جستجورسول
20 جون 2019 2019-06-20

قارئین کرام ، یہ یقین کرنا کتنا خوش کن بن جاتا ہے، کہ اُمت مسلمہ سے نہیں بلکہ بعض اوقات مذہب غیرسے بھی ایسے خوش قسمت دائرہ اسلام میں داخل ہوجاتے ہیں، کہ دوسرے مسلمان حیرت سے خوش ہوکر رحمت ربی میں غوطہ زن ہوجاتے ہیں۔

اکثر آپ کو تاریخ کے مطالعے، اور کتابوں کے کھنگالنے کے بعد یہ معلوم ہوتا ہے کہ توفیق الٰہی سے بادشاہ، تخت وتاج کو ٹھوکر مارکر لباس شاہی اُتار کر ٹاٹ کا لباس ، اونی ٹوپی، اور گلے میں تسبیح ڈال لیتے ہیں ، مگر حضرت فضیل بن عیاضؒ تو ایسے ڈاکو اور ایسے رہزن تھے کہ وہ ہر صحرا میں لوٹ مار کیا کرتے تھے، اور ڈاکوﺅں کا انہوں نے گروہ بنایا ہوا تھا جس کے وہ خود سربراہ تھے، لوٹ مار کا جوسامان ملتا، وہ پورا دوسروں کو تقسیم کردیتے، اور جوچیز پسند آتی ، وہ خودرکھ لیتے تھے۔

ایک عجیب اور ناقابل یقین یہ بات تھی کہ وہ پانچوں وقت کی نماز باقاعدگی سے ادا کرتے تھے، شاید وہ باجماعت ادا کرتے ہوں گے، کیونکہ ان کے ساتھیوں اور خدام میں سے بھی جو نماز نہ پڑھتا، وہ اس کو اپنی جماعت سے نکال دیتے تھے۔

قارئین ، میں معافی کا خواستگار ہوں، اگر کرداروں میں کوئی مماثلت نظر آجائے، تو وہ محض فرضی ہے، مثلاً موجودہ دور میں بھی ”سربراہ راہزنی“ نیک پارسا ہے، اچھی چےز اپنے پاس رکھ کر باقی رعایا مگر چونکہ رعایا کروڑوں میں ہے، لہٰذا قریبی ساتھیوں میں تقسیم کرکے اپنے کھلے دل کا ثبوت دیتا ہے۔ اب آپ کہیں اس مغالطے اور غلط فہمی کا شکار نہ ہوجانا کہ یہ باتیں مجھے جہانگیر ترین نے بتائی ہیں۔

قارئین ، میں دراصل بجٹ پہ تھوڑی بہت بحث کرنا چاہتا تھا، لیکن درمیان میں ”راہزن“ کا ذکر نجانے کیسے میرے ذہن میں آگیا، چلیں پھر اسی پہ ہی بات کرلیتے ہیں۔ ایک دفعہ حکمران وقت ہارون الرشید ، موجودہ دور کے ہارون رشید نہیں، نے فضل برمکی سے کہا کہ مجھے کسی درویش سے تو ملوا دو، چنانچہ وہ انہیں حضرت سفیانؒ کے پاس لے گیا، اور جب دروازے پہ دستک دی، تو اندر سے حضرت سفیانؒ نے پوچھا کہ کون ہے؟ تو فضل برمکی نے جواب دیا، خلیفہ ہارون الرشید تشریف لائے ہیں، سفیان بولے، کاش اگر مجھے پہلے پتہ ہوتا تو میں خود استقبال کے لیے حاضر ہوجاتا، ان کا یہ جواب سن کر حکمران ہارون الرشید نے حیرت سے کہا کہ میں جس فقیر سے ملنا چاہتا تھا، ان میں تو وہ وصف نظر نہیں آتا، تم کیوں مجھے یہاں لے آئے ہو؟ یہ سن کر فضل بولے، آپ جس درویش سے ملنا چاہتے ہیں، یہ خوبیاں تو صرف حضرت فضیلؒ میں موجود ہیں، اور پھرانہیں لے کر حضرت فضیل بن عیاضؒ کے پاس آگئے، اس وقت وہ یہ آیت تلاوت کررہے تھے ترجمہ ” کیا یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ جنہوں نے برے کام کیے ہیں ہم ان کو نیک کام کرنے والوں کے برابر کردیں گے“ ۔

یہ سن کر ہارون الرشید بہت متاثر ہوئے، اور کہا کہ بھلا اس سے بڑی نعمت کیا ہو سکتی ہے، اور پھر انہوں نے ان کے دروازے پہ دستک دی، تو اندر سے حضرت فضیل ؒ نے پوچھا کہ کون ہے؟ تو فضل نے کہا کہ امیر المومنین تشریف لائے ہیں، آپ اندر سے ہی بولے ، کہ ان کا میرے پاس کیا کام ، اور مجھے ان سے کیا واسطہ، میری مشغولیت عبادت میں حرج نہ کریں ،اس پر فضل نے کہا کہ اوالامر یعنی اطاعت آپ پر فرض ہے، اس پر فضیل ؒ بولے کہ مجھے اذیت نہ دو، فضل نے کہا کہ اگر آپ نے اجازت نہ دی تو ہم دروازہ توڑ کر اندر آجائیں گے، انہوں نے کہا میری طرف سے تو اجازت نہیں ہے، لیکن تم مختار ہو اور جب وہ اندر پہنچے تو آپ نے چراغ بجھا دیا، تاکہ ہارون الرشید کی شکل نظر نہ آئے لیکن اتفاق سے ہارون الرشید کا ہاتھ حضرت فضیل ؒ کے ہاتھ سے ٹکراگیا، تو آپ نے فرمایا کہ کتنا نازک ہاتھ ہے ، کاش اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے دور رکھے۔

جب ہارون الرشید نے عرض کیا کہ آپ کچھ نصیحت فرمائیں، تو آپ نے فرمایا کہ تمہارے والد حضور کے چچا تھے، اور انہوں نے حضور سے درخواست کی تھی کہ آپ مجھے کسی ملک کا حکمران بنا دیں۔تو آپ نے جواب دیا کہ جو تمام مسلمانوں کے لیے دل دہلا دینے والا حکم ہے اور نصیحت خاص ہے، آپ نے فرمایا کہ”میں تمہیں تمہارے نفس کا حکمران بناتا ہوں “ کیونکہ دنیاوی حکومت تو روزمحشر وجہ ندامت بن جائے گی یہ سن کر حکمران وقت خلیفہ ہارون الرشید نے کہا، کہ حضرت آپ کچھ مزید نصیحت فرمائیں ، تو پھر آپ بولے کہ جب عمر بن عبدالعزیز جب سلطنت کے حکمران بنے، تو انہوں نے کچھ عقلمندلوگوں یعنی حقیقی دانشوروں کو بلایا، اور کہا کہ میرے اوپر ایک ایسا بوجھ ڈال دیا گیا ہے جس سے چھٹکارہ حاصل کرنے کی سبیل ہی نہیں نکلتی نظر آتی، ان میں سے ایک مخلص ومعتبر شخص نے نصیحت کے انداز میں جواب دیا کہ آپ رعایا کے ہر بوڑھے شخص کو اپنے باپ کی جگہ تصور کریں، اور ہرجوان شخص کو اپنا بھائی یا بیٹا سمجھیں ، اور عورتوں کو ماں، اور لڑکیوں اور بچیوں کو اپنی بیٹی سمجھیں، اور ان رشتوں کو نظر میں رکھ کر ان سے حسنِ سلوک سے پیش آئیں، ہارون الرشید نے متاثر ہوکر ان سے مزید نصیحت مانگی۔ تو آپ نے فرمایا ، بلکہ پوری مملکت اسلامیہ کے باشندوں کی اولاد کو اپنی اولاد تصور کرو، بزرگوں پر مہربانی کرو، پھر فرمایا مجھے خوف ہے، کہ تمہاری خوبصورت شکل نارجہنم کا ایندھن نہ بن جائے، کیونکہ وہاں بہت سے امیر ” اسیر“بن جائیں گے، اگر تمہاری سلطنت میں ایک بھی غریب عورت بھوکی سوگئی، تو روز محشر تمہارا گریبان پکڑے گی یہ نصیحت سنتے سنتے ہارون الرشید پہ غشی طاری ہوگئی، تو فضل برمکی نے کہا، کہ جناب بس کریں، آپ نے تو امیرالمومنین کو نیم مردہ کردیا ہے، حضرت فضیلؒ بولے، میں نے نہیں، بلکہ تمہارے جیسے حواریوں اور خوشامدیوں نے امیرالمومنین کو زندہ درگور کردیا ہے۔

جاتے وقت خلیفہ نے ایک ہزار درہم کی تھیلی پیش کرتے ہوئے کہا، کہ یہ رقم میری والدہ کے ورثے میں مجھے ملی تھی، اس لیے یہ قطعاً حلال ہے، یہ سن کر آپ نے فرمایا کہ صد حیف میری نصیحتوں کا تم پہ ذرا بھی اثر نہیں ہوا، میں تو تمہیں دعوت نجات دے رہا ہوں، اور تم مجھے ہلاکت میں جھونک رہے ہو، کیونکہ مسلمان کا مال مستحقین میں تقسیم کرنا چاہیے، اور میں اس کا مستحق نہیں۔

قارئین ، اب حکمران یہ فرماتے ہیں کہ ریاست مدینہ فوراً نہیں بن گئی تھی بلکہ اس میں کچھ وقت لگا تھا، جب کہ ریاست مدینہ،قرآن پاک کے مکمل نازل ہوتے ہی مکمل ہوگئی تھی، حکومت سنبھالنے سے پہلے غارحرا میں کئی کئی راتیں غوروفکر میں گزارتے، اس زمانے میں آپ خلوت پسند ہوگئے تھے اور آپ کو سب سے الگ اور تنہائی سے سکون ملتا ، آپ مکے شہر سے بھی اتنے دورچلے جاتے کہ مکانات بھی نظروں سے اوجھل ہو جاتے۔

اب نئی ”اسلام آباد “ میں قائم مگر نام کی ”ریاست مدینہ“ کے وزیراعظم نے بھی بائیس سال جدوجہد تو ضرور کی، مگر غوروفکر شاید اس لیے نہیں کیا کہ انہیں وزیراعظم بننے کا یقین ہی نہیں تھا، جیسے رعایا کو یہ یقین نہیں کہ ان کا ایسا حال ”عمران خان“ کے ہاتھوں ہوا ہے، جیسے جمائمہ ، اور ریحام خان کا ہوا تھا .... قارئین بالکل یہی نصیحت میں نے آصف زرداری کو حلف اُٹھانے کے بعد کی تھی، انہوں نے دوسرے دن اپنی تقریر میں اس کا ذکر تو کیا، مگر کاش وہ عمل بھی کرلیتے، تو ابھی بھی حکمران ہوتے !


ای پیپر