جمال خاشقجی کے قتل میں کون ملوث؟اقوام متحدہ کی رپورٹ میں سنسنی خیز انکشافات
20 جون 2019 (00:15) 2019-06-20

ریاض: سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر نے جمال خاشقجی کے قتل پر اقوام متحدہ کی رپورٹ کو بے بنیاد قرار دے دیا۔عرب میڈیا کے مطابق سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کچھ نیا نہیں یہ باتیں پہلے ہی میڈیا پر آچکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں لگائے گئے بے بنیاد الزامات رپورٹ کی ساکھ کو متاثر کرتے ہیں، اقوام متحدہ نے اپنی غیر پابند رپورٹ میں پہلے سے میڈیا میں شائع اور نشر شدہ اشاعت کا اعادہ کیا ہے۔عادل الجبیر نے کہا کہ اس وقت سعودی عرب میں جمال خاشقجی قتل کیس کی تحقیقات اور ان کے قتل میں ملوث مشتبہ افراد کے خلاف مقدمہ چلایا جارہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سعودی عدلیہ خاشقجی کیس میں مکمل بااختیار مجاز اتھارٹی ہے اور وہ مکمل آزادی کے ساتھ کام کررہی ہے۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کا اپنی رپورٹ میں کہنا تھا کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے تفتیش ہونی چاہئے، شواہد موجود ہیں سعودی حکام قتل میں ملوث ہیں۔تحقیقاتی رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ سعودی صحافی کا قتل بین الاقوامی جرم ہے، قتل ماورائے عدالت ہے ذمے دارسعودی عرب ہے، سفارتی مراعات کاغلط استعمال کیاگیا، سعودی عرب کو ترکی سے معافی مانگنی چاہئے۔

خیال رہے کہ واشنگٹن پوسٹ کے لیے خدمات انجام دینے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی گزشتہ سال 2 اکتوبر کو استنبول میں سعودی سفارت خانے میں اپنی منگیتر کے کاغذات لینے کے لیے گئے تھے، جہاں انھیں قتل کر دیا گیا۔بعد ازاں ترک صدر رجب طیب اردگان نے بھی سعودی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے قتل کی تحقیقات کرنے کی درخواست کی تھی۔


ای پیپر