یادِ ماضی عذاب یا ثواب ۔۔۔۔ !
20 جولائی 2020 (13:50) 2020-07-20

میری طرح کے لوگ جو ماضی میں زندہ رہتے ہیں وہ اکثر ماضی کے واقعات کو خواہ ان کا شمار آپ بیتی ، من بیتی یا جگ بیتی میں ہوتا ہو کو یاد کر کے آہیں بھرتے رہتے ہیں اور پھر کبھی کبھار ان میں سے کچھ کا تذکرہ کر کے یا ان کی تفصیلات کو قلم و قرطاس کے سپرد کر کے اپنے آپ کو ڈھارس دے لیتے ہیں۔ میری حیثیت ہی کیا ہے لیکن سچی بات ہے عمر عزیز کا آٹھ عشروں سے کچھ ہی کم عرصہ جس کے چھ، ساڑھے چھ عشروں کے حالات و واقعات جن میں سے کچھ اپنی ذات سے ، اپنے گھر ، گھرانے سے، اپنے کنبے خاندان سے، اپنے گائوں اور اپنے شہر سے، اپنی تعلیم اور ملازمت سے اور زندگی کی کٹھن راہوں پر چلتے ہوئے کامیابیوں اور ناکامیوں سے متعلق ہیں تو کچھ ایسے بھی ہیں جن کا تعلق ملک و طن سے ، اس دیس سے ، اس سرزمین سے، اس کے تفاخر کے پہلوئوں کے ساتھ ہزیمت کے واقعات سے اور اس کے ماضی، حال اور مستقبل کے بیک وقت تابندگی ، درخشندگی اور شرمندگی کو اپنے دامن میں سمیٹے ہزار ہا روپوں سے ہے ۔ ان سب کو بھلانا اور ان کو فراموش کرنا آسان نہیں تو ان کو یاد رکھنا اور یاد کرتے رہنا بھی سہل نہیں کہ اس میں خون جگر جلتا ہے۔ اب کون ہے جو خون جگر جلاتا رہے اور شاد بھی رہے۔

کسی کے ذاتی حالات و واقعات اور معاملات سے دوسروں کو کم ہی دلچسپی ہو سکتی ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ جب بھی میں اپنی ذاتی زندگی کے کٹھن حالات و واقعات، پُر خطر اور پُر فکر تجربات اور چشم کشا مشاہدات کو اپنے کسی کالم کا موضوع بناتا ہوں تو میرے پڑھنے والوں کے حلقے (جس کے بارے میں میں سمجھتا ہوں کہ شاید انتہائی محدود ہے) میں زیادہ پذیرائی ملتی ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے میں کچھ کہہ نہیں سکتا۔ شاید خلوص، سچائی، سادگی، کومٹ منٹ اوروہ ہستیاں جن کا میں ایسے موقعہ پر ذکر کرتا ہوں ۔ ان کی سیرت و کردار اور شخصیت کے روشن پہلو یا پھر وہ محنت، عزم راسخ اور حالات و واقعات کو جانچنے پرکھنے اور من و عن سامنے لانے کا انداز کچھ بھی ہے جو اس کا سبب بنتا ہے۔ کرونا کی وباء کے اس پُر آشوب دور میں (میں پھیلائو کا لفظ جان بوجھ کر استعمال نہیں کر رہا) مجھے اپنے مرحوم و مغفور والدین یا دآ رہے ہیں۔ والد گرامی میرے ہی نہیں سب بہن بھائیوں اور ان کی آل اولاد کے لالہ جی اور والدہ محترمہ ہم سب کی بے جی مرحومہ۔ کتنی مہربان اور ہمہ وقت کتنی سراپا دُعا اور رحمت و شفقت شخصیات تھیں۔ مرحوم و مغفور والدین کو یاد کرنے یا ان کی کثرت سے یاد آنے کی بڑی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ پچھلے اڑھائی تین ہفتوں کے دوران طبیعت میں کچھ خرابی (کرونا کی علامات قطعاً نہیں) ضرور رہی ہےAccute Typhid Fever اور اس کے ساتھ انتہائی حد تک جسمانی کمزوری اور HB کم ہونا۔ اللہ کریم کا لاکھ لاکھ شکر اور احسان ہے کہ پچھلے چند دنوں سے طبیعت بہتر ہے۔ میں سپاس تشکر کے طور پر اپنے احباب جن میں عزیزی ڈاکٹر ندیم اکرام، محترم ڈاکٹر جمال ناصر، محب مکرم و محترم جناب عرفان صدیقی، عزیز از جان والا شان عزیزم فواد حسن فواد، دبئی میں مقیم عزیزم عمران خاور صدیقی، پروفیسر ڈاکٹر شاہد صدیقی ، عمالہ فائونڈیشن کے کرنل نذیر احمد، حافظ نصیر احمد معہ معلمین، معلمات اور جُملہ سٹاف،محبی محترم پروفیسر احمد حسن خان، پروفیسر شفیق صاحب اور دیگر احباب خواتین و حضرات اور میرے قریبی عزیز اور اہل خانہ شامل ہیں کا خاص طور پر تذکرہ کروں گا کہ میری روز بروز گرتی صحت کو دیکھ کر یہ مہربان، کرم فرما اور میرے قریبی عزیز و اقارب اتنے زیادہ فکر مند اور میری صحت کے بارے میں اتنے Keen ہوئے کہ ہمہ دم علاج ، پرہیز ، خوراک اور کھانے پینے کے بارے میں ہدایات اور بخار کے ختم ہونے اور طبیعت کی بہتری کے بارے میں استفسارات اور اس سے بڑھ کر ہمہ وقت پر خلوص دعائیں ان کا معمول رہا ہے۔ ان سب کا خلوص اور وارفتگی میرے لئے قیمتی سرمایہ ہے جس کے لئے میں ان سب کا ممنون ہوں۔ اللہ کریم کا بے پناہ احسان اور کرم کہ اس پاک ذات نے اپنے حبیب کبریاؐ کے صدقے او ر میرے مرحوم والدین کی دعائوں جو وہ اپنی زندگی میں صرف میرے لئے ہی نہیں سب کے بچوں اور آل اولاد کے لئے جھولی پھیلا پھیلا کر کیا کرتے تھے کے طفیل مجھ پر اپنا خصوصی کرم فرمایا ہے اور میں جسمانی اور ذہنی توانائیوں کے جلو میں بقائمی ہوش و حواس پہ سطور تحریر کر رہا ہوں۔

میں ذکر اپنے مرحوم والدین کا کرنا چاہ رہا تھا۔ لالہ جی مرحوم و مغفور اور بے جی مرحومہ و مغفورہ کیا شخصیات تھیں ۔ چٹے اَن پڑھ لیکن پختہ ایمان و یقین کا پیکر۔ محترمہ بے جی انتہائی ڈر، ڈر کر اور سہم ، سہم کر زندگی بسر کرنے والی خاتون تھیں۔ بچپن میں قرآن پاک ناظرہ نہیں پڑھ سکی تھیں اور شاید نماز بھی ان کو صحیح طور پر نہیں آتی تھی لیکن اللہ کریم کا ان پر خصوصی کرم ہوا کہ انہوں نے بڑھاپے کی طرف بڑھتی ہوئی ادھیڑ عمری میں گائوں میں اپنے محلے کی مسجد کے امام محترم قاضی عبدالرب مرحوم اور ان کی مرحومہ اہلیہ محترمہ سے جو ان کو بڑی بہن کا درجہ اور احترام دیتے تھے سے قرآن پاک ناظرہ ہی نہیں پڑھ لیا بلکہ کئی سورتیں جن میں سورۃ یٰسین اور سورۃ کہف شامل تھیں حفظ (زبانی یاد) بھی کر لیں۔ والدین اولاد کے لئے بہت محترم ہوتے ہیں۔ مائیں اگر میںکہوں سب کی مائیں دعائوں، شفقت اور محبت کا پیکر ہوتی ہیں تو کچھ ایسا غلط نہیں ہو گا۔ یہاں میں محترمہ بے جی کے اپنے (میرے) بارے میں دعائوں کے حوالے سے ایک واقعے کا تذکرہ کرنا چاہوں گا۔

یہ پچھلی صدی کے ساتویں عشرے کے آخری برس (1969 ) کی بات ہے کہ میں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اردو کا امتحان (پرائیویٹ) دیا۔ اس وقت ایم اے (Part I ) اور (Part II ) کے سات سو نمبروں کے کل سات پرچے اور دونوں Parts کااکٹھے امتحان دینا ہوتا تھا۔میری کوئی ایسی اچھی تیاری نہیں تھی بس یہی تھا کہ ایم اے کی ڈگری مل جائے گی تو نام کے ساتھ ایم اے لکھنے کا شوق پورا ہو جائیگا اور اس کے ساتھ تنخواہ میں دو اضافی ترقیوں کا اضافہ بھی مل جائیگا۔ رفیق مکرم محترم عرفان صدیقی جو ایک سال پہلے ایم اے اُردو اچھے نمبروں کے ساتھ پاس کر چکے تھے کے تیار کردہ نوٹس اور کُتب سے استفادہ کرتے ہوئے امتحان میں بیٹھ گیا نتیجے کے انتظار میں تین چار ماہ گزر گئے۔ ان دنوں پنجاب یونیورسٹی کے امتحانی نتائج انگریزی کے اس دور کے معروف اخبار Pakistan Times میں شائع ہوا کرتے تھے۔ پاکستان ٹائمز کا ذکر کرتے ہوے مجھے یاد آ رہا ہے کہ میاں افتخار الدین مرحوم کے قائم کردہ ادارے پاکستان پروگریسو پیپرز لیمیٹڈ کے زیرِ اہتمام چھپنے والے روز نامہ پاکستان ٹائمز (انگریزی)۔ روز نامہ امروز (اُردو) ہفت روزہ لیل ونہار (اُردو) اور سپورٹس ٹائمز (انگریزی) بائیں بازو کے نظریات کے حامل انتہائی معیاری اور اُس دور کے لحاظ سے جدید طباعت سے آراستہ و پیراستہ اخبارات و جرائد تھے۔ ایک زمانے میں بائیں بازو کے نظریات کے پرچارک مشہور شاعر فیض احمد فیض مرحوم، مشہور دانشور اور قلمکار سید سبط حسن مرحوم، مشہور شاعر اور ادیب جناب احمد ندیم قاسمی مرحوم، مشہور اخبار نویس چراغ حسن حسرت مرحوم اور بزرگ صحافی مولوی محمد سعید مرحوم جیسی نابغہ روزگار شخصیات ان اخبارات وجرائد کے ادارتی عملے میں شامل رہیں۔ صدر ایوب کے دور میں پروگریسو پیپرز لیمیٹڈ کے ان اخبارات و جرائد کو حکومت نے اپنی تحویل میں لے کر نیشنل پریس ٹرسٹ کے حوالے کر دیا اور اس کے ساتھ ہی ان کا زوال شروع ہو گیا۔ خیر میں واپس اپنے ایم اے اُردو کے امتحان کی طرف آتا ہوں۔ ستمبر 1969 ؁ء میں منعقد ہونے والے امتحان کا نتیجہ کہیں جنوری 1970 ؁ء میں پاکستان ٹائمز میں چھپا۔ صرف امتحان پاس کرنے والے یا جن کے نتیجے میں کسی وجہ سے تاخیر ہوتی تھی انہی اُمیدواروں کے رول نمبر اخبار میں شائع ہوتے تھے۔ میرا رول نمبر ہر دو فہرستوں میں موجود نہیں تھا۔ میں نے سمجھ لیا کہ میں پاس نہیں ہو سکا۔ یونیورسٹی کی طرف سے نتیجے کے کارڈ کا انتظار تھا ۔ دو، تین ماہ یا کچھ عرصہ اسی طرح گزر گیا۔ گائوں گیا تو بات کی کہ لاہور جانا ہو گا تاکہ پنجاب یونیورسٹی سے نتیجے کا کارڈ لے کر اگلے امتحان کے لیے داخلہ بھیجا جا سکے۔ محترمہ بے جی نے اپنی سادگی اور ہمیشہ کے ڈرے ڈرے اور سہمے انداز میں کہا کہ ساجد بیٹا کیوں فکر کرتے ہو میں نے خواب دیکھا ہے تم فیل نہیں ہو۔ میں نے اپنے معمول کے چیختے ہوئے انداز میں جواب دیا کہ آپ کو ان معاملات کا کیا پتہ ۔ خیر میں خود تو لاہور نہ جا سکا وہاں اپنے ایک جاننے والے محترم محمد فاضل بھٹی ایڈووکیٹ جو یونیورسٹی لاء کالج میں زیرِ تعلیم تھے کو خط لکھا کہ وہ یونیورسٹی سے میرے ایم اے اُردو کے نتیجے کے بارے میں معلومات لے کر آگاہ کریں۔ چند دنوں بعد اُن کا جواب آ گیا کہ آپ کا ایک پرچے کا رزلٹ ابھی تک نہیں جبکہ باقی پرچوں میں آپ پاس ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے نمبروں کی تفصیل بھی بھیج دی۔ میں نے سمجھ لیا کہ میں انشاء اللہ پاس ہو جائوں گاپھر ایسا ہی ہوا کہ کچھ ہی دنوں بعد محترم بھٹی صاحب مرحوم نے مجھے ایم ۔ اے اُردو کا رزلٹ کارڈ بھجوا دیا ۔ میری بے جی مرحومہ و مغفورہ کی زبان مبارک ثابت ہوئی اور میں ایم اے اُردو میں فیل نہیں بلکہ واقعی ہی پاس تھا ۔ لیکن میں اس کے بعد بھی اگلے تیس، بتیس برسوں میںبے جی کے انتقال تک کچھ نہ کچھ ناشکرا ہی رہا اور اُن کی اُس طرح خدمت نہ کر سکا جس طرح کرنی چاہیے تھی جس کا آج بھی شدید قلق ہے۔

اوپر میں نے گائوں میں اپنے محلے کی مسجد کے امام قاضی عبدالرب مرحوم کا ذکر کیا ہے ۔ قاضی صاحب مرحوم و مغفور کچھ زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے ۔ وہ تین نمازوں فجر ،مغرب اور عشاء کی امامت اور باجماعت ادائیگی کے لیے مسجد میں آیا کرتے تھے۔ ہمارے بزرگ وغیرہ جو اُن کے ہم عمر اور ہم عصر تھے اُن سے مذاق وغیرہ بھی کر لیا کرتے تھے۔ صبح فجر کی نماز کے بعد محلے کے بچے مسجد میں جمع ہو جاتے تھے اور اُن سے نماز ، کلموں، دعائے قنوت اور نمازِ جنازہ کا زبانی سبق لیا کرتے تھے۔ میں نے بھی دین کے یہ ضروری اجزا اُن ہی سے پڑھے اور یاد کیے ۔ میں عمر کے اس حصے میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ الحمد للہ مجھے یہ سب کچھ حرف بہ حرف اور درست یاد ہے تو یہ قاضی عبدالرب مرحوم کا مرہونِ منت ہے۔ قاضی صاحب مرحوم نماز میں فرضوں کی ادائیگی کے بعد جو دعا مانگا کرتے تھے وہ بھی مجھے لفظ بلفظ یاد ہے اور الحمد اللہ تقریباً وہی دعا میں اپنی نمازوں میں اپنے رب کے حضور التجا کی صورت میں پیش کرتا ہوں۔ واہ کیا خوب سیرت ، سادہ اور سچے لوگ تھے۔


ای پیپر