گرفتاریوں کا فائدہ کس کو ہوگا؟
20 جولائی 2019 2019-07-20

شاہد خاقان عباسی بھی گرفتار ہوگئے۔ ملک کے دوسرے سابق وزیراعظم اس وقت سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے اہم ترین چہروں میں سے ایک چہرہ، جو فی الحال منظرعام سے غائب کردیا گیا۔ نواز شریف کے وفادار ساتھی، جو ان کا مقدمہ بہت اچھے انداز سے عوام اور میڈیا میں لڑتے رہے۔ ن لیگ کے لیے ایک دھچکا ضرور ہے، لیکن انہونی نہیں کہہ سکتے۔ شاہد خاقان عباسی خود اس کا ذکر بارہا کرچکے تھے۔ میرے شو میں بھی کچھ دن پہلے انٹرویو کے دوران بتایا کہ گرفتاری کے لیے تیار ہوں۔ میں نیب کو کہتا ہوں کہ آکر مجھے گرفتار کرلے۔ اعتماد کا عالم یہ کہ حفاظتی ضمانت سے بھی آخری وقت تک گریزاں نظر آئے۔

شاہد خاقان عباسی پر الزام ہے کہ انہوں نے مہنگے داموں ایل این جی معاہدے کیے۔ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد اس سے پہلے سپریم کورٹ بھی جاچکے ہیں اور ان کا ہمیشہ سے یہ دعویٰ رہا کہ یہ کیس کھلا تو بہت بڑے بڑے لوگ جیلوں میںہوں گے۔ لیکن سپریم کورٹ نے ان کے اس کیس کو خارج کردیا۔ شاہد خاقان عباسی اس کیس سے متعلق ہمیشہ پراعتماد نظر آئے۔ سینیٹ میں ان کی تقریر کے نکات پڑھ رہی تھی۔ وہاں انہوں نے بتایا کہ ایل این جی معاہدے کی تمام تر تفصیلات پی ایس او کی ویب سائٹ پر موجود ہیں۔ سینیٹ کے پاس بھی دستاویزات کی کاپی موجود ہے۔ یہ کوئی ایسا معاہدہ نہیں کہ دو شخصیات کے درمیان رات کے اندھیرے میں ہوا ہو۔ ان کی طرف سے یہ نکتہ بھی اہم تھا کہ اگر حکومت سمجھتی ہے یہ معاہدہ درست نہیں تو نظرثانی کرلے۔

ن لیگ کا ہمیشہ یہ دعویٰ رہا کہ ہم نے اس معاہدے پر قوم کے کروڑوں روپے بچائے ہیں۔ بعد میں غیبی مدد کے طو رپر بلومبرگ کی رپورٹ بھی منظرعام پر آئی۔ جس میں واضح طورپر بتایا گیا کہ معاہدے سے پاکستان کو 60 ارب روپے کی بچت ہوئی۔ خود پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر محسن عزیز نے اعتراف کیا۔ لیکن فرض کرلیتے ہیں کہ اس میں خامیاں تھیں اور واقعی پاکستان کو اس سے نقصان ہوا تو کیا پی ٹی آئی حکومت کا فرض نہیں بنتا کہ اس معاہدے پر نظرثانی کرتی اور قوم کے سامنے حقائق منظرعام پر لاتی؟ گیارہ ماہ گزرنے کے باوجود نہ معاہدے کی خامیاں قوم کے سامنے آسکی ہیں نہ ہی اس پر نظرثانی کی کوئی بات ہوئی ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں شکوک وشبہات پیدا ہونا فطری بات ہے۔ پی ٹی آئی مخالفین اس وقت اسی کا پروپیگنڈا کررہے ہیں۔ حکومتی نمایندوں سے بات کریں تو ان کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہوتا۔

دوسری طرف دیکھیں تو ایسی گرفتاریوں سے ملک میں مزید بے چینی اور اضطراب پیدا ہوجاتا ہے۔ کاروباری طبقہ مزید سہم جاتا ہے۔ حالانکہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے اور بجٹ کے بعد بہتری آنی چاہیے تھی، لیکن کاروباری طبقے میں بھی خوف شدید تر ہوتا جارہا ہے۔ خدانخواستہ ایسا نہ ہو کہ عمران خان سے اُمیدیں وابستہ رکھنے والے بھی ان سے مایوس ہوجائیں۔ اس سے پہلے کہ ایسا ہو وزیراعظم عمران خان کو تاریخ سے کچھ سیکھنا چاہیے۔ ضروری نہیں کہ خوفناک تجربات سے گزرکر ہی سیکھا جائے۔ عقلمند وہ ہے جو دوسرے کو گہری کھائی میں گرتا دیکھے تو اس کھائی سے دور رہے۔ پاکستانی سیاست میں تو سیکھنے کے لیے بے شمار شخصیات اور واقعات موجود ہیں۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور اس کے لیے کسی بھی حد تک جانے کی بے شمار روایات میں ہم بدقسمتی سے خودکفیل ہیں۔ زیادہ دور نہ جائیں، نواز شریف کو ہی لے لیجیے۔ صرف تیس سال پہلے ان کی سیاست کہاں تھی۔ الزام آج بھی ان پر یہی لگتے ہیں کہ اپنے مخالفین کو زیر کرنے کے لیے کسی بھی حد تک چلے جاتے۔ بے نظیر بھٹو کے ساتھ سیاسی مخاصمت کوئی ڈھکی چھپی کہانی نہیں۔ ان کے خلاف مختلف مہمات چلائیں۔ آصف زرداری آج بھی گلہ کرتے پائے جاتے ہیں کہ نواز شریف کی وجہ سے میں نے زندگی کے کئی اہم سال جیلوں میں گزارے۔ لیکن پھر کیا ہوا؟ یہی کہ آج نواز شریف کفِ افسوس ملتے نظر آتے ہیں۔ کفارہ ادا کرنے کے لیے کوشاں۔

وزیراعظم عمران خان کو چاہیے کہ نواز شریف سے ہی سیکھ لیں۔ ممکن ہے آج جو کچھ ہورہا ہے، اس سے ان کی انا کو کچھ نہ کچھ تسکین مل رہی ہو، جس کا اظہار ان کی تقریروں میں بھی ہوتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس سب کا انجام پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ وزیراعطم کو یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ چند سال بعد کوئی یہ یہ نہیں کہے گا کہ وزیراعظم عمران خان نے کس کس کو جیل میں ڈالا، یا پھر کس کس کو سزائیں دلوائیں۔ عوام میں کوئی انہیں اس پر خراجِ تحسین پیش نہیں کرے گا کہ انہوں نے اپنے کسی سیاسی مخالف کو گھر سے کھانا لاکر دینے تک پر پابندی لگادی تھی۔ یاد رہے گا تو یہی کہ عمران خان کے نام سے ایک شخص آیا تھا، اس نے اپنی قوم کو غربت سے نکالا۔ عوام کے معیارِ زندگی کو بلند کیا۔ ملک کے انفرا اسٹرکچر میں بہتری لائے۔ تعلیم کی شرح ان کے دور میں بلند ہوئی اور ملک کی معیشت کو بہتر کرنے میں کامیاب ہوئے۔ وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے پسندیدہ حکمرانوں میں طیب اردگان ہیں۔ وہ چاہیں تو ان سے بھی سیکھ سکتے ہیں۔ طیب اردگان نے عوام کی حالت بہتر بنانے پر توجہ دی۔ اور وہ تب تک عوام کے دلوں پر حکمرانی کرتے رہے، جب تک ان کی ساری کوششیں عوام کے لیے تھیں۔ سیاسی مخالفین کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی تو استنبول جیسا شہر ہاتھ سے نکل گیا۔

وزیراعظم کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ گرفتاریوں سے کوئی فرق پڑتا تو آج پیپلز پارٹی کا نام ونشان مٹ چکا ہوتا۔ آصف زرداری گیارہ سال جیلوں میں رہے۔ بے نظیر بھٹو نے جیل کاٹی۔ اس کے سینئر راہنمائوں میں شاید ہی کوئی ایسا ہو جو جیل نہ گیا ہو۔ لیکن ایسی گرفتاریوں  نے اسے ہمیشہ نئی توانائی بخشی ہے۔ اگر کسی کے ذہن میں یہ ہے کہ گرفتاریوں سے اپنے سیاسی مخالفین کو کمزور کیا جاسکتا ہے تو یہ اپنے آپ کو دھوکا دینے کے سوا کچھ نہیں! یہ سیاسی مخالفین کو نئی قوت بخشنے کے علاوہ کچھ نہیں!


ای پیپر