بونیر کے لوگ اور شتر بے مہار
20 جولائی 2020 (23:04) 2020-07-20

عمر رسیدہ بابا جی اب حیات نہیں ہیں اللہ ان کی مغفرت فرمائیں۔ دیر میں جب پہلی بار ان سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے طویل وقت تک مجھے اپنے سینے سے لگائے رکھا۔ خود سے جدا کرتے وقت انہوں نے میرا ماتھا چوما اور وہاں موجود لوگوں سے کہنے لگے۔ " بونیر کے لوگ محبت دیتے ہیں اور محبت ہی سے خوش ہوتے ہیں۔ یہ بڑے سادہ دل ہوتے ہیں ان کو بھوک و پیاس کی سختیوں سے کوئی سروکار نہیں ہوتا یہ بس محبت اور مسکراہٹ ہی سے کام چلالیتے ہیں اور مجھے ضلع بونیر کے ہر فرد سے بے تحاشہ محبت ہے"۔ ضلع بونیر کی آبادی لاکھوں میں ہے اور آپ کو یہ علم ہونا چاہیئے کہ یہ بڑی آبادی پچھلے تین دنوں سے سوشل میڈیا پر ایک پرائیویٹ پبلشر گابا کی وجہ سے سخت اذیت سے گزر رہی ہے۔

آپ المیہ ملاحظہ لیجئے ہم نے تعلیم کو بھی مذاق بنایا ہوا ہے۔ طوفان بدتمیزی اور ضمیر فروشی کے درمیان رہتے ہوئے بے شمار نام نہاد ماہرین تعلیم نے ذاتی فائدوں اور کاروبار کی خاطر نسلوں کی آبیاری کی بجائے تباہی کو مقصد بنایا ہوا ہے۔ حکومت کے لئے پرائیویٹ اداروں کے ان لابیز کو قابو کرنا انتہائی مشکل ہے اور جس کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے۔ یہ نام نہاد ماہرین کھبی مذہب کو نشانہ بناتے ہیں ' کھبی پاکستان کو اور کھبی علاقائی تعصب کو ہوا دیتے رہتے ہیں۔ آگے بڑھنے سے پہلے آپ کو یہ علم ہونا چاہیئے کہ ضلع بونیر کے لوگوں کو مذاق کا نشانہ کیوں بنایا جارہا ہے۔ روایت یہ ہے کہ 1586ء میں اکبراعظم کے نورتنوں میں راجہ بیربل یہاں ایک فوج کے ساتھ آیا تھا۔ جلال الدین اکبر یہ شدید خواہش تھی کہ اس علاقے کو فتح کیا جاسکے۔ اپنے سب سے بہترین نورتن کو یہاں بھیجنے کا مقصد بھی یہ تھا کہ آسانی کے ساتھ یہاں کے لوگوں کو مسخر کیا جاسکے۔

راجہ بیربل چونکہ ایک عظیم سلطنت کی فوج ساتھ لے کر آیا تھا اسی لئے یہ بات اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی کہ یہاں آباد لوگ محبت دینے پر جب اتر آتے ہیں تو پورے پگھل جاتے ہیں لیکن جب ان کے سامنے نفرت اور دشمنی کی دیوار کھڑی کی جاتی ہے تو پھر آگ کے ہیولے بن جاتے ہیں۔ مغل فوج آئی ، لڑائی ہوئی اور اکبر کا محبوب ترین نورتن راجہ بیربل مارا گیا جلال الدین اکبر

کو بیربل سے عشق کی حد تک لگاؤ تھا۔ اس کو جیسے ہی راجہ بیربل کی موت کا علم ہوا وہ صدمے سے نڈھال ہوا اور تاریخ کی کتابوں میں درج ہے کہ دو دن نہ کسی سے ملا اور نہ کھانا کھایا۔ اس شکست کے بعد اس وقت کی حکومتی مشنری نے اس علاقے کے مکینوں کے خلاف ایسے لطیفے بنانا شروع کردئیے جن کی وجہ سے آج تک اس علاقے کے مکینوں کو لطیفوں میں ایسے ہی یاد کیا جاتا ہے جس طرح سکھ سرداروں کو یاد کیا جاتا ہے۔ مجھے لگتا ہے گابا نامی ادارے کے تمام لوگ کاپی پیسٹ پر اکتفاء کرنے والے ہیں اور شائد یہی وجہ ہے کہ بغیر تحقیق کے اس ادارے نے اپنی کتاب میں سیون فولش مین نامی سبق میں بونیر کا نام لکھا۔

1858ء میں جب سیڈنی کاٹن نے بونیر میں مقیم پختونوں کو تتر بتر کیا تو یہ یہاں کے مکینوں کے لئے شرم کی بات تھی۔ صرف پانچ سالوں میں ان منتشر قبائل نے اپنا ایک نیا بیس کیمپ بنایا اور انگریز سرکار کے خلاف متحد ہوگئے۔ بونیر کا ایک علاقہ ملکا ان مجاہدین کا مرکز تھا۔ 1863ء میں چمبرلین نے یہ اٹل فیصلہ کیا کہ اس علاقے کے سرپھروں کو سخت سے سخت سزا دی جائے لیکن تاریخ کا سبق کچھ اورہے جو آج تک کتابوں میں موجود ہے جس میں چمبرلین کی روح چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ "امبیلہ کمپین" یاد رہے گا۔ تاریخ کے اوراق پلٹنے سے یہ اندازہ لگانا آسان ہے کہ یہاں کے لوگ بہادر بھی ہیں اور وطن سے محبت کرنے والے بھی۔علم دوستی اگر دیکھی جائے تو بونیر کی سرزمین صوفیائے کرام کے لئے انتہائی بہترین رہی ہے۔ یہاں پیربابا ، شلبانڈی بابا اور دیوانہ بابا جیسے صوفیائے کرام نے دین اسلام کی تبلیغ کی اور یہاں ہی مدفون ہوئے۔

گابا نے تحقیق ہی نہیں کی ورنہ یہ سبق شامل کرنے سے پہلے لکھنے والے ہزار بار سوچتے کہ جہاں پیربابا کی قدمیں پڑی ہوں وہاں کے لوگ بے وقوف کیسے ہوسکتے ہیں۔ گابا نے جس کتاب میں " سیون فولش مین " کا سبق شامل کیا ہے اس میں سات لوگوں کو بونیری دکھایا گیا ہے اور ایک کہانی میں ان کی بے وقوفی اور کم فہمی کو شامل کرکے یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ یہ سیارہ زمین پر بسنے والے کم عقل اور بے وقوف لوگ ہیں۔ اس حرکت کے پیچھے دو محرکات ہوسکتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ شائد اب بھی ایسے لوگ اور مافیاز ہیں جو پاکستان کے اندر پختون بیلٹ میں تعصب کو ہوا دینا چاہتے ہیں اور اس کے لئے پاکستان کے اندر ہی گابا جیسے نام نہاد اداروں کو استعمال کر رہے ہیں۔ اب گابا کی اپنی پوزیشن کیا ہے اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگاسکتے ہیں کہ آخری اطلاعات آنے تک اس ادارے کے کسی بھی فرد نے سوشل میڈیا یا کسی اور فورم پر معذرت نہیں کی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ پیسوں کے لئے ادارے اور انسان کہاں کہاں تک جاسکتے ہیں اس پر تو کوئی بحث ہی نہیں ہونی چاہیئے کہ ہمارے ملک پاکستان میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ خیبر پختون خواہ کے پٹھانوں میں بے شمار خامیاں ہوسکتی ہیں لیکن ایک بات طے ہے کہ اسلام اور ملک سے محبت ان میں کھوٹ کھوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ اس ادارے کو کس نے اور کتنے میں اس اقدام کے لئے راضی کیا ہوگا جو لاکھوں لوگوں کو کھل عام بے وقوف لکھنے پر یہ راضی ہوا۔

دوسری بات یہ ہے کہ یہ پرائیویٹ ادارے شہرت اور کاروبار کے لئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔ اس حد کا اندازہ آپ خود لگائیے کہ بے شمار پبلشرز نے بے شمار دفعہ اسلامی اقدار پر بھی حملہ کرنے سے گریز نہیں کیا ہے۔ اس کے لئے ان کو یا تو بہت ذیادہ پیسہ ملتا ہے اور یا یہ خود بیرونی ایجنڈوں پر تیزی سے عمل پیرا ہیں۔ نصاب کو ڈیزائن کرنا ایک صبر آزما کام ہے اور وجہ جس کی یہ ہے کہ اسی نصاب ہی کو پڑھ کر قوموں کی نسلیں تیار ہوتی ہیں۔ ہمارا مگر المیہ یہ ہے کہ ہم نسلوں کی فکر کرتے ہیں اور نہ ان کی آبیاری کے لئے کوئی مربوط پلاننگ۔ یہ فتنے کا سب سے بڑا کمال ہے کہ یہ پھیلتا آسانی سے ہے اور فتنے جب تعلیم کی کتابوں تک پہنچ جائے تو سمجھ لیجئیے کہ ہماری نسلوں پر کسی کی نظر ہے۔ آج بونیر کے خلاف زہر اگلا جارہا ہے کل سوات کی باری آسکتی ہے اور پھر شائد صوابی مردان اور چترال کی۔

گابا نامی ادارے کے خلاف ایکشن لینا ضروری ہوچکا ہے۔خیبر پختون خواہ کے تمام سکول مالکان کو چاہیئے کہ احتجاجی طور پر اس ادارے کے نصاب کا بائیکاٹ کریں تاکہ آئندہ کوئی پرائیویٹ ادارہ زہر اگلنے کی ہمت نہ کریں۔ حکومت کو چاہیئے کہ ان نصابی سرگرمیوں کی خود جانچ پڑتال کریں کیونکہ تعلیم کی اہمیت سے کھبی بھی کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا۔


ای پیپر