کچھ باتیں جامعہ پنجاب کی
20 جولائی 2020 2020-07-20

جامعہ پنجاب میری پہلی محبت ہے۔ اسکول کے زمانے سے ہی میں اس میں پڑھنے کے خواب دیکھا کرتی تھی۔ ایک وقت تھا جب میں یہاں داخلے کیلئے مرے جا رہی تھی۔ پھر وہ وقت بھی آیا جب مجھے یہاں جز وقتی تدریس کا موقع ملا۔سچ یہ ہے کہ یہاں پڑھنا اور پڑھانا میرے لئے ہمیشہ باعث افتخار رہا۔ میرے رب کا فضل اور احسان جس نے مجھ نااہل کو فخر کرنے کیلئے کئی حوالے عطا کر رکھے ہیں۔ ان سب میں میرا پسندیدہ حوالہ جامعہ پنجاب ہے۔ مجھے یاد ہے 2013 کے آغاز میں رائے ونڈ جاتی عمرہ میں میری ملاقات پہلی بار مریم نواز شریف سے ہوئی۔ یہ ملاقات انکے والد (نواز شریف صاحب) کے توسط سے طے تھی۔ ابتدائی علیک سلیک کے بعد ہم دونوں ایک علیحدہ کمرے میں جا بیٹھے۔ مریم کہنے لگیں کہ ابو جان نے آپ کا تعارف کروایا تھا۔ بتایا تھا کہ آپ فلاں ٹی۔وی چینل کیساتھ منسلک ہیں۔ فلاں فلاں صحافتی معاملات میں مہارت رکھتی ہیں۔ مجھے بخوبی ادراک تھا کہ یہ بڑے باپ کی بیٹی ہیں۔ وہ آدمی جو دو مرتبہ اس ملک کا وزیر اعظم رہا ہے اور ٹھیک چند ماہ کے بعد ایک مرتبہ پھر ملک کا وزیر اعظم بن جائے گا۔ لا شعور میں کہیں یہ خیال موجود ہوگا کہ اس بڑے باپ کی بیٹی کے سامنے اپنا مثبت تاثر قائم کرنا چاہیے۔ان کی بات ختم ہوئی تو جھٹ سے میں نے کہا۔ میاں صاحب کا بہت شکریہ ، جو انہوں نے میرا اتنا اچھا تعارف کروایا۔ لیکن یہ تعارف ادھورا ہے۔ مجھے اپنا یہ تعارف اور حوالہ ذیادہ پسند ہے کہ میں پنجاب یونیورسٹی سے پی۔ایچ۔ ڈی کر رہی ہوں اور اسکے شعبہ صحافت میں بطور وزیٹنگ لیکچرر پڑھاتی ہوں۔ اس زمانے میں مر یم نے ایک غیر ملکی یونیورسٹی میں پی۔ایچ۔ ڈی کیلئے اندراج کروا رکھا تھا۔سو گفتگو کا رخ کچھ دیر کیلئے تعلیم کی طرف مڑ گیا۔

قصہ سنانے سے مقصود یہ ہے کہ جامعہ پنجاب ہمیشہ میر ے نزدیک ایک قابل فخر حوالہ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسکے متعلق اچھی خبریں سن کر دل خوش ہوتا ہے۔ منفی خبریں مجھے دکھی کر دیتی ہیں۔ ملازمت کی نوعیت کچھ ایسی ہے کہ اعلی تعلیمی اور قومی نشریاتی اداروں پرلکھنے بولنے سے گریزاں رہتی ہوں۔یہی جھجک جامعہ پنجاب کے معاملے میں درپیش رہتی ہے۔ لیکن کچھ باتوں کا تذکرہ نہ کرنا قرین انصا ف نہیں۔

میری اس مادر علمی نے بہت سے اتار چڑھاو¿ دیکھے ہیں۔ کئی وائس چانسلر آئے اور گئے۔ ایک زمانے میں یہاں ڈاکٹر مجاہد کامران صاحب کا ڈنکا بجا کرتا تھا۔ مجاہد صاحب مسند نشین تھے تو ان کا سایہ بنے رہنے والے کئی لوگ آج ان کا نام لینے سے بھی گریزاں دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ مجاہد صاحب انتہائی ذہین و فطین آدمی تھے۔نہایت عمدہ مقرر تھے ۔ ہر دم چوکس اور متحرک منتظم تھے ۔ ایک خوبی انکی یہ تھی کہ وہ نہایت دلیر تھے۔ جنرل مشرف کے دور آمریت میں جنرل ارشد کو جامعہ پنجاب کا وائس چانسلر بنانے کا معاملہ زیر غور تھا۔ مجاہد صاحب نے ایک انگریزی روزنامے میں ایک کھلا خط لکھ بھیجا۔ مطالبہ کیا کہ انہیں فوج میں کور کمانڈر مقرر کیا جائے۔ دلیل دی کہ اگر ایک فوجی جرنیل، یونیورسٹی کا وائس چانسلر بن سکتا ہے تو بطور پروفیسر وہ بھی جرنیل بننے کے حقدار ہیں۔پروفیسر صاحب نے جامعہ کیلئے بہت سے اچھے کام کئے۔ تاہم ایک طبقہ ان سے شاکی بھی تھا۔ یہ فطری سی بات ہے۔عمومی طور پر ماتحتوں اور اہلکاروں کو سربراہان سے شکایات رہتی ہیں۔ اصل چیز ان شکایات کا تناسب ہوتا ہے جو ایک سربراہ کی کارکردگی کو دوسرے سربراہ سے ممتاز کرتا ہے۔ مجاہد صاحب رخصت ہوئے تو بہت سوں نے وائس چانسلر بننے کی آرزو میں ایڑھی چوٹی کا زور لگا دیا۔ عارضی وائس چانسلر کی تعیناتی کے بعد ظلم یہ ہوا کہ کچھ لوگ سازشوں میں جت گئے۔اسقدر بد دیانتی (بلکہ گناہ) کے مرتکب ہوئے کہ تنخواہیں تو وہ جامعہ پنجاب سے وصول کرتے رہے۔ لیکن میڈیا پر اس ادارے کے متعلق منفی خبریں چھپواتے اور چلواتے رہے۔ ڈاکٹر نیاز احمد اختررئیس الجامعہ مقرر ہوئے تو سازشوںا ور منفی خبروں کا گڑھ بنی پنجاب یونیورسٹی کو قرار نصیب ہوا۔

چند روز قبل ڈاکٹر نیاز صاحب کیساتھ ایک نشست رہی۔ اپنی معلومات کیلئے میں ان سے مختلف سوال کرتی رہی۔ وہ خوش دلی سے جواب دیتے رہے۔ پنجاب یونیورسٹی میں کچھ نہایت عمدہ کام ہوئے ہیں۔ کچھ اعداد و شمار پیش کر دیتی ہوں۔ پتہ یہ چلا کہ وائس چانسلر صاحب نے اپنے ماتحتوں کیلئے ترقی کا دروازہ بلکہ باقاعدہ پھاٹک کھول دیا ہے۔ دو برس میں تقریبا ایک سو سلیکشن بورڈ منعقد ہو چکے ہیں۔ ڈاکٹر نیاز نے بتایا کہ کم وبیش پچانوے فی صد اساتذہ اور ملازمین کو اگلے اسکیل میں ترقی دے دی گئی ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پروفیسروں کی تعداد تقریبا 140 تک پہنچ چکی ہے۔ ماضی میں یہ تعداد کبھی 80 کا ہندسہ عبور نہیں کر سکی ۔ انہوں نے عہدہ سنبھالا تو جامعہ میں پچاس کے لگ بھگ ایسوسی ایٹ پروفیسر موجود تھے۔اب یہ تعداد بڑھ کر 120 ہو چکی ہے۔ اسقدر ترقیاں اور بھرتیاں پنجاب یونیورسٹی کی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے۔ حال ہی میں کم وبیش ایک سو نئی اسامیاں تخلیق کی گئی ہیں تاکہ لوگوں کو ترقی کے مزید مواقع میسر آسکیں۔ یاد رہے کہ یہ سب کچھ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب معاشی حالات کی وجہ سے ملک بھر میں لاکھوں لوگ بیروزگار ہو چکے ہیں۔ سرکاری اور نجی اداروں میں ہزاروں افراد کو ملازمتوں سے ہاتھ دھونا پڑ رہے ہیں۔

ایک مثبت پیش رفت جامعات کی عالمی درجہ بندی (ranking) کی بابت ہوئی ہے۔ آج کی دنیا میں عالمی سطح پر خود کو منوانے اور اپنی دھاک بٹھانے کیلئے جامعات کے لئے درجہ بندی کا تعاقب نہایت ضروری ہو چلا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ عہدہ سنبھالتے ہی انہوں نے اس جانب خصوصی توجہ دی۔ نتیجہ اسکا یہ نکلا کہ ان دو برس میں پنجاب یونیورسٹی کی عالمی درجہ بندی (ranking)میں دس فیصد بہتری آئی ہے۔ محدود بجٹ اور وسائل کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ نمایاں کامیابی ہے۔

چند برس سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے اعلیٰ تعلیم کے بجٹ میں کٹوتی کے نتیجے میں ملک بھر کے تعلیمی ادارے مشکلات کا شکار ہیں۔ کئی جامعات دیوالیہ ہو چکی ہیں۔ چند دن قبل یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے دیوالیہ ہونے کی خبریں سامنے آئیں۔ تجسس مجھے یہ تھا کہ پنجاب یونیورسٹی کے معاشی حالات کیسے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ بجٹ سے متعلق واقعتا مشکلات درپیش ہیں۔ مگر اہلکاروں کو تنخواہوں کی بروقت ادائیگی انکی اولین ترجیح ہے۔ کرونا کی وجہ سے یونیورسٹی کے شعبہ جات مکمل طور پر فعال نہیں۔ اس کے باوجود دیہاڑی دار (daily wagers) ملازمین کو فارغ کرنے کے بجائے انہیں کسی نہ کسی کام میں مشغول engage) ( رکھ کر تنخواہیں دی جا رہی ہیں۔ تاکہ ان کا دال دلیا چلتا رہے۔کہنے لگے کہ میں آگاہ ہوں کہ یہاں متوسط اور زیریں طبقے سے تعلق رکھنے والے طالب علم زیر تعلیم ہیں۔ لہذا فیسوں میں اضافہ نہیں کرنا چاہتا۔بلکہ کرونا کے ہنگام تمام طالب علموں کی فیسوں میں مزید کمی کر دی گئی ہے۔ بتانے لگے کہ جامعہ کے مالی استحکام کیلئے کچھ تجاویز زیر غور ہیں۔ جلد کوئی حکمت عملی وضع کر لی جائے گی۔ ڈاکٹر نیاز کے دور میں جامعہ پنجاب میں قائم ہونے والے نظم و ضبط کا پہلو بھی قابل تحسین ہے۔اکثر و بیشتر پنجاب یونیورسٹی لڑائی جھگڑوں، مظاہروں، اور احتجاج وغیرہ کے حوالوں سے خبروں میں رہا کرتی تھی۔ ان دو برس میں بدامنی کا خاتمہ ہوا ہے اور کیمپس کا ماحول پرسکون دکھائی دیتا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ ڈاکٹر نیاز صاحب کو گورنرپنجاب (اور چانسلر) چوہدری سرور صاحب کی کامل حمایت اور سرپرستی حاصل ہے۔ یہ مثالی رابطہ کاری ان کی پالیسیوں اور فیصلوں کے نفاذ میں مدد گار ثابت ہوتی ہے۔

پیشہ وارانہ معاملات سے ہٹ کر کچھ اقدام خالصتا انکی اپنی ذات سے جڑے ہیں۔ عمومی طور پر اہم عہدوں پر براجمان افراد کے تو خوب ناز نخرے اٹھائے جاتے ہیں۔ ان سے تعلقات استوار رکھے جاتے ہیں۔ لیکن عہدے سے سبکدوش ہونے والوں کیساتھ ، ہماری گرم جوشی بھی رخصت ہو جاتی ہے۔ ڈاکٹر نیاز نے کچھ اچھی روایات قائم کی ہیں۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر اور ڈین خواتین و حضرات کیساتھ دو مرتبہ مشاورتی ملاقاتوں کا اہتمام کیا ۔ ان سے باقاعدہ رہنمائی طلب کی۔حاصل ہونے والے بہت سے مشوروں کو عملی طور پر نافذ بھی کیا۔ ایک نہایت عمدہ فیصلہ انہوں نے یہ کیا کہ سابق وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران سمیت چار نامور علمی شخصیات کو جامعہ کے متعلقہ شعبہ جات میں ایمریطس(Emeritus) پروفیسر مقرر کر دیا۔ ہمارے استاد ڈاکٹر مغیث مرحوم کی نماز جنازہ کی امامت کر کے بھی انہوں نے بہت سوں کے دل جیت لیے۔دعا ہے کہ اللہ پاک ڈاکٹر نیاز کو مزید اچھے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ یہ دعا بھی ہے کہ اللہ انہیں ایسے شعبدہ بازوں سے محفوظ رکھے جو ہر نئے مسند نشین کے ارد گرد منڈلاتے دکھائی دیتے ہیں۔ آمین ۔


ای پیپر