اگلے 6 ماہ کے گرد سرخ دائرہ
20 جولائی 2020 (13:53) 2020-07-20

وزیر اعظم نے جھوٹی موٹی اپنے وزیروں، مشیروں کو ڈرانے دھمکانے کے لیے 6 ماہ کا الٹی میٹم دیا۔ دور نزدیک کی خبریں لانے والوں نے اسے سیریس لے لیا جن کی نظریں ہیں تلوار انہوں نے بھانپ لیا کہ کچھ نہ کچھ ہونے جا رہا ہے۔ بات دور نکل گئی۔ سینئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے تو اگلے چھ ماہ کے گرد سرخ دائرہ لگا بھی دیکھ لیا۔ دیکھنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں۔ جنہیں الٹی میٹم دیا گیا وہ ابھی تک سیریس نہیں ہوئے۔ وہی اوٹ پٹانگ باتیں، کرپشن کرپشن کا وظیفہ، لگتا ہے اسی کار آمد وظیفہ سے پانچ سال پورے کریں گے اپنے کام چھوڑ کر آل شریف سمیت اپوزیشن کے پیچھے قد آدم لٹھ بلکہ پنجابی فلموں کے گنڈا سے لیے سر گرم عمل ہیں۔ الٹی میٹم جھوٹی موٹی ہوا نا… جانے کا ڈر خوف ہوتا تو وزرا اور مشیر اپنا اپنا کام کرتے، ایسا نہیں ہوا ایسا نہیں ہو رہا بلکہ بد قسمتی سے ملک و قوم کو درپیش اہم ایشوز سے آنکھیں بند کر کے نان ایشوز پر بیانات کی بھرمار ہے۔ قومی اسمبلی میں جہاں قانون سازی ہونی چاہیے منتخب ارکان اسی کی تنخواہیں اور مراعات لیتے ہیں کیا ہو رہا ہے، روز نیا اسکینڈل قوم کشمیر اور سی پیک کو بھول گئی۔ چینی، آٹا، پیٹرول، ادویات اور دیگر اشیا صرف کے بنیادی مسائل کا حل چاہتی تھی اسے عزیر بلوچ کے جے آئی ٹی، پی آئی اے پائلٹس کے اصلی اور جعلی لائسنوں بجلی کی لوڈشیڈنگ کیخلاف بیانات اور مافیاز سے متعلق بحث مباحثہ میں الجھا دیا گیا۔ شیخ رشید ریلوے کے وزیر، فواد چوہدری سائنس کے وزیر، نور الحق قادری مذہبی امور کے وزیر کیا کرنا چاہیے تھا کیا کر رہے ہیں ایک نواز شریف اور شہباز شریف کے پیچھے پڑا ہے کہنے لگے شہباز میرے آدمی ہیں وہی کریں گے جو میں کہوں گا۔ شہباز شریف نے کہا ٹرینوں کے متعدد حادثات ہوچکے کتنے لوگ جاں بحق ہوئے، سانحہ تیز گام کے متاثرین کو اب تک معاوضے نہیں ملے۔ آپ مستعفیٰ ہوجائیں، جواب دیا کیوں مستعفیٰ ہو جائوں، آج تک کوئی مستعفیٰ ہوا ہے۔ چوہدری فواد سائنس کی ترقی کی بجائے صوبائی فنانشل کمیشن کی باتیں لیے بیٹھے ہیں، جن کا وزارت سے کوئی تعلق نہیں۔ نور الحق قادری مائنس ون اورمائنس آل کے بکھیڑوں میں پڑے ہیں، وزیر بحری امور علی زیدیعذیر بلوچ کی جے آئی ٹی سے باہر نہیں نکل پا رہے، جے آئی ٹی کے بھنور میں پھنسے غوطے کھا رہے ہیں، وزرا کی کارکردگی صفر، مشیروں کو مشاورت کے لیے رکھا گیا۔ وہ وزیروں والے کام انجام دے رہے ہیں، لاہور ہائیکورٹ کو کہنا پڑا شور مچا ہوا ہے کہ غیر منتخب لوگ حکومت چلا رہے ہیں، جو عوام کے بارے میں نہیں سوچتے فرد واحد کی خوشنودی چاہتے ہیں، اپوزیشن نان ایشوز میں الجھی ہوئی ہے۔ پچھلے دنوں مائنس ون اور مائنس آل کا غلغلہ اٹھا مگر بادل چھٹ گئے۔ اپوزیشن جھاڑو کے تنکوں کی طرح تتر بتر بلکہ چلا ہوا کارتوس، اسے علم تھا کہ وہ 12 نشستوں پر کھڑی حکومت کو گرا نہیں سکتی، اس پوزیشن میں نہیں، نیب نے دلوں میں ایسا خوف بٹھا دیا ہے کہ اپوزیشن لیڈروں خصوصاً ن لیگیوں کو باری باری کرونا ہو رہا ہے، رزلٹ مثبت، نیب میں پیشی سے معذرت ،نیب سے بچیں یا حکومت گرانے پر توجہ دیں۔ مولانا فضل الرحمان مست قلندر، کسی نیب کا ڈر نہیں، دہشتگردوں کا خوف نہیں، بقول حفیظ جالندھری، ’’خدا سے ڈرنے والے موت سے ہر

گز نہیں ڈرتے، اکیلے میدان میں ہیں، بلاول سے پینگیں بڑھائیں اے پی سی بلانے کی ترغیب دی، بلاول بچہ تمام انکلوں اور بزرگوں کا ادب ملحوظ، حامی بھرلی، باقی صرف باتوں کی حد تک ساتھ ہیں۔ معاف کیجیے، آل پارٹیز کانفرنس سے بھی کیا ہوگا، پلائو کھائیں گے احباب کرونا سے جاں بحق لیڈروں کا فاتحہ ہوگا۔ لائحہ عمل، حکمت عملی، ’’کھیسے‘‘ میں کچھ نہیں کیا دکھائیں گے۔ زندگی میں ایک ہی چانس ملتا ہے مولانا نے چوہدریوں سے دھوکا کھا کر وہ چانس کھو دیا۔ اتنا بڑا پر امن دھرنا، تاریخی اجتماع، کہتے ہیں، حکومت بل گئی تھی۔ چوہدریوں نے بھانجی مار دی، چوہدری حکومتیں بنانے گرانے کے ماہر، مولانا کو ایسا چورن کھلایا کہ انہوں نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ 3 ماہ کا وعدہ پھر بجٹ منظوری کے بعد کا وعدہ، کچھ بھی نہ ہوا، حافظ حسین احمد داغ دہلوی کا شعر پڑھتے رہ گئے ہیں، ’’خاطر سے یا لحاظ میں مان تو گیا۔ جھوٹی قسم سے آپ کا ایمان تو گیا۔‘‘ کس کا پیغام لائے تھے، کیا پیغام لائے تھے چوہدری شجاعت مہر بلب ، پرویز الٰہی جیسے جانتے نہیں، پہچانتے نہیں، مائنس کا فارمولا ختم ’’تو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے‘‘ کا ورد۔ آپ کا کوئی متبادل نہیں حالانکہ لانے والے متبادل کی گنجائش رکھتے ہیں ہر چیز ممکن لوگوں نے کہنا شروع کردیا ہے کہ پانچ چھ مسلم لیگوں کامربہ ڈال کر چٹخارے لینے ہیں، متبادل مل جائے گا حل طلب مسئلہ یہ ہے کہ نئی مسلم لیگ کا سربراہ کون ہوگا جو سربراہ ہوگا وہی متبادل ہوگا۔ شاید اسی سوچ نے اگلے 6 ماہ کے گرد سرخ دائرہ لگا دیا ہے۔ قومی اسمبلی میں طائران خوش نوا کی زبانی اڑتی خبریں سننے والوں نے زلزلہ کی پیشگوئیاں شروع کردی ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ابتدا صوبائی سطح پر تبدیلیوں سے ہوگی کسی نے پوچھا کیا پنجاب میں تبدیلی کی ہوائیں چلنے لگی ہیں۔ معاون خصوصی نے فورا تردید کی کچھ نہیں ہو رہا، وزیر اعظمنے بھی کہ دیا موسم خوشگوار ہے، گلف نیوز نے خبر دے دی کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کم گو باتیں نہیں کام پر یقین رکھتے ہیں، ایک ٹوئٹ موصول ہوا ’’اس سادگی پہ کون نہ مرجائے ایخدا ۔کرتے ہیں باتیں قوت گویائی بھی نہیں‘‘ روز بیانات، خطابات، تقریریں جانے والوں پر چھینٹے۔ ایک لطیفہ کہیں پڑھا کہ دو خواتین کو قتل کے الزام میں 20 سال قید کی سزا ہوئی، ایک ہی وارڈ میں رکھی گئیں، 20 سال بعد جیل سے رہا ہوئیں تو باہر نکلتے ہی ایک دوسری سے کہنے لگی۔ بہن باقی باتیں گھر جا کر کریں گے۔ کیا سمجھے؟ اگلے 6 ماہ پر سرخ دائرہ کیوں لگا، کیا لانے والے مایوس ہیں یا عوام کا آتش فشاں پھٹنے کو ہے۔ وزرا کی کارکردگی کا ذکر ہوچکا ان کے بارے میں کسی نے کہا تھا۔’’یہ لوگ پائوں نہیں ذہن کے اپاہج ہیں ادھر چلیں گے جدھر رہنما چلاتا ہے۔‘‘ کابینہ کے روزانہ اجلاس کارکردگی صفر 22 مہینوں میں 3 چیئرمین ایف بی آر، 3 چیف سیکرٹری تبدیل، نچلی سطح پر سیکڑوں تبدیلیاں، حکومت بقول مولانا فضل الرحمان ہر محاذ پر ناکام، گردشی قرضے 537 ارب ورثے مٰں ملے 2000 ارب ہوگئے۔ اس دوران 10277 ارب ڈالر کے قرضے لیے گئے، ڈالر 167روپے ،سونا ایک لاکھ 5 ہزار، 2 ماہ میں چینی 30 سے 35 روپے کلو مہنگی، پیٹرول اوسطا ہر ماہ 8 روپے مہنگا ہوا۔ آئل، گھی 50 روپے مہنگا، ادویات 300 فیصد اضافہ، یہ عوام کے مسائل ہیں، عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی، روز ویلٹ ہوٹل کی نجکاری یا ٹرمپ کی جانب سے خریداری کی خواہش سے عوام کو کچھ لینا دینا نہیں۔ مسائل پر بات ہوتی ہے تو کہتے ہیں ذمہ دار مافیاز ہیں۔ مافیاز کو کنٹرول کرنے کی ذمہ داری کس کی ہے۔ کسی کو پتا نہیں وزیر اعظم نے چند دن پہلے کہا تھا کہ ہمیں کرونا کے ساتھ جینا ہے ایک دل جلے نے کہا کرونا ختم ہو رہا ہے۔ ہمیں مافیاز کے رحم و کرم پر جینا ہے۔ جی نہ سکے تو خود کشی کرنی ہے۔ مافیاز کا کچھ نہیں بگڑ سکا، گندم ذخیرہ کرنے والوں کے خلاف کریک ڈائون کا حکم ہوا میں اڑ گیا۔ چینی مافیا کے خلاف کارروائی بارش میں دھل گئی، کون پکڑا گیا۔ کوئی بھی نہیں، کارروائی کیا ہوئی، کمیشن رپورٹ پر آئندہ آنے والے کارروائی کریں گے۔ بلاول اور احسن اقبال تو کرپشن کے الزامات بھی لگا رہے ہیں، آواز دھیمی ہے نیب تک نہیں پہنچ پا رہی، نیب چیئرمین وزیر اعظم کی طرح ٹی وی نہیں دیکھتے جس دن پہنچ گئی شاید 6 مہینے ہی لگیں گے۔ اس دن انکوائریز اور ریفرنس دائر کرنے کے فیصلے ہوں گے پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑنے لگیں گے۔ فیصلہ لکھا جائیگا گورننس اور معیشت کی سمت درست نہ کی جاسکی تو گھنٹیاں بجنا شروع ہوجائیں گی۔ چلتے چلتے جانے کیا بات دھیان میں آئی، سقوط ڈھاکہ کے 3 کردار، مسئلہ کشمیر ہمیشہ کے لئے’’حل‘‘ کرنے کے بھی تین کردار، اللہ اپنا کرم کرے۔


ای پیپر