’’طاقتوروں‘‘ کا احتساب
20 جولائی 2019 2019-07-20

وزیراعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر زور دار الفاظ میں کہا ہے پاکستان میں طاقتور کا احتساب کبھی نہیں ہوا… ہم نے شروع کیا ہے، مکمل کر کے دم لیں گے… احتساب کا طاقتوروں سے آغاز کیا جائے تو پھر یہ نچلے طبقوں تک جاتا ہے… بات اصولی طورپر درست ہے… احتساب سب سے پہلے ہونا ہی معاشرے، ملک اور ریاست کے طاقتور طبقات کا چاہیے… اس کے بعد اس کام کو نچلے درجے کے لوگوں تک پہنچانا چنداں مشکل نہیں ہوتا… لیکن کیا جناب عمران کی حکومت کے زیر سایہ جو احتساب ہو رہا ہے وہ واقعی ہماری ریاست کے طاقتور طبقات کاہے اور جن لوگوں کو ان دنوں احتساب کے شکنجے میں لایا جا رہا ہے وہ اس کا پہلے کبھی شکار نہیں ہوئے… اگر طاقتور افراد سے مراد پاکستان کے وزرائے اعظم یا سول حکومتوں کے سرکردہ افراد ہیں… تو انہیں عتاب یا احتساب کا نشانہ بنانے کا کام تو مملکت خداداد کے آغاز کے سالوں میں شروع ہو گیا تھا… پہلا وزیراعظم قتل ہوا… دوسرے کو نا اہلی کی بنیاد پر برطرف کیا گیا… اس کے بعد پانچ سال کے اندر خدا جھوٹ نہ بلوائے یکے بعد دیگرے پانچ کو اڑا کر رکھ دیا گیا… پھر پہلا مارشل لاء نافذ ہوااس کے بوٹوں کی چاپ سے اگلے دس سال کے لیے وزیراعظم نامی طاقتور مخلوق سے جان چھٹ گئی حسین شہید سہروردی اور ممتاز دولتانہ جیسے کئی ’’کرپٹ‘‘ سیاستدانوں کی ایک بڑی تعداد کو ایبڈو کے قانون کے تحت میدان عمل سے نکال باہر پھینکا گیا… پاکستان ٹوٹا … اس کے بعد ایک اور وزیراعظم ہم پر آن مسلط ہوا… کچھ مبصرین کی رائے ہے ذوالفقار علی بھٹو نامی یہ شخص ہماری اب تک کی تاریخ کا سب سے طاقتور وزیراعظم تھا… لیکن اتنا طاقتور ہرگز نہیں کہ اسے احتساب کے ترازو میں تولا نہ جا سکا ہو… قتل کا الزام لگا پھانسی کے تختے پر لٹکا دیا گیا… اس کے بعد بھی کئی وزیراعظم جن پر عوام کے منتخب ہونے کی تہمت تھی اس عہدے پر براجمان ہوئے اور جلد احتساب کی ایسی بھٹی میں ڈال دیے جاتے تھے کہ حکومتیں ان کی دو اڑھائی برس کے اندر پگھل کر رہ جاتی تھیں… جونیجو نا اہل ، بینظیر کرپٹ ، نواز شریف تین بار آیا تینوں مرتبہ کرپشن کے الزامات کی پاداش میں دامن پر برطرفی کا داغ لگوا کر وزیراعظم ہاؤس خالی کرنے پر مجبور ہوا… آج کل جیل کی سزا کاٹ رہا ہے… واضح رہے کہ ان تمام وزرائے اعظم میں سے کسی ایک کوبھی اس کے گناہوں کی سزا کے طور پر پاکستان کے عوام نے انتخابی شکست سے دو چار کر کے احتساب کے کٹہرے میں لا کر کھڑا نہیں کیا… ملک کے اندر یقینا وزرائے اعظم سے بھی کہیں زیادہ کوئی طاقتور قوت پائی جاتی ہے … جس نے عوام کی جگہ کرپشن کے مارے ہوئے سول حکمرانوں کو ٹھکانے لگانے کا فریضہ اپنے ہاتھوں میں لے رکھا ہے… قطعی اور ناقابل تردید ثبوت دینے کی ضرورت نہیں ہوتی اس کا فرمان امروز ہی وقت کے وزیراعظم کو قابل گردن زدنی قرار دے کے لیے کافی ہوتا ہے… لہٰذا عمران خان کا یہ دعویٰ محل نظر ہے کہ اس نے اپنا انتخابی وعدہ پورا کرتے ہوئے طاقتوروں کا احتساب شروع کیا ہے… اگر وزرائے اعظم اور دوسرے سول سیاستدان ہی طاقتور ٹھہرے تو تو انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کا کام 1951ء میں لیاقت علی خان سے شروع ہوا تھا آج تک جاری ہے … خان بہادر کا اس میں کیا عمل دخل ہے… نیز اگر وزرائے اعظم ہی ہمارے طاقتور قبیلوں کے سربراہ ہیں تو ان ہاتھوں کے بارے میں کیا فرمائیے گا جو جب چاہتے ہیں نام نہاد منتخب حکومتوں کا گلا مروڑ دیتے ہیں اور انہیں چلانے والوں کا کچومر نکال کر رکھ دیتے ہیں… اس کا واضح مطلب ہے کہ حقیقی طاقت کسی اور کے پاس ہے… جو بہر صورت عمران خان نہیں … وہ تو بیچارا خود یکے از وزرائے اعظم ہے… اس کا بھی کل کلاں پہلوں کی مانند احتساب ہو گا اور خوب ہو گا مگر وہ جو سب سے بالا دست طاقت سمجھی جاتی ہے…کیا اس کا بھی کبھی احتساب ہوا ہے…

وزیراعظم عمران خان امریکہ کے دورے پر روانہ ہو چکے ہیں… آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید ہمراہ ہیں… وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صدر امریکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ جو ملاقات ہو گی … جنرل باجوہ خان بہادر کے دست راست کے طور پر اس میں شریک ہوں گے … اگرچہ خالصتاً جمہوری نقطہ نظر سے یہ منفرد واقعہ ہو گا مگر امریکی خاصے مطمئن ہیں کہ پاکستانی سربراہ حکومت کے ساتھ جو کچھ بھی طے ہو گا اس ملک کی سب سے مقتدر شخصیت کی موجودگی اور آشیر باد کے ساتھ ہو گا… روزنامہ ’’ڈان‘‘ کے نمائندہ خصوصی مقیم واشنگٹن انور اقبال کی کل ہفتہ 20 جولائی کو چھپنے والی سٹوری کے مطابق اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے واشنگٹن کے ایک معروف ماہر امور جنوبی ایشیا Marvin Weinbaum نے کہا ہے کہ ٹرمپ کے ساتھ عمران خان کی گفتگو ’’بنیادی طور پر افغانستان اور دہشت گردی کے موضوعات پر ہو گی… جن کے بارے میں امریکہ کے پالیسی سازوں کی رائے ہے کہ فوج کی حمایت کے بغیر ان پر عمل نہیں کیا جا سکتا‘‘… یعنی وہاں پر پاکستان کے بارے میں معاملات طے کرنے والی اصل فیصلہ کن قوت وزیراعظم کے علاوہ کوئی اور ہو گی… عمران خان اس پر جمہوریت کی مہر ثبت کرنے کے لیے موجود ہوںگے… میں گزشتہ اتوار کو دورۂ امریکہ کے بارے میں شائع ہونے والی معروضات میں لکھ چکا ہوں امریکہ میں اس وقت ری پبلیکن صدر ہے… ماضی کے ہر ری پبلیکن صدر نے ہماری فوجی حکومتوں کے ساتھ براہ راست معاملات طے کیے… اب بھی اس سے کچھ مختلف نہیں ہو رہا… ماسوائے اس کے کہ سب کچھ رسم زمانہ کی مجبوری کے تحت جمہوریت کے نام پر کیا جائے گا… جنرل قمر جاوید باجوہ خدا کے فضل و کرم سے ہمارے ملک کی سب سے زیادہ محب وطن شخصیت ہیں… یہ ان کی خاص عنایت ہے کہ نہ صرف مملکت پاکستان کے دفاعی اور خارجی امور کو براہ راست اپنی نگرانی میں لے رکھا ہے بلکہ قوم کی دگر گوں اقتصادی حالت کو بھی درست کرنے کے لیے حال ہی میں قائم کی جانے والی اکنامک سکیورٹی کونسل کا رکن بننا بھی قبول فرما لیا ہے… اس کونسل کا نام ہی بتاتا ہے کہ پاکستان کی معاشی فلاح و بہبود اس وقت تک مملک ہی نہیں جب تک اسے سکیورٹی کے Paradigmسے دیکھا اور پرکھا نہ جائے… ظاہر ہے اس کے لیے جنرل باجوہ کی ذات گرامی ہی بلحاظ عہدہ موضوع ترین ہو سکتی ہے لہٰذا عمرانی جمہوریت کے زیر سایہ یہ درست سمت کی جانب درست قدم ہے… اسی پر موقوف نہیں ہمارے محترم آرمی چیف نے تعلیمی اور خاص طور پر دینی تعلیم کے نظام کے اندر بھی ضروری تبدیلیاں لانے کی خاطر معاملے کو اپنی دسترس میں لے لیا ہے… گزشتہ دنوں موصوف نے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود صاحب کو اپنے ساتھ بٹھا کر تقریباً تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے مدارس کے ذمہ دار علماء کے ساتھ خصوصی نشست کی جہاں ان مدارس میں عصری تعلیم کو رواج دینے کی خاطر مرتب کی جانے والی تجاویز کو آخری شکل دی گئی… یہ ان کی عالی ظرفی ہے کہ ملک وقوم کے بہترین مفاد میں جنہیں ان سے بہتر کوئی نہیں سمجھتا اپنی آئینی ذمہ داریوں سے آگے قدم رکھ کر خدمات سر انجام دے رہے ہیں اس طرح ملک کی گاڑی محفوظ راستوں پر گامزن ہو جائے گی اور سات سمندر پار امریکیوں کو بھی اطمینان ہو گا کہ وہ پاکستان کی صحیح معنوں میں حکمران قوت کے ساتھ معاملات طے کر رہے ہیں… محض کسی لنڈے ، لنگوڑے وزیراعظم کے ساتھ نہیں… جسے اپنی پارلیمنٹ کے اندر معمولی درجے کی اکثریت بھی حاصل نہیں اور دعویٰ اس کا یہ ہے تاریخ میں پہلی مرتبہ طاقتوروں کا احتساب کر رہا ہے…

ہمارے ملک میں احتساب کا سب سے مؤثر ذریعہ Media Trial ہے… یعنی اخباری بیانات اور ٹیلی ویژن کے ٹاک شوز میں ان سیاستدانوں کے خلاف جنہیں عمران خان ملک کا سب سے طاقتور طبقہ گردانتا ہے ، الزامات کی ایک لمبی چوڑی فہرست کے ساتھ مقدمہ پیش کیا جاتا ہے… ان کا لباس تار تار کر کے رکھ دیا جاتا ہے… انگریزی کے مشہور محاورے Give a dog bad name and hang himکے مصداق اس کی کرپشن اور نا اہلی کی ہر سو صدائیں بلند کر کے سخت ترین سزا کا مستحق یہاں تک کہ ملک و قوم سے غداری تک کا مرتکب ٹھہرا دیا جاتا ہے… میڈیا کی جناب سے ’فیصلہ‘ حاصل کرنے کے بعد نیب کی باری آتی ہے… جس کے یہاں قانون کی عملداری اس حد تک بام عروج کو پہنچی ہوئی ہے کہ اسلام اور مہذب دنیا کے رائج کردہ اصول انصاف کے برعکس بارِ ثبوت ملزم یا معتوب شخص کے کندھوں پر ڈال دیا جاتاہے… اس کے بعد اسے کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے معاملہ ان عدالتوں کے سپرد کر دیا جاتا ہے جن میں سے ایک کے ارشد ملک نامی جج کا معاملہ چند دن پہلے سامنے آ کر ساری دنیا کی نظروں میں ہمارے نظام انصاف کی ہیئت کزائی کا باعث بنا… رہ گیا اوپر والی عدالتوں کا حال جن کی جسٹس منیر سے لے کر جسٹس ثاقب نثار تک جسٹس کارنیلیئس اور جسٹس حمود الرحمن جیسی مستثنیات چھوڑ کر اپنی ایک کہانی ہے اور جس کے ’’درخشاں‘‘ ہونے کے بارے میں دو رائے نہیں پائی جاتیں… غیبی اشاروں پر ملک کی قسمت بدل کر رکھ دینے والے فیصلے صادر کیے جاتے رہے … ان کے حضور میں اقامہ جیسے کھوکھلے الزام پر تین مرتبہ منتخب ہونے والے وزیراعظم کو مکھن سے مال کی مانند نکال کر باہر پھینک دیا جاتا ہے… اس کی نا اہلی کے بعد زمین ہموار ہوتی ہے اور نئے انتخابات کے نتیجے میں عمران خان کو وزیراعظم کا پروٹوکول دینا ممکن بن جاتا ہے… اس گدی پر مسند نشین ہونے کے بعد موصوف اعلان کرتے ہیں کہ انہوں نے طاقتوروں کا احتساب شروع کر دیا ہے… طاقتور آپ کی نظروں میں اگر سابق وزرائے اعظم میں سے آخری تھا تو اسے آپ کے ایوان اقتدار میں جلوہ گر ہونے سے پہلے ہی جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند کر دیا گیا تھا… آپ کی نام نہاد نگرانی میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کی طنابیں ان والیان ریاست کے ہاتھوں میں ہیں جہاں سے طاقت کا اصل سرچشمہ بہتا ہے… وزرائے اعظم تو لیاقت علی خان سے لے کر نواز شریف بلکہ آپ خان بہادر تک ہمارے اوپر جبری طور پر مسلط نظام ریاست کی کمزور ترین مخلوق ہیں…


ای پیپر