روپ کئی ،رنگ کئی ؟

20 جون 2018

ناصف اعوان



جب تک ہمارے اہل اقتدار و اختیار میں خلوص کا فقدان ہے عوام کی حالت زار ٹھیک نہیں ہو گی۔ اب تک دنیا بھر سے جو امدادیں اور قرضے حاصل کیے گئے اسی لیے عام آدمی کی زندگی میں کوئی انقلاب برپا نہیں کر سکے۔ کہ انہیں با اختیاروں نے اپنی ذات کے لیے مختص کر لیا۔ اگرچہ لوگوں پر انہیں خرچ کیا گیا مگر وہ محض دکھاوا تھا۔ کیونکہ عوام کے لیے وہ کچھ نہیں کیا جا سکا جس کی ضرورت تھی یا جو انہیں پر آسائش لمحوں سے آشنا کرتا۔ پیوندکاری ہوتی رہی۔ معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے کوئی بڑا قومی منصوبہ نہیں بنایا گیا۔ آبادی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو پیش نظر رکھ کر پالیسیاں وضع نہیں کی گئیں۔ پانچ سالہ یا دس سالہ پروگرام شروع میں تو ترتیب دیے گئے اذاں بعد ان سے رخ پھیر لیا گیا۔ اس کی وجہ یہی ہو سکتی ہے کہ حکمرانوں کو عوام سے نہیں خود سے محبت رہی ہے۔ اور اسی لیے ہی آج بد عنوانی کا اژدھا پورے نظام پر حاوی ہو چکا ہے۔ افسوس ! ستر برس کے بعد بھی ہمارے
حکمرانوں کو عوام کی پریشانیوں کا خیال نہیں آیا۔ وہ اب بھی انہیں کہانیاں سنا رہے ہیں۔ اور وعدے کر رہے ہیں۔ جبکہ معاشی و اقتصادی ڈھانچہ تڑخ تڑخ جا رہا ہے۔ قرضوں پر قرضے لیے جا رہے ہیں تب بھی سکون قلب میسر نہیں۔ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ کہ آنے والا کل خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق ہماری معیشت کو کوئی بڑا صدمہ پہنچنے کا کوئی خطرہ نہیں۔ چین روس اور ایران اسے سنبھالے رہنے کی پوزیشن میں ہیں۔ چلیئے مان لیتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ کب تک دوسروں کے سہارے جیا جائے گا۔؟
لہٰذا ضروری ہے کہ تمام تر کوششیں اپنے وسائل کے استحکام کے لیے ہونی چاہیہں۔ مگر یہاں دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کون کرے۔ اگر کرے تو کس نظام کے تحت کرے۔؟
یہاں تو نظام حیات ہی نرالا ہے۔ جو سینہ زوروں کو تحفظ دیتا ہے۔ اور کمزوروں پر چڑھ دوڑتا ہے۔ انسانی حقوق کے نام پر استحصال ہوتا ہے۔ غریب افراد کو اگلے برسوں میں ترقی و سہولتیں دینے کی بات کی جاتی ہے۔ جبکہ اس نظام میں اگلے سے اگلے ادوار میں بھی کچھ نہیں ہو سکتا۔ دراصل جب تک غریبوں کے نمائندے ایوانوں میں نہیں پہنچیں گے حالات اپنے نہیں سدھریں گے۔ مگر اہل زرنے تہیہ کر رکھا ہے کہ وہ کسی صورت اپنے علاوہ کوئی دوسرا ایوانوں میں نہیں آنے دیں گے۔
نتیجتاً آج بھوک ننگ، نا انصافی اور جہالت نے پورے سماج کے گرد ایک حصار قائم کر رکھا ہے۔ مگر اب اہل اختیار ٹس سے مس نہیں ہو رہے اور خوش کن دعوؤں کے ذریعے خدمت گار کے طور سے سامنے آ رہے ہیں۔ جو نظروں کا دھوکا ہے۔ اس میں فلاح و بہبود کے بجائے ذاتی مسائل اور خواہشات کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ جس کی بنا پر کروڑوں عوام کے دل و دماغ ایک بہت بڑے ہیجان میں مبتلا نظر آتے ہیں!
بہر حال اب سب اہل زر و اختیار کے چہرے عیاں ہو چکے ہیں۔ جو دن رات دہائی دے رہے ہیں۔ کہ وہ عوام کے لیے اپنی جان بھی قربان کر سکتے ہیں۔ لہٰذا انہیں کامیاب کرایا جائے۔؟
معذرت کے ساتھ یہ ممکن ہی نہیں۔ اگر وہ کچھ کرنے کا ارادہ رکھتے تو وہ ہی کیوں انتخابات میں حصہ لیتے۔ انہیں اتنی ہی فکر ہے لوگوں کی تو کیوں انہیں آگے نہیں آنے دے رہے۔ یہ جمہوریت اور یہ انتخابات دونوں ایک سراب ہیں۔ اب تک ان کی آڑ میں عوام کا استحصال ہوتا آیا ہے۔ ان پر معاشی و انتظامی خوف مسلط کر کے انہیں یر غمال بنایا گیا۔ غلامانہ طرز عمل اختیار کیا گیا ۔ یہ دو فیصد سو فیصد کے مالک اور اٹھانوے فیصد مجبور و بے بس۔ دواؤں سے محروم غذاؤں کی قلت کا شکار انصاف کے حصول میں مارے مارے پھریں ۔ انہیں ہر لمحہ زندگی خطروں میں گھری نظر آئے۔ یہ کیا ہے۔ یہ کوئی نظام ہے۔ یہ کوئی زندگی ہے۔ ؟
بے شک عدالتیں متحرک ہیں۔ اس نظام و زندگی میں بہتری لانے کے لیے مگر نتائج سو فیصد بر آمد ہونے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ ہاں یہ ضرور کہا جا سکتا ہے۔ کہ بڑھ رہے ہیں۔قدم نئی صبح کی طرف۔ تھوڑی سی نظام کہتہ میں ہلچل تو مچی ہے۔ مگر اگر یہ سلسلہ رک جاتا ہے تو پھر حالات کے بدلنے کی آس مصدوم ہو جاتی ہیں۔ بات وہی ہے جب تک انہیں وضع کرنے والے خود کو تبدیل نہیں کرتے ان کی کوتاہیوں ، غلطیوں، قانون کی خلاف ورزیوں اور زیادتیوں کا ازالہ ممکن نہیں۔ لہٰذا سب سے پہلے ان کی تربیت کی جائے۔ سکروٹنی کے عمل کو جاری و ساری رکھا جائے۔ انصاف بلا تقریق ہو اور ریاست بچانے کو ایک فرض قرار دے دیا جائے۔ یہ جو انتخابات ہو رہے ہیں اور لوگوں کو امید دلائی جا رہی ہے کہ وہ ان میں شریک ہو کر اپنا مستقبل روشن بنا سکتے ہیں۔ ایسا جمہوریت میں ہوتا ہے۔ یہاں جمہوریت کی جھلک بھی دیکھنے کو نہیں ملی۔ ایک خاص گروہ ہے جو بار بار مختلف روپ بدل کر اختیارات کا مالک بن رہا ہے۔
وہ انتخابات میں حصہ لیتا ہے۔ یہ دکھانے کے لیے کہ وہ عوام دوست ہے ۔ ان کے مسائل میں دلچسپی رکھتا ہے۔ وہ لوگوں کو سہولتیں دے کر اپنے برابر کھڑا کرنے کا خواہشمند ہے اور عوام کو مفید شہری بنا کر ملک کو ترقی یافتہ ممالک کے قریب تر لے جانا چاہتا ہے۔ حقائق اس کے بر عکس ہیں۔ وہ بار بار ’منتخب‘ ہوتا ہے۔ کچھ ’’لگاتا ‘‘ ہے اور کچھ ہڑپ کرتا ہے۔ یوں وہ طاقتور سے طاقتور ہوتا جاتا ہے۔ اس کے رابطے سماج اور اس کے گردوپیش مضبوط ہوتے جاتے ہیں۔ اور جب اسے چیلنج کیا جاتا ہے تو وہ سُرخ آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ اس کے نزدیک وہ ہی اہل اور قابل ہے حکمرانی کے ، لہٰذا اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ من مرضی کرے۔ قومی خزانے کو ذاتی جاگیر قرار دے اور عوام پر ایسے قوانین لاگو کرے جو اس کے اقتدار و اختیار کے ساتھ اس کے مال و اسباب کا دفاع کرتے ہوں۔ اس سے گلو خلاصی سوائے انقلاب کے ممکن نہیں مگر اس کی راہ یہ کئی طریقوں سے روک رہا ہے۔ اس وقت جب ایک تبدیلی کا شور بلند ہو رہا ہے تو اس کے پیچھے بھی یہی ہے جو نعرہ تو لگا رہا ہے مگر حقیقت میں اس کے خلاف ہے۔ عوام بے چارے کچھ دیر اسے دیکھیں گے پرکھیں گے کہ وہ کب ان کے لیے کچھ کرتا ہے مگر انہیں یونہی احساس ہو گا کہ وہ پیاسے کے پیاسے ہیں تو پھر کسی دوسری جانب دیکھنے لگیں گے۔۔۔ لہٰذا انہیں چاہیے کہ وہ اس گروہ جسے اشرافیہ بھی کہا جاتا ہے سے توقعات وابستہ نہ کریں اور عوامی جدوجہد کے راستے کو اپنائیں۔۔۔ اور اپنی قیادت خود کریں۔۔۔!
حرف آخر یہ کہ جتنی بھی بڑی سیاسی جماعتیں ہیں لوگوں کی آنکھوں میں دھول نہیں مرچیں ڈال رہی ہیں لہٰذاان سے ہوشیار رہنا ہوگا۔۔۔ اگرچہ یہ احتسابی عمل سے گزر رہی ہیں مگر لگ یہ رہا ہے کہ قانون کی سانسیں پھول چکی ہیں لہٰذا جلد ہی معاملات نمٹ جائیں گے اور مطلع سیاست صاف و شفاف دکھائی دینے لگے گا؟
’’جو دلوں پر حکمرانی کے قابل نہیں ہوتے انہیں بادشاہ بنا دیا جاتا ہے‘‘۔ آفتاب جاوید

مزیدخبریں