سیاست یا جنگِ زرگری
20 جون 2018 2018-06-20

عام انتخابات کے انعقادمیں چند ہفتے باقی ہیں۔ رمضان الوداع ہواہے الیکشن مہم زورپکڑے گی اورقومی افق پرآتش گل کے نکھارکا موسم ہے، شاخ جمہوریت پرکوئلیں اوربلبلیں نغمہ زن ہیں، کہیں کہیں موٹی موٹی آنکھیں مٹکاتے الوبھی ہیں ۔الغرض بزبان فیض یہ چمنستان جمہوریت میں صوت ہزارکا موسم ہے۔کہیں نئے پاکستان کی صدائے دل فریب ہے ، تو کہیں ووٹ کو عزت دوکی سحرانگیزیاں ہیں، کہیں روٹی کپڑا اورمکان کی لال بتی ہے، توکہیں اسلام کو وینٹی لیٹر پردکھاکرجان کنی سے دوچاراس ازلی و ابدی مریض کی صحتیابی کیلئے ووٹ کا چندہ درکارہے، دوسری طرف جہاں جمہوریت کے تسلسل کے ڈونگرے بجائے جارہے ہیں وہاں ایسے بھی ہیں جو سمجھتے ہیں جمہوریت ہمارے تن سے کپڑے نوچ کرسیاستدانوں کی تجوریاں بھرنے کا نام ہے۔اورجمہوریت کا اسلام سے کیالینا دینا، فوجی حکومتوں میں عام آدمی کیلئے خیرکا عنصرزیادہ رہاہے،اسلام کا نظم اجتماعی خلافت کا سزاوارہے۔یہ مغرب کا مادہ پرستانہ جمہوری نظام ایک بے ہودہ نقالی کے سواکچھ نہیں ہے۔ توہم اس تحریرمیں اسلام اورجموریت سے متعلق کچھ گزارشات پیش کرتے ہیں ممکن ہے کچھ مطلع صاف ہوجائے اوربات بن جائے!
سرور کائناتؐ کی ذات والا صفات مذہبی اتھارٹی اورجمہوری رویے کا ایسا حسین امتزاج ہے کہ الفاظ اسے بیان کرنے سے قاصرہیں۔جمہوریت ایسی کہ چھوٹے سے چھوٹا اور بڑے سے بڑا مسئلہ باہم مشاورت سے حل کیا مذہبی اتھارٹی کا اطلاق ایسا کہ جب جمہورصلح حدیبیہ کی شرائط کو اسلام کیلئے باعث ہزیمت سمجھ رہے ہیں اورکبار صحابہ کی جانب سے اختلاف رائے اور غم وغصہ کا سامنا ہے ۔ پیغمبرؑ اپنے فیصلے پراٹل ہیں، خطرہ ہے کہ لوگ قربانی کے جانورذبح کرنے سے احتراز نہ کردیں، اکیلے قربانی کیلئے نکل کھڑے ہوتے ہیں اور اجماع جمہور نبیؐ کے فیصلے پرقربان ہوکررہتا ہے۔اسلام کا تصورریاست وسیاست ان دوانتہاؤں کا اسیرہے، ایک طبقہ مطلق العنانیت کا قائل ہے اوروہ سربراہ ریاست یا خلیفہ کو کلی اختیارات دیتا ہے اور دوسرا اسلام کے شورائی تصورکا قائل ہے کہ سربراہ ریاست جمہور کی رائے اور مشاورت سے امورریاست کو چلائے گا،ہرچندکہ قرآن وسنت کا نچوڑشورائیت ہی کوترجیح دیتاہے جو جمہوریت کا مغزہے، مگرتاریخ اسلام نے خلفائے راشدون کے بعدڈکٹیٹرشپ اورمطلق العنانیت کا لبادہ اوڑھ لیا تو وہ دین حق جو لاقیصرولاکسریٰ کے نعرے سے تیغ زن ہوا تھا،" اڑنے نا پائے تھے کہ گرفتارہم ہوئے" کی عملی تصویربن گیا۔اقبال بجا طورپرفرماتے ہیں کہ پیغمبر انقلابؐ اورخلفائے راشدین کا دورشورائیت کی سادہ
وخوبصورت تصویرپیش کرتاہے، مگرملوکیت درآنے سے یہ اادارہ کمزورہوگیا، اگرشورائی نظام کو موقع دیاجاتا تویہ شایدپارلیمنٹ کی شکل اختیارکرلیتا، اوریہ ڈکٹیٹرزکے مفادمیں نہ تھا کہ اس سے اس کی پاورکو چیلنج کا سامنا ہوتا۔ اس لیے فقہاء کی کسی باڈی کو اجتہادیا تدوین فقہ کا موقع نہ دیا گیا اوراسے چندافرادکی انفرادی کوششوں تک محدودکردیاگیا۔ بہرحال ہم دیکھتے ہیں کہ یہ شرق وغرب میں ڈکٹیٹرزکا عہدتھا، امپائرزتھیں،چرچ کا اقتدارتھا، یاظل الٰہی تھے۔
اسلام اپنے اخلاقی وژن سے بام فلک پرنمودارہوا، اور پھر ڈکٹیٹرز کے ہاتھوں ہائی جیک ہوگیا، صدیوں کشتہ سلطانی وملائی وپیری کی تصویر بنا رہا۔ پورے چودہ سوسال کرسچن یورپ سے طویل رزم آرائیوں اور مختصر مگر یادگار محبتوں اور مفاہمتوں کے جام بھی اڑائے، مگریورپ کی نشاۃ ثانیہ سے توسارا نقشہ بدل گیا،اٹھارہویں ، انیسویں اوربیسوی صدی کے ابتدائی عشروں تک ایشیاء اورافریقہ کے تمام مسلم ممالک یکے بعد دیگرے یورپ کے آگے ڈھیرہوتے چلے گئے۔اوپرنیچے اوردائیں بائیں سے جب جوتے پڑنا شروع ہوئے تو سمجھ نہیں آیاکہ ہوکیاگیاہے؟ اورمزیدکیا ہونے جارہاہے، اندلس کا شکوہ اسلامی تو ۱۴۹۸ میں ہی پایاب ہوا، مگرسلطنت عثمانیہ نے تحٖفظ فراہم کرہی لیا، ہندوستان میں مغل اقتدارجاتارہا، مگرعثمانیوں سے توقعات وابستہ رہیں، مگروہ بھی پے درپے روبہ زوال تھے، برطانیہ اورفرانس کی طاقت کا جب بھی ناپ تول کرتے سارے تجزیے غلط ثابت ہوتے۔دیکھا کہ یورپ کی ساری طاقت ملٹری اورٹیکنالوجی میں ہے، مصراور ترکی میں عثمانیوں نے کئی کالجزکھول لیے جو ملٹری ڈسپلن اورٹیکنالوجی کی تعلیم دینے لگے مگرپھربھی یورپ کے مقابلے میں فوجیں اترتیں تو ناکام رہتیں۔ پھرجائزہ لیاگیااوراس نتیجے پرپہنچے کہ یورپ کی طاقت وترقی کا انحصارسائنسی ترقی پرہے، لہٰذاطلباء کو سائنس کی تعلیم کیلئے یورپ بھیجا جائے وہاں سے انسٹرکٹرزبلاکراپنے ہاں سائنسی تعلیم کو فروغ دیا جائے، کرکے دیکھ لیا مگرنتائج ندارد!جس میدان میں دیکھیں یورپ کا مقابلاکرنے سے قاصر ! ایسے میں قدرت خداوندی نے ملت اسلامیہ کو ایک ایسا دماغ عطاکیاجسے تاریخ سیدجمال الدین افغانی کے نام سے جانتی ہے جسے مشرق ومغرب کے فلاسفرزپہلا جدت پسندمسلم اسکالرکہتے ہیں اقبال کے الفاظ میں یہ سیدالسادات جمال الجمال افغانی جب قرآن کے عقدے کھولتاہے تو جبرائیل وجدمیں آجاتے ہیں ، اس نے یورپ کے ہاتھوں ملت اسلامیہ کی محکومیت کو دل کا روگ بنالیاپھراس دردکے مداوے کیلئے" نگرنگرپھرا مسافر" مصر، ایران، شام، عراق، ہندوستان، ترکی کہاں کہاں سے نہیں نکالاگیا،اوراس میں اپنوں کی عنایات کا حصہ زیادہ رہا، یہ پہلا مردحرتھاجس کی حریت فکراس نتیجے پرپہنچی کہ زوال بندہ مومن کا بے زری سے نہیں، نہ ہی سائنس اورٹیکنالوجی کی یورپی برتری ہماری غلامی کا سبب ہے۔آپ نے انتہائی گونج دارآواز میں مسلم سلاطین کو دوٹوک اندازمیں کہا ۔۔کم بختو جب تک فلسفہ، تاریخ اورسماجیات کے علوم کو مرکزی اہمیت نہیں دوگے استعمارسے نجات نہیں پا سکتے ۔ یہ بندہ مومن لندن اورپیرس میں اجمہوری حکومتوں کا اپنی نگاہ سے مشاہدہ کرچکا تھااور سمجھ چکا تھا کہ جمہوریت میں درحقیقت عوام الناس کے پاس اقتدارہوتاہے، اس سے ہرشخص اپنی آؤٹ پٹ کو کئی گنا بڑھا دیتاہے، اوربادشاہتوں میں نقصان عوام برداشت کرتے ہیں ، عیاشیاں طبقہ امراء کرتا ہے۔ڈٹ گئے کہ مسلم ممالک میں آئینی حکومتوں کا قیام ہونا چاہئے۔ مصرمیں توفیق پاشا کی حمایت کی اسے اقتدارمیں اس شرط پرلایا گیا کہ وہ آئینی حکومت کا قیام یقینی بنائیں گے، جب وعدہ نبھانے کا وقت آیا تو تقفیق پاشا برطانیہ اور فرانس کی ایما پرسید جمال الدین کے دشمن ہوئے اور انہیں ڈی پورٹ کردیا گیا۔
سید جمال الدین افغانی کی فکرسے برصغیربھی کسب فیض میں پیچھے نہ تھا، یہاں افغانی کے پان اسلام ازم کو جو مقبولیت ملی ان کی جدت پسندی اورجمہوری سوچ کو بھی بعینہٰ پسندکیا گیا۔ایک طرف وہ مغربی استعمارکے آگے مسلمانوں کی رہی سہی سیاسی طاقت خلافت عثمانیہ کی حمایت کے ذریعے سد سکندری بنے ہوئے تھے تو دوسری جانب وہ مسلمانوں کو تجدیدواحیائے دین کے نئے پیغام سے بھی متعارف کروارہے تھے۔
جما ل لدین افغانی نے کہا کہ اسلام ہرلحاظ سے ایک جدیدمذہب ہے مشرق وسطیٰ میں مفتی عبدہ اوربرصغیرمیں سرسیداحمدخان نے اس دعوے کو درست ثابت کردکھانے کیلئے زندگیاں بتادیں۔مفتی عبدہ کی فکراسلامی کی تشکیل جدیدنئی بوتل میں پرانی شراب تھی سرسیداحمدخان نے اپنے تئیں نیا علم الکلام وضع کروایاگواس پرزمانہ وسطیٰ کے علم الکلام کی چھاپ تھی مگرفکراسلامی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں تھا جسے تنقیدی نگاہ سے نہ دیکھا گیا ہو، ایسے میں غلطیاں بھی ہوئی ہوں گی مگران کو حوصلے اوردلیری کی داد دینا پڑے گی، پھراسی یقین سے ان کے پسماندگان نے جمہوریت کو قرآن کا عرف سمجھ کرجمہوری اصولوں سے پاکستان بنایا۔مگریہ قافلہ منزل پرپہنچ کرلٹنا شروع ہوااورلٹتے لٹتے اپنی اخلاقی متاع سے ہاتھ دھوبیٹھا۔آج جمہوریت کسی جاگیردار، سرمایہ داریا گد ی نشین کے گھرکی لونڈی بن چکی ہے، سینیٹ انتخابات کو دیکھا جائے تو عام انتخابات کی دہلیزپرکھڑی جمہوریت یہی کہہ رہی ہے "توں نوٹ دکھا ، میرا موڈبنے!!!


ای پیپر