ہا ئے مہنگا ئی ،تجھے مو ت نہ آ ئی
20 جولائی 2020 (13:53) 2020-07-20

آ ئے دن ٹی وی پہ اور اخبا را ت میںیہ سننے کو اور پڑھنے کو ملتی رہتی ہے کہ حکو مت نے مہنگا ئی کا سخت نو ٹس لے لیا ہے، اور یہ کہ حکو مت نے مہنگائی کے ذمہ دار ما فیا کو قرا ر وا قعی سزا دینے کا تہیہ کر لیا ہے۔ لیکن جیسے ہی ایک عا م صا رف روز مر ہ کی خر یدا ری کے لیئے ما رکیٹ اور با زار کا رخ کر تا ہے تو اسے دوکاندا ر جس طر ح کے تا ثرا ت کے سا تھ خو ردونو ش اور دیگر اشیاء کی قیمتو ں کے با رے میں آ گا ہ کر تے ہیں تو وہ صا رف محسو س کر تا ہے جیسے دو کاندار حکو مت کے مہنگا ئی کے خلا ف دیئے گئے بیا ن کا مذا ق اڑا رہے ہو ں۔غضب خدا کا وہ دیکھتا ہے اور سو چتا ہے کہ کیسے ٹما ٹر محض تین چا ر رو ز کے اند ر اندر تیس رو پے سے بڑھ کر ایک سو بیس رو پے کلو ہو گئے۔ اسی دو ران اسے حکو مت کی جانب سے جا ری کر دہ خبر سننے کو ملتی ہے کہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے ملک میں سارا سال گندم اور آٹے کی مناسب قیمتوں پر فراہمی یقینی بنانے کے حوالے سے وزارت فوڈ سیکورٹی کو گندم کی درآمد کے لیے کوششوں میں تیزی لانے اور بڑے درآمد کنندگان کا اجلاس بلوانے کی ہدایت کی ہے۔ مگر پھر دوسری جانب وہ دیکھتا ہے کہ تمام تر کوششوں کے باوجود آٹے اور چینی کی کنٹرولڈ نرخوں پر فراہمی یقینی نہیں بنائی جاسکی ہے۔ آٹا کھپت کے مقابلے میں کم سپلائی ہونے جبکہ چینی کے دام ہول سیل مارکیٹ میں زائد ہونے کے باعث شہریوں کے لیے عام استعمال کی یہ اشیا بہ آسانی حاصل کرنا مشکل ہوچکا ہے۔ ایسے میں بعض حلقوں کی جانب سے یہ اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ گندم اور آٹے کی فراہمی یقینی بنانے کے حوالے سے ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے تو ستمبر، اکتوبر میں آٹے کی قلت کا بحران مزید شدت اختیار کرجائے گا۔ یہ ساری صورتحال عکاس ہے کہ معاملات پر حکومتی گرفت وہ نہیں جو ہونی چاہیے۔ لوگ اس بات پر حیران ہیں کہ گندم کی نئی فصل کاٹے ابھی ایک ڈیڑھ مہینہ ہی گزرا ہے اور آٹے کی قلت اتنی شدت اختیار کرچکی ہے کہ کہیں دستیاب نہیں۔ قیمتوں کے حوالے سے فلور مل مالکان کے مطالبات تسلیم کیے جانے کے باوجود آٹے کی دستیابی معمول پر نہ آنا عوام کے لیے حیرت و استعجاب کا باعث ہے۔ اس طرح کچھ بھی واضح نہیں کہ کیا ہورہا ہے اور ہر معاملے میں ایک ابہام کی سی کیفیت طاری ہے۔ ’کنفیوژن‘ یوں تو انگریزی زبان کا لفظ ہے، لیکن یہ اردو لکھنے اور پڑھنے والوں کو بخوبی سمجھ آتا ہے۔ اُردو میں اس کے معنی بوکھلاہٹ، تذبذب، ذہنی الجھائو، بے یقینی کے ہوسکتے ہیں۔ بہرحال کنفیوژن کا لفظ موجودہ صورتحال کی غمازی کے لیے بھی استعمال ہوسکتا ہے۔ معاشی معاملات اور کورونا وائرس کی تباہ کاریاں اپنی جگہ، ماضی کی حکومتوں کے جرائم اپنی جگہ، قومی معیشت کی زبوں حالی اپنی جگہ لیکن جو بات سمجھ سے باہر ہے یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے اس

غیر یقینی صورتحال کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات ہوتے واضح طور پر نظر نہیں آتے۔ جیسا کہ درج بالا سطور میں ذکر کیا گیا، آٹے کا معاملہ ہی لے لیں۔ یہ ہماری روز مرہ کی زندگی کی بنیادی ضرورتوں میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، لیکن جون کے مہینے میں تین مرتبہ اس کی قیمت بڑھائی گئی۔ ہر بار اس کا اعلان فلور ملز مالکان کی طرف سے ہوا۔ تیسری مرتبہ قیمت مقرر کی گئی تو فلور ملز مالکان نے ہی بتایا کہ اس قیمت کا تعین پنجاب کے سینئر وزیر اور معتمد خوراک کی رضامندی سے کیا گیا ہے۔ ایک اطلاع کے مطابق مارکیٹ میں عام صارف کے لیے قیمت کم کرنا یوں ممکن بنایا گیا کہ حکومت فلور ملز کو سرکاری ذرائع سے گندم 1475 روپے من کے حساب سے فراہم کرے گی۔ دو ہفتے گزر چکے، حالات میں تبدیلی نظر نہیں آتی۔ آٹے کا وہ تھیلا جس کی قیمت 850 روپے طے ہوئی تھی بعد میں 860 روپے کا کردیاگیا۔ اس کے باوجود یہ بازار میں دستیاب نہیں، حتی کہ یوٹیلیٹی سٹورز پر بھی نہیں۔ فارمولا تو یہ ہے کہ اگر کسی جنس کی سرکاری قیمت مقرر ہو تو سب سے پہلے اسے اس قیمت پر سرکاری دکان پر دستیاب ہونا چاہیے لیکن آٹے کے معاملے میں صورت حال مختلف ہے۔ یہ ہے وہ کنفیوژن جو ہمارے ہر سرکاری کام اور شعبے میں نظر آتی ہے۔ اگر کسی وجہ سے فلور ملز کو سرکاری گندم اس قیمت پر سپلائی کرنا ممکن نہ تھا تو یہ فیصلہ کیوں کیا؟ اور اگر ایسا کرنے میں کوئی امر مانع تھا تو پھر کیا ہوگیا کہ سرکاری گندم سپلائی نہیں ہوپارہی ، نہ ہی قیمتیں نیچے آرہی ہیں؟ دوائوں کی قیمتوں میں اضافہ کوئی بھی عام شہری کیونکر بھلا سکتا ہے؟ کتنی بار قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہوا۔ شہری بلبلا اُٹھے، وزیراعظم نے کئی نوٹس لے ڈالے، گھنٹوں کی مہلتیں دی گئیں، ایک وفاقی وزیر کی چھٹی ہوگئی۔ لیکن کیا ہوا، کیا نتیجہ نکلا؟ آج کسی شہری کو پوچھ لیں۔ عام دوائوں سے شروع ہوکر زندگی بچانے والی ادویہ تک کی قیمتوں کا پوچھ لیں۔ سب کچھ سمجھ میں آجائے گا۔ حکومت نے ادویہ کے لیے ایک بڑا ادارہ قائم کر رکھا ہے۔ ادویہ کی رجسٹریشن اور ان کی قیمتوں کا تعین اسی کا کام ہے اس کے باوجود ادویات کی فراہمی کے معاملات منظم کیوں نہیں؟ روز افزوں مہنگائی بھی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ کھلی منڈی میں کسی بھی چیز کا کوئی ریٹ مقرر نہیں اور دکاندار جیسے چاہیں، جتنا چاہیں، صارفین کو لوٹ رہے ہیں۔ عیدالفطر پر پید اہونے والی گرانی کے اثرات ابھی پوری طرح ختم نہیں ہوئے کہ عیدالاضحی قریب آتے ہی کھانے پینے، خصوصی طور پر عید کے حوالے سے کھانوں کی تیاری میں استعمال ہونے والی اشیا کے نرخ بڑھانے کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ جس کا ایک ثبوت یہ خبر ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ پندرہ دنوں کے دوران سبز مصالحہ جات کے نرخوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے، دھنیا دو سو روپے کلو فروخت ہورہا ہے۔ پو لٹری کی بات کر یں تو ہم دیکھتے ہیں کہ انڈ ے جو ان دنو ں ستر روپے فی در جن ملا کر تے تھے ، اب ایک سو تیس رو پے در جن دستیا ب ہیں۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا بے جا نہ ہوگا کہ جب عید کے دن قریب آئیں گے تو مہنگائی کی شدت مزید بڑھ جائے گی۔ ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت متحرک ہو اور اس ابہام یا کنفیوژن کو ختم کرنے کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔ کابینہ کے اجلاسوں میں بیٹھ کر فیصلے ضرور کیے جائیں لیکن بعد ازاں اس بات کا اہتمام بھی لازم ہے کہ ان فیصلوں پر یقینی عمل درآمد ہو۔ ٹھوس پالیسی بنائی جائے کہ اشیائے صرف خصوصی طور پر کھانے پینے کی اشیا کے نرخ کیسے کنٹرول کرنے ہیں تاکہ بار بار بڑھتی مہنگائی یا آٹے و چینی کی عدم دستیاب کا نوٹس نہ لینا پڑے اور یہ توانائیاں دوسرے قومی مسائل کے حل پر صرف ہوں۔وہ جو غر بت کے با رے میں مثا ل دی جا تی تھی کہ فلا ں اتنا غر یب ہے کہ دا ل رو ٹی کھا کر گذا ر ہ کر تا ہے،تو اب یہ مثا ل محض محا ورے تک محد و د ہو کر رہ گئی ہے ورنہ صو رتِ حا ل تو کچھ یو ں ہے کہ اب ڈال رو ٹی بھی آ سا نی سے میسر نہیں۔


ای پیپر