سیاست کا کھیل
20 جولائی 2020 (23:05) 2020-07-20

شہباز شریف اکثر کہا کرتے تھے کہ اگر زرداری ’’مداری‘‘ کو چوک میں نہ گھسیٹا تو میرا نام شہباز شریف نہیں۔ پھر وقت کی آنکھ نے دیکھا کہ پیٹ پھاڑ کر عوام کا پیسہ نکالنے والوں نے حضرت زرداری جی کو لاہور میں کھانے کی پُر تکلف دعوت دی اور 72 ڈشیں پیش کیں لیکن وہ آج بھی ’’شوباز‘‘ ہیں اور ’’شریف‘‘ بھی ہیں‘ شرافت تو خیر انھیں ورثے میں ملی ہے۔ موصوف بار بار فرماتے رہے کہ دھیلے یا کوڑی کی کرپشن نکلے تو میں سیاست چھوڑ دوں گا۔ آج کوڑی نہیں کئی کروڑوں اور کھربوں کی کرپشن کے اشتہار لگ گئے لیکن سیاست دھوم دھڑلے سے جاری ہے‘ ان کا جینا مرنا‘ خوشی غمی سب سیاست ہے اس کے سوا کچھ نہیں ہے‘ محترمہ کلثوم نواز کی وفات پہ بھی سازش سازش اور سیاست، سیاست کھیلنے سے باز نہیںآئے۔ کپتان طنز کرتے‘ ہنستے مسکراتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ ’’شوباز‘‘ اگر انڈین فلموں میں ہوتے تو اور بھی مقبول ہوتے اور بڑا ہی پیسہ بناتے۔ کپتان بھی مدتوں سے ایک ہی بول بو لے جا رہے ہیں کہ میں چھوڑوں گا نہیں۔ یاد فرمائیے وہ وقت جب ٹی وی ٹاکروں مذاکروں میں میاں نواز شریف کے پلیٹ لیٹس نیچے اوپر جانے کا موسم تھا‘ نواز شریف زندگی موت کی کشمکش میں تھے جب بیماری ’’شدید سے شدید تھی‘‘ جب ڈاکٹر عدنان ادیب ہو گئے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ ’’کہیں ہم نواز شریف کو کھو ہی نہ دیں‘‘ علاج کیلئے باہر جانے کا فیصلہ کرنا اور اجازت دینا حکومت وقت کاکام تھا تب کابینہ کے ہنگامی اجلاس کے بعد وزیرِ اعظم کے یہ بول ریکارڈ پر ہیں کہ وزراء مان ہی نہیں رہے تھے لیکن مجھے ہی رحم و ترس آ گیا بیمار نواز شریف پر۔ اب آپ ہی بتائیں کہ کدھر گیا یہ جملہ کہ میں چھوڑوں گا نہیں۔ پی ٹی آئی دور حکومت میں وفاقی آڈیٹر جنرل کی پہلی آڈٹ رپورٹ کے مطابق 2019-20 ء میں 40 وفاقی

وزارتوں اور محکموں میں 270 ارب روپے کی کرپشن ہوئی۔ رپورٹ میں جعلی رسیدوں‘ بد عنوانیوں اور بے ضابطگیوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ ’’میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا‘‘ ایسے ارشادات فرمانے والے کہاں ہیں اور کہاں ہیں چیئرمین نیب جو فرماتے ہیں کہ نیب کا ایمان کرپشن فری پاکستان۔ جہانگیر ترین‘ خسرو بختیار و دیگر وزیروں مشیروں سب سے سمجھوتے ہوگئے کسی کا کچھ نہیں بگڑا۔ کاش کوئی کپتان اور ’’شوباز‘‘ کو سمجھائے کہ میں چھوڑوں گا نہیں اور میں سیاست چھوڑ دوں گا ایسی بولیاں بولنا چھوڑ دیں‘ جب آپ ایسے بے تُکے بیان چھوڑتے ہیں تو لوگ آپ کی پنجابی والا ’’چھوڑو‘‘ بولتے ہیں اور تقابل میں بھٹک جاتے ہیں کہ ’’چھوٹا چھوڑُو‘‘ کون ہے اور ’’بڑا چھوڑُو‘‘ کون؟ عہد موجود میں تجزیہ کاری‘ کالم نگاری کے پیو دادا ہارون رشید جی فرماتے ہیں کہ روایتی سیاستدانوں سے مفاہمت کر کے عمران خان روایتی اور مفاہمتی ہو گئے ہیں۔ دل کرتا ہے کہ موصوف کے دربار حاضری دوں‘ زانوے تلمذ تہ کروں اور عرض کروں کہ حضور! آپ کے کپتان نظریاتی اور انقلابی کب تھے...... ؟نواز دور میں بیرونی قرضوں کے ڈھول پیٹنے والے آج بھی بیرونی بھاری قرضوں پہ غور فرمائیں ۔ اس بات کا انکشاف اکنامک افیئرزنے اپنی ایک رپورٹ میں کیا کہ رواں مالی سال 7 ارب 50 کروڑ ڈالر بیرونی قرض لیا گیا اور اگلے سال 15 ارب ڈالر کے نئے قرضے لینے کے ارادے ہیں۔ سوچنا یہ ہے کہ ہمارا مستقبل کیا ہو گا کل کو سود سمیت کیسے یہ قرضے واپس کریں گے۔ میرے پاکستان میں غربت بھوک بے روزگاری ہے اور مہنگائی آج کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ بڑے بڑے محلات بنگلوں میں امیروں کے گھوڑے اور کتے تو سونے کے نوالے لیتے ہیں جبکہ عام آدمی دو وقت کی روٹی کیلئے مارا مارا پھرتا ہے کوئی پوچھتا ہی نہیں۔ سید خورشید شاہ جی فرماتے ہیں کہ تبدیلی کا سفر ’’ایاک نعبد و ایاک نستعین‘‘ سے شروع ہوا ’’انا اللہ مع الصابرین‘‘ سے ہوتا ہوا ’’انا اللہ وانا الیہ راجعون‘‘ کی طرف گامزن ہے۔ پیر و مرشد شاہ جی کپتان اور نئے پاکستان سے ’’مخول‘‘ فرما رہے ہیں انھیں کون بتلائے کہ جلد نئے پاکستان کا نیا سورج طلوع ہو گا اور ایک نئی سحر کا آغاز ہو گا کیونکہ وزیر اعظم کا مرغی پال پروگرام بحال کر دیا گیا ہے جو کورونا لاک ڈائون کی وجہ سے مارچ میں موخر کر دیا گیا تھا اب یہ پروگرام عید کے بعد پھر سے شروع کیا جارہا ہے جس سے معیشت بڑی مضبوط ہو گی اور ملک ترقی کرے گا۔ صرف اپنے ضلع راولپنڈی کی مثال دوں کہ پنڈی کے شہریوں کو اگست میں مرغیوں کے 500 سیٹ دئیے جائیں گے ایک سیٹ میں 5 مرغیاں ایک مرغا ہو گا‘ ایک سیٹ کی قیمت 1050 روپے ہو گی جبکہ اصل قیمت 1500 روپے ہے اس میں وزیر اعظم کی طرف سے 450 روپے کی سبسڈی شامل ہے۔ یہ مرغیاں سالانہ 250 انڈے دیں گی اور ان کی خوراک گھر کے کچن کے بچے ہوئے روٹی کے ٹکڑے ہوں گے۔ کیسا بے مثال و لازوال پروگرام ہے مرغی پال جو آج تک کسی نے نہیں دیا اور اُمید ہے کٹے پال پروگرام بھی جلد شروع کیا جائے گا۔ وزیرِ اعظم نے مرغی پال پرو گرام اور گھروں میں سبزیاں اُگانے کے کچن گارڈننگ پروجیکٹس کو تیز کرنے کی ہدایت کے ساتھ ان کیلئے فنڈز بھی جاری کرنے کے احکامات جاری کر دئیے ہیں۔ یہ خبر بلکہ بہت ہی بڑی خوشخبری سن کر شہریوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔ باوا بنگش بولا کہ مرغی کٹے پال تے نال ڈھول دے ڈال دم دم دھمال۔ میں نے عرض کیا کہ بیچ میں یہ دھمال کدھر سے آگئی؟ بابا بولا کہ اس کپتان کی پارٹی نے دھرنوں سے آج تک ڈھول باجے ڈانس دھمال کے سوا اور کیا ہی کیا ہے دیا ہی کیا ہے؟ ساتھ ہی کھڑے جوان نے جواباً کہا کہ اپوزیشن کو گالی گولی بولی اور طعنے۔


ای پیپر