درجن تیرہ کا…
20 جولائی 2019 2019-07-20

دوستو، واصف علی واصف صاحب لکھتے ہیں۔۔ جس پہ کرم ہے، اْس سے کبھی پنگا نہ لینا۔ وہ تو کرم پہ چل رہا ہے۔ تم چلتی مشین میں ہاتھ دو گے، اْڑ جاؤ گے۔ کرم کا فارمولا تو کوئی نہیں۔اْس کرم کی وجہ ڈھونڈو۔ جہاں تک میرا مشاہدہ ہے، جب بھی کوئی ایسا شخص دیکھا جس پر ربّ کا کرم تھا، اْسے عاجز پایا۔ پوری عقل کے باوجود بس سیدھا سا بندہ۔ بہت تیزی نہیں دکھائے گا۔ اْلجھائے گا نہیں۔ رستہ دے دے گا۔ بہت زیادہ غصّہ نہیں کرے گا۔سِمپل بات کرے گا۔ میں نے ہر کرم ہوئے شخص کو مخلص دیکھا ۔ غلطی کو مان جاتا ہے۔ معذرت کر لیتا ہے۔ سرنڈر کر دیتا ہے۔ میں نے اْسے دوسروں کے لئے فائدہ مند دیکھا۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ آپ کی ذات سے نفع ہو رہا ہو، اور اللہ آپ کے لئے کشادگی کو روک دے۔ وہ اور کرم کرے گا۔میں نے ہر صاحبِ کرم کو احسان کرتے دیکھا ہے۔ حق سے زیادہ دیتا ہے۔ اْس کا درجن 13 کا ہوتا ہے، 12 کا نہیں۔ اللہ کے کرم کے پہیے کو چلانے کے لئے آپ بھی درجن 13 کا کرو اپنی زندگی میں۔ اپنی کمٹمنٹ سے تھوڑا زیادہ احسان کر دیا کرو۔نہیں تو کیا ہو گا؟ حساب پہ چلو گے تو حساب ہی چلے گا! دل کے کنجوس کے لئے کائنات بھی کنجوس ہے۔ دل کے سخی کے لئے کائنات خزانہ ہے۔جب زندگی کے معاملات اڑ جائیں سمجھ جاؤ تم نے دوسروں کے معاملات اڑائے ہوئے ہیں،آسانیاں دو آسانیاں ملیں گی ۔۔

دوستو، واصف صاحب کی باتوں میں ہم نے سوفیصد سچائی پائی ہے۔ اس بات کا تجربہ ہم نے بخوبی کیا ہے، جب ہم نے درجن تیرہ کا کیا تو اللہ کی رحمتوں کا کیا ہی کہنا تھا، لیکن جب ہم نے حساب سے چلنا شروع کیا تو پھر ہمارے ساتھ بھی حساب ہی ہوا، واقعی اس بات میں سوفیصد حقیقت ہے کہ دل کے کنجوس کے لئے کائنات بھی کنجوس ہے۔ دل کے سخی کے لئے کائنات خزانہ ہے۔۔اگر آپ نے کالج لائف میں کبھی معاشیات پڑھی ہوتو ابن خلدون کو بھی جانتے ہوں گے، اس نے بھی بارہ سو سال پہلے ایک کمال جملہ تحریر کیا تھا۔۔ وہ لکھتا ہے کہ۔۔ سلطنتوں کے آغاز میں ٹیکس کم اور آمدن زیادہ جبکہ زوال کے وقت ٹیکس زیادہ اور آمدن کم ہوتی ہے۔۔اب آپ خود دیکھ لیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں، ریاست زوال پذیر ہے یا بہتری کی طرف جارہی ہے؟؟

کرایہ دار نے رات کے دو بجے مالک مکان کو فون کیا کہ۔۔ مجھے نوکری سے نکال دیا گیا ہے لہٰذا میں اس مہینے کا کرایہ نہیں دے سکوں گا۔مالک مکان نے نیند بھری آواز میں کہا ،یار یہ بات تم صبح کو بھی کہہ سکتے تھے۔کرایہ دار بولا ۔۔میں نے سوچا کہ میں ساری رات پریشانی میں اکیلا کیوں جاگوں۔۔واقعہ کی دُم: گورنر اسٹیٹ بینک کا شاہی فرمان ہے کہ ، مہنگائی میں بڑے اضافے کا امکان ہے۔۔ایک ’’پٹواری‘‘ لیڈر سے جب دوران تفتیش سوال کیاگیا کہ ۔۔جناب موت کے فرشتے کا نام بتائیں؟؟ وہ بڑی معصومیت سے بولا۔۔تہاڈے والے دا پتہ نئیں،ساڈے والا دا ’’نیب‘‘ ہے۔۔ایک انگریز سائنسدان پاکستان کی سیر کو آیا۔واپس جاتے وقت اس نے ایک دوکان پر جلیبی دیکھی۔ جلیبی دیکھ کر اْسے بڑا تعجب ہوا کہ یہ ایسے گول کیسے ہو جاتے ہیں اور پھر اس طرح یہ کہ اس کے اندر’’ شیرہ ‘‘بھی ہے آخر یہ اس کے اندر کیسے گیا۔ اس نے ایک کلو جلیبی پیک کروائی اور ساتھ لیکر اپنے ملک پہنچا۔اپنے ملک پہنچ کر وہ جلیبی لیکر اپنے لیبارٹری پہنچا اور اپنے سینئر سائنسدان کو دکھایا کہ اس پر ریسرچ کریں کہ آخر جلیبی کے اندر شیرہ کیسے گیا۔؟ اس پر سینئر سائنسدان نے غصے سے اپنی دراز کھولی اور اس میں سے ایک سموسہ نکال کر اسے دکھاتے ہوئے کہا۔۔پاکستان سے آئے ہو ؟میں پانچ سالوں سے اس سموسے پر ریسرچ کر رہاہوں کہ اس کے اندر آلو کیسے گیا اور ابھی تک پتہ نہیں لگا پایا ہوں اور تو ایک نئی پریشانی لے آگیا ہے۔۔واقعہ کی دُم: حکومت کی ایک پریشانی ختم نہیں ہوتی ،دوسری شروع ہوجاتی ہے۔۔

ایک افریقی فوجی کو افغانستان میں پوسٹنگ مل گئی، وہاں اس کو اک چراغ ملا اس نے چراغ کو رگڑا تو چراغ پھٹ گیا اور وہ مر گیا۔ اس سے سبق حاصل ہوا کہ۔۔ ہر چیز الہ دین کی نہیں ہوتی کچھ چیزیں مجاہدین کی بھی ہوتی ہیں۔۔ہمارے پیارے دوست کافی ’’مخولیئے‘‘ ہیں ،یہ نہیں دیکھتے سامنے کون ہے فوری ان کے اندر کا فیصل آبادی جاگ جاتا ہے اور وہ مذاق پر اترآتے ہیں، انہوں نے محلے کی مسجد کے پیش امام پر جب نماز عشا کے بعدجگت لگائی کہ۔۔مولوی صاحب آپ کو ہنستا دیکھ کر یقین آجاتا ہے کہ انسان پہلے بندر تھا۔۔ جس پہ مولوی صاحب نے ازراہِ ضرورت غصے کا اظہار فرمایا تو دوسرے صاحب بولے، ارے سرکار غصہ نہ کیا کیجئے ورنہ یوں لگتا ہے کہ انسان آج بھی بندر ہے۔۔اسی مسجد کا واقعہ ہے، مسجد کمیٹی کے ارکان ،امامت کے لئے ایک عالم سے انٹرویو لے رہے تھے،اسی دوران انٹرویو میں مسجد کے خازن نے اچانک سے سوال کرڈالا، حضرت بتائیں کہ قیامت کی سب سے بڑی نشانی کون سی ہوگی؟؟عالم صاحب نے کمیٹی کے ارکان کو بغور دیکھا اور مسکرا کر خازن کو جواب دیا کہ ۔۔ اس سے بڑی قیامت کی نشانی کیا ہوسکتی کہ ایک جاہل ، عالم سے انٹریو لے رہا ہے ۔۔

تصورکیجئے اگر آج اکبر بادشاہ زندہ ہوتا تو کتنا ماڈرن ہوتا؟ پھر اس کے نورتن یعنی ملادوپیازہ اور بیربل وغیرہ بھی آئی ٹی اسپیشلسٹ ہوتے۔۔ اکبر نے بیربل سے تین نئے سوال پوچھے اور کہا کہ ان تینوں سوالوں کا جواب ایک ہی ہونا چاہیئے۔۔دودھ کیوں ابل جاتا ہے؟۔۔پانی کیوں بہہ جاتا ہے؟؟۔۔دال کیوں جل جاتی ہے؟؟۔۔ بیربل نے برجستہ جواب دیا۔۔ ’’واٹس ایپــ‘‘ کی وجہ سے۔۔اکبر بیربل کے قدموں میں گر پڑا۔۔یہ تو آپ لوگوں کو پتہ ہی ہوگا کہ اکبر بادشاہ نے ہندوستان پر ایک عرصہ حکمرانی کی، لیکن پہلے کے ہندوستان اور اب کے ہندوستان میں بہت فرق پایا جاتا ہے، پہلے کے ہندوستان کا تو آپ کو تاریخ (ہسٹری)سے اندازہ ہوجائے گا لیکن موجودہ ہندوستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں۔۔ گھی جلایاجاتا ہے، دودھ بہایاجاتا ہے اور پیشاب پیا جاتا ہے۔۔باباجی فرماتے ہیں،بھارت کو کلبھوشن والے معاملے میں عالمی عدالت انصاف سے بڑی خفت اٹھانی پڑی، بھارت کا وہی حال ہے جو یہاں پٹواریوں کا ہوتا ہے،فیصلہ جب اردو میں ترجمہ ہوتا ہے تو پتہ لگتا ہے کہ لگ پتہ گیا۔کلبھوشن کے معاملے پر جب فیصلہ سامنے آیا تو بھارت میں بھی جشن کا سماں تھا، وہاں کا میڈیا اسے بہت بڑی فتح قراردے رہا تھا۔۔ ہمارے پیارے دوست کوباباجی سے شدید اختلاف ہے، اس معاملے پر وہ بالکل الٹ رائے رکھتے ہیں،ہمارے پیارے دوست کا کہنا ہے کہ ۔۔کلبھوشن والے معاملے پر عالمی عدالت کا فیصلہ اور ورلڈ کپ کرکٹ کا فائنل بالکل ایک جیسے تھے، دونوں فریق ہی یہ سمجھ رہے تھے کہ فتح اس کی ہوئی ہے۔۔وہ مزید فرماتے ہیں کہ ۔۔جن کو گھر پر آم دینے سے پہلے سفید قمیض اتروالی جاتی تھی کہ گندی کردوگے،وہ بھی سوشل میڈیا پر سیاسی دانشور بنے پھرتے ہیں۔۔

اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔ سب سے زیادہ اپنے پیشے سے وفادار وکیل ہوتے ہیں جو چاہے جتنی شدید سڑی ہوئی گرمی ہو ،کوٹ بالکل نہیں اتارتے۔


ای پیپر