’’نپولین ۔۔۔ یہ تمہارے اقتدار کا آخری دن ہے ؟؟‘‘
20 جولائی 2018 2018-07-20

ہیرا منڈی کے مستی گیٹ والے راستے سے داخل ہوں تو دائیں طرف بوسیدہ سی نہایت پرانی چھوٹی سی عمارت اُس کے سائے میں لکڑی کا بڑا سا گیٹ ۔۔۔ یہ تھی پنجابی کے بہت بڑے شاعر، مفکر اور لاہور کے نامور شخصیت استاد دامن کی رہائش گاہ ایک کمرے پر مشتمل جس میں سب سے خوبصورت جائیداد وہ ٹوٹی پھوٹی چارپائی تھی جس پر پرانے اخبارات، ایک دو کتابیں اور دو پرانی چادریں ایک چھوٹا کافی استعمال ہوا تکیہ موجود ۔۔۔

مجھے بتایا گیا کہ استاد دامن نے جو کہ کھانا پکانے کا خود بھی ماہر تھا اُس نے دیسی مرغ اور مٹن دیسی گھی میں پکایا اور اداکار ساقی، اداکار یوسف خان، اداکار محمد علی اور فلمی دنیا کے چھ سات اور لوگ اس دعوت میں شریک تھے ۔۔۔ نہایت دل کو لبانے والی خوشبو بتا رہی تھی کہ کھانا مزے دار ہو گا جب سادہ سے دستر خوان پر لوازمات رکھ دئیے گئے اور ہنستے مسکراتے مہمانوں نے کھانا شروع کیا تو استاد دامن نے چارپائی کے نیچے سے ایک ہنڈیا نکالی جس میں پہلے سے پکی ہوئی مونگ کی دال تھی سب مہمان مرغ مسلم کھانے میں محو تھے تو اداکار یوسف خان کی نظر استاد دامن پر پڑی جو پچھلے دن کی پکی ٹھنڈی دال مونگ سے دو دو ہاتھ کر رہے تھے ۔۔۔

’’استاد جی ۔۔۔ تُسی مرغ مسلم کیوں نئیں کھا رہے‘‘۔۔۔؟

’’مزا تے ایس کھانے اچ ای اے کہ مرغ مسلم ہون دے باوجود بندہ ٹھنڈی مونگی دی دال کھائے‘‘ ۔۔۔ استاد دامن نے مسکراتے ہوئے وضاحت کی ۔۔۔

الیکشن کے دنوں میں بہت سی باتوں نے مجھے عام پاکستانی شہریوں کی طرح خوب جھنجھوڑا ۔۔۔ ایک تو عین الیکشن سے دس بارہ دن پہلے اچانک ہونے والے تباہ کن بم دھماکے اور اُن میں نامور شخصیات کی شہادت خاص طور پر سراج رئیسانی کی موت جو بہت بڑا پاکستان سے شدید محبت کرنے والا بلوچ راہنماء تھا ۔۔۔

دوسری بات بہت سی ڈرا دینے والی خبریں تھیں جن سے صاف لگ رہا تھا کہ یہ محض شہباز شریف اینڈ فیملی کو ڈرانے دھمکانے کے لئے ایک شوشہ تو ہو سکتی ہیں عوام کے لئے ان میں کوئی Interact نہیں ۔۔۔

تیسری اہم بات یہ کہ عمران خان کی اس الیکشن میں بے بہا تصاویر ہر گلی ، محلہ، کھمبا، درخت یہاں تک کہ پرانے قبرستان کی بوسیدہ دیواروں پر بھی صرف اور صرف عمران خان کی ہی تصاویر سجا دی گئیں ہیں ۔۔۔ قابل غور بات یہ ہے کہ کھمبوں پر کچھ اداروں نے اللہ پاک کے مبارک نام نہایت محبت سے لگائے ہوتے ہیں اُن پر بھی ظالموں نے عمران خان کی یہ تصاویر چسپاں کر ڈالیں ۔۔۔

اس کے علاوہ عام آدمی بہت عرصہ بعد ایک خوف کا شکار پایا گیا حالانکہ الیکشن میں اتنا کم وقت رہ جائے تو ہلہ گلہ، شور شرابانوجوانوں کی مستیاں دکھائی دیتی ہیں مگر اس بار سب کچھ نہایت سنجیدہ لگ رہا ہے گویا کہ الیکشن اس بار کوئی اچھا Event دکھائی نہیں دے رہا ۔۔۔

سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اس بار جادو ٹونہ، سفلی علوم اور اسی طرح کی معاملات کا عمل دخل کافی زیادہ نظرآ رہا ہے کل رات میں ایک کتاب پڑھ رہا تھا جس میں نامور دست شناس ایم اے ملک نے فرانس کی سیاسی تاریخ کا ایک نہایت دلچسپ واقعہ پیش کیا ۔۔۔

’’ نپولین بونا پارٹ پیرس کی ایک بوسیدہ سی گلی میں مختلف گھروں پر دستک دیتا ہوا کسی کی تلاش میں تھا اور محنت مزدوری کے باعث اُس کے نہایت بوسیدہ کپڑے اس بات کی غماز تھے کہ یہ کوئی چھوٹے قد کا عام سا، بے وقعت سا آدمی ہے ۔۔۔ اس دوران اُس کی نظر اوپر چڑھتی ہوئی سیڑھی پر پڑی اور وہ ججکتا ہوا اوپر چلا گیا جہاں اُس نے ایک تنگ و تاریک کمرے میں جھانکا جہاں ایک بوڑھا کسی کتاب پر جھکا بیٹھا تھا ۔۔۔ نپولین نے ’’ہیلو‘‘ کیا اور بوڑھے آدمی کے سامنے جا بیٹھا ۔۔۔

’’اے نوجوان! بتاؤ میں تمہاری کیا خدمت کر سکتا ہوں‘‘ ۔۔۔؟!

نپولین نے اپنا دایاں ہاتھ بوڑھے نجومی کے سامنے رکھا اور بولا ’’کیا میں فرانس کا حکمران بن سکتا ہوں‘‘؟ ۔۔۔

بوڑھے نجومی کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی اُس نے نام پوچھا اور جھٹ سے بتایا کہ تم ’’بونا‘‘ کی بجائے ’’بونے‘‘ لکھنا شروع کر دو ۔۔۔ نام کی یہ تبدیلی تمہاری قسمت کو فرانس کے مقدر کے ساتھ جوڑ دئیے گئی اور دنیا کی کوئی طاقت تمہیں فرانس کے اقتدار تک پہنچنے سے نہیں روک سکے گی اس سے پہلے نپولین کے بارے میں مشہور ہے کہ اُس نے کسی سے پوچھا کہ ہاتھ پر اقتدار کی لائن کس جگہ ہوتی ہے دیکھنے والے نے قہقہہ لگایا اور ہتھیلی کی بائیں طرف انگلی پھیرتے ہوئے کہا ’’یہاں ہوتی ہے لیکن افسوس کہ تمہارے ہاتھ پر یہ نہیں ہے ‘‘ ۔۔۔ اور نپولین نے اُس جگہ تیز دار چاقو سے خود ہی اپنی ہتھیلی پر اقتدار کی لائن بنا ڈالی ۔۔۔

امید ہے میرے قارئین ’’میری بات‘‘ سمجھ چکے ہوں گے کیونکہ اقتدار کے لالچ نے ہمارے لیڈر اب اس نہج تک پہنچ چکے ہیں جہاں وہ ہر حال میں اس بار اقتدار حاصل کر لینے کی کوشش میں ہیں ۔۔۔

تاریخ عالم میں اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ اقتدار والے جب اُن کو پروردگارِ عالم یہ تحفہ عنائت فرماتے ہیں تو وہ اپنے پرانے مہربانوں اور سنگی ساتھیوں کو بھول جاتے ہیں یہ سوچتے ہوئے کہ شاید یہ اقتدار ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہے جب کہ سچائی یہ ہے کہ سدا نام تو میرے پروردگارِ عالم کا ہی ہے اور انسان کو ایک دن سب چھوڑ چھاڑ کر قبر میں اتر جانا ہے ۔۔۔

کئی سال بعد آسمان نے دیکھا کہ وہ بوڑھا نجومی کسی طرح سے نپولین کو ملنا چاہتا تھا لیکن اُس بوسیدہ لباس میں ملبوس بوڑھے کو حفاظت پر معمور سپاہیوں نے برا بھلا کہا اور شاہی محل کے اندر نہ جانے دیا اس دوران افرا تفری میں نپولین ’’جنگِ واٹر لو‘‘پر روانہ ہو چکا تھا جب جنگ جاری تھی اور شکست کے بعد نپولین گرفتار ہوا تو لوگوں نے دیکھا کہ وہ بوڑھا ایک گڑھے میں مردہ حالت میں گرا پڑا تھا اور اُس کی بند مٹھی میں ایک بوسیدہ سا کاغذ تھا جس پر لکھا تھا ۔۔۔

’’ نپولین یہ تمہارے اقتدار کا آخری دن ہے ‘‘ ۔۔۔


ای پیپر