لاہور پولیس، انوسٹی گیشن ونگ کی کارکردگی
20 جولائی 2020 (23:06) 2020-07-20

پریشانی بھی عجیب چیز ہے۔نہ آئے تو نہ آئے اور جب ایک دفعہ اس کے آنے کا سلسلہ شروع ہو جائے تو رکنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ پھر انسان ذہنی وجسمانی طور پر اس قدر مفلوج ہو جاتا ہے کہ زندگی عذاب کی مانند محسوس ہوتی ہے ۔ گذشتہ دنوں میں بھی کچھ ایسی ہی پریشانیوں میں مبتلا رہا ہوں جس کی وجہ سے انسان کی تمام تر صلاحتیں ختم ہو جاتی ہیں۔ بالخصوص میرے جیسے حساس دل انسان کے لئے پریشانی، کسی عذاب سے کم نہیں ہوتی ۔بقول واصف علی واصفؒ: ’’ پریشانی حالات سے نہیں ، خیالات سے پیدا ہوتی ہے ‘‘۔ خیال ہمیں اس قدر الجھائے رکھتا ہے کہ اس پر جتنا قابو کر نے کی کوشش کرتے ہیں اتنی ہی شدت کے ساتھ معاملات خراب ہوتے چلے جاتے ہیں اور پھر ڈپریشن کا زہر جسم کو ایسے مفلوج کر کے رکھ دیتا ہے کہ پھر کچھ بھی اچھا نہیں لگتا۔

جب سے ہم نے مفت روٹی کا پروجیکٹ شروع کیا ہوا ہے، سفید پوش لوگوں کی ایسی ایسی کہانیاں سننے کو مل رہی ہیں کہ روح کانپ اٹھتی ہے ۔ ہم اپنے خیال کو ان پریشانیوں کی وجہ سے قابو میں نہ کر سکے تھے کہ اہلیہ کی طبیعت ناساز ہو گئی اور خون کی شدید کمی کی وجہ سے ایک مزید پریشانی ہمارے استقبال کے لئے کھڑی تھی ۔ابھی اس پریشانی سے لڑ نے کے لئے تگ و دو جاری تھی کہ ایک شام جب اہلیہ کو ہسپتال لے جانے کے لئے ہسپتال کے دروازے پر گاڑی روکی اور انہیں اندر بھیج کر گاڑی ایک جانب کر کے خود باہر نکلا تودو عدد نوجوان موبائل فون چھین کر فرار ہو گئے ۔ ایم۔ فل کے طابعلم اور ایک صحافی ہونے کی حیثیت سے اپنے ضروری مواد، پیغامات اور انتہائی اہم رابطہ نمبر زکے کھو جانے کے بعد پھر سے ڈپریشن کی وادیوں کا مسافر بن گیا۔

بھلا ہو لاہور پولیس کے افسران و جوانوں کا ، میری 15کال پر فوری متعلقہ تھانے کے ایس۔ایچ۔ او موقع پر پہنچے اور اپنی ٹیم کے ہمراہ میری بھر پور معاونت کی، اسی رات میں ایف۔آئی۔ آر درج کر کے معاملہ اب انوسٹی گیشن پولیس کے سپرد کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا آپریشن ونگ تو ڈی۔آئی۔جی آپریشنز اشفاق احمد خان کی قیادت میں پوری طرح فعال اور متحرک ہے لیکن انوسٹی گیشن ونگ کے حوالے سے میرا خیال تھا کہ یہاں سستی کا عنصر موجود ہے ۔ لہذا جب تک موبائل نہیں ملتا جب تک ایک دفعہ پھر سے ڈپریشن کے عذاب کے زیر سایہ رہنا پڑے گا۔

لاہور پولیس کے انوسٹی گیشن ونگ کی کار کردگی میرے خیال سے بالکل مختلف نکلی،ایس۔ایس۔پی انوسٹی گیشن لاہور جناب ذیشان اصغر جو اپنے اندر جادوئی قوت رکھتے ہیں ، ان کی بدولت میرا نقصان صر ف چند ہی دنوں میں پورا ہو گیا۔ ایس۔پی ، سی آئی اے جناب عاصم افتخار اور ڈی۔ایس۔پی کوتوالی جناب جاوید صدیق صاحب کی انتھک کاوشوں کی وجہ سے مجھے زیادہ دن تک ڈپریشن کے زیر سایہ نہ رہنا پڑا۔ میں انوسٹی گیشن ونگ کی اس بہترین کارکردگی پر حیران ہوتا ہوں کہ کیسے روزانہ کی بنیادوں پر درجنوں ڈاکووں ، اشتہاریوں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے؟ اس بہترین حکمت عملی اور کارکردگی کے پیچھے جو محرکات کار فر ماہیں وہ ذیشان اصغر صاحب کی درویش صفت شخصیت ہے جو خوف خدا میں ڈوبی، محبت مخلوق خدا میں بھیگی اور اپنے کام اور ادارے سے جنون کی حد تک محبت رکھنے والی ہے۔ انہوں نے بطور ایس۔ ایس۔ پی انوسٹی گیشن، لاہور چارج لیتے ساتھ ہی ہنگامی بنیادوں پر انوسٹی گیشن ونگ میں کئی اصلاحات کیں اور دور جدید کے تقاضوںکو مد نظر رکھتے ہوئے کچھ ہی دنوں میں انقلاب برپا کر دیا۔

نہ صرف انقلاب بر پا کیا بلکہ جو دھبے انوسٹی گیشن ونگ پر لگے ہوئے تھے کہ سالوں کیس حل نہیں ہوتے، چوری، ڈکیتی اور قتل جیسی وارداتوںمیں سستی اور کاہلی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اور یوں کیس ٹریس نہیں ہو پاتے، ان کا ازالہ کرتے ہوئے ایسے افسران کا چنائو کیا گیا جو قابل بھی تھے اور معاملہ فیم بھی، جو زیرک بھی تھے اور کام کر نے کا شوق بھی رکھتے تھے۔ ایک بہترین ٹیم تشکیل دے کر انوسٹی گیشن ونگ کو فعال بنا یا گیا۔ ان تمام تر کاوشوں کے ثمرات کچھ ہی روز میں دیکھنے کو ملے ہیں جس کا ثبوت یہ ہے کہ اب روزانہ کی بنیادوں پر لاہور کی ہر ڈویژن کی سطح پر بیسیوں جرائم پیشہ لوگوں کے خلاف ایکشن ہو تا ہے اور ان جیلوں میں بھیجا رہا ہے ۔ کئی کئی سالوں سے اشتہاری قرار دئیے گئے جرائم پیشہ لوگوں کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے گرفتار کیا جا رہا ہے اور محکمے میں جو کئی سالوں کا گند تھا ، اسے کچھ ہی دنوں میں صاف کر کے حقیقی معنوں میں عوام دوست انوسٹی گیشن پولیس بنا نے کا سہر ا ذیشان اصغر اور ان کی ٹیم کے سر سجتا ہے ۔

مجھے امید ہے کہ جس تندہی اور اخلاص کے ساتھ ایس۔ایس۔پی انوسٹی گیشن، شہر لاہور کی عوام کے کئے کا م کر رہے ہیں ، بہت جلد یہ کرائم فری شہر قرار پائے گا ۔ جرائم پیشہ افراد تک پہنچنا اور ان کو اپنے انجام تک پہنچانے میں جس فعال طریقے سے یہ کام کر رہے ہیں پنجاب بلکہ پورے پاکستان کی پولیس کو بھی اسی سپرٹ سے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔


ای پیپر