یہ ہے استاد کی عزت؟
20 جون 2018 2018-06-20



وہ بھی ایک وقت تھا،کہ جب میں علوم نبوت سیکھ رہا تھا،جیسے ہی علوم نبوت سیکھنے سے فراغت ملی ،ویسے ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے خصوصی فضل وکرم کے ساتھ مجھ سیاہ کار کو بھی دین متین کی تحفط وآبیاری کا موقع دیا،مگر غربت کے ناطے اس تحفظ وآبیاری میں خلل واقع ہوا، یہ درد بھری داستان ہے ،اسے دل کے آنکھوں سے پڑھئے گا۔
ہوا کچھ یوں کہ میں ایک ادارے میں درس وتدریس کے ساتھ وابستہ تھا،الحمداللہ سفر بہت جاری تھا،مگر اسی سفر کے دوران پہلا سٹاپ اس وقت آیا جب اسی سال حکومت صوبہ خیبر پختونخوا نے ائمہ کرام کو اعزازیہ دینے کا عندیہ کیا،اعزازیئے کی چہ میگوئیاں شروع تھی کہ میں ایک دن گھر جارہا تھا،میرا چھوٹا بیٹارفیع اللہ بیمار تھا،میں ایک لیبارٹری میں اس کا ٹیسٹ کر ارہا تھا،کہ اتنے میں فون بجا،فون جیب سے نکالا تو سکرین پر ہمارے جامعہ کے ناظم تعلیمات کا نام تھا،میں نے فون اٹیند کیا تو فرمایا کہ حضرت ’’ائمہ کرام کے اعزازیہ‘‘پر ایک کالم لکھ لیں،انہوں نے مجھے بریفنگ دی،میں نے ان کی باتوں کو دل کے کانوں سُنا،اگلے روز جب مدرسہ آگیا تو میں نے ان کی تمام باتوں کو ایک کالم کی شکل دیدی،اسی ناظم تعلیمات نے اس بنا پرنظرثانی کی ،اس میں کچھ جملے آگے پیچھے کردئے،میں نے وہی کالم اخبارات کو بھیجا،اگلے روز وہی کالم اخبارات کی زینت بنی۔
یہی کالم میرے لیے خطرے کی گھنٹی ثابت ہوئی،اسی کالم کی برکت سے مجھے اس تدریسی میدان سے بھی ہاتھ دھونا پڑا۔آپ بھی حیران ہوں گے کہ آخر اس کالم میں تھا کیا؟تو کان ذرا نزدیک کر کے آپ کو کان میں بتاتا ہوں کہ اس کالم میں کیا تھا؟کالم میں یہ لکھا تھا کہ جب حکومت خیبرپختونخوا نے یہ فیصلہ اور عزم مصمم کر لیا ہے کہ ائمہ کرام کو اعزازیہ دیتے ہیں،تو پھر ائمہ کرام کی عزت وناموس کا لحاط رکھتے ہوئے ایسے طریقہ سے ائمہ کرام کو
اعزازیہ دیدیں کہ ان کی عزت مجروح نہ ہو۔
آخرکار اس کالم میں ایسا کیا تھا کہ جب عصر کاوقت ہوا تو جمعیت علمائے اسلام کے ایک سابق وزیر نے مجھے فون کیا،خوب برابھلا کہاکہ آپ نے قائد جمعیت کے سوچ کی مخالفت کیوں کی ؟میں نے اسے سمجھاتے ہوئے کہاکہ بھائی میں تھوڑا جمعیت کی ہوں؟میں نے تویہ سب کچھ بحیثیت ایک صحافی لکھا،میرے ساتھی اور اسی جامعہ کے ناظم تعلیمات مفتی محمد طیب کی سوچ کو میں نے کاغذ پر اُتارا،اب کیا ہوا، کہ عین اسی دن جس دن میرا یہ کالم اخبار میں چھپا،صوبہ خیبرپختونخوا کی کابینہ کا اجلاس وزیراعلیٰ کی زیرصدارت ہورہاتھا،وزیراعلیٰ نے میرا کالم پڑھا،میرے اسی رائے پرعمل درآمد کرتے ہوئے اُسی اجلاس میں کہا کہ ائمہ کرام کو اعزازیہ بینک اکاؤنٹ کے ذریعے دیا جائے گا،اگلے روز جب اخبارات دیکھے تو اس میں لیڈ اور سُپر لیڈ یہی تھی کہ ائمہ کرام کو اعزازیہ بینک اکاؤنٹ کے ذریعے دیا جائے گا۔
اب آگے کیا ہوتا ہے ؟ذرا اسے بھی پڑھ لیجئے،ایک دن جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی امیر گل نصیب خان ہمارے اسی مدرسہ تشریف لے آئے،مہتمم صاحب نے انہیں کھانا کھلایا،جامعہ میں زیرتدریس طلبہ کرام کو وعظ ونصیحت کی ،بعد ازاں صوبائی امیر دفتراہتمام میں بیٹھے مہتمم کے ساتھ گپ شپ میں مصروف تھے،اتنے میں بندہ (رضوان اللہ پشاوری)سامنے سے گذرا ،تو گل نصیب خان کے سیکرٹری(فوادخان)نے گل نصیب خان سے بتایا کہ وہ جوسامنے ہے یہی وہ رضوان اللہ پشاوری ہے ،تو گل نصیب خان نے ہمارے مہتمم سے کہا کہ اسے آپ نے اپنے مدرسہ میں کیوں رکھا ہے ؟اس نے تو ہمارے قائد کی سوچ اور نظریات کے خلاف ایک کالم لکھ ڈالا ہے ،جب مہتمم کے ساتھ میری غیبت جاری وساری تھی،اتنے میں راقم دفتر اہتمام میں داخل ہورہا تھا کہ گل نصیب خان سے کچھ جامعہ کی ڈائری میں جامعہ کے بارے کچھ تاثرات لیں،تو مہتمم آگے بڑھے اور مجھے کہا کہ یہ ڈائری حسین احمد کو دیدو اور تم یہاں سے نکلو،اب مہتمم کی بندہ کے ساتھ اس لہجہ میں گفتگومیری پریشانی کا سبب بنی،میں اپنے بیڈروم میں جاکر سوچ رہا تھا کہ آخر ہوا کیا ہے کہ مہتمم نے مجھے اس انداز میں کہا کہ نکلو یہاں سے۔میں یہی سوچ رہا تھا کہ اتنے میں ہاتف غیبی سے آواز آئی کہ آپ کا جرم صرف ایک صحیح مشورہ دینا ہے ،تواسی دن سے مہتمم نے میرے ساتھ ناروا سلوک کرنے شروع کردئے کہ اب کسی نہ کسی طریقے سے اسے اپنے جامعہ سے نکال دے کیونکہ یہ جامعات مہتممین کی جاگیر ہواکرتے ہیں، میں جب بھی کچھ کرتا تو اس کو ایک بہت ہی بڑا ایشو بنا دیا جاتا۔
ایک دفعہ یوں ہوا کہ میرے ذمہ درجہ ثانیہ کے طلبہ کرام کا پرچہ بنانالگا لیا،جامعہ میں یہ مشہورتھا کہ پشاوری کا پرچہ مشکل ہوا کرتا ہے ،میں نے پرچہ بنالیا،اگلے روز میں
جب کلاس پڑھانے کے لیے گیا،توطلبہ نے کہا کہ پرچہ ذرا آسان بنالیں، میں نے جوابا کہا کہ ’’بچوں پرچہ مشکل ہے خوب محنت کرلو‘‘اب میرا مطلب تو یہی تھا کہ یہ طلبہ کرام خوب محنت کریں تاکہ بورڈ(وفاق المدارس)کے امتحان میں یہ طلبہ اچھے نمبروں سے کامیابی حاصل کر سکیں،اب جب میں کلاس سے نکلا تو دو کھڑے ہوئے اور کلاس میں مطالبہ کر دیا کہ اگر پرچہ مشکل ہوا تو ہم پرچہ خالی دیں گے،یہی ہوا کہ انہی دوطلبہ کرام نے پرچے میں صرف ایک ایک سوال لکھا،اب یہ معاملہ مہتمم ،ناظم اور نائب ناظم تک پہنچا،انہوں نے مجھے دفتر بلایا اور مجھے خوب برا بھلا کہا،کہ آپ نے کیوں طلبہ کو بتایا کہ پرچہ مشکل ہے خوب محنت کرلو،میں نے کہا کہ ازراہ شفقت میں نے اس لیے کہا کہ یہ طلبہ کرام خوب محنت کریں،مہتمم نے کہا کہ نہیں نہیںآپ کو اس طرح نہیں کہنا چاہئے تھا،خیر!ہمارے مدارس اور مہتممین کی جاگیر کی یہ حال کہ ایک استاد کو توخوب ڈانٹاجاتا ہے مگرا ن شاگردوں کو کچھ بھی نہیں کہاجاتا،چاہئے تو یہ تھا کہ ان دونوں بدبختوں کو اسی وقت جامعہ سے خارج کر لیتے تاکہ کل کسی کی یہ جرأت نہ ہوتی۔
تو یہ ہے ہمارے معاشرے میں ایک غریب استاد کی عزت،جب آدمی کے پاس مال ہوتا ہے تو یہ بعض مہتممین اسی کی خوبیاں بیان کرتے کرتے نہیں تھکتے اور غریب ومخلص دوستوں کو یوں باہر پھینک دیتے ہیں،آخر کار بدھ کے دن مجھے بھی کہا کہ آپ اپنے لیے کہیں اور کوشش کر لیں۔آپ جامعہ سے اور جامعہ آپ سے فارغ۔مجھے تو جامعہ سے نکالا اور وہ کہ جس کے مشورے سے میں نے یہ سب کچھ لکھا تھااس کو جامعہ ہی میں رہنے دیا۔شیخ سعدیؒ نے کیا خوب کہا ہے کہ ’’افعیٰ کشن وبچہ اش را نگاہ داشتن‘‘کہ سانپ کو تومارتے ہیں مگر اس کے بچے کی حفاظت کرتے ہیں۔


ای پیپر