کلچر اور جدید عہد
20 جولائی 2019 2019-07-20

مارکس کہتا ہے کہ انسان نیچر کا سہارا لیتے ہوئے بھی نیچر پر انحصار نہیں کرتا وہ نیچر کے پہلو بہ پہلو اپنی تخلیقی دنیا بنا لیتا ہے۔وہ کہتا ہے کہ تخلیقیت جانوروں میں بھی پائی جاتی ہے مثلاً پرندوں کا گھونسلوں کی شکل میں رہنا، شہد کی مکھیاں اور بھڑوں کا چھتے بنانا، وغیرہ۔ مگر میرے خیال میں یہ تخلیقیت نہیں بلکہ جبلی طرزِ اظہار ہی کی ایک شکل ہے اگرجانوروں میں ذرا برابر بھی تخلیقی صفت ہوتی تو بھڑیں اور شہد کی مکھیاں جدید طریقوں سے شہد بنانے کی نئی کوششوں میں مصروف ہوتیں یاصدیوں سے چھتّوں ہی کی شکل میں کیوں رہتیں؟ قاسم یعقوب اپنے مضمون کلچر کے مباحث اور ہمارا کلچر میں لکھتے ہیں۔

”ثقافت“ ہمارے ہاںآثارِ قدیمہ کے نقش ونگار میں تلاش کی جاتی ہے۔ عموماًیہ لفظ”عجائب گھر“، کھدے ہوئے تاریخی شہر یا پ±رانی عمارتوں کی طرزِ تعمیر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ گوتم بدھ کی مورتیاں، قدیم ہڑپہ تہذیب کے سکّے اور Miniature Paintings جیسے ورثے کو ثقافت کا نام دیا جاتا ہے علوم و فنون و ادبیات کے لیے اس کا استعمال کم ہے مگر موسیقی، شاعری، پینٹنگز کے علاوہ ہاتھ سے بنائے جانے والے مختلف فن پارے بھی ثقافتی سرگرمیاں کہلائے جاتے ہیں گویا ثقافت کا لفظ ا±ن چیزوں کے لیے ہے جن کا تعلق ہمارے ذہن سے ہے مگر خارج میں وقوع پذیر ہوتی ہیں۔ کچھ سرگرمیاں جو صرف طرزِ عمل پر منحصر ہوتی ہیں لباس، مختلف النواع کھانے، آلات، اخلاق ومعاشرت یعنی ہر وہ چیز جو ہمارے خارجی روّیوں کی عکاس ہو ”تہذیب“ کہلاتی ہے۔ ہمارے مذہبی رویوں کا ردِّ عمل چوں کہ عملی طور پر معاشرے میں ظاہر ہوتا ہے۔اس لیے مذہبی رسومات بھی مذہبی اقدار میں شامل ہوتی ہیں۔ لفظ ” کلچر “ اپنے مفاہیم میں وسیع تر ہے ۔

کسی بھی ملک کی ترقی کا اندازہ اگر ا±س کی معیشت ،سیاست یا فوج سے بخوبی لگایا جا سکتا وہاں پر بہت سارے ملک ہیں جو اپنی ثقافت، کلچر اور لذیذ کھانوں کی وجہ سے دنیا میں اپنی ایک منفرد پہچان رکھتے ہیں۔ پاکستان کے کلچر کو دیکھا جائے تو اس میں بہت زیادہ تنوع نظر آئے گا۔ پاکستان اپنے منفرد اور خوبصورت ثقافت کی بدولت پوری دنیا میں اپنی ایک الگ پہچان رکھتا ہے۔ اور جب بات ہو پنجاب کی تو پنجابی ثقافت دنیا کی تاریخ میں سب سے قدیم تاریخوں میں شمار کی جاتی ہے۔یہاں کی ثقافت اپنے اندر وسعت رکھتی ہے جو قدیم اور جدید کا بہترین امتزاج ہے ۔

پنجاب میں ہر علاقے کا ایک اپنا کلچر اور روایات ہیں جو ا±س علاقے کے طرزتمدن کی عکاسی کرتا ہے۔پنجاب کے ثقافتی تہوار ہوں یا اس کے روائتی رقص۔ ل±ڈی سے لیکر جھومر تک ہر ایک کی اپنی تاریخ اور پس منظر ہے اور اس ثقافت کو ا±جاگر کرنے میں پنجاب آرٹس کونسل، محکمہ اطلاعات و ثقافت کا بڑا اہم کردار رہا ہے۔پنجاب آرٹس کونسل کی سربراہ ث±من رائے اس حوالے سے بہت زیادہ پ±رجوش اور لگن کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ رائے صاحبہ نے پنجاب کے سب خطوں کی ثقافت کو ا±جاگر کرنے کے لئے بہت سارے انقلابی اقدام کئے اور ساتھ ساتھ آرٹس کونسل کے ملازمین کے اور ا±ن کی بہبود کے لئے بھی ہمہ وقت کوشاں ہیں وہ اس ادارے کو جدید اور سائنسی بنیادوں پر استور کرنے لئے عملی اقدامات کر رہی ہیں اور اس میں خوش آئند بات یہ ہے کہ انھیں اس میں وزارت اطلاعات اور وزیر اعلی پنجاب کو مکمل تعاون حاصل ہے۔ وزیر اعلی پنجاب عثمان ب±زدار شاید پہلے وزیر اعلی ہوں گے جو پنجاب کی ثقافت اور اس کے ترویج کے لئے اس قدر متحرک ہیں ورنہ سابقہ دور حکومتوں میں یہ شعبہ نظر انداز ہی کیا جاتا رہا ہے۔

ث±من رائے کا ماننا ہے کہ کلچر سے آگاہی اور روشناس ہونا ہر ایک کے لئے ضروری ہے اور اس کو سکول کی سطح سے شروع کرنا چاہیے۔ اسی سوچ کے پیش نظر وزیر اعلی پنجاب کی سر پرستی میں سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور محکمہ اطلاعات و ثقافت کے مابین ایک ایم او یو پر دستخط کئے گئے ہیں جس کے تحت یہ طے پایا ہے کہ سکول اپنے بچوں کو آرٹ، ڈرائنگ اور کلچرل سوسائٹیز اور ا±ن میں مقابلوں کے لئے ہر طرح کا تعاون فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ا±ن کی حوصلہ افزائی اور پذیرائی کریں گے۔ اسی سلسلے میں 20 اور 21 جولائی کو لاہورمیںایک شو بھی منعقد کیا جا رہا ہے جس میں پنجاب کے مختلف علاقوں کی ثقافت کو ا±جاگر کیا جائے گا۔پنجاب میں پہلی بار کلچرل پالیسی متعارف کروائی گئی ہے جو اس چیز کی غماز ہے کہ یہ شعبہ انتہائی اہم ہے اور اس سب کا کریڈٹ پنجاب آرٹس کونسل اور محکمہ اطلاعات و ثقافت کو جاتا ہے۔ ثمن رائے کا خیال ہے ہمیں اپنے لوک فنکاروں کی حوصلہ افزائی اور ا±ن کو ہر طرح سے مالی معاونت فراہم کرنی چاہیے کیونکہ یہ فنکار ہمارا سرمایہ ہیں اور آج کے سوشل میڈیا کے دور میں ہمیں اپنے لوک فنکاروں کو پروموٹ کرنا چاہیے۔کلچرل ٹورازم دنیا میں تیسرا بڑا شعبہ ہے جو دنیا کی معیشت میں اپنا حصہ ڈالتا ہے اور کسی بھی ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اب ضرورت تو یہ ہے اس شعبے کو بھرپور وسائل مہیا کر کے اس دور حاضر کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔


ای پیپر