ورلڈ بلڈ ڈونر ڈے
20 جون 2018 2018-06-20

ایک طرف پاکستان زکوت، عطیات اور خیرات دینے والے ممالک میں سر فہرست ہے جبکہ دوسری طرف پاکستان ان ممالک میں بھی شامل ہے جہاں باقاعدگی سے رضاکارانہ طور پر مفت خون کا عطیہ دینے کی شرح صرف دس فیصد ہے۔ ضرورت پڑنے پر یا تو خون خریدا جاتا ہے یا رشتہ داروں سے لیا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ملک پاکستان میں ہر سال پینتیس لاکھ خون کے عطیات اکٹھے کیے جاتے ہیں جن میں نوے فیصد رشتہ داروں سے اور صرف دس فیصد مفت رضاکاروں سے لیے جاتے ہیں۔جبکہ ملک کی آبادی کا ستر فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے۔اگر پوری آبادی کے صرف دو فیصد لوگ باقاعدگی سے خون عطیہ کریں تو پورے ملک کی ضرورت کو باآسانی پورا کیا جا سکتا ہے۔ پمز اسلام آباد کے مطابق انھیں روزانہ 125۔100 خون کے عطیات چاہیے ہوتے ہیں جو کہ رضاکاروں کے نہ ہونے کی وجہ سے رشتہ داروں سے لیے جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق رشتہ داروں کی نسبت باقاعدگی سے خون دینے والے رضاکاروں کا خون زیادہ صحت مند ہوتا ہے کیونکہ ایک تو

تازہ خون بنتا رہتا ہے اور دوسرا ان کی مکمل طور پر سکریننگ بھی باقاعدگی سے ہوتی رہتی ہے۔ایک اندازے کے مطابق ملک پاکستان میں % 75 ہسپتالوں میں خون کی منتقلی کے حوالے سے کمیٹیاں موجود نہیں ہیں۔خون کو سکریننگ کیے بغیر ہی منتقل کر دیا جاتا ہے۔جس کی وجہ سے ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس اے، بی، سی جیسی بیماریوں میں روز بروز اضافہ ہو ہورہا ہے۔ان حالات میں ملک پاکستان میں خون کے عطیات کی اہمیت کو اجاگر کرنے، معیاری اور محفوظ خون اکٹھا کرنے، اسے بین الاقوامی معیار کے مطابق محفوط کرنے اور ضرورت مندوں کو بروقت خون مہیا کرنے کے حوالے سے بیسیوں ادارے کام کر رہے ہیں لیکن اس حوالے سے سب سے زیادہ قابل ستائیش کام پاکستان ریڈ کریسنٹ کا ہے۔یہ ادارہ باقاعدہ طور پر حکومت پاکستان سے منْطور شدہ ہے۔ 96% خون مفت بلڈ ڈونرز سے اکٹھا کرتا ہے۔ان کے پاس دنیا کی جدید ترین مشینری دستیاب ہے۔تمام قوانین بین القوامی معیار کومد نظر رکھ کر بنائے گئے ہیں۔ اسلام آباد میں سکولوں پر مشتمل ایک آگاہی پروگرام چلایا جا رہا ہے جس میں خون دینے کی اہمیت اور ملکی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے مفت خون فراہم کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے آگاہی مہم چلائی جا رہی ہے۔یہ تنظیم تھیلیسیمیا، ہیمو فیلیا، کینسراور گردوں کے مریضوں کو بھی مدد فراہم کرتی ہے۔زکوت کے مستحق اور غریب لوگوں کو مفت خون کی فراہمی ان کی اولین ترجیح ہے۔اس کے علاوہ 2005 کے زلزلے ، 2008 کے میریٹ ہوٹل حملے اور 2014 میں آرمی پبلک سکول پشاور حملے کے واقعے میں پاکستان ریڈ کریسنٹ نے ایمرجنسی کیمپ لگائے ۔جس سے سینکڑوں لوگوں کی جانیں بچائی گئیں۔لیکن خون کی کمی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایک یا دو اداروں کا کام نا کافی ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے نوجوانوں کو رضاکارانہ طور پر مفت خون کے عطیات دینے کی اہمیت سے آگاہ کرنا بہت ضروری ہے۔ ہمیں نوجوانوں کو یہ باور کرانا ہو گا کہ خون نہ دینے کی سینکڑوں وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن خون دینے کی ہزاروں وجوہات موجود ہیں۔ ہماری ستر فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور اگر ہم ان میں خون دینے کی اہمیت کو اجاگر کرنے میں کامیاب ہو گئے تو ملک پاکستان میں ایک بھی موت خون کی عدم دستیابی کی وجہ سے نہیں ہو گی۔میری ملک پاکستان کے ڈاکٹروں سے گزارش ہے کہ جہاں وہ ہر روز اپنی تنخواہوں اور مراعات کو مدعا بنا کر ہڑتالیں، دنگے اور فساد کرتے ہیں وہاں ملک پاکستان میں خون کی کمی کے مسئلے کو بھی اجاگر کرنے کے لیے اقدامات کریں۔ میری حکومت پاکستان سے گزارش ہے کہ وہ خون عطیہ کرنے کے فوائد کے حوالے سے ایک مکمل چپٹر سکول کی کتابوں میں شامل کریں۔ پرائیویٹ سکولوں کے کورس میں اس مضمون کو شامل کروانے کے لئے پرائیویٹ سکولوں کی تنظیم سے مذاکرات کریں۔ یونیورسٹیوں اور کالجز میں سیمینار منعقد کروائے جائیں۔ ریگولر بلڈ ڈونرز کو ماڈلز کے طور پر پیش کیا جائے۔ ٹیلی ویژن اور اخبار میں ان کے انٹرویو دکھائے اور چھاپے جائیں۔ دفتروں میں آگاہی مہم کے حوالے سے پمفلٹ تقسیم کیے جائیں۔ دفتروں میں ہر چھ ماہ بعد بلڈ ڈونر کے نام سے ورکشاپ منعقد کی جائے۔ ملک کی سیاسی، سماجی اور فلمی دنیا کے لوگوں کو مہمان خصوصی کے طور پر بلایا جائے۔دینی مدرسوں میں خون عطیہ کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے تمام فقہوں کے علما اور مشائخ کو اعتماد میں لیا جائے۔ اس موضوع کو مدرسوں کے کورس کا لازمی حصہ بنایا جائے۔ اس کی علاوہ پورے ملک میں اٹھارہ سال سے پچاس سال کے لوگوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا جائے اور تمام صحت مند افراد کے لیے کالج، یونیورسٹیوں میں داخلے اور نوکری کے حصول کے لیے سال میں ایک مرتبہ خون عطیہ کرنا لازمی قرار دے دیں۔حکومت خون عطیہ کرنے کے ریکارڈ کو نادرا کے سسٹم کے ساتھ منسلک کر دے۔ اس سے نہ صرف ملک میں

صحت مند خون کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا بلکہ صحت مند افراد کے حوالے سے مستند ڈیٹا بھی اکٹھا کیا جا سکے گا اور ضرورت پڑنے پر بیرون ملک مستحق لوگوں کو بھی خون فراہم کیاجا سکے گا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ملک کے تمام ہسپتالوں خصوصا دور دراز کے علاقوں کے ہسپتالوں میں خون کی منتقلی کے حوالے سے کمیٹیاں تشکیل دے اور ماہانہ بنیادوں پر ان کمیٹیوں کی کارکردگی کا جائزہ لے اور ان کی تربیت کا بندوبست کرے۔ اس کے علاوہ پورے ملک کے چیمبر آف کامرس میں اس حوالے سے سیمینارزکا انعقاد کیا جائے اور ملک کے صاحب حیثیت افراد کو اس کار خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے لیے آمادہ کیا جائے۔ مجھے یقین ہے کہ جس دن ہمارے سیاستدانوں، بیوروکریٹس اور کاروباری حضرات میں سے کسی ایک طبقے نے بھی نیک نیتی سے خون کی کمی کے مسئلے پر کام شروع کر دیا اس دن یہ ملک رہنے کے لیے جنت بن جائے گا اور یہی سیاستدان ،بیورکریٹس اور کاروباری حضرات ہمارے مسیحا بن جائیں گے۔


ای پیپر