اَت خُدا دا وَیر
20 جولائی 2019 2019-07-20

کوشش تو یہی ہوتی ہے کہ ہلکے پھلکے کالم لکھیں لیکن جب گھر کو آگ لگی ہو تو مُنہ سے سسکیاں نکلتی ہیں، پھول نہیں جھڑتے البتہ حکمرانوں کو اِس کا احساس نہ ادراک۔ حکومتی وزراء اور ترجمان ایسی ایسی ’’جُگتیں‘‘ اُگلتے ہیں کہ بڑے بڑے جُگت باز بھی سر پکڑ کر بیٹھ رہیں۔ وزیرِاعظم کے امریکی دورے پر تبصرہ کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا ’’عمران خاں صدر ٹرمپ سے ملاقات کرنے جا رہے ہیں، اللہ خیر کرے دونوں کا مزاج ایک جیسا ہے‘‘۔ ضدّی، ہٹ دھرم اورمغرور ومتکبر امریکی صدر کی بَدحواسیوں کا ایک عالم گواہ ہے۔ وہ ترنگ میں آکر ایسی ایسی باتیں کر جاتے ہیں کہ حواری سر پکڑ کر بیٹھ جائیں۔ کیا شیخ رشید کا مطلب یہ تھا کہ ہمارے وزیرِاعظم عمران خاں بھی بدحواسی میں کئی باتیں ایسی کر جاتے ہیں جن کی توجیہہ ممکن نہیں ہوتی۔ مانا کہ ہمارے وزیرِاعظم ضدی اور ہَٹ دھرم ہیں لیکن وہ تو لمبی چوڑی باتیں کرتے ہی نہیں۔ قوم سے خطاب ہو یا غیرملکی میڈیا بریفنگ، اُنہیں تو صرف تین جملے ہی مرغوب ہیں۔ ایک ’’چور چور، ڈاکو ڈاکو‘‘ دوسرا ’’نہیں چھوڑوں گا‘‘ اور تیسرا ’’این آر او نہیں دوںگا‘‘۔ وہ دور لَد چکا جب اُنہوں نے دھرنوں کی سیاست کرتے ہوئے سول نافرمانی کا اعلان کیا۔ بھرے مجمعے کے سامنے یوٹیلیٹی بِلز کو آگ لگائی، وزیرِاعظم ہاؤس پر حملہ کیا، پارلیمنٹ کے گیٹ توڑے، پی ٹی وی پر قبضہ کیا اور تھانے سے زبردستی اپنے کارکُن چھڑوائے۔ وہ تو اب بذاتِ خود اور بقلم خود ایٹمی پاکستان کے وزیرِاعظم ہیں اور ہمہ مقتدر بھی۔ اپنے اقتدار کا وہ بھرپور مزہ اُٹھا رہے ہیںاِس لیے ہر روز کھڑاک پہ کھڑاک سنائی دیتے رہتے ہیں۔ اُنہوں نے طے کر رکھا ہے کہ 25 جولائی سے پہلے نوازلیگ اور پیپلزپارٹی کے سبھی نامی گرامی رہنماؤں کو جیل کی ہوا کھلانی ہے تاکہ’’ نہ رہے بانس، نہ بجے بانسری‘‘۔ اِس معاملے میں نَیب سمیت سبھی ادارے اُن کے اشارۂ اَبرو کے منتظر رہتے ہیں۔ اِسی لیے سندھ کے سابق گورنر محمد زبیر نے کہا ’’کوئی اور نہیں، عمران خاں ہی نَیب کا سربراہ ہے‘‘۔

سابق گورنر سندھ محمدزبیر کے اِس بیان کو اِس لیے بھی تقویت ملتی ہے کہ حکومتی وزراء پہلے ہی بتا دیتے ہیں ’’اب کس کی باری ہے‘‘ اور اُن کا کہا حرف بہ حرف درست ثابت ہوتا ہے۔ حکومتی وزراء کئی دنوں سے اعلان کر رہے تھے کہ اب سابق وزیرِاعظم شاہدخاان عباسی کی باری ہے۔ چنانچہ 18 جولائی کو نَیب نے اُنہیں بھی ٹھوکر نیازبیگ لاہور کے قریب گرفتار کر لیا۔ شاہدخاقان عباسی لاہور میں میاں شہبازشریف کی طرف سے بلائی گئی پریس کانفرنس میں شرکت کے لیے احسن اقبال اور مریم اورنگزیب کے ساتھ جا رہے تھے۔ جب اُن کی گاڑی ٹھوکرنیاز بیگ کے قریب پہنچی تو رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری نے گاڑی کو گھیرے میں لے کر شاہد خاقان عباسی صاحب کو نیچے اُترنے کے لیے کہا۔ جب اُنہوں نے وجہ پوچھی تو کہا گیا کہ چیئرمین نَیب کے حکم پر اُنہیں گرفتار کیا جا رہا ہے۔ سابق وزیرِاعظم نے وارنٹ گرفتاری طلب کیے (جو اُن کا قانونی حق تھا) تو اُنہیں پہلے ایک واٹس ایپ میسج دکھایا گیا اور بعد ازاں وارنٹ گرفتاری کی غیرتصدیق شدہ فوٹوکاپی دی گئی۔ شاہدخاقان عباسی نے کہا کہ اِس فوٹوکاپی پر لکھ کر دیں کہ یہ غیر تصدیق شدہ ہے اور اِسی کی بنیاد پر گرفتار کیا جا رہا ہے۔ نَیب کے عملے نے یہ سب لکھ کر دیا تو عباسی صاحب نے گرفتاری دے دی۔ اِس گرفتاری کے بعد مریم اورنگ زیب نے کہا ’’یہ نقلی حکومت کے نقلی وارنٹ گرفتاری ہیں۔ یہ ہے سلیکٹڈ وزیرِاعظم کا نیا پاکستان‘‘۔ شاہد خاقان عباسی کی گرفتاری پر نَیب کی بوکھلاہٹ کا یہ عالم کہ 15 جولائی کواُس نے ایک نوٹس جاری کیا جس میں شاہد خاقان کو 18 جولائی کو نَیب آفس میں طلب کیا۔ جبکہ 16 جولائی کو چیئرمین نَیب نے اُن کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے۔ نَیب کا غالباََ یہ پروگرام ہو گا کہ جونہی 18 جولائی کو شاہدخاقان نَیب آفس جائیں، اُنہیں گرفتار کر لیا جائے لیکن ہوا یہ کہ عباسی صاحب نے نَیب آفس کو بتا دیا کہ وہ ایک ضروری میٹنگ کے سلسلے میں لاہور جا رہے ہیں اِس لیے نیب آفس حاضر نہیں ہو سکتے۔ یہ پیغام ملتے ہی نیب نے اپنے پروگرام میں تبدیلی کی ہو گی کیونکہ اُسے تو بہرحال 18 جولائی کو سابق وزیرِاعظم کو گرفتار کرنا ہی تھا۔ نیب کا بیان ہے کہ سابق سیکرٹری پٹرولیم عابد سعید وعدہ معاف گواہ بن گیا ہے، اِس لیے ساری انکوائری 17 جولائی کو ہی مکمل ہو گئی۔ بجا! لیکن شاہد خاقان عباسی کی گرفتاری تک تو عابد سعید کا کوئی اعترافی بیان سامنے نہیں آیا۔

پیپلزپارٹی سے تازہ تازہ تحریکِ انصاف میں وارد ہوئی مشیرِاطلاعات فردوس عاشق اعوان نے شاہد خاقان عباسی کی گرفتاری پر بڑا دلچسپ تبصرہ کیا۔ اُس نے کہا کہ شاہد خاقان نے ضمانت قبل از گرفتاری نہیں کروائی کیونکہ اُنہیں گرفتار ہونے کا شوق ہی بہت تھا۔ فردوس عاشق نے کہا ’’آپ نے میاں صاحب کا ساتھ نبھانے کی قسمیں کھائی تھیں، اب اتنی جلدی گھبرا گئے؟‘‘۔ محترمہ! شاہد خاقان عباسی تو اُن لوگوں میں سے ہیں جو ’’پیوستہ رو شجر سے، اُمیدِ بہار رکھ‘‘ کی عملی تصویر ہیں۔ وہ ڈال ڈال پھدکنے والے پنچھی ہیں نہ بے پیندے کے لوٹے۔ اُنہوں نے پرویزمشرف کے دورِ آمریت میں 2 سال جیل کاٹنا منظور کر لیا لیکن بِکے نہ جھکے۔ گرفتاری کے بعد جب 19 جولائی کودبنگ شاہد خاقان کو نیب عدالت میں پیش کیا گیا تو جج نے استفسار کیا کہ اُن کا وکیل کہاں ہے؟۔ شاہد خاقان نے کہا کہ اُن کا کوئی وکیل نہیں، وہ اپنا مقدمہ خود لڑیں گے۔ اُنہوں نے یہ بھی کہا ’’میں چاہتا ہوں کہ میرا 90 روزہ ریمانڈ دے دیا جائے تاکہ میں نَیب کو ایل این جی کے بارے میں سمجھا سکوں‘‘۔ یہ نَیب کے مُنہ پر ایسا تھپڑ ہے جس کی گونج اُسے تادیر سنائی دیتی رہے گی۔

فردوس عاشق اعوان کی بوکھلاہٹ کا اندازہ تو اِس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک طرف تو وہ کہتی ہیں کہ شاہد خاقان کو گرفتار ہونے کا شوق ہی بہت تھا اِسی لیے اُنہوں نے ضمانت قبل اَز گرفتاری نہیں کروائی جبکہ دوسری طرف یہ بھی کہ ’’اتنی جلدی گھبرا گئے‘‘۔ محترمہ جنہیں پابندِ سلاسل ہونے کا شوق ہوتا ہے، وہ گھبرایا نہیں کرتے۔ تحریکِ انصاف کی حکومت نے جو ’’ اَت ‘‘ اُٹھا رکھی ہے، ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب وہ پچھتاوے کی آگ میں جَل رہی ہو گی کیونکہ تاریخ کا سبق یہی ہے، یہ الگ بات کہ تاریخ سے کوئی سبق حاصل نہیں کرتا۔

محترم مجیب الرحمٰن شامی نے پاکستان کے پہلے وزیرِاعظم لیاقت علی خاں سے میاں نوازشریف تک، سبھی وزرائے اعظم کے ساتھ ہونے والے سلوک کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اِس ’’عہدے‘‘ کا نام بدل دینا چاہیے کیونکہ یہ عہدہ جس کے ساتھ لگ جاتا ہے، اُس کا کبھی بھلا نہیں ہوا۔ پچھلے 18 سالوں میں ہم 7 وزرائے اعظم بھگت چکے، آٹھویں وزیرِاعظم عمران خاں ہیں۔ حالانکہ اِس دورانیے میں پرویزمشرف کا 10 سالہ دَورِآمریت بھی شامل ہے۔ نہرو نے ایک دفعہ کہا تھا ’’میں دن میں اتنے پائیجامے نہیں بدلتا جتنے پاکستان میں وزیرِاعظم بدلتے ہیں‘‘۔ 70 سال گزر چکے لیکن ہماری سیاست کی ’’وہی ہے چال بے ڈھنگی، جو پہلے تھی، سو اب بھی ہے‘‘۔ موجودہ صورتِ حال یہ کہ 2 سابق وزرائے اعظم (میاں نوازشریف اور شاہدخاقان عباسی) ، ایک سابق صدر( آصف علی زرداری) جیل میں اور 2 سابق وزرائے اعظم (یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف) نَیب کے کیسز بھگت رہے ہیں۔ اِنہی 18 سالوں کے دوران ایک سابق وزیرِاعظم (بینظیربھٹو) شہید کر دی گئیںجن کی شہادت کا ملزم سابق صدر (پرویزمشرف) مفرور۔ طرفہ تماشہ یہ کہ جس چیئرمین نَیب کا 2017ء میں وزیرِاعظم کے دستخطوں سے تقرر ہوا، اُسی چیئرمین نیب کے دستخطوں سے وہی وزیرِاعظم (شاہدخاقان عباسی) 18 جولائی 2019ء میں گرفتار ہوا۔ احتساب بجا لیکن انصاف سب کے ساتھ برابر ہونا چاہیے۔ اگر بلاامتیاز احتساب ہوتا تو آج لوگ وزیرِاعظم اور چیئرمین نَیب کے حق میں نعرے لگا رہے ہوتے لیکن جب وزیرِاعظم کہتے ہیں ’’کسی کو نہیں چھوڑوںگا‘‘ تب اُن کی نظر اپنے دائیں بائیں کھڑے حواریوں پر نہیں پڑتی۔ اُن کا مخاطب نوازلیگ ہوتی ہے یا پھر پیپلزپارٹی۔ دوسری طرف احتساب کی سب سے اونچی کرسی پر بیٹھنے والے چیئرمین نَیب نے بَرملا کہہ دیا کہ اگر تحریکِ انصاف کے لوگوں پر ہاتھ ڈالا تو اِس کی حکومت گِر جائے گی۔ گویا احتساب ضروری لیکن برسرِ اقتدار جماعت کا نہیں۔ یہ ہے ہماری پارلیمانی سیاست جس کی ہلکی سی جھلک آپ کے سامنے۔ ایسے میں ’’ریاستِ مدینہ‘‘ کی باتیں زیب نہیں دیتیں کیونکہ ریاستِ مدینہ میں تو امیرالمومنین رعایا کو جواب دہ ہوتا ہے لیکن یہاں یہ عالم کہ کس کی مجال جو بنی گالہ کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی دیکھ سکے۔


ای پیپر