رحمن عمر اور بے روزگاربنام جناب چوہدری پرویز الٰہی
20 جولائی 2020 (23:07) 2020-07-20

ایک میگا تھیٹر ہے جو کئی دہائیوں سے وطن عزیز میں جاری ہے اور بعض اوقات پرانی کاسٹ کے ساتھ اس بار چند نئے چہروں اور بیرون ملک کے اداکاروں کو بھی اداکاری کے جوہر دکھانے کا موقع دیا گیا ہے مگر وہ دلیپ سے کم پر راضی نہیں ہیں کہ انہیں ان کے پائے کا اداکار مانا جائے۔ ان کی وجہ سے مشرف دور میں ایکشن مووی پر زوال آیا کیونکہ جس پیمانہ دہشت گردی اور ایکشن سے بھرپور حقیقت لوگوں کا مقدر لکھ دی گئی تو ایکشن موویز بند ہو گئیں۔ موجودہ حکومت کے ساتھ ساتھ علی ظفر کی طیفا ان ٹربل آ گئی (گویا پوری قوم ٹربل میں آ گئی)یعنی طیفے کا جو کام نہیں تھا اس کو کرنا پڑ گیا خود ساختہ ٹربل میں طیفا ایسا مبتلا ہوتا ہے کہ فلم کامقررہ وقت ہی ختم ہو جاتا ہے۔ بس ایک لڑکی ہاتھ لگتی ہے جو کم از کم طیفے کے خاندان میں خاتون اول کہلاتی ہے۔ موجودہ حکمرانوں کے دعوے، وعدے، دھرنے، تقریریں ان کے حکمرانی کردار کے باقاعدہ برعکس ہیں چلیں حکمران طبقے ہیں مختلف نظریات فروش ہیں جن کے عوض حکمرانی مل سکے مگر مجھے حیرت ہے تجزیہ کاروں ، قلم کاروں پر ہے ان کے 2008ء کے بعد سے کالم، تجزیے پڑھ دیکھ لیں اور اب ان کے یوٹرن دیکھ لیں کچھ کا تو یہ عالم ہے کہ کسی کو گالی دینے کی ضرورت نہیں پڑتی اور نہ ہی جوتا مارنے کی خود ہی اپنے لیے یہ کام کر رہے ہیں۔ میرا کسی ایجنسی، کسی چڑیا ، کسی ذرائع سے کوئی تعلق ہے نہ واسطہ مگر میں ایک چشم دید گواہ ہوں جس نے اقتدار کے موضوع پر ملک میں چلنے، بننے اور بکنے اور فلاپ ہوتی ہوئی فلمیں دیکھیں کہ مجھے پتہ ہے آئندہ اس فلم میں کیا ہو گا۔ جیسے برسات میں حبس اور حبس کے بعد بارش ہوتی ہے اسی طرح سیاسی موسم کا اندازہ ہو جاتا ہے کچھ تجزیہ کار قلمکار ہیں روز قیامت جن کے گریبانوں پر ایک ہاتھ تو قدرت کا ہو گا اور دوسرا وطن عزیز کے محکوموں کا جوان ارسطو، افلاطون، خلیل جبران، منٹو، منو بھائی سمجھ بیٹھے تھے۔ جب یہ اپنی رائے بدلیں یا پینترا تو سمجھ لیں حکومت کا کاروبار بدلنے والا ہے۔ موجودہ حکمرانوں کا دور دراصل 2014ء سے ہی شروع ہو گیا تھا۔ نواز شریف اور زرداری صاحب حکومتوں میں ہوتے ہوئے اپوزیشن میں تھے۔ یہ حکمران ٹولہ سمجھ دار ہے اس نے حکومت میں آ کر بھی اپوزیشن نہیں چھوڑی۔ یہ وہ پہلوان ہیں جن کا ہر کشتی میں پاؤں پھسل ہو جاتا ہے اور ہر تھپڑ ان کو اچانک پڑتا ہے۔ پٹرول، بجلی، سوئی گیس، سول ایوی ایشن ، قومی ائیر لائن، چینی، آٹا کوئی بھی بحران ہو جس میں ان کے سپانسر شامل ہیں جن کو مافیا کا نام دیا جاتا ہے حقیقت میں سپانسرز کو Pay Backکیا جا رہا ہے جبکہ ان کے دھرنوں سے 2014 ء میں ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا جو ان کی حکومت میں بھی جاری ہے۔احتساب انتقام بن چکا جبکہ ہر ناکامی پہلے سابقہ حکومتوں، پھر اب مافیاز پر ڈال دی گئی۔ بندہ پوچھے آپ رضا کاروں کے وزیراعظم ہیں۔ خواجہ ندیم ریاض سیٹھی

مجھے کہتے ہیں کہ حس ظرافت آپ میں موجود تھی کبھی مزاحیہ کالم ہی لکھ دیں اس دور میں کیا مزاح لکھوں، ایک رضا کار کو کسی نے تھپڑ مارا گالیاں دیں اس نے آئی جی کو درخواست دی جو انسپکٹر سے درجہ بہ درجہ رضا کاروں کے آئی جی تک پہنچ گئی۔ آئی جی نے رضا کار کو بلایا اور ساری درخواست حاشیہ میں دیئے گئے ماتحت افسران کے نوٹس پڑھے رضا کار کو زبانی بھی سنا اور کہا بڑی سخت زیادتی ہوئی ہے ’’تسی کم کردے روو، ظالم آپے اللہ توں پائے گا) آپ کام کرتے رہیں ظالم کو اللہ بدلہ دے گا۔ لہٰذا عوام اپنا کام کرتے رہیں ظالم کا ہاتھ اللہ روکے گا۔ ہر ناکامی مافیا پر ڈال دی اور ایک وزیر فرماتے ہیں کہ حکومت میں مافیا موجود ہیں۔ حکمرانو! بجلی، سوئی گیس بھی روٹی روزی، علاج، تعلیم ، صحت اور دیگر بنیادی ضروریات زندگی میں شامل ہیں۔ جو تم نے حسرتوں میں شمار کردیں۔ مہنگائی سے بقول خواجہ عماد الدین کے لوگوں کی ازدواجی ، سماجی زندگیاں برباد ہو گئیں، رشتہ داریاں ٹوٹ گئیں۔ غیر ملکی ہم پر مسلط ہیں اور حکومت کے حکومتی ارکان کے اثاثے

اور ان کی مالیت دیکھتا جا گھبراتا جاتا۔ رحمن عمر ایک طالب علم جو لاکھوں نوجوانوں کی طرح نوکری کی حد عبور کر چکے شاید 32 سال کے ہو گئے، نے مجھے فون کیے بہت درخواست کی کہ کسی سے کہوں میری کیا اوقات ہے کہ میں کچھ کہہ سکوں بہرحال ان کا خط واٹس ایپ ہوا۔

السلام علیکم!

محترم جناب محمد آصف عنایت صاحب !

سر میں ایک عام پاکستان شہری آپ سے کچھ گزارشات کرنا چاہتا ہوں اور آپ کے ذریعہ سے حکومتی ایوانوں میں بیٹھے حکمرانوں سے کچھ سوالات کرنا چاہتاہوں۔

-1 کیا عام شہری جو میرٹ پہ پورا اترتا ہو لیکن سیاسی سفارش نہ ہو تو اسے سرکاری نوکری نہیں مل سکتی؟

-2 کیا سرکاری نوکری سفارشی پرچی اور رشوت دے کر ہی مل سکتی ؟

-3 کیا بقول آپ کے ظالم خود کو کبھی مظلوم کے بدن میں محسوس کرے گا یہاں؟

سر میں 2009ء تک لاتعداد سرکاری نوکریوں کے لیے اپلائی کر چکا ہوں اور ساتھ پرائیویٹ نوکری کر کے پرائیویٹ طور پر تعلیم بھی حاصل کرتا رہا۔ 2013ء میں گریجوایشن کیا اور اخبارات میں روز سرکاری نوکریوں کے اشتہارات کو دیکھ کر ہر محکمے میں تقریباً اور ہر نوکری کے لیے جن کا میں گریجوزیشن کے ساتھ اہل تھا اپلائی کرتا رہا لیکن یہاں یہی سنا کہ ہر نوکری بکتی ہے وقت کے حاکم لسٹ بنواتے ہیں‘‘ سر میں نے نائب قاصد ، کلرک، رائیڈر اور اس جیسی تمام چھوٹی نوکریوں کے لیے بھی اپلائی کیا امتحانات پاس کیے۔ یہی سنتے رہے کہ کوئی بھی نوکری لینے کے لیے ’’سفارش یا رشوت‘‘ دینی لازمی ہوتی ہے لیکن سر کہاں سے لاتے سفارش یا رشوت کا پیسہ جبکہ یہاں حاکم خدا بنے بیٹھے ہیں۔

پھر یوں ہوا کہ میں نے تقریباً چار سالوں میں سیونگ کر کے کمیٹیاں ڈال کر 3لاکھ روپیہ جمع کیا۔ میں 3لاکھ روپیہ کی آفر لے کر ایک جاننے والے جو کسی سرکاری ادارے میں نائب قاصد ہے کہ میرے پاس اب پیسے ہیں کوئی طریقہ بتائے کسی کو پیسے دے کر کوئی نائب قاصد کی یا کلرک کی نوکری ہی مل سکے تو مجھے اس نے کہا کہ بھائی اب سرکاری نوکری نہیں مل سکتی اب تم (32 سال) کے ہو چکے ہو۔ میں یہ سن کر چونک گیا ہنسی بھی آئے اور بے بسی پر رونا بھی آنا چاہیے ۔

خداحافظ

میں نے بہت سوچا کہ کس سے درخواست کروں یقین کریں کہ مجھے پنجاب میں اس موجودہ حکومتی سیٹ اپ میں بالخصوص پنجاب میں سوائے چوہدری پرویز الٰہی صاحب کے کوئی ایک عہدیدار سیاست دان ایسا نظر نہیں آیا جس کی بات پربھروسہ کروں لہٰذا یہ خط بنام چوہدری پرویز الٰہی ہے اور ایک نوجوان نہیں صوبے کے کروڑوں نوجوان ہیں۔ اسامیاں ہیں مگر اس مہنگائی ، بیروزگاری کے دور میں نوجوانوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔


ای پیپر