سپریم کورٹ کے جسٹس فائز عیسیٰ کا تاریخی نوٹ
20 جون 2018 2018-06-20

پاکستان کی سیاسی اور عدلیہ کی تاریخ کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔دنیا بھر کی اعلیٰ عدالتوں نے ایسے فیصلے کئے ہیں جنہوں نے ملکوں کی سیاسی تاریخ کا رخ متعین کرنے میں بہت ہی اہم کردار ادا کیا ہے۔یہاں پر کئی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں مگر جگہ کی کمی کے باعث اس سے اجتناب ہی بہتر ہے۔صرف یہ عرض ہے کہ پاکستانی تاریخ،سیاست اور قانون کے ہر طالب سپریم کورٹ کے سینیر وکیل جناب حامد خان کی پاکستان کی عدلیہ پر لکھی ہوئی کتاب ضرور پڑھنی چاہئے۔

اس کتاب سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ کس طرح پاکستان بننے کے کچھ عرصہ بعد ہی انتظامیہ نے عدلیہ سے خاص کام لینے کے لئے اپنی پسند کا چیف جسٹس مقرر کروایا۔

پاکستان بننے کے بعد سب سے اہم سیاسی فیصلہ پاکستان کے اس وقت کے فیڈرل کورٹ نے کیا وہ تمیز الدین کیس تھا۔تاریخ کے ہر طالب علم کو یہ بات معلوم ہے کہ گورنر جنرل ملک غلام محمد نے پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کو توڑ کر خواجہ ناظم الدین کی حکومت کو برطرف کردیا تھا۔جس کے خلاف آئین ساز اسمبلی کے سپیکر جناب تمیز الدین(برقع پہن کر) سندھ ہائی کورٹ میں کیس کیا اور سندھ ہائی کورٹ نے گورنر جنرل کے خلاف فیصلہ دیا تھا مگر بعد میں حکومت کی اپیل پر فیڈریل کورٹ نے جسٹس منیر کی سربراہی میں حکومت کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔مگر اس فیصلہ سے سپریم کورٹ کے ایک جج جسٹس کارنیلس نے اختلاف کیا تھا۔

اس دن سے آج تک لوگ جسٹس منیر کے فیصلہ کو بری نظر سے دیکھتے ہیں۔اختلافی نوٹ لکھنے کی وجہ سے عوام کی نظر میں جسٹس کارنیلس کا مقام بہت اونچا ہوگیا اور عوا م اور وکلا برادری نے ہمیشہ ان کی عزت اور توقیر کی۔

جسٹس منیر نے پاکستان میں جنرل ایوب کے پہلے مارشل لا کو بھی درست قرار دیا۔ گو بعد میں جسٹس منیر نے From Jinnah to Ziaلکھ کر اپنے کردار کی کچھ تلافی کرنے کی کوشش کی۔

موجودہ پاکستان میں سب سے پہلے سپریم کورٹ میں ذولفقار علی بھٹو کے قتل کے مقدمہ میں سپریم کورٹ تقسیم ہو گیا اور آج بھی لوگ جسٹس انوار الحق کی اکثریت پر کھلے عام تنقید کرتے ہیں بلکہ بھٹو کی پھانسی کے سپریم کورٹ کے فیصلہ کو عدالتی قتل کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

جب نواز شریف کی حکومت کو صدر غلام اسحاق نے برطرف کیا تو سپریم کورٹ نے اس کے خلاف فیصلہ دیا مگر جسٹس سجاد علی شاہ نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے اپنا اختلافئی نوٹ لکھا۔ان کی دلیل یہ تھی کہ جب بے نظیر کی پہلی حکومت کو اسی قانون کے تحت برطرف کیا گیا تھا تو سپریم کورٹ نے اس کے حق میں فیصلہ دیا تھا اب اس کے خلاف فیصلہ کیوں۔

ان کے اس فیصلہ اختلافی فیصلہ نے ان کو سپریم کورٹ کاچیف جسٹس بنوا دیا۔

پانامہ کیس میں نوازشریف کے فیصلہ میں بھی پہلے سپریم کورٹ نے منقسم فیصلہ دیا مگر بعد میںJITکی رپورٹ کے بعد متفقہ فیصلہ دے دیا اور نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا۔

پھر سپریم کورٹ نے نواز شریف پر زندگی بھر کے لئے الیکشن لڑنے پر پابندی لگا دی۔

یہاں سپریم کورٹ کے فیصلوں پر تبصرہ مقصود نہیں ہے کیونکہ عمران خان، ترین اور بعد میں خواجہ آصف کے فیصلہ آچکے ہیں۔

اب حال ہی میں ’پنڈی بوائے‘ شیخ رشید کے فیصلہ پر جسٹس فائز عیسیٰ نے بہت ہی اہم اور بنیادی نقاط اٹھائے ہیں جن پر بہت عرصہ تک آنکھیں بند رکھنا ممکن نہیں ہے ایک نہ ایک دن سپریم کورٹ کو جسٹس فائز عیسیٰ کے نقاط کی تشریح کرنی ہی پڑے گی۔بے باک سپریم کورٹ کے وکیل جناب بابر ستار کا خیال ہے کہ یہ اس وقت ہوگا جب جسٹس فائز عیسیٰ خود سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بن جائیں گے۔

میرے ذاتی خیال میں ان سوالات کا جواب عوام 25جولائی کو ہونے والے انتخابات میں دے دیں گے۔۔یعنی قانون کے نظر میں سب برابر ہیں اور ووٹ کو عزت دو۔


ای پیپر