نواز شریف آخر جیل میں کیوں؟
20 جولائی 2018 2018-07-20

ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا یافتہ سابق نا اہل وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف حال مقیم اڈ یالہ جیل کے فرمودات اکثر وبیشتر جیل سے ان کے ملاقاتی اپنی سماعتوں میں محفوظ کرکے لاتے اور میڈیا کی نذر کردیتے ہیں۔ان دنوں جبل میں ان کے ملاقاتیوں کا نہ ٹوٹنے والا تانتا بندھاہوا ہے ۔ ملاقاتی اپنے ہمراہ نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کیلئے کھانے پینے اور روزمرہ کے استعمال کا سامان بھی لائے جو جیل انتظامیہ نے چیکنگ کے مراحل سے گزارنے کیلئے اپنی تحویل میں لے لیا سب سے زیادہ چیکنگ کھانے پینے کے سامان کی کی گئی۔اکثر رہنماؤں کو جیل کا عملہ فوری ملاقات کیلئے جیل کے اندر لے جاتا ہے۔ جیل انتظامیہ کے اہلکار فہرست اٹھائے ملاقاتیوں کو کلےئر کرتے رہتے ہیں۔
گوجرانوالہ سے فرحان میر کے مطابق قائد مسلم لیگ ن میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے نیا پاکستان آزاد ہوگا اور خودمختار ہو گا نہ کسی سے ڈرتا ہوں اور نہ ہی گردن جھکاؤں گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سابق وفاقی وزیر غلام دستگیر خان سے جیل میں ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سابق وزیر دفاع خرم دستگیر خان بھی موجود تھے۔ غلام دستگیر نے بتایا نواز شریف نے کہا میرا حوصلہ بلند ہے اور میں قیدوبند کی مشکلات برداشت کرنے سے نہیں ، مجھے اور میری بیٹی کو ناحق سزا دی جا رہی ہے۔ مجھے پہلی رات بغیر بستر کے سونا پڑا اور کھانے کیلئے بدبو دار قیمہ دیا گیا، مجھے ایک اخبار پڑھنے کیلئے مہیا کیا جارہا ہے، مجھے آج بھی آفر کی جا رہی ہے ہمارا حکم مانیں حکومت آپ کی ہو گی مگر میں ایسی کمزور اور لولی لنگٹری حکومت نہیں چاہتا‘۔ اور تو اور انہیں علی الصبح تیار ہو نے اور روایتی لباس شلوار قمیض اور ویسٹ کوٹ پہننے اور تیاری میں مشقتی کی معاونت بھی حاصل ہے، مریم اور نواز دونوں جیل کا بدبودار کھانا نہیں کھاتے بلکہ ان کا کھانا گھر سے لایا جاتا ہے۔ وہ اپنے نواسوں اور نواسیوں سے ملاقاتیں اور چاؤ چونچلے بھی کرتے ہیں اور خرم دستگیر کو ہدایت کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ وہ انہیں تمام اخبارات میں شایع ہونے والے مضامین کی کٹنگز بھی روزانہ کی بنیادوں پر فراہم کریں اس کے باوجود واویلا مچایا جا رہا ہے کہ نواز شریف کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ انہیں قید بامشقت کی سزا دی گئی ہے ۔ عوام حیران ہیں کہ یہ کیسی قید بامشقت ہے جس میں انہیں جیل سے متوالوں کے نام آڈیو پیغام جاری کرنے کی سہولت حا صل ہے ۔
انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ انہیں یہ آفر کون کر رہا ہے؟ وہ جن قوتوں کے خلاف اپنے حامیوں کو سینہ سپر ہونے کی دعوت دے رہے ہیں، اڈیالہ جیل پہنچاکر اگر انہوں نے دوبار ہ اقتدار کے تخت طاؤس پر ہی فروکش ہونے کی دعوت ہی دینا تھی تو انہیں لندن سے واپسی کے بعد سیدھا اڈیالہ جیل پہنچانے کا تکلف کیوں کیا۔ دراصل یہ نواز شریف کی مخفی خواہش ہے جس کا ااظہار انہوں نے آفر کرنے والی نادیدہ قوتوں کے منہ میں ڈال کر کیا ہے۔۔۔ کیا میاں صاحب محترم اب بھی خلائی مخلوق سے درپردہ رابطے میں ہیں ۔۔۔ اب انہیں کون بتائے اور سمجھائے کہ وہ دن گئے جب خلیل خان فاختہ اڑایا کرتے تھے اور عیش صرف تجمل حسین خان ہی کے لیے بنا تھا۔۔۔آں دفتر را گاؤ خورد۔۔۔ انہیں جیل کی تنہائیوں میں وہ سنہرا دور یاد آرہا ہوگا جب وہ جنرل ضیاء الحق کے چہیتے اور لاڈلے تھے۔
جب 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات کے بعد چیف منسٹری کے امیدار نواز شریف کی حیثیت سے ڈکٹیٹر بنفس نفیس لاہور پہنچا اور مژدہ سنایا کہ نواز شریف کا’’ کلہ ‘‘ مضبوط ہے۔ ڈکٹیٹر ضیاء الحق کی پہلی برسی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے عہد کیا تھا کہ ’’ اب میں ضیاء الحق کے مشن کو آگے بڑھاؤں گا‘‘۔ اس موقع پر انہوں نے محترمہ بینظیر کو سکیورٹی رسک کا بھی خطاب دیا تھا۔
اس ڈکٹیٹر کے بازوئے شمشیرزن جنرل غلام جیلانی کو بھی ایک موقع پر انہوں نے اپنا سیاسی مرشد قرار دیا تھا۔ جنرل حمیدگل سے ان کی عقیدت اور ارادت محض اس وجہ سے تھی کہ آئی جے آئی مرحوم کے ذہن ندرت کار کی اختراع تھی۔ بعد ازاں وہ اکثر اپنی تقاریر میں محترمہ کو ’’کرپشن کوئین‘‘ کہہ کر بھی مخاطب کرتے رہے۔کون نہیں جانتا کہ 1983ء سے 1999ء تک ہر الیکشن میں ان کی کامیابی کی فصل نتائج کی زمین پر ’’محکمہ زراعت‘‘ کے کاشت کاروں کی عرق ریزی اور محنت شاقہ کا نتیجہ اور ثمرہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک طویل عرصہ تک ان کا سیاسی تعارف اور تشخص ایجنسیوں کے ٹیسٹ ٹیوب بے بی کا رہا۔
وہ سمجھتے ہیں کہ عوام کا حافظہ کمزور ہے ، یہی ان کا وہ مغالطہ تھا ، جس نے ان کی سیاست کی لٹیا کو ڈبودیا۔جب تک جرنیلوں کا دست شفقت ان کے سر پر رہا ، جرنیل شاہی بہت اچھی تھی ۔۔۔جب تک آئی ایس آئی کی نگاہ التفات سے انہیں بادۂ رفاقت کشید کر نے کی اجازت تھی ، وہ دنیا کی سب سے بڑی اور عظیم ایجنسی تھی۔۔۔لیکن ۔۔۔جب ان کے تیور بگڑے اور لچھن خراب ہوئے ۔۔۔ مودی اور جندال کی طرف انہوں نے زائد از ضرورت دست تعاون بڑھایا اور را کے فنانسر جندال سے مری میں اور بھارت کے ہزاروں مسلمانوں کے قاتل مودی سے جاتی امرہ میں اجیت ڈول کے ہمراہ پر اسرار ون آن ون ملاقاتیں شروع کردیں تو افواج پاکستان ہی کیا، تمام محب وطن اور سنجیدہ فکر حلقوں کا ماتھا ٹھنکا تھا ۔ اسی باعث ان کی سیاست مشکوک اور شخصیت داغ دار ہوگئی ۔


ای پیپر