فکر ہر کس بقدر ہمت اوست
20 جولائی 2020 (23:07) 2020-07-20

جدیدیت کیا آئی ہے کہ اس کے آتے ہی کلچر ، تہذیب اور تمدن نہ جانے کس طرف روپوش ہو گئی ہے۔ ایک وقت تھا جب گاؤں کے لوک پیتل اور تانبے کے برتن استعمال کرتے تھے۔ سبزی پکانے کے لیے مٹی کی ہانڈی اور آٹا گوندھنے کے لیے بھی مٹی کی ’’کنالی‘‘ استعمال کی جاتی تھی۔ میٹھے گڑ والے چاول پکانے کے لیے پیتل یا تانبے کا بڑا پتیلا استعمال میں لایا جاتا تھا۔ ایک سال کے استعمال کے بعد یہ برتن کچھ میلے ہو جاتے اور اپنی چمک کھو دیتے تھے۔ چھوٹی عید یعنی عید الفطر کی اپنی ایک خوشی ہوتی تھی۔ عید سے پہلے گھروں کی صفائی کی جاتی۔ صحنوں کو صاف ستھرا کیا جاتا۔ چاول، گڑ، شکر، دیسی گھی اور سوئیوں کا بندوبست پہلے ہی کر کے رکھ لیا جاتاتھا۔ مسئلہ صرف پیتل اور تانبے کے برتنوں کی صفائی کا ہوتا تھا۔ کچھ خواتین لیموں اور ریت سے برتن مانجھ لیا کرتی تھیں۔ (جس طرح آج کل سیاستدانوں اور کرپٹ لوگوں کو مانجھنے کی ضرورت ہے) لیکن ہر سال کچھ لوگ برتنوں کو ’’قلعی‘‘ کرنے کے لیے گاؤں گاؤں جاتے اور گاؤں کے چوک میں ڈیرہ جما کر گاؤں کی مسجد میں اعلان کروا دیتے ’’بھانڈے قلعی کروا لو‘‘ ’’بھانڈے قلعی کروا لو‘‘ لوگ اپنے برتن لے جاتے اور قلعی کروا کر لے آتے۔ قلعی کیے ہوئے برتن ایک بار پھر چمک اٹھتے اور اپنی اصلی چمک دمک میں واپس آجاتے۔ا یک دن ایک برتن قلعی کرنے والے نے اعلان کروایا کہ تانبے اور پیتل کے پرانے برتن ٹوٹے اور بے کار برتنوں کے عوض نئے برتن برابر وزن میں لے جائیں۔ یعنی پرات کے عوض پرات، کٹوری ، چھنے کے عوض نئی کٹوری اور نیا چھنا… پرانے لوٹے کے عوض نیا نکور لوٹا (کچھ بزرگ سمجھدار نکلے اور انہوں نے پرانے لوٹے کو ہی ترجیح دی کیونکہ وہ ان کی اوقات اور حرکات و سکنات سے واقف تھے۔ لہٰذا انہوں نے لوٹے تبدیل نہ کیے کیونکہ وضعداری بھی کسی چیز کا نام ہوتا ہے) لوگوں نے ڈرتے ڈرتے چند برتن اس کے سپرد

کیے۔ اس شخص نے ایک لسٹ بنائی۔ ہر شخص کا نام اور اس کا برتن اس کے نام کے سامنے لکھ لیا۔ چند دنوں کے بعد وہ شخص آیا۔ اس نے اعلان کروایا اور لوگ اپنے اپنے نئے برتن لے کر خوش ہو گئے۔ وہ شخص اعلان کرتا لوگ اپنے اپنے برتن جمع کروا دیتے وہ پندرہ بیس دن بعد آتا اور نئے برتن دے جاتا۔ لوگ پرانے برتنوں کے عوض نئے برتن پا کر اس ’’تبدیلی‘‘ پر انتہائی خوش ہوتے۔ یہ بات آس پاس کے گاؤں میں بھی پہنچ گئی کہ فلاں گاؤں میں کوئی شخص آتا ہے اورپرانے برتنوں کے عوض نئے برتن دے جاتا ہے۔اس دفعہ تمام لوگوں نے اس شخص کا شدت سے انتظار کیا۔ وہ شخص آیا لوگوں نے اپنے گھروں میں موجود تمام پیتل اور تانبے کے برتن اس کے سپرد کر دیئے۔ برتن اس قدر زیادہ تھے کہ مسجد کا صحت بھر گیا۔ لوگ اس لیے بھی مطمئن تھے کہ اس نے برتن مسجد میں بیٹھ کر وصول کیے ہیں۔ اس شخص نے حسب معمول لسٹ بنائی۔ ہر فرد کے سامنے اس کے برتن درج کیے اور پرانے سارے برتن ایک کونے میں جمع کر دیئے۔ اگلے دن وہ شخص ٹرک (کنٹینر) لے کر آیا اور برتن اس میں لوڈ کیے اور ایک عشرے کی واپسی کا اعلان کر کے چلتا بنا۔ اس دفعہ لوگ حد سے زیادہ خوش تھے کہ نئے برتن ہوں گے اور آئندہ کے کئی سال بے فکری رہے گی اور گھر کی سجاوٹ میں بھی مزا آئے گا۔ کئی بزرگوںنے اپنے پیتل کے حقے تبدیل کرنے کے لیے بھی دے رکھے تھے۔ مگر اس بار وہ شخص نہیں آیا… انتظار کی گھڑیاں طویل ہو گئیں مگر اس شخص کا کچھ اتا پتہ نہ ملا… نئے برتنوں کی آس میں پرانے برتن بھی گئے۔ آس کا دیا بھی وعدوں کی ہوا نے بجھا دیا۔ پھر وہی تیرگی اور ناامیدی ان کے مقدر میں باقی رہ گئی۔

پس دیوار اور دیوار کے پار کے حالات میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ کنٹینر پر بیٹھ کر کسی کو چور، بد دیانت ، کرپٹ اور نا اہل کہنا اور بات ہے۔ مائیک پکڑ کر مہنگائی ، لاقانونیت کے خلاف باتیں کرنا اور عوام کے جذبات سے کھلواڑ کرنا اور بات ہے ۔بقول پروفیسر رانا غلام محی الدین ثاقب

کسی انا کا تصادم کسی نہیں سے ہوا

اس ایک جنگ کا آغاز ہی یہیں سے ہوا

مبارزت رت ہوئی آگ اور خیام کے مابین

اور ایک معرکہ تلوار کا جبیں سے ہوا

وہ سحر جس کا انتظار تھا وہ سحر خون آلود ہو چکی ہے۔ ہم تو پہلے ہی شب گزیدہ لوگ تھے اور وعدوںسے دیا جلانے والوں، تجلیاں دکھانے والوں اور زندگی کو روشن کرنے والوں نے اپنے انہی وعدوں سے ہمیں تار تار کر دیا ہے۔ رہی سہی کسر تحریک انصاف کی حکومت نے نکال دی۔ اس وقت ضروریات زندگی کی کونسی ایسی چیز ہے جس میں سیکڑوں گنا اضافہ نہیں ہوا۔ درمیانہ طبقہ غربت کی سرحد پر آ کھڑا ہوا اور غریب طبقہ حیات کی سرحد پار کرنے کے قریب ہے۔ کونسا ایسا ٹیکس ہے جو عوام پر نہیں لگا اور کونسا ایسا ٹیکس ہے جس کی شرح میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ کونسا برتن ہے جو ٹیکسوں کی مد میں قلعی نہیں کیا اور کون ایسا حکمران تھا جس نے عوام کے جذبات کو جمہوریت کی قلعی نہ کی اور اپنے مفادات کو حاصل نہ کیا ہو؟ رہی سہی کسر تو عمران خان نے کنٹینر پر چڑھ کر پاکستان کو نئے پاکستان کی قلعی چڑھا کر نکال دی۔ اور ہمارے سارے جذباتی برتن قلعی کرنے کے بہانے لوٹ لیے اور ہم ابھی تک اسی آس میں بیٹھے ہیں کہ خان صاحب ہمارے جذبوں کے ’’بھانڈے‘‘ قلعی کر کے واپس کر دیں گے اور ہم ان برتنوں کو نئے پاکستان میں ملنے والے پچاس لاکھ گھروں میں سجائیں گے۔ پھر ایک کروڑ نوکریاں ملنے کے بعد ان کی قلعی کی گئی پراتوں اور تھالوں میں میٹھے چاول بانٹیں گے۔ مگر آپ تو ہمارے برتن ہی لے گئے…

خان صاحب ایسا نہ کیجیے…ہمیں مہنگائی کی چکی میں نہ پیسیں۔ ہمارے منہ لگا نوالہ نہ چھینیں… ہمارے تن پر لباس رہنے دیں۔ ہمیں سزا ہماری ہمت کے مطابق دیں۔ یہ نہ ہو کہ کل ہم کفن کو بھی ترسیں… ہماری صرف اس بات پر ضرور سوچ و بچار کر لیں۔ ہمارے اس فقرہ پر توجہ مرکوز کر لیں کہ

فکر ہر کس بقدر ہمت است


ای پیپر