خواجہ سلمان رفیق نے اہم رازو ں سے پر دہ اُٹھا دیا
20 جولائی 2020 (21:19) 2020-07-20

انٹرویو: ابراہیم لکی

مسلم لیگ (ن)کے رہنما و سابق وزیرصحت خواجہ سلمان رفیق سیاسی گھرانے کے چشم وچراغ ہیں،وہ کئی مرتبہ صوبا ئی اسمبلی کے رکن منتخب ہوچکے ہیں،سابق وزیراعلیٰ شہبازشریف کی کابینہ میںگذشتہ دس سالوں سے بطورمشیرصحت اوروزیرصحت کے طورپرفرائض انجام دیئے ،اس حوالے سے یہ ذمہ داریاں مشکل ترین تھیں کیونکہ صحت عامہ کے معاملات پرشہبازشریف خود براہ راست نگرانی کرتے تھے ،لیکن خواجہ سلمان رفیق کی دن رات محنت کے بعد انہیں شہبازشریف کاحاصل اعتماد حاصل ہوا،بالخصوص 2010 میں جس طرح ڈینگی کے خاتمہ کے حوالے سے کام کیا و ہ اپنی مثال آپ تھا۔ تاہم اس دوران ان کوکئی چیلنجز کابھی سامناکرناپڑا ، جن میں ہسپتالوں میںینگ ڈاکٹرزکی ہڑتالیں ،پی آئی سی میں غیرمعیاری ادویات سے مریضوں کی ہلاکتوں،ڈاکٹرکی ترقیوں سمیت کئی دیگرایشو سرفہرست تھے تاہم خواجہ سلمان رفیق نے لاہوراندرون شہر(لوہاری گیٹ)میں ایک سیاسی گھرانے میں16فروری 1965 میں آنکھ کھولی، ان کے والدشہید جمہوریت خواجہ محمدرفیق شہید تحریک پاکستان کے ساتھی تھے جنہوںنے قیام پاکستان میں اپنا حصہ ڈالا۔

قیام پاکستان کے بعد وہ ایوب دور اورپھرضیا ء الحق دورمیں قیدوبندکی صعوبتیں برداشت کیں، خواجہ سلمان رفیق اس وقت اپنی والدہ کی گود میںتھے جب ان کے والد ایوب خان کی آمریت کاشکارہوکرپابند سلاسل ہوئے، خواجہ رفیق شہید کی شہادت کے بعد ان کی اہلیہ محترمہ فرحت رفیق 1985 میںسیاسی میدان میں اتریں اورپھرپنجاب اسمبلی کی بھی رکن بنی،ان کے بڑے بھائی خواجہ سعد رفیق (سابق وفاقی وزیرریلوے)مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے روح رواں تھے ،دونوں بھائیوں نے زمانہ طالبعلمی سے اپنی سیاست کاآغازکیا،بعدازاں خواجہ سعد رفیق بلدیاتی سیاست سے ہوئے پنجاب اسمبلی اورقومی اسمبلی میںاقتدارکے ایوان میںقدم رکھااورسیاسی حلقوںمیںاپنے منفرد اندازسیاست کے باعث ایک مقام حاصل کیاجبکہ خواجہ سلمان رفیق پارٹی نظریات پرقائم رہتے ہوئے نرم گوئی کے باعث مشہورہوئے،وہ متعد د باررکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے،تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد 16ماہ تک اپنے بڑے بھائی کے ساتھ سیاسی کارکن کے طورپرطویل ترین جیل کاٹی۔گذشتہ اسمبلی میںان کی بھابھی محترمہ غزالہ سعد رفیق بھی پنجاب اسمبلی کی رکن نامزد ہوئیں۔ 2018 کے انتخابات میںخواجہ سلمان رفیق لاہورکے صوبائی حلقہ 157سے تیسری باررکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے ،جبکہ ان کے بھائی خواجہ سعد رفیق لاہورسے قومی وصوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تاہم بعدازاں انہوں نے صوبائی حلقہ 168 کی سیٹ چھوڑ دی اوراین اے125کی سیٹ برقراررکھی۔

نئی بات میڈیاگروپ نے ملک کی موجودہ سیاست اورکوروناکی وبا کے کنٹرول سمیت دوران نیب حراست اورکیمپ جیل لاہورمیں قید کے حالات واقعات بارے تفصیلی انٹرویوکیاگیاجوقارئین کی دلچسپی کیلئے حاضرہے۔

خواجہ سلمان رفیق کاملکی سیاسی صورتحا ل پر کہناتھا کہ حکومت نے ہماری قیادت اوررہنمائو ںکوسیاسی انتقام کانشانہ بنایاتاکہ ہم حکومت سے کمپرومائزکرلیتے مگرہماری قیاد ت اور رہنمائوں نے اللہ کے فضل سے صبراورحوصلہ سے جیل کاٹی ،حکمرانوں کے آگے جھکے نہ ٹوٹے،کوروناوبا کوکنٹرول کے حوالے سے میںسمجھتاتھاکہ یہ کرلیںگے مگرعلم نہ تھاکہ وزیراعظم عمران خان،وزیراعلیٰ پنجاب اوران کی ٹیم اس قدرنکمی اورنااہل نکلے گی،نیب کے عقوبت خانے کوفائیوسٹاراورفورسٹار ہوٹل کہنے والے ایک دن وہاں ضرورٹھہریں تاکہ انہیںعلم ہوسکے کہ یہ کیسافائیوسٹاہوٹل ہے جہاں نہانے کیلئے بھی مناسب جگہ نہیں۔

ان کاکہناتھاکہ نیب نیازی گٹھ جوڑ کوشش تھی کہ سابق وزیراعظم محمدنوازشریف،شہبازشریف ،مریم نوازاورحمزہ شہبازشریف سمیت پارٹی کی دیگرقیادت اوررہنمائوں کوگرفتاراورجھوٹے مقدمات درج کرکے ان کی وفاداری تبدیل کرالیںگے مگروہ بری طرح ناکام ہوئے ،ان کاکہناتھاکہ سابق وزیراعظم محمدنوازشریف کوپانامہ سے اقامہ اورشہبازشریف کوصاف پانی کیس میں بلا کرآشیانہ کیس میں گرفتاری ،گھروں میں چھاپوں سے خوفزدہ کرنے کی بھونڈی کی کوشش کی گئی،ہمارے دورمیں ہماری قیاد ت نے سیاست کوسیاست سمجھااورکبھی سیاسی مخالفین پرمقدمات نہیںبنائے،لیکن موجودہ حکومت نے سیاست میںتشدد کے رجحانات کوفروغ دیا،سیاسی مخالفین کوکچلنے کیلئے نیب کااستعمال کیا،ان کاکہناتھاکہ خدا کاشکرہے کہ قیادت سمیت تمام ر ہنمائوں نے بڑ ی ہمت اورصبرسے جیل اورنیب کی صعوبتیں برداشت کیں،حمزہ شہبازکوکوٹ لکھپت جیل میں ایک سال سے زائد کا عرصہ ہوچکاہے ،حکومت انتقام میںاس قدراندھی ہوچکی ہے کہ ان کے لئے گرفتارارکان اسمبلی کے پروڈکشن آرڈربرداشت نہیںہوتے تھے ،گرفتارارکان کے پروڈکشن آرڈرکے سلسلے میں قومی وصوبائی اسمبلی کے سپیکرزپروزیراعظم کادبائو تھا،حالانکہ اسمبلی اجلاس میںکسی طورپر عوامی نمائندگی سے محروم نہیںکیاجاسکتا۔سیاسی انتقام کے حوالے سے پیپلزپارٹی کوبھی شدید نشانہ بنایاگیاان کی قیادت سمیت پارٹی رہنمائوں کو جیل میں ڈالا گیا۔

سابق وزیرصحت نے کہاکہ ہماری قیاد ت کی طرح ہمارے خاندان سے وزیراعظم نے سیاسی انتقام کے حوالے خاص مہربانی کی اورہم دونوں بھائیوں کو گرفتار کرایا گیا، بنیادی طوپرمیںسمجھتاہوںکہ وزیراعظم ہماے خاندان سے الیکشن ہارنے کاغصہ نکال رہے ہیں، اور اب حکم امتناعی کے پیچھے چھپ رہے ہیںانہوںنے برملا کہاکہ وزیراعظم میرے بڑے بھائی ( خواجہ سعد رفیق)سے الیکشن کے باعث ذاتی عناد رکھتے ہیں،دوران حراست اسمبلی اجلاس کیلئے روزانہ انہیں لاہورسے اسلام آباد اوررات گئے واپس لاہورلے آتے اور پھر اگلے روز اسلام آباد لے جاتے، وہ دن ہمارے خاندان کیلئے بڑی کرب کے تھے۔

لیگی رہنما خواجہ سلمان رفیق کاکہناتھاکہ نیب حکومتی وزراء جن پروہ تحقیقات کررہی ہے ان کی گرفتاری کب کرے گی؟ اپوزیشن کے رہنمائوں کوانکوائری کی سٹیج پر گرفتاری ہوجاتی ہیں، خواجہ سلمان رفیق نے کہاکہ تحریک انصاف کی طرزحکومت سے بہت مایوس ہوں، سوچتاہوںکہ عوام کاکیاہو گا؟ اس قدرمہنگائی میںکیسے گذراوقات ہو گی؟ میں تومسلم لیگ ن ،پیپلزپارٹی اورتحریک انصاف کے کارکن کابھی سوچتاہوں،عام عوام کا بھی سوچتاہوں کیونکہ گذشتہ بہتر سالوں میں عوام کیلئے کچھ خاص نہیں ہو سکا، چاہتا ہوں کہ تمام پارٹیاں قومی ترقی اورمعیشت پرمل بیٹھیں اورمضبوط پالیسی بنائیں تاکہ حکومتوںمیں کوئی بھی پارٹی ہو،وہ ترقی کی راہ میںرکاوٹ نہ بن سکے،موجودہ حکومت تاریخ کی بدترین نااہل حکومت ہے جس نے عوام کیلئے کچھ نہیںکیاجبکہ اس کے برعکس مسلم لیگ ن کی حکومت نے اپنے ادوارمیںبے پناہ عوامی منصوبے تشکیل دیئے،جس کی تاریخ گواہ ہے۔

2018ء کے انتخابات کے حوالے سے ان کاکہناتھاکہ یقین کریںکہ میںنے اپنے حلقہ کارزلٹ فقیروںکی طرح اکھٹاکیا،میںایک سیاسی کارکن ہوں ،میرے والد کی ساری زندگی سیاست میںگذری ،میں جب والد کی گود میںتھاکہ تومیرے والد( خواجہ محمدفیق شہید)ایوب خان کی جیل کاٹ رہے تھے ،میں ان کی تصویرکواپنا باپ کہتاتھا، جب وہ رہاہوکرآئے تومیںاپنی والدہ کہتاتھاکہ یہ کون ہیں؟انہیں کہیں یہاں سے جائیں،یہ بہت تلخ یادیں ہیں،جومیری زندگی کیساتھ ہیں،اوریہ صرف میری نہیںبلکہ ہزاروں اورلاکھوں سیاسی کارکنوںکی کہانی ہے،اس میںتحریک انصاف کے نظریاتی کارکن شامل ہیں،میںان کوبھی سلام پیش کرتاہوں،جوایک مقصد کیلئے نکلیں،کم ازکم اس میںکوئی پولیٹیکل میچورٹی توہے۔

اب جماعت اسلامی ہو،اے این پی ہو،جے یوآئی (ف)ہو،ریجنل پارٹی ہو،الغرض کوئی بھی پارٹی ہو، اس71/72سال سالوں کاقوم کاسفرہے،اس سیاسی جدوجہدکومذاق نہ بنایاجائے،آہ بھرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ میںایک جذباتی سا بندہ ہوں،لوگوں کی قربانیاں ہیں،لوگوں نے جانیں دی ہیں،ہماری فوج اوررینجرز سمیت دیگراداروں کے جوانوں اورافسران نے وطن کے استحکام کیلئے جانیں قربان کی ہیں،اے پی سی سمیت دیگردل سوزواقعات دیکھ لیں،یہ 71/72 سال کاقافلہ ہے اگرہم نے ان قربانیوں کوفراموش کردیاتو لوگ معاف کریںگے نہ اللہ پاک ہمیںمعاف کرے گا۔

انہوں نے کہاکہ یہ میراذاتی مسئلہ نہیں،میںیہ نہیںکہتاکہ مسلم لیگ ن اقتدار میں آ جائے، یا میںنے ایم پی اے،ایم این اے ،منسٹربننا ہے کہ نہیں،میرا ایشوہے کہ میرا وطن ہے کہ اس کومثبت اندازمیںترقی کرتے دیکھناچاہتاہوں،کیامیرا ملک Survieکرتاہے ؟کیامیرے ملک نے اس دنیا میں عزت سے رہناہے کہ نہیںرہنا؟کم ازکم مجھ سمیت ہرسیاسی کارکن (ہرجماعت میں)اورمیرے بھائی ( خواجہ سعدرفیق )سمیت سب مایوس ہیں۔انہوںنے کہاکہ ہم دونوں بھائی موجودہ سسٹم سے زیادہ مایوسی کی طرف جارہے ہیں۔مایوسی اس بات کی ہے کہ بہترسالوں بعد ملک کواس حالت میںہوناتھا؟انہوںنے موجودہ حالات کوفیض احمدفیض کے ایک شعرسے تعبیرکرتے ہوئے کہاکہ

یہ داغ داغ اجالا،یہ شب گزیدہ سحر

وہ انتظارتھاجس کا،یہ وہ سحرتونہیں!

یہ وہ سحرتونہیں،جس کی آرزولے کر!

چلے تھے یارکے مل جائے گی کہیںنہ کہیں

فلک کے دشت میںتاروں کی آخری منزل

کہیںتوہوگا شب سست موج کاساحل!

کہیں تو رُکے گا سفینہ غم دل!!!!!!

خواجہ سلمان رفیق نے کہاکہ مارچ میںرہاہوئے توکوروناپھیل چکاتھا مجھے امیدنہیںتھی کہ حکومت اس قدرنااہل ہوگی جنہوںنے اس وبا کوکنٹرول کرنے کیلئے کچھ نہیںکیااوریہ نااہلی وزیراعظم کی ہے،پنجاب میںوزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارکہتے ہیںکہ13 جنوری کوہم نے وبا کنٹرول کرنے کیلے کام شروع کردیا،ان کوچاہئے کہ فوری طورپرکٹس خریدتے اوردواڑھائی ہزارروے ٹیسٹ کی فیس مقررکرتے ،مگرپرائیویٹ لیبارٹری کوکھلی چھٹی دیدی گئی، حتی ٰکہ شوکت خانم لیبارٹری نے بھی دواڑھائی ہزارکاٹیسٹ نہیںکیا،جبکہ اس کی کٹ سستی ہے اوراس رقم میںعام آدمی آسانی سے اپنا ٹیسٹ کرالیتا ، حکومت نے پرائیویٹ ہسپتالوںکے ساتھ کوئی رابطہ نہیںکیا،پرائیویٹ سیکٹر میںفری کٹس فراہم کرکے ان سے فری یا سستے ٹیسٹ کرائے جاسکتے تھے اس کے برعکس 2011 میںسا بق وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے ڈ ینگی میں ہماری حکومت نے وبا کوکنٹرول کرنے کیلئے پرائیوٹ لیبارٹریزاورہسپتالوں مالکان کواعتماد میںلیا اورسی بی سی ٹیسٹ کی فیس سوروے کرائی جو جوآٹھ سو سے ایک ہزارروے تھی ،

پورے صوبے میںبے شمارصحت عامہ کے نئے ادارے بنائے،کئی ہسپتالوں کی تیزئین وآرائش کی ،اربوں کے تشخیصی آلات فراہم کئے گئے،ہزاروں بیڈ کی ہسپتالوںمیںگنجائش بڑھائی،نئے ہسپتال بنا ئے، مگرتحریک انصاف کی حکومت نے کیاکیا؟حکومت میرے سوالات کاجواب نہیںدیتی،پٹرول ،آٹا چینی سمیت دیگرسکینڈلز میںگھری ہوئی ہے،عوام کوکوئی پرسان حال نہیں،انہوںنے کہاکہ عوامی حقوق کی واحد ترجمان قیادت پاکستان مسلم لیگ ن کی ہے جن پرجھوٹے مقدمات بنائے گے۔

ایک سوال کے جواب میںانہوںنے کہاکہ ہم پرتنقید کی جاتی ہے کہ ہم نے اپنے دورمیںصحت عامہ کیلئے کچھ نہیں کیا،اس لئے کوروناوبا کے کنٹرول کرنے میںانفراسٹرکچرل مسائل سامنے آئے ،انہوںنے کہاکہ یہ جھوٹ اورغلط بیانی سے کام لے رہے ہیں، حالانکہ اپوزیشن نے ملکرکام کرنے کی پیشکش کی مگریہ سوئے رہے ،اپوزیشن کے پاس تجربہ تھا لیکن انہوںنے فائدہ نہیںاٹھایا، شہبازشریف کے دورمیں صرف صحت عامہ کیلئے مختلف منصوبوں کی اس قدرطویل فہرست ہے کہ اس کوبیان کرتے کرتے کافی وقت درکارہوگا تاکہ کچھ چیدہ چیدہ منصوبے آپ کوبتادوں تاکہ حکومت غلط بیانی سے پہلے تھوڑا ضرورسوچ لے۔

شہبازشریف اپنے بھائی (سابق وزیراعظم محمد نواز شریف) کے علاج معالجہ کیلئے لندن میںتھے مگرکوروناکی وبا کے بڑھتے ہوئے مسائل کے باعث قوم کیلئے وہ واپس وطن آئے ،پارٹی اجلاس بلائے ،کوروناوبا کوکنٹرول کرنے کیلئے اپنے دورمیں بنائے گئے ڈیش بورڈ سے مدد لینے سمیت ہرطرح کی مدد کی آفرکی ،محدودحکومتی وسائل کے باعث مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم تلے شہبازشریف نے گلگت بلتستان ،آذادکشمیر سمیت چاروں صوبوںمیںقوم کے مسیحوںکیلئے سپیشل پروٹیکشن ایکویئمپٹ (پی پی ایز)کی وسیع پیمانے پرہسپتالوں میںتقسیم کی کیونکہ حکومتی نااہلی کے باعث ہمارے ڈاکٹرز،نرسز اورپیرامیڈیکل سٹاف اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران تیزی سے اس وبا میں مبتلا ہورہے تھے اورشہید ہورہے تھے،انہوںنے کہاکہ اس بات سے اندازہ لگائیں کہ حکومت کس قدرنااہل تھی کہ وہ میڈیکل کے شعبہ کیلئے پی پی ایزتک مہیا کرنے میںناکام ر ہی۔جس سے یہ شعبہ حکومت سے شدید نالاں ہے۔

٭٭٭


ای پیپر