سکروٹنی کی چھلنی
20 جون 2018 2018-06-20

الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار نے ایک بات تو ثابت کر دی۔وہ بات جس کو سنتے رہے لیکن سمجھ نہ آئی۔سنتے تھے کہ سیاست دان اور سیاسی جماعتوں کا اصل احتساب صرف اور صرف الیکشن کے ذریعے ہو سکتا ہے۔ قلمکار یہ ہر گز نہیں کہہ رہا کہ عمومی احتساب کے ادارے نیب،ایف ائی اے، اینٹی کرپشن پولیس ان سب کی تالہ بندی ہو جانی چاہیے۔ احتساب کے عمل کے ذریعے نظام انصاف کے توسط سے ملزم کو مجرم ثابت کرنے کیلئے ادارہ جاتی ڈھانچہ ضروری ہے۔ اسی نظام کے ذریعے ہی قانون توڑنے،لوٹ مار کرنے والے عناصر کو کیفر کردار پہنچایا جا سکتا ہے۔ یہ ساری باتیں اپنی جگہ درست۔لیکن سیاستدان اور سیاسی جماعتوں کے احتساب کی بنیاد صرف اور صرف ووٹر ہی رکھ سکتا ہے۔ ووٹر کے پاس اس عمل کی بنیاد رکھنے کیلئے صرف ایک ہی پلیٹ فارم ہوتا ہے۔ وہ ہے الیکشن۔ جب انتخابات تسلسل کے ساتھ ہوں۔انتخابی قوانین سخت،موثر،بے لچک ہوں تو احتسابی عمل نہایت جاندار ہو جاتا ہے۔ محض نمود و نمائش،شان و شوکت کیلئے الیکشن میں حصہ لینے کے خواہش مندوں کو معلوم ہو کہ سخت قسم کی چھلنی ان کی منتظر ہے تو بہت سے غیر سنجیدہ امیدوار خود ہی پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ابھی وطن عزیز میں تسلسل کے ساتھ دو الیکشن ہوئے ہیں۔ابھی صرف جمہوری طور پر منتخب دو حکومتوں نے اپنے ادوار مکمل کیے ہیں۔ ابھی اس نظام کو چلتے ہوئے دس سال ہی ہوئے ہیں۔ابھی پہلی دفعہ انتخاب لڑنے والوں کی سکروٹنی کیلئے نہایت ایک چھلنی تیار ہوئی ہے۔ اور نتیجہ سامنے ہے۔ الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2013کی بہ نسبت 2018 کے انتخابات میں حصہ لینے کے خواہشمند افراد میں کمی آئی ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سخت انتخابی قوانین اور بیان حلفی جمع کرانے کی شرط نے بہت بڑی تعداد کو مقابلے کیلئے میدان میں اترنے سے پہلے ہی پتلی گلی سے نکل جانے پر مجبور کر دیا ہے۔ 2013 کے مقابلے میں موجودہ انتخابات میں حصہ لینے کے خواہاں افراد کی تعداد میں شدید کمی آئی ہے۔ اگلے الیکشن یعنی 2018 میں امیدوار کی تعداد میں تقریباًسات ہزار کے قریب کمی آئی ہے۔ رواں انتخابی عمل میں 21 ہزار 482 کاغذات نامزدگی جمع ہوئے۔ بعض امیدوار ایک سے زائد حلقوں سے کاغذات جمع کراتے ہیں۔ اسی طرح بعض امیدوار ایک ہی حلقہ سے ایک سے زائد کا غذات نامزدگی جمع کراتے ہیں۔ جو کہ قوانین کے عین مطابق ہوتے ہیں۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ صرف پانچ سال پہلے 11 مئی کو منعقدہ انتخابات کیلئے 28 ہزار 302 افراد نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔حالیہ الیکشن میں قومی اسمبلی کے امیدواوں کی تعدادماضی کی بہ نسبت تقریباًدو ہزار 523 کم ہیں۔جبکہ صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن میں قسمت آزمانے والوں کی تعداد میں پانچ ہزار سے زائد کی کمی آئی ہے۔ البتہ دلچسپ بات یہ ہے کہ خواتین کیلئے مخصوص نشستوں پر الیکشن لڑ نے کی خواہاں امیدوار وں میں کافی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس مرتبہ قومی اسمبلی کیلئے جن خواتین نے مخصوص نشستوں پر کاغذات جمع کرائے ان کی تعداد 483 ہے۔ جبکہ صوبائی اسمبلیوں کیلئے تعداد 821 سے بڑھ کر 1255 ہو گئی۔ اسی طرح اقلیتی نشستوں پر جن افراد نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ان کی تعداد میں کوئی کمی پیشی نہیں ہوئی۔ 2013 میں قومی اسمبلی کے لئے جن اقلیتی نمائنددوں نے کاغذات جمع کرائے ان کی تعداد 154 تھی۔ البتہ صوبائی اسمبلیوں کیلئے اقلیتی امیدواروں کی

تعداد 310 سے بڑھ کر 471 ہو چکی ہے۔ جہاں تک امیدواروں کی کم تعداد کا معاملہ ہے یقینی طورپر اس کے پیچھے احتسابی شکنجے میں جکڑے جانے کا اندیشہ ہے۔کیونکہ بیان حلفی میں دیے گئے گوشواروں اور تفصیلات میں کسی بھی موقع پر کوئی معلومات چھپائی گئیں اور کسی موقع پر وہ ڈکلیریشن غلط ثابت ہوا تو نا اہلی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ اور قانون کیگرفت میں آنے کا بھی خدشہ ہے۔ جہاں تک خواتین کی تعداد میں اضافے کا معاملہ ہے۔اس کے پیچھے کہانی کچھ اور ہے۔ یہ معاملہ ایسا ہے کہ جس پر تفصیل سے لکھنے کی ضرورت ہے۔ لیکن چونکہ ابھی تک خواتین سیٹوں پر نامزدگی میں کئی چیزیں حتمی نہیں ہیں لہٰذا تفصیل بعد میں۔ البتہ بڑی تعداد میں خواہشمند ہونے کے پیچھے کچھ وجوہات ہیں۔اکثر خواتین اور اقلیتی امیدواروں کو معلوم ہوتا ہے کہ نامزدگی کے ذریعے اسمبلیوں تک رسائی کا یہ آسان راستہ ہے ہینک لگے نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی چوکھا آئے۔ نہ الیکشن لڑنے کی زحمت نہ سڑکوں،بازاروں میں ووٹر کے پاس جا کر ووٹ مانگنے کا جھنجھٹ۔بس اثر و رسوخ،بیک گراؤنڈ تعلقات،رابطوں کو استعمال کیا۔اسمبلی کی ممبری حاصل کی اور پانچ سال کیلئے مزے مفت میں۔ مرعات،سرکاری دورے،اعلیٰ عہدے سب کچھ حاصل۔ووٹر کے سامنے کوئی جوابدہی نہیں۔اقلیتی نشستوں پر نامزد افراد تو صرف اپنی پارٹی لیڈر شپ کو جواب دہ ہوتے ہیں۔ اپنی کمیونٹی اس کی فلاح و بہبود ا ن کے مسائل سے اقلیتی نمائندوں کا کوئی خاص تعلق نہیں ہوتا۔اکثرایسے نمائندوں کو فائلوں کے پلندے اٹھائے اپنے ذاتی کاموں کیلئے ہی سر گرداں دیکھا گیا ہے۔ قلمکار کا خیال ہے آئندہ انتخابات کے بعد جو اسمبلی وجود میں آئے۔وہ خواتین کیلئے مخصوص نشستوں اور اقلیتی نمائندوں سے متعلق نیا طریقہ کار واضع کرے۔کیونکہ موجودہ حیثیت میں یہ مخصوص نشستیں سیاسی رشوت کے طور پر ہی استعمال ہو رہی ہیں۔ خواتین اور اقلیتوں کے مسائل کے حوالے سے ان کا کوئی کردار نہیں۔

حالیہ انتخابی قوانین،حلف نامے کی شرط اور سکروٹنی کے سائنسی نظام نے مزید بہت سی منفی چیزوں کو بے نقاب کیا۔ اگر یہ آن لائن سکروٹنی نظام اتنا مربوط اور موثر نہ ہوتا تو کیسے پتہ چلتا کہ چوٹی کے 122 سیاستدان دہری شہریت کے حامل ہیں۔ تفصیلات سے پتہ چلتا ہے کہ 60 انقلابی رہنما برطانیہ کے شہری ہیں۔ 26 امریکا،24 کینیڈا اور بعض دیگر ممالک کی شہریتوں کے حامل ہیں۔اسی آن لائن سکروٹنی کے نظام نے نادہندہ امیدوار کو بے نقاب کیا۔اب یہ امیدوارجو عوام کی رہنمائی کے دعویدار ہیں۔ بعض کا تعلق تو تبدیلی کی نقیب جماعت پی ٹی آئی کے لشکر جرار میں بہت اہم عہدوں پر فائز ہیں۔صوبے کی وزارت اعلیٰ ایسے اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ یہ انقلابی لیڈر الیکشن میں جانے سے پہلے یا تو نادہندگی کلیئر کرائیں گے یا پھر انتخابی عمل سے آؤٹ ہو جائیں گے۔ فیصلہ قانون کرے گا۔ تاہم اب تک کے اعدادو شمار کے مطابق کاغذات نامزدگی کے مطابق گیارہ فیصد امیدوار نادہندہ ہیں۔ 310 امیدوار سوئی گیس کے ڈیفالٹر ہیں۔383 بنکوں کے 500 پی ٹی سی ایل کے نادہندہ ہیں۔

انتخابی عمل جاری ہے۔ اور سکروٹنی کا پراسس بھی۔ عوامی نمائندگی کے دعویدار وں کے پوشیدہ اثاثے بھی ظاہر ہو رہے ہیں۔ خفیہ شادیاں اور اولادیں بھی عوام کے سامنے آ رہے ہیں۔ انتخابی عمل کے نتیجے میں یہ بھی سامنے آرہا ہے کہ سیاسی جماعتیں ٹکٹ کیسے جاری کرتی ہیں۔ کون سا میرٹ ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے۔ 126 دن کا دھرنا دینے والوں سے کیسے ایک دن کا احتجاج بھی برداشت نہیں ہو تا۔ انتخابی عمل کا تسلسل جاری رہا تو اگلے الیکشن تک تطہیر عمل مزید موثر ہو جائیگا۔ چھلنی مزید باریک ہو گی۔ میدان میں وہی اترے گا جس کا دامن صاف ہو گا۔ یہی حقیقی جمہوریت ہے۔


ای پیپر