دس نمبر کا ”چھتر“ کون ،کس کو مارے گا
20 جون 2018 2018-06-20

میری اتنی اوقات کہاں، اللہ مجھے اوقات میں ہی رکھے کہ میں پوری اسمبلی کو جو سینکڑوں افراد پہ مشتمل ہے، لعنت بھیجوں یہ ظرف اُن لوگوں کا ہے کہ وہ اس اسمبلی پہ لعنت بھیجتے ہیں ، جس اسمبلی میں وہ خود بیٹھتے ہیں۔ اس میں یقیناً کوئی نہ کوئی نیک اور پارسا شخص تو موجود ہوگا، ویسے بھی فرمان اور ارشاد الٰہی ہے، کہ لعنت دوبارہ لعنت بھیجنے پر بھی پڑتی ہے، لعنت کے بارے میں تفصیل ذرا طویل ہے، بیان کرنے سے خدشہ ہے کہ کہیں میں اپنے موضوع سے ہی نہ ہٹ جاﺅں۔ کہا جاتا ہے، باجماعت نماز بعض اوقات، کسی ایک نیک شخص کی وجہ سے بارگاہ خداوندی میں قبول ہوجاتی ہے، اور یہ بات بھی ذہن میں رکھیں، کہ لاکھوں افراد کا حج محض ایک شخص کی وجہ سے درجہ قبولیت پہ پہنچ جاتا ہے ،حتیٰ کہ یہ بھی ہوا ہے کہ حج پہ جانے کا ارادہ کرنے اور سفر کا خرچہ، مستحق پہ خرچ کرنے کی بدولت حج مقبول بن جاتا ہے، جبکہ وہ شخصیت، اللہ کا ولی ادائیگی حج بھی نہ کرسکے اسی لیے تو یہ شعر ہمارے ہم وطنوں کوازبر ہے کہ

یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے

یہ بڑے نصیب کی بات ہے

قارئین محترم ، اس بات پر تو ہم سب کا یقین ہے کہ عبادت، نیکی ، ریاضت اور فلاح کے کام، صرف اور صرف توفیق الٰہی کی بدولت ہی سرزد ہوتے ہیں مثلاً حال ہی گزرے رمضان میں جون کی تپتی دوپہروں میں کیا روزے ہم نے اپنی مرضی سے رکھے ہیں؟ نمازیں، تراویحاں، اور بعض اوقات ، شب بیداری ، مسلمانوں سے کس نے کرائی ہے، یہ انسان خود سے نہیں کرسکتا، نہ ہی کوئی”ازخودنوٹس“ لے سکتا ہے، کہنے کا مقصد محض اتنا ہے کہ نیکی کی توفیق ، اور نیکی کے کام اللہ تعالیٰ کراتا ہے ، اور برائی کے کام شیطان کراتا ہے، اور قرآن کریم کے مطابق، شیطان برائی کو خوشنما بنا کردکھاتا ہے۔ جس کو دیکھ کر انسان بے خود ہوکر ارتکاب جرم کربیٹھتا ہے، یہ تھا سیدھا سادہ فلسفہ زندگی، دو اور دو چار کا حساب ورنہ تو قدروقضا کے فلسفے کی بحث میں پڑ کر ہم امام اعلی مقام کے عملی درس تسلیم و رضا کو فراموش کردیتے ہیں، اور اپنی بقا بھی برقرار نہیں رکھ سکتے۔ مذہب، مسلک ، اور سیاسی اختلافات میں حتی الامکان ، بحث مباحثے سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ برسوں سے اپنے بڑوں کی تقلید کرنے والے، اور کسی سیاسی شخصیت سے متاثر ہونے والے، بالآخر دلوں میں کبھی رنجشیں ، بغض وعناد بلکہ نفرتیں بھرکرہی اُٹھتے ہیں۔

اسی لیے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ بتوں کو بھی ان کے پیروکاروں اور پجاریوں کے سامنے برا بھلا نہ کہو، ردعمل کے طورپر وہ آپ سب کے سچے رب کی شان میں گستاخی کے مرتکب نہ ہوجائیں۔ اگر کبھی ایسا مرحلہ درپیش ہوجائے، تو بات و بحث کرنے سے بہتر ہے کہ انسان لب کشائی کے بجائے ، خاموش رہنے کو بہتر جانے، اس میں کوئی شک نہیں کہ بقول باب العلم ؒ کے کہ مسلمان یہ نہ دیکھے کہ کون کہہ رہا ہے، بلکہ وہ یہ دیکھے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے، اس میں مذہب ومسلک کی سختی آڑے نہیں آنی چاہیے۔ مگر کسی کا مرید ہونے یا ان کے حلقہ ارادت میں جانے سے پہلے، یہ ہزار بار دیکھے کہ اس کے علم اور عمل میں کوئی فرق تو نہیں، لہٰذا اس کے علم کے بجائے، اس کے عمل کو پرکھے، علم تو کتابوں میں بھی مل جاتا ہے، اور زیب داستان کے لیے داستان گو ، اب بھی مل جاتے ہیں، مگر باعمل کا ملنا بہت مشکل ہے، صرف اس بات پر نظر رکھے ، کہ اس کا کردار وعمل شریعت کے مطابق ہے کہ نہیں ، دوسرے یہ کہ ہم دوسروں کو بُرا بھلا کہتے، کوستے، طعنہ زنی کرتے، گالیاں دیتے، اور فحش کلامی کرتے وقت خود کو اچھا سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ لہٰذا میری دانست میں خاموشی کی عادت بھی عبادت ہے کیونکہ اللہ رب العزت، ایک ایک لفظ کا حساب لے گا ، جس کا سارے کا سارا ، ریکارڈ لوح محفوظ میں، محفوظ ہوگا۔

دوتین دن قبل، جس دن عدالت نے شیخ رشید کو انتخاب لڑنے کے لیے اہل قرار دیا تھا، میدان سیاست کے ”شفقت چیمہ“ نے اس دن اخلاقی حدودوقیود کی تمام حدیں اس طرح سے پھلانگ لیں کہ میں حیرت زدہ رہ گیا ، اور مجھے حدیقہ کیانی جس کو میں اُس وقت سے جانتا ہوں ، کہ جب وہ پاکستان ٹیلی ویژن پہ ضیاءالحق مرحوم کے دور میں سفید چادر یا دوپٹہ لیے، وطن کے گیت گایا کرتی تھیں، اور میں خبریں پڑھ کر جب سٹوڈیو سے نکلتا تھا، تو اکثر راہداری میں ان کو دیکھ کر ان کے نظریات پہ رشک آتا تھا، کہ جوانی اور لڑکپن میں وہ راہ سلوک کی مسافر بن گئی ہیں۔ مگر جب دور مشرف آیا، تو پھر وہی حدیقہ کیانی کا گانا شاید شیخ رشید کے لاشعور میں رچ بس گیا، اور انہوں نے

”بوہے باریاں، تے نال اے کندھاں ٹپ کے

آواں گی ہوا بن کے ....

کا ہیروبن کے، اور فی الحال گریبان کے بٹن کھول کے، نہایت بے دردی سے میاں نواز شریف ، جن کی کابینہ کے وہ رکن رہے، اپنے سابقہ وزیراعظم کو کہا کہ میں آرہا ہوں، نواز شریف، میں عمران خان کے ساتھ مل کر حکومت بنارہا ہوں، نواز شریف تیار ہو جاﺅ، میں خود دس نمبر کا چھتر لے کر تمہاری ایسی تیسی کردوں گا ، تم چور ہو، بلکہ چور کے بچے ہو، مجھے پتہ ہے ، کہ تم ضرورت کے وقت پاﺅں پڑ جاتے ہو، تمہارا بھائی بھی ایسا ہے، مجھے خدشہ ہے، کہ تم مجھے مروا دوگے، مگر میں الیکشن ضرور لڑوں گا ۔

قارئین ، یہ بات شاید آپ کے بھی علم میں ہوگی کہ پاکستان میں جن سیاسی لیڈروں کو سرکاری سکیورٹی دی جاتی ہے، ان میں شیخ رشید سرفہرست ہیں ، عمران خان اور مولانا فضل الرحمن بھی وہ شخصیت ہیں کہ جن پر چیف جسٹس جناب ثاقب نثار صاحب، کا قانون بھی اس لیے لاگو نہیں ہوتا، کہ خدانخواستہ کل کو اگرکچھ ہوگیا، تو وہ یہ ذمہ داری، اور یہ بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھانے کے لیے تیار نہیں، کیونکہ یہاں تو سابق وزیراعظم لیاقت علی خان کو بھی بھرے جلسے میں گولی مار کر شہید کردیا گیا تھا، بلکہ اکبر نامی شخص جس پر الزام لگایا گیا تھا، اس کو بھی گولی مارکر” شہید “کردیا گیا تھا، شہید میں نے اس لیے لکھا ہے، کہ اکبر خان نے نہیں گولی ان کو کسی اور نے ماری تھی، جو جرمنی سے اسی مقصد کے لیے لایا گیا تھا اور عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے یہ ڈرامہ کیا گیا۔

مگر میرا مقصد تحریر تو اتنا ہے ، کہ شیخ رشید کی زبان درازی ، فسق و فجور اور گالی گلوچ ، کا نہ تو الیکشن کمیشن نے، اور نہ ہی کسی اور ادارے نے نوٹس لیا ہے، میں نواز شریف، میرے چچا کے بیٹے نہیں ہیں، میں نے ان کے حق میں اور ان کے خلاف بے شمار کالم لکھے ہیں، ختم نبوت کے حوالے سے، اور پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی وجہ سے ذوالفقارعلی بھٹو مرحوم کو تمام تر کچھ سیاسی غلطیوں کے باوجود میں ہیرو سمجھتا ہوں اسی طرح مختلف سیاسی جماعتوں میں، مختلف سیاستدانوں کا اس جماعت سے اختلاف کے باوجود میں ان کا احترام کرتا ہوں۔

مگر اس بات کا کوئی بااصول شخص، اور کوئی بھی ملک اجازت نہیں دیتا، کہ عوام کی امنگوں کا خون اور ان کے خیالات، اور خوابوں کو چکنا چور کردیا جائے، سیاستدانوں نے ایک دوسرے کو ننگا کرنے کا جو جووطیرہ اپنا لیا ہے حضور کی حدیث ہے کہ جس نے کسی مسلمان کا عیب چھپایا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے روز، اور دنیا و آخرت میں اس کے عیب چھپائے گا ، اور اسے رسوا نہیں کرے گا ۔

میری سیاستدانوں اور خاص طورپر شیخ رشید سے گزارش ہے کہ وہ انتخاب کو خونی انقلاب یا یا خونی انتخاب بنانے سے گریز کریں، مجھے خدشہ ہے کہ جس طریقہ تقریر کا شیخ رشید نے افتتاح کردیا ہے، اس کے نتیجے میں درجنوں معصوموں کی لاشیں گریں گی، بیگم کلثوم نواز، جن کو شیخ رشید بھی بھابی اور بیگم صاحبہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے تھے، وہ جس حالت، اور کومہ میں ہیں، ان کے لیے دعا عمران خان نے بھی کی ہے، شاہ محمود قریشی نے بھی کی ہے، خورشید شاہ ، اور بلاول نے بھی کی ہے بلکہ وہ لندن گئے ہیں جہاں وہ ان کی عیادت بھی کریں گے، حتیٰ کہ خلائی مخلوق نے بھی دعا کی ہے، مگر خدانے شاید شیخ رشید کو پتھرکا دل عطا فرمایا ہے، اور عمر خضر عطا کردی ہے۔

معذرت ، قارئین پچھلی دفعہ غاروں میں رہنے والے کے بجائے نمازوں میں رہنے والا عنوان لکھ دیا گیا تھا۔


ای پیپر