ایک نہیں کئی صادق سنجرانی
20 جون 2018 2018-06-20

من چلا فیس بک پر کسی کی لگائی ہوئی اس مضمون کی پوسٹ پڑھ کر جھوم بیٹھا جب تک عسکریان بہادر جمہوریت کو حاملہ کرتے رہیں گے (ن) لیگ اور پی ٹی آئی جیسی جماعتیں پیدا ہوتی رہیں گی۔۔۔ میں نے اس کی توجہ بی بی سی ڈاٹ کام پر شائع ہونے والے ایک کالم کی جانب مبذول کرائی۔۔۔ کہا جو ہو گیا سو ہو گیا۔۔۔ عالمی سطح کے جانے پہچانے کالم نگار محمد حنیف کی تحریر پر نگاہ ڈالو اور آج کے حالات کو سمجھنے کی کوشش کرو۔۔۔ کس سے کیا کام لیا جا رہا ہے۔۔۔ وہ پڑھتا چلا گیا۔۔۔ گاہے زیر لب مسکراہٹ بھی اس کے چہرے پر نمودار ہو جاتی تھی گاہے حیرانی پیدا کرنے والی شکنیں بھی ختم کر چکا تو میں نے کہا سلسلہ بند نہیں ہوا۔۔۔ فیضان جاری ہے۔۔۔ دیکھو سیاستدانوں اور چوٹی کے صحافیوں کو کس نرالے طریقے سے دام میں لیا جاتا ہے۔۔۔ ووٹ عوام ڈالیں گے حکومت کسی اور کی مرضی کی بنے گی۔۔۔ بہت ساکام باقی ہے۔۔۔ ایک کے خلاف دوسرے کو لڑایا جائے گا۔۔۔ خوب درگت بنے گی پھر قوم پر پسندیدہ مرضی کی حکومت قوم پر مسلط کر دی جائے گی نئے طریقہ واردات کے تحت اسے جمہوریت کا نقاب پہنایا جائے گا۔۔۔ بی بی سی کا کالم ملاحظہ کریں۔۔۔ کیا لطیف پیرایہ اظہار ہے۔

ضرورت ہے، ملک ریاض کو

ملک ریاض پاکستان میں بحریہ گروپ آف کمپنیز کے مالک ہیں

پاکستان کے دو سب سے بڑے مسئلے ایسے ہیں جن پر ہم صحافی لوگ زیادہ بات نہیں کرتے۔ شاید اس لیے کہ ان مسائل سے چیختی چلاتی ہیڈلائن بنانا مشکل ہے اور یہ مسائل اتنے گھمبیر اور ہمہ جہت قسم کے ہیں کہ کسی ٹکر میں بھی فٹ نہیں ہو سکتے۔

لیکن میں نے جب کسی محنت کش، تنخواہ دار، چھوٹا موٹا کاروبار کرنے والے، پیٹ کاٹ کر بچوں کو تعلیم دلوانے والے کسی شہری سے بات کی ہے تو ہمیشہ یہی سنا ہے کہ بس دو مسئلے ہیں۔ لڑکیوں کو اچھے رشتے نہیں ملتے اور لڑکوں کو نوکری نہیں ملتی۔

بھلا ہو تحریکِ انصاف کا کہ اس نے اپنے منشور میں لاکھوں نوکریاں پیدا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ رشتوں کے معاملے میں یہ منشور خاموش ہے کیونکہ پارٹی کی قیادت کے تجربات سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ رشتے بنتے آسمانوں میں ہیں اور ٹوٹتے زمین پر ہیں۔ اس لیے معاملہ خدا پر چھوڑ دیا جائے۔

اگر آپ ان لوگوں میں سے ہیں جو ابھی بھی کاغذ والا اخبار پڑھتے ہیں اور کْل جہان کی خبریں فیس بک پر پڑھ کر گزارہ نہیں کرتے تو آپ کو علم ہو گا کہ اخبار میں خبروں کے علاوہ اور بھی بہت کچھ ہوتا ہے ستاروں کا حال، طبی مشورے، روحانی مسائل کا حل، لفظی معمے جنھیں حل کر کے آپ لاکھوں روپے کے انعامات جیت سکتے ہیں لیکن میرا سب سے پسندیدہ اخباری شغل وہ کلاسیفائیڈ اشتہارات ہوتے ہیں جن میں ویلڈنگ کا کام، پلمبرز کی خدمات، نسلی کتوں کے پلے، نایاب پرندے، پلاٹ برائے فروخت اور ضرورتِ رشتہ وغیرہ کے تین چار لائنوں کے اشتہار ہوتے ہیں۔

اس سیکشن میں بھی میرا سب سے پسندیدہ حصہ ’ضرورت ہے‘ کے اشتہار ہوتے ہیں۔ یہ نوکریوں والا حصہ ہے۔ حالانکہ زندگی میں خود ڈھائی نوکریاں ہی کی ہیں لیکن یہ سیکشن پڑھ کر ہمیشہ ایک خوشگوار حیرت ہوتی ہے کہ اس وطنِ عزیز میں کیسے کیسے دھندے ہیں اور کیسا کیسا آجر ہے جو اپنے کام کے لیے مزدور ڈھونڈ رہا ہے۔

کبھی زمانے میں بابوؤں کی ضرورت ہوتی تھی تو قابلیت کی شرط بی اے کی ڈگری اور 30 لفظ فی منٹ کی ٹائپنگ سپیڈ ہوتی تھی۔ آج کل کمپیوٹر، فوٹو شاپ اور پروگرامنگ والے نوجوانوں کی زیادہ ضرورت ہے۔ کیٹرنگ کے کام والے درکار ہیں۔ زیادہ تر نوکریوں میں ان نوجوانوں کو ترجیح دی جاتی ہے جن کے پاس اپنی موٹرسائیکل ہو۔ سکیورٹی گارڈز کی بہت مانگ ہے اور اس مشقت والے اور انتہائی بورنگ کام کے لیے ریٹائرڈ فوجیوں کو ترجیح دی جاتی ہے اور اگر ان کے پاس اپنی لائسنس یافتہ بندوق ہو تو سمجھیں نوکری پکی۔

اس تناظر میں ایک اشتہار دیکھا جس کو دیکھ کر حیرت نہیں ہونی چاہیے تھی لیکن ہوئی۔ اشتہار کے مطابق ملک کے سب سے بڑے تعمیراتی ادارے بحریہ ٹاؤن کو جو پورے ملک میں گھر، پلاٹ، فائلیں اور دبئی کی طرز پر رہائش کے خواب بیچتا ہے اسے ضرورت ہے ریٹائرڈ جرنیلوں اور ججوں کی۔

صرف میجر جنرل اور لیفٹیننٹ جنرل نوکری کے اہل ہیں یا ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے جج۔ ساتھ ہی ایک ذیلی شرط بھی تھی کہ امیدوار تازہ تازہ ریٹائر ہوا ہو۔

اس سے یہ بھی یاد آیا کہ ایک مرتبہ ملک ریاض کو ایک مقدمے میں سپریم کورٹ میں پیش ہونا پڑا تھا تو ان کے ساتھ عملے میں اتنے تازہ تازہ ریٹائرڈ جنرل تھے کہ کسی ستم ظریف نے کہا کہ ملک صاحب چاہیں تو اپنا کور کمانڈروں کا اجلاس بلا سکتے ہیں۔

ملک صاحب سے پاکستان کے لوگ اور خصوصاً ہمارے میڈیا والے بھائی انتہائی عقیدت رکھتے ہیں اور کچھ تو یہ سمجھتے ہیں کہ جس پاکستان کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا تھا وہ بحریہ ٹاؤن کی شکل میں ملک صاحب نے بنا دیا باقی سارا ملک تو بس کچرا ہی ہے۔

بحریہ ٹاؤن کی ایک مسجد کے افتتاح کے لیے خود امامِ کعبہ تشریف لائے تھے۔ تو ہمارے جرنیلوں اور ججوں کی تو خوش قسمتی ہے کہ ان کے لیے ضرورت ہے کہ اشتہار دیے جا رہے ہیں۔

اتنے تازہ تازہ ریٹائرڈ اور سینئر جرنیلوں سے ظاہر ہے سکیورٹی کا کام تو نہیں لیا جائے گا۔ ہمارے تازہ ریٹائر جرنیلوں کو پراپرٹی کے کام کا زیادہ تجربہ بھی نہیں ۔ ان کو جو چار چھ پلاٹ لینے ہوتے ہیں تو وہ ضابطۂ کار کے تحت خود ہی مل جاتے ہیں لیکن پھر یہ سمجھ آئی کہ آج کل بحریہ ٹاؤن جنوبی ایشیا کی سب سے بڑی مسجدیں، 24 گھنٹے کھلے رہنے والے چڑیا گھر کے ساتھ ساتھ گالف کورس بنا رہا ہے تو تازہ ریٹائر جنرل شاید ان گالف کورسز کی رونق بڑھانے کے لیے ہیں کیونکہ یہ تو آپ کے علم میں ہو گا کہ ہماری سینئر عسکری قیادت گالف سے بہت شغف رکھتی ہے۔

بحریہ ٹاؤن کا شمار پاکستان میں پراپرٹی کے سب سے بڑے منصوبوں میں ہوتا ہے

لیکن ملک ریاض کو تازہ ریٹائر ہونے والے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں کی ضرورت کیوں پڑ گئی؟ ملک ریاض پر زمینوں کے قبضے سے لے کر پانی کی چوری تک کے درجنوں مقدمات حاسدوں نے کر رکھے ہیں لیکن ہماری عدلیہ کا کون سا سینئر جج ایسا ہو گا جو ریٹائر ہونے کے فوراً بعد ملک ریاض کے کیس کی فائل اٹھا کر

اپنے سے جونیئر ججوں کے آگے پیشیاں بھگتے۔

پھر خیال آیا کہ ہمارے کئی سینئر جج انتہائی بذلہ سنج ہیں۔ آپ نے نوٹ کیا ہو گا کہ جس دن بھی صبح کوئی بڑی عدالت لگتی ہے ٹی وی پر ایک کاٹ دار طنزومزاح شروع ہو جاتا ہے جو کبھی کبھی لاہور والے امان اللہ اور کراچی والے یوسفی صاحب کا حسین امتزاج لگتا ہے۔ یقیناً ملک ریاض کو تازہ ریٹائرڈ ججوں کی اس لیے ضرورت ہے کہ سارا دن پلاٹ کاٹنے اور خواب فروشی کے بعد تھکن اتارنے کے لیے ان کی کمپنی سے محظوظ ہو سکیں۔

ویسے اخبارات میں اشتہاروں کے ساتھ ساتھ بچوں کا بھی ایک سیکشن ہوتا ہے جس میں سبق آموز کہانیوں کے ساتھ بچگانہ لطائف بھی ہوتے ہیں۔ ضرورت ہے کہ اشتہار پڑھ کر ایک امیدوار انٹرویو دینے پہنچا اور اشتہار والے سے پوچھا کہ کہ مجھے کام کیا کرنا ہوگا۔ اس نے کہا کوئی خاص نہیں بس روز داتا دربار جانا ہو گا خِود وہاں سے کھانا کھا لینا اور میرے لیے لیتے آنا‘‘۔

من چلے نے کالم پڑھا۔۔۔ میری طرف دیکھا۔۔۔ ’’عالی قدر‘‘ خدمات کے عوض ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اپنے فرزندان خوبرو اور سینہ چاکان چمن کے ساتھ حال میں ریٹائر شدہ منصفین کرام کے لیے بڑی بڑی تنخواہوں والی نوکریاں شاندار بنگلے۔۔۔ عالیشان دفاتر اسی پر اکتفا نہیں اپنے وسیع تر اور مؤثر تعلقات کے ذریعے ملک صاحب کی پراپرٹی امپائر کے رکے ہوئے کاموں کی مشکلات اور غیر قانونی رکاوٹوں کو دور کرنا۔۔۔ اسی پر اکتفا نہیں اپنے بھائیوں ، بھتیجوں، ہمشیرگان اور صاحبزادیوں کے لیے بھی ان کی تعلیم اور استعداد کے مطابق شاندار ملازمتیں۔۔۔ یہ سب اپنے اپنے اثر و رسوخ کوکام میں لاتے ہوئے بحریہ ٹاؤن کی جانب سے وسیع و عریض اراضی پر قبضوں کو قانون اور عدالتی فیصلوں کے حلق سے اتارا جائے گا۔۔۔ پھر کیا ہو گا اس نے پوچھا۔۔۔ میں نے جواب دیا۔۔۔ جب حکمرانوں کا دل تنگ آ جائے گا جیسا کہ آج ایک ادیب نما کالم نگار نے لکھا ہے ’’اسپ تازی‘‘ کو تخت پر بٹھا کر دوڑایا جائے گا سانس اس کا پھول جائے گا۔۔۔ پھر اسے بھی ٹشو پیپر کی مانند اٹھا کر دور پھینک دیا جائے گا۔۔۔نئے کی تلاش ہو گی۔۔۔ اس پر ہاتھ بھی رکھ لیاہو گا پھر چل سو چل۔۔۔ حکومت ان کی ہو گی کھلاڑی کھیل جاری رکھیں گے۔۔۔ پوری قوم اور دنیا تماشا دیکھے گی۔۔۔ ملک بازیچہ اطفال بنا رہے گا۔۔۔ من چلے نے پوچھا کیا سیاستدانوں کے اندر احساس ندامت نہیں پیدا ہوتا۔۔۔ انہیں اپنے کیے پر پچھتاوا نہیں ہوتا۔۔۔ پریس اور میڈیا کے بڑے بڑے جغادری کیا اسی طرح ’’اُن‘‘ کے ہاتھوں میں کھیلتے رہیں گے۔۔۔ میں نے کہا ذرا برابر بھی احساس ہوتا تو یہ دن دیکھنے کو نہ ملتے۔۔۔ اس کا سوال تھا کیا۔۔۔ عوام جو بیلٹ بکس پر ووٹ دینے جاتے ہیں۔۔۔ وہ ٹھنڈے پیٹوں سب کچھ قبول کر لیں گے۔۔۔ میں نے کہا عوام نے کبھی ’’اوپر‘‘ والوں کی مرضی کے مطابق ووٹ نہیں ڈالے۔۔۔ ہنگ پارلیمنٹ کبھی وجود میں نہیں آتی۔۔۔ کھیل اس کے بعد شروع ہوتا ہے۔۔۔ عوام کو بڑی کامیابی کے ساتھ جھانسہ دیا جاتا ہے۔۔۔ من پسند حکومت ان پر مسلط کر دی جاتی ہے۔۔۔ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے ایک منتخب جماعت اور لیڈر قد کاٹھ نکال لیتا ہے۔۔۔ والیان ریاست کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنا شروع کر دیتا ہے۔۔۔ اچانک عوام کے اندر اس کی مقبولیت کا گراف اوپر چلا جاتا ہے۔۔۔ وہ درد سر بلکہ درد جگر بن جاتا ہے۔۔۔ پھر اس سے نجات حاصل کرنا بہت بڑا کار ریاست بن جاتا ہے۔۔۔ حکمرانوں پرمصیبت طاری ہو جاتی ہے۔۔۔ اسے پے در پے الزامات کی زد میں لایا جاتا ہے۔۔۔ وہ اپنی خو سے باز نہیں آتا۔۔۔ ڈٹ کر مقابلے پر اتر آتا ہے۔۔۔ آج کل یہی کچھ ہو رہا ہے۔۔۔ نواز شریف بلائے جان بنا ہوا ہے۔۔۔ اس سے خلاصی حاصل کرنا آسان نظر نہیں آ رہا۔۔۔ نت نئے الزامات گھڑے اور لگائے جاتے ہین وہ ایسی اکڑ فوں دکھا رہا ہے کہ یار لوگوں کے بس سے باہر ہوا جا رہا ہے ووٹ بینک مضبوط تر بنا لیا ہے۔۔۔ اس کا کچھ اعلیٰ حلقوں کی سمجھ میں نہیں آ رہا۔۔۔

من چلے نے پوچھا کیا پریس کا کوئی کردار باقی نہیں رہا۔۔۔ اس کی طاقت تو دنیا کے ہر ملک میں محسوس کی جات ہے۔۔۔ کیا وہ عوامی اور منتخب سیاستدانوں کا ساتھ نہیں دے گا اور یار لوگوں کے عزائم بے نقاب نہیں کرے گا۔۔۔ میں نے کہا اس کا مداوا بھی ہو رہا ہے۔۔۔ عالمی سطح پر شائع ہونے والی مندرجہ ذیل رپورٹ پڑھو۔۔۔

’’دی انٹرنیشنل پریس انسٹیٹیوٹ نے پاکستان میں پریس کی آزادی روکنے کی خاطر حالیہ’’جبری اقدامات‘‘ کے نفاذ پرتشویش ظاہرکی ہے۔وزیراعظم،چیف جسٹس،چیئرمین سینٹ اورسینٹ میں قائدحزب مخالف نے نام ایک خط میں آئی پی آئی نے کہاہے کہ 25جولائی کومتوقع عام انتخابات کے تناظرمیں پریس کوبہت سی دھمکیوں اورخطرات کاسامناہے جن میں ڈراؤدھمکاؤ،اغواء اورمنحرف صحافیوں کواذیت رسانی کے علاوہ نیوزچینلوں کی بندش شامل ہے۔

یہ سو خط سوموارکے روز میڈیا کوجاری کیاگیا۔

آئی پی آئی کی ایگزیکٹوڈائریکٹر باربرا ٹراؤنفی نے اس خط میں لکھاکہ’’یہ اقدامات،عوام کوخبریں اور معلومات وصول کرنے کے بنیادی حق سے محروم کرنے کے علاوہ عوامی دلچسپی اورمفاد کے حامل معاملات، خاص طورپرسیاستدانوں کے امور میں ’’مقتدرحلقوں‘‘ کے کردار کے متعلق معلومات پرمبنی بحث سے سے بھی محروم کرتے ہیں۔اس خط کی نقول پاکستان مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلزپارٹی اورپاکستان تحریک انصاف کوبجھوائی گئی ہیں۔

آئی پی آئی کی ایگزیکٹوڈائریکٹر باربرا ٹراؤنفی نے یاد دلایاکہ اس ماہ کے اوائل میں نوائے وقت گروپ سے منسلک ایک خاتون صحافی کومختصردورانیے کے لیے اغواکیاگیا،بول ٹی وی کے اینکراسدکھرل کوماراپیٹاگیا۔آئی پی آئی کی ایگزیکٹوڈائریکٹر باربرا ٹراؤنفی نے مزیدکہاکہ کئی ایک اخبارات کے نیوزایڈیٹرزکواخبارات میں مخالف کالم شائع کرنے سے روک دیاگیاہے جس کے باعث کچھ سرکردہ کالم نگار،سوشل میڈیاپراپنے غیرسنسرشدہ کالم شائع کرنے پرمجبورہیں۔انہوں نے مزیدکہاکہ یہ امربھی اسی قدرپریشان کن ہے کہ ملک بھرمیں اخباری تقسیم کنندگان کوڈرایادھمکایاجارہاہے جس کاواضح مقصدیہ ہے کہ ڈان،جنگ اوردی نیوزجیسے اخبارات کی اشاعت میں رکاوٹ ڈالی جاسکے۔

آئی پی آئی کی ایگزیکٹوڈائریکٹر باربرا ٹراؤنفی نے مزیدکہاکہ اطلاعات سے یہ ظاہرہوتاہے کہ ڈراؤدھمکاؤکے یہ واقعات بڑے بڑے شہروں کے رہائشی علاقوں کے علاوہ قصبوں،خاص طورپرفوجی چھاؤنیوں اور’مقتدرحلقوں‘ کے زیراہتمام رہائشی سوسائیٹوں میں روزانہ کی بنیاد پرہورہے ہیں جہاں عوام کی کثیرآبادی رہائش پذیرہے۔اس قسم کے اقدامات کیبل آپریٹرز کے خلاف بھی کیے گئے جبکہ ڈان نیوزاورجیونیوزجیسے نیوزچینلوں تک عوام کی رسائی ناممکن بنائی جارہی ہے۔

انہوں نے مزیدکہاکہ آئی پی آئی کواس امرپرتشویش ہے کہ ’’مقتدرحلقوں‘‘ کی طر ف سے میڈیاپرزیادہ سے زیادہ دباؤڈالاجارہاہے تاکہ سیاسی امورمیں مداخلت کے ضمن میں ان کااپنابیانیہ مسلط کیاجاسکے۔آئی پی آئی کی ایگزیکٹوڈائریکٹر باربرا ٹراؤنفی نے کہا’مجھے یہ دیکھ کربہت تکلیف ہوئی کہ میڈیاکے خلاف حالیہ بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے ایک حصہ کے طورپر ’’مقتدرحلقوں‘‘نے عوامی سطح پرآزاد میڈیاکو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قراردیا جس کے نتیجے میں مخالف صحافیوں کوسوشل میڈیا پرمخالفت کانشانہ بنایا جا رہاہے اورانہیں طبعی طورپرنقصان پہنچانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ اس قسم کی صورت حال، جمہوریت اوران انتخابات کے لیے معلومات کی آزادانہ فراہمی کے لیے خطرناک ہے۔

’’آئی پی آئی کواس امرپر تشویش ہے کہ آزاد میڈیاکے خلاف مسلسل تادیبی کارروائیوں کامقصدیہ ہے کہ میڈیاکوایک واضح پیغام دیاجائے:سیاسی معاملات میں’’مقتدرحلقوں‘‘کی جانب سے مداخلت پرتنقید کے سنگین نتائج برآمدہوں گے جوپاکستان میں آزادمیڈیاکی بقاکے لیے نقصان دہ ہوں گے۔

’’جب تک میڈیامیں نامہ نگاری پراثراندازہونے کی مزیدکوششیں روکی نہیں جاتیں اوریہ امریقینی نہیں بنایا جاتاکہ اخبارات ،آزادانہ طورپرخبریں شائع کر سکیں، اورٹی وی چینل بھی بغیرکسی مزیدخوف،اپنی نشریات کر سکیں،آئندہ انتخابات کی اعتباریت پرشک کے سائے منڈلاتے رہیں گے۔

آئی پی آئی کی ایگزیکٹوڈائریکٹر باربرا ٹراؤنفی نے وزیراعظم،چیف جسٹس اورالیکشن کمشنر کے علاوہ مرکزی سیاسی قائدین سے کہاکہ آزاد پریس کے لیے ناسازگارماحول کوخوشگواربنانے کے لیے ہرممکن قدم اٹھایاجائے اوریہ بھی ممکن ہوسکے کہ پریس کو’’ریاستی اداروں کے حملوں‘‘سے محفوظ کیاجاسکے۔

دی انٹرنیشنل پریس انسٹیٹیوٹ جس کاقیام ویانامیں1950ء میں عمل میںآیا،پریس کی آزادی اورصحافیوں کے تحفظ کے لیے کوشش کررہاہے‘‘۔

من چلے کو مزید حیرت ہوئی پوچھا آگے کیا ہو گا۔۔۔ میں نے جواب دیا انتخابی نتائج کے بعد شطرنج کی نئی بساط بچھائی جائے گی۔۔۔ اسلام آباد ، لاہور، پشاور، کراچی اور دیگر شہروں میں کئی صادق سنجرانی منہ اٹھائے پھر رہے ہیں۔۔۔ شاید قسمت یاوری کرے اور اقتدار کا ہما ان میں سے کسی ایک کے کندھے پر آ بیٹھے۔۔۔ خدا نظر بد سے بچائے اپنے چودھری نثار علی خاں بھی دوڑ میں آگے آگے نظر آتے ہیں۔۔۔ زیادہ نہیں تو ایک دو سالوں کے لیے اقتدار یا صحیح تر الفاظ میں پراٹوکول کے مزے لیے جائیں گے۔۔۔ اس کے بعد خدا حافظ ملک کا بھی اور ہم سب کا بھی!


ای پیپر