ہر طرف ہے اب عاجزی ہم میں
20 جولائی 2019 2019-07-20

سارے ملک میں ٹیکسوں پر ہا ہا کار مچی ہوئی تھی۔ اب باری ہے شہر خموشاں کی۔ جینے کے بعد مرنے پر بھی ٹیکس عائد ہو گا ۔؟ خبر ہے کہ میت دفنانے پر 1500 روپے ٹیکس کی تجویز ہے ۔ نابالغ کے لیے رعایت ہو گی ۔ اس پر ایک ہزار روپے ٹیکس لگے گا۔ قبرستان شام 5 بجے بند ہو جائے گا (تاکہ) رات کا ٹیکس 2 ہزار روپے وصول ہو۔ خزانے کی کس مپرسی دیکھیے۔

منحصر مرنے پہ ہو جس کی امید

ناامیدی اس کی دیکھا چاہیے

رہے عوام، تو ان سے آخری سہارا بھی چھن گیا۔ اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے، مر کے بھی ٹیکس نچوڑا تو کدھر جائیں گے! یہ ہے نیا پاکستان اور تبدیلی ! موت ٹیکس، وصولتا پاکستان۔ ٹیکسوں کے مارے مظلوموںکے گناہ بخشے جائیں گے۔ ظالمانہ محصول بھاری گناہ کے زمرے میں آتا ہے تو مظلوم کو اس کی چھوٹ اور تحفیف تو انشاء اللہ رب تعالیٰ فرمائے گا! ویسے المناک حقیقت تو یہ ہے کہ ہم 2001 ء سے روشن خیالیوں کے جس سفر پر اندھا دھند چلا کیے، وہ قطرے برابر اس زندگی کی اسیری ( حدیث میں دنیا و آخرت کا موازنہ: دنیا قطرے کے برابر، آخرت سمندر کے برابر۔ لامنتہا) میں دائروں کا سفر ہے ۔ اس تنگنائے میں بالآخر تھک ہار کر وقتِ مقررہ پر گر کر مر جانا اور قبر کی تاریکیوں کا لقمہ بن جانا۔ روشنی ، نور تو اللہ کا سہارا تھام کر زندگی اس کے نام کر دینے ہی سے ملتا ہے ۔ قبروں پر ٹیکس لگاتے ہم زیر زمینی حقائق بھلا بیٹھے ہیں۔

خزانے کی غربت دور کرنے اب عمرن خان امریکہ کے دورے پر جانے سے پہلے پیش بندی بھی کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کو نوید ملی حافظ سعید ( جماعت الدعوۃ) کی گرفتاری کی تو خوشی سے لہلہا اٹھے۔ فوراً ٹویٹ فرمائی۔ ممبئی دہشت گرد حملوں کا نام نہاد ماسٹر مائینڈ دس سالہ تلاش کے بعد پاکستان میں پکڑا گیا۔ گزشتہ دو سالوں سے حافظ سعید کی تلاش کے لیے دبائو ڈالا جا رہا تھا ۔ ویسے اس ٹویٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو ! ٹرمپ بھی عمران خان کی طرح اپنی ادھوری معلومات بے دھڑک داغ دیتے ہیں، یہ بھُلا کر کہ وہ ایک ریاست کے سربراہ ہیں! حافظ سعید کہاں کھوئے ہوئے، لاپتہ گمشدہ تھے 10 سالوں سے ؟ اپنے گھر میں رہتے بستے، ملک بھر میں پبلک جلسوں میں تقریریں کرتے، ٹیلی وژن پر انٹر ویو دیتے ! میڈیا بھی ٹرمپ کی لا علمی پر قہقہہ بار ہے ۔ یہ ضرور ہے کہ حافظ سعید کی گرفتاری پر 10 ملین ڈاکر کا انعام مقرر تھا بطور عالمی دہشت گرد، کیا یہ قومی خزانے کی بھوک پیاس کا مداوا کرے گا؟ عمران خان یہ انعام لے کر لوٹیں گے؟ اس دورے سے عافیہ لورز، بھی امیدیں باندھ بیٹھے ہیں۔ ایوان ریڈلے کے ساتھ ( پرانے ) عمران خان نے ڈاکٹر عافیہ کی با گرام جیل میں موجودگی کی خبر دی تھی۔ جب تک اپوزیشن میں رہے، لاپتہ، اغوا کنندگان اور ڈاکٹر عافیہ کے حق میں آواز اٹھاتے رہے۔ کرسٔی وزارت عظمیٰ پر بیٹھتے ہی گلا بھی بیٹھ جایا کرتا ہے ۔ سو اب سناٹا ہے ایسے تمام مسائل پر۔ اگرچہ امید کے ماروں نے ٹوئٹر پر ڈاکٹر عافیہ کی رہائی اور وطن واپسی کی مہم چلا دی۔ چند منٹ کے اندر ہی یہ نمبرون ٹوئیٹر ٹرینڈ بن کر ہزاروں کی شمولیت پا گئی۔ کیا المیہ ہے کہ اتنے سالوں میں ہمارے حکمران، سرکاری اہلکار، بڑے جرنیل سبھی امریکہ جاتے رہے۔ جبہہ سائی کے اتنے دوروں میں کوئی ایک بھی کمزور، مظلوم، ہونہار، قید میں گلتی بیٹی واپس لانے پر زبان تک نہ کھول سکا؟ انسان کو اشرف اور قد آور تو عقیدہ بناتا ہے ۔ ورنہ وہ ایک خالی ڈبا ہے ، مشینی روبوٹ کی مانند پروگرام ہو ا ہوا۔ سو وہ وقت تو لد گیا جب امام حنبل ؒ ہوا کرتے تھے۔ آج عزیت کے اس کوہ گراں کی جگہ: ہر طرف ہے اب عاجزی ہم میں ، اب ہمارے امام ہنبل ؒ ہیں۔ ( Humble ۔ یعنی عجز والے ) ان کا یہ عجز صرف گورے کے حضور ہے ۔ قوم کے لیے پروٹوکول طلب وفاقی وزیر کا عالم دیکھئے۔ ایئر پورٹ پر شعلہ بار۔ ( دی نیوز رپورٹ۔ عامر چیمہ ) اللہ کرے کنٹینروں سے گرجتے برستے عمران خان ، پیش ٹرمپ بھی اتنے ہی رعب داب، گرج چمک والے ثابت ہوں۔ امید پہ دنیا قائم ہے !

اور بھی بہت سے اقدامات یکے بعد دیگرے اس دورے کی تیاری ہی کے ضمن میں دکھائی دے رہے ہیں۔ فواد چوہدری ، مشرفی وزیر پیش پیش رہتے ہیں۔ ایک مرتبہ پھر کا بینہ کو رویت ہلال کمیٹی ختم کر نے کی سفارش کی ہے ۔ خنجر ہلال کا ہے قومی نشان ہمارا۔ بس یہی ہلال ان کے گلے کی پھانس ہے جس کے در پے ہیں۔ گویا پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ، ترجیح اول طلوع ہلال ہے ! نیز ایک مرتبہ پھر انہیں یہ دورہ بھی پڑا ہے کہ اسلام آباد میں مساجد کو سرکاری، درباری، تحریری ( فوادی) خطبئہ جمعہ یکساں طور پر فراہم کرنا ہے جو پڑھ کر سنا دیا جایا کرے گا! یہ صاحب کچھ ایجنڈوں کی تکمیل کے لیے بٹھائے گئے ہیں۔ علماء کے فتاویٰ ، اہل علم کی آراء،دینی روایات کے علیٰ الرغم اندھا دھند اپنی کہے چلے جا رہے ہیں۔ اب سائنس ٹیکنالوجی وزارت سے عالمی سائنس ٹیکنالوجی کانفرنس کا اعلان بھی فرمایا ہے ۔ جس کا ایک نمایاں فیچر، سیاسی نوبل پرائز نی ، ملالہ یوسف زئی ( دنیا کی مایہ ناز سائنس دانی ہیں کیا؟ اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیا ہوئیں؟) کی بہ صداہتمام آمد ہے ۔ بل گیٹس اور فیس بک والے مارک زکربرگ کے جلو میں ۔ کانفرنس کا عنوان، تھنک فیوچر، یعنی مستقبل بارے سوچو، ہے ۔ کس کا مستقبل ؟ آپ کا سیاسی مستقبل؟ قوم کا معاشی بحرانی مستقبل؟ (معیشت سنبھلے گی تو سائنس ٹیکنالوجی سوجھے گی ۔ صنعتیں تو ٹھپ ہو رہی ہیں۔ بجلی گیس کے بغیر سائنس؟) یا سول مارشل لائی حکومت کا مستقبل؟ ادھر امریکی سیکرٹری سٹیٹ مائیک پومپیو بھی بالکل فواد چوہدری کے برادر بزرگ لگتے ہیں۔ امریکہ میں مذہبی آزادی کا عالمی اتحاد بنانے چلے ہیں۔ فرماتے ہیں! یہ تمام انسانوں کے اس حق کا دفاع کریں گے کہ ، ایمان لائیں یا نہ لائیں، (To believe or not to believe ) مذہبی آزادی کے لیے درجنوں ملکوں سے سینکڑوں سرگرم کارکن اس میں شرکت کریں گے۔ امریکہ نظریاتی سطح پر جو عالمی جنگ لڑ رہا ہے ، ہم خواہی نخواہی اس میں بھی اس کے اتحادی بنے اپنی اسلامی شناخت کے درپے ہیں۔ (آخر اس 18 سالہ صیلبی جنگ میں یہ بلا سبب تو نہ تھا کہ عراق، افغانستان میں اسلحے کے ہمراہ نصابِ تعلیم بھی لائے اور مسلط کیے گئے۔) ہمارا حال ملاحظہ ہو۔ پہلے پنجاب ٹیکسٹ بورڈ کی نویں جماعت کے مطالعہ پاکستان کی کتاب میں مقبوضہ کشمیر ، بھارت کا حصہ پڑھایا گیا ۔ بعد ازاں عقیدۂ ختم نبوتؐ کو نشانہ بنایا گیا ۔ جملے بدلے گئے عقیدے کے الفاظ میں تحریف ہوئی۔ خاموش، غیر محسوس مہم بلا سبب تو نہیں۔ مزید یہ کہ سابقہ ایم ڈی پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ نے ایف اے کے انگریزی نصاب میں سیرت النبی ؐ کی کتاب شامل کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔ تعلیمی سیشن 2020-21 ء کے لیے طے تھا۔ لیکن اب دوبارہ ، گڈبائے مسٹر چپس، ناول ہی پڑھانا قرار پایا۔ امریکہ مذہبی آزادی کی راہیں ہموار کر رہا ہے ۔ ایسے موسم میں انہیں مسٹر چپس ہی راس آ رہا ہے ۔ سو ہمارے بچے مُڑکنے چپس کھاتے، خود بھی سوکھے سڑے مسٹر چپس بنے، پھنسی جینز پہنے، سر پر بال کھڑے کیے بے ہدف، بڑی محنت سے ایسے نصابوں کے ذریعے تیار کیے گئے ہیں۔ یہ نصاب دولے شاہ کے چوہے تیار کرنے والے کنٹوپ ہیں۔ بچوں کی ذہنی صلاحیتوں کی آزادانہ نشو ونما روک کر ، انہیں اپنی شناخت سے پے بہرہ رکھتے ہیں۔ یہی کشکولیئے غلام بنانے مغرب کو مطلوب ہیں۔ اور ہمارا نظام تعلیم اسی خدمت پر مامور ہے ۔ سیرت البنیؐ کی کتاب ان میں خوئے اسد اللہی پیدا کر دے گی تو انہیں کون سنبھالے گا؟ ابھی یہی اہتمام مدارس میں انگریزی اور حساب و مطالعہ پاکستان پڑھانے کا طے کیا جا رہا ہے ۔ قال اللہ، قال الرسول سے ڈھلنے والے، اب مخمل میں ’ مسٹر چپس‘ والے ٹاٹ کا پیوند لگائیں گے۔ مطالعہ پاکستان میں مقبوضہ کشمیر بھارت کا حصہ پڑھیں گے۔ حساب میں سود کے سوال حل کریں گے تو مشرف با روشن خیالی ہو جائیں گے ۔ پھر مدارس رجسٹریشن بھی پالیں گے ! خشمگیں نگاہوں سے نہ دیکھے جائیں گے! وزارت تعلیم کے ذمے سکولوں کی حالت زار کس سے چھپی ہے ! چار دیواری پانی بجلی استادوں سے محروم۔ معیار تعلیم ایسا کہ نئی نسل اردو، انگریزی دونوں سے فارغ ہے ۔ منشیات کا دور دورہ ہے ۔ اب مدارس تباہ کریں گے؟ 25 ہزار مدارس کے 35 لاکھ سے زائد طلباء کی خودی کو اب اس تعلیمی تیزاب میں ڈالا جائے گا۔ ہو جائے ملائم تو جدھر چاہے ادھر پھیر، کے فلسفے کے تحت! اللہ ہمارے مستقبل کی خیر کرے۔ یہ تو فوادی تھنک فیوچر، پلان چل رہا ہے ۔!


ای پیپر