عمرہ نامہ ! ....(پانچویں قسط )
20 جون 2019 2019-06-20

اپنے گزشتہ کالم ” عمرہ نامہ “ کی چوتھی قسط میں، میں عرض کررہا تھا بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے ہمارے عوام اب بہت سمجھدار ہوگئے ہیں، مگر ہمارے حکمران اور سیاستدان جب بار بار اُنہیں ”اُلو“ بناتے ہیں اللہ جانے اُن کی عقل اُس وقت کہاں چلی جاتی ہے۔ اگر ہمارے عوام عقل کریں اور دیانتداری کا مظاہرہ کریں تو کسی ایسی سیاسی جماعت کو ووٹ نہ دیں جس کے بارے میں اُنہیں ہلکا سایہ شبہ ہو کہ یہ عوام کے نہیں کسی اور کے کندھوں پر سوار ہوکر آرہے ہیں لہٰذا اقتدار میں آنے کے بعد یہ عوام کی نہیں اُنہی کی خدمت پر مامور ہوں گے جِن کے کندھوں پر سوار ہوکر آرہے ہیں، جیسا کہ موجودہ حکمرانوں کا رویہ بھی ایسا ہی ہے۔ اور ہم اب شرمندہ ہیں عوام کو دھوکوں سے بچنے کا پیغام دیتے دیتے خوددھوکے میں آگئے،....بہرحال ایوانِ صدر میں زرداری سے ملاقات کرکے میں واپس نکلا تو سوچا ایک دوروز کے لیے مری چلا جاتا ہوں، میرا چھوٹا بھائی اور ایک دو دوست بھی میرے ساتھ آئے ہوئے تھے، اُنہیں جب پتہ چلا میں اسلام آباد صدر زرداری سے ملاقات کے لیے جارہا ہوں تو اُنہوں نے شاید یہ سوچ کر میرے ساتھ جانے کے لیے اصرار کیا وہاں مجھے پیسوں کی ضرورت نہ پڑ جائے۔ یا شاید وہ میری حفاظت کے پیش نظر میرے ساتھ آنا چاہتے تھے، کیونکہ جتنا میں زرداری کے خلاف لکھتا رہا تھا اُنہیں شک تھا اسلام آباد آتے یا جاتے ہوئے میرے ساتھ کوئی ”حادثہ“ نہ ہوجائے، ہم مری پہنچے تو شدید بارش شروع ہوگئی، سردی بھی انتہا کی تھی۔ میرے سر میں درد تھا، سفر کی وجہ سے تھکان بھی تھی، میں نے ریسٹ ہاﺅس کے کک سے کہا میرے لیے ”کڑک چائے“ بناکر لاﺅ، ہم سب ٹی وی لاو¿نج میں بیٹھے تھے، اِس دوران میرے چھوٹے بھائی نے ٹی وی آن کردیا، مختلف چینلز پر ٹاک شوز چل رہے تھے، ایک چینل پر ”ڈاگ شو“بھی چل رہا تھا، اور پتہ ہی نہیں چل رہا تھا ”ٹاک شو“ کون سا ہے اور ”ڈاگ شو“ کون سا ہے ؟، ایک چینل پر حاجی غلام فرید صابری کی قوالی ”تاجدار ِ حرم ،ہونگاہ کرم، ہم غریبوں کے دن بھی سنور جائیں گے“ چل رہی تھی، میں نے بھائی سے کہا یہی چینل لگا رہنے دو۔ اِس دوران میں کسی اور ہی دنیا میں کھوگیا، مجھے احساس ہوا یہ کوئی وکھری دنیا ہے، یا پھر یہ شاید دنیا نہیں ہے، مجھ پر رقت طاری ہوگئی، میری دھڑکن اتنی تیز ہوگئی یوں محسوس ہورہا تھا دل ابھی پُھدک کر جِسم سے باہر آجائے گا، آنسو اور ہچکیاں تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے، میں اِس احساس محرومی میں مبتلا تھا اب تک اللہ کا گھر دیکھنے سے محروم ہوں، اور روضہ رسول پر حاضری بھی نصیب نہیں ہوئی۔ میری حالت دیکھ کر میرے دوست نے کہا ”ہم آپ کو ہسپتال لے جاتے ہیں“ ، باہر شدید بارش تھی، اور جیسا کہ میں نے عرض کیا سردی بھی انتہاکی تھی، ان حالات میں، میں اُنہیں یہ زحمت نہیں دینا چاہتا تھا وہ مجھے ہسپتال لے جائیں ، حالانکہ اُس دوران یوں محسوس ہورہا تھا میں اب اس دنیا میں صرف چند گھڑیوں کا مہمان ہوں، میرا چھوٹا بھائی مسلسل میرا سردبا رہا تھا۔ قوالی ختم ہوگئی بے چینی مگر بہت بڑھ گئی تھی، اِس دوران چائے آگئی، میں نے دوگھونٹ پیئے، ساتھ دو ”پیناڈول“ لے لیں ، دوستوں نے مشورہ دیا آپ لیٹ جائیں اور سونے کی کوشش کریں، میں اندر بیڈروم جاکر لیٹ گیا، میری آنکھیں بند تھیں مگر یوں محسوس ہورہا تھا آج میری آنکھیں کُھل جائیں گی، آج میں دیکھ سکوں گا، میری خواہش تھی نیند آجائے مگر نیند اُس رات شاید خود سوگئی تھی، میں مسلسل درود شریف پڑھ رہا تھا، بھائی میرے سرہانے بیٹھا مسلسل میرا سردبا رہا تھا، اس دوران نیند کا ایک جھونکا آیا، میں نے دیکھا ایک بہت خوبصورت کالے رنگ کا پردہ ہے، اُس کے پیچھے کوئی موجودہے، کہیں دورسے آواز آرہی تھی، ”کوئی تو ہے جو

نظام ہستی چلا رہا ہے“، ....میں اُس خوبصورت کالے پردے کے پاس جاکر کھڑے ہوگیا، بے شمار لوگ میرے اِرد گرد کھڑے تھے، میں نے ساتھ کھڑے ایک شخص سے کہا ”میں اِس پردے کے اندر جانا چاہتا ہوں“، وہ بولا ”وہاں کوئی نہیں جاسکتا“، میں نے اُس کی بات پر یقین نہیں کیا، میں اُس پردے کے پاس جاکر کھڑے ہوگیا، مجھے یقین تھا اُس پردے کے اندر کوئی ہے جو میری آواز سُن رہا ہے، میں نے روتے ہوئے کہا ” میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں“۔ دوسری جانب سے کوئی جواب نہیں آرہا تھا، میری آہ وزاری میری ضِد بڑھتی جارہی تھی پردے کے اندر جو بھی ہے میں نے اُس سے ملنا ہے، روتے روتے میں نڈھال ہوگیا اور اُس پردے کے نیچے بیٹھ گیا۔ مجھے یقین تھا ابھی یہ پردہ کھلے گا میں اندر چلے جاﺅں گا، ....اِس دوران میری آنکھ کُھل گئی، چھوٹے بھائی کا ہاتھ ابھی تک میرے سرپر تھا، میرا سر دباتے دباتے اُس کی آنکھ لگ گئی تھی، میں نے اُسے جگایا، میں نے اُسے بتایا ” ابھی ابھی میں نے یہ خواب دیکھا ہے“، وہ بولا ”درودشریف“ پڑھتے جاﺅ، میں نے پھر سے درودشریف پڑھنا شروع کردیا، کچھ دیر بعد اذان کی آواز سنائی دی، پہلی بار مجھے یوں محسوس ہوا یہ اذان نہیں ہے کوئی خوشخبری ہے، میں نے اُٹھ کر وضو کیا، نماز پڑھی، چھوٹا بھائی اور دوست سوئے ہوئے تھے، میں ریسٹ ہاﺅس سے باہر نکل گیا، بارش تھم گئی تھی، سردی مگر مزید بڑھ گئی تھی، پرندوں کی آوازیں اور چہچاہٹ بھی بڑھتی جارہی تھی، مجھے لگا وہ بھی ”اذانیں“ دے رہے ہیں، اپنے اپنے انداز میں وہ بھی اللہ کو یادکررہے ہیں، تلاوت کررہے ہیں، صبح کے ساتھ ملاقات کرنا مجھے ہمیشہ سے بڑا پسند ہے، میرے والد صاحب مرحوم فرمایا کرتے تھے وہ شخص بڑا خوش قسمت ہوتا ہے جو ”صبح“ سے ملاقات کرے۔ سوجب رات رخصت ہورہی ہوتی ہے، دِن چڑھ رہا ہوتا ہے، آہستہ آہستہ سارا منظر سفید ہورہا ہوتا ہے میں اُس وقت اِس احساس میں مبتلا ہورہا ہوتا ہوں میں کچھ دیر کے لیے اندھا ہوگیا تھا، میری آنکھیں واپس مل گئی ہیں، زندگی روزجاگتی ہے مگر ہم نہیں جاگتے، موت ایک بڑی نیند ہے اور نیند شاید ایک چھوٹی موت ہے۔ (جاری ہے)


ای پیپر