جو کچھ ہو رہا ہے اسی کے خاتمے کے لیے تو وہ اپنی ذات کی نفی کرکے میدان میں اترا تھا۔

طارق محمود بھی ایک ایسے ہی مجاہد قسم کے بے لوث سیاسی کارکن تھے۔ میری اُن سے زیادہ تر ملاقاتیں منصورہ مسجد کے سامنے ہوتیں۔ ایک آدھ بارہفت روزہ ایشیا کے دفتر میں بھی ملاقات کا موقع ملا۔ وہ پڑھے لکھے انسان اور خوشحال خاندان کے سربراہ تھے۔ پیشے کے اعتبار سے انجینئر تھے۔ اُن کے تمام بیٹے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور خوشحالی کی زندگی گزار رہے تھے، لیکن طارق محمود نے اُن کی مخالفت کے باوجود ایک نیا راستہ اپنایا۔ وہ سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا لٹریچر اور جماعت کی دیگر کتب اصل قیمت پر خریدتے اور اسے کم قیمت پر منصورہ مسجد کے سامنے آواز لگا کر فروخت کرتے۔ گویا اپنا وقت اور قوت بھی صرف کرتے اور ہر بار منافع کے بجائے خسارہ اٹھاتے۔ فرائیڈے اسپیشل کے تو وہ گرویدہ تھے۔ ہر ہفتے سو دو سو پرچے خریدتے اور قیمت خرید سے بھی کم قیمت پر فروخت کر دیتے۔ وہ نماز کے بعد تازہ ’’فرائیڈے اسپیشل آ گیا‘‘ کی آواز لگاتے اور اس میں کوئی ہتک محسوس نہ کرتے۔ کسی کے پاس پیسے نہ ہوتے تو اُسے پرچہ مفت ہی دے دیتے۔ شاید وہ لوگوں میں مطالعے کی عادت ڈالنا چاہتے تھے اور تحریک اسلامی کے لوگوں کو اُن کے لٹریچر سے جوڑ کر رکھنا چاہتے تھے۔ اُن کی یہ خواہش اور اس کے لیے درویشانہ کاوش دونوں قابل ستائش ہیں۔ اکابرین جماعت کو اُن کی اس خواہش کی تکمیل کے لیے کوئی منصوبہ بندی کرنی چاہیے تاکہ کارکنانِ جماعت مطالعہ، خصوصاً تحریک اسلامی کے لٹریچر کے مطالعے کی طرف واپس آ جائیں، جس سے وہ آہستہ آہستہ دور ہوتے جا رہے ہیں۔ طارق محموم مرحوم کی تحریک اسلامی کے دیگر جرائد کے ساتھ بھی دلی محبت تھی۔ ایشیا اور دیگر جرائد کے فروغ کے لیے بھی وہ خاصے دردمند تھے۔

طارق محمود گو سادہ اور دیہاتی سے آدمی تھے، لیکن اُن کے اندر خلوص کو ٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ میں نے جب پہلی بار اُن سے فرائیڈے اسپیشل خریدا تو منصورہ مسجد کے سامنے کھڑے کھڑے انھوں نے بتایا کہ وہ میری تحریروں کے قاری ہیں۔ شاہ نواز فاروقی کی تحریروں کے تو وہ دیوانے تھے۔ اُن کی اکثر تحریروں کی فوٹو کاپی کراکے مفت تقسیم کرتے۔ بدقسمتی سے اب ایسے لوگ ہمارے معاشرے سے اٹھتے جا رہے ہیں۔ وہ تحریک اسلامی ہی نہیں فرائیڈے اسپیشل اور ایشیا کے بھی بے نام مجاہد تھے۔ فرائیڈے اسپیشل کو اُن پر کچھ کام کرنا چاہیے۔ تحریک اسلامی اُن کے اخلاص کو لوگوں کے سامنے لائے کہ اب ایسے لوگ اٹھتے جا رہے ہیں۔

کوئی روکے کہیں دست اجل کو

ہمارے لوگ مرتے جا رہے ہیں

اللہ تعالیٰ طارق محمود مرحوم کی مغفرت فرمائے۔ اُن کی بے لوث کاوشوں کو اُن کی مغفرت کا ذریعہ بنائے اور ہمیں توفیق دے کہ جہاں کہیں ایسے بے لوث کارکن موجود ہیں اُن کی قدر کریں اس سے پہلے کہ قدر کرنے والے بھی گزر جائیں۔ قارئین بھی مرحوم کی بلندیء درجات کی دعا کریں کہ ایسے مثالی کارکن اور اچھوتے کردار کے لوگ اب ہمارے درمیان سے اٹھتے جارہے ہیں جو باقی ہیںوہ حرص وہوس اور نام و نمود کے اس بے حس معاشرے میں غیرمتعلق ہوکر رہ گئے ہیں لیکن زندہ انسانوں کے معاشریے ایسے ہی بے لوث لوگوں کے وجود سے اخلاقی طور پر آگے بڑھتے ہیں

پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ

شاید کہ تم کو میر سے صحبت نہیں رہی


ای پیپر