سیاستدان ’’آمریت کی پیدوار‘‘:پہلا انتخابی مغالطہ
20 جولائی 2018 2018-07-20

25جولائی کو اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے سے پہلے پاکستان کے ووٹرز کو یہ جان لینا چاہیے کہ وہ کن مبالغوں اور مغالطوں کا شکار ہیں۔ پاکستانی سیاسی رہنماؤں کی طرف سے وہ کون سے نعرے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں اور پاکستانی سیاستدانوں پر لگائے جانے والے وہ کون سے الزامات ہیں جن کا تاریخی طور پر درست ہونا ضروری ہے اور جس کی بنیادپر آپ کسی بھی سیاستدان کی اہلیت کا فیصلہ کرتے ہیں۔

تسلیم کے آمریت کے گملے میں پروان چڑھنے والے نواز شریف درحقیقت اپنے دور کے عمران خان تھے ۔ وہ اس دور میں وہی کردار ادا کر رہے تھے جو سابق کپتان کر رہے ہیں۔ جب بینظیر بھٹو پاکستان میں جمہوریت کی جنگ لڑ رہی تھیں تو نواز شریف کسی کے اشاروں پر چل رہے تھے۔ یہ ایک غلط روش تھی جس کیلئے کوئی بھی تاویل نہیں گھڑی جا سکتی مگر یہ بھی تسلیم کرنے کی بات ہے کہ نواز شریف نے اپنی روش تبدیل کی ، اپنا راستہ بدلا ، اپنی ڈوریں ہلانے والوں کو جواب دیا۔ اعتراض کرنے والوں کو یہ بات بھی جان لینی چاہیے کہ وہی بینظیر بھٹوجن کے ساتھ نواز شریف نے عمران خان والا سلوک کیا انہوں نے ہی سابق وزیر اعظم نواز شریف کے تبدیل ہونے کی گواہی دی ۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ’’نواز شریف پہلے ملٹری ڈکٹیٹر شپ چاہتے تھے اور بعد ازاں ان ڈائریکٹ ملٹری ڈکٹیٹرشپ چاہتے تھے۔ مگر اب وہ نواز شریف نہیں رہاجو فوج کا ساتھ دے رہا تھا یا ان کے ایجنڈے پر چل رہا تھا ، سترہویں ترمیم پاس کرنا چاہتا تھا اور پاکستان کے اندر امیر المومنین بننا چاہتے تھے ۔اُس نواز شریف میں اور اِس نواز شریف میں فرق ہے ۔ یہ نواز شریف کہتا ہے کہ مجھے آرمی انٹرفیرنس نہیں چاہیے ، مجھے ملٹری ڈکٹیٹرشپ نہیں چاہیے۔یہ نواز شریف چاہتا ہے کہ میں نوابزادہ نصر اللہ خان (اللہ ان کو جنت نصیب کرے) اور دوسری جمہوری جماعتوں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہوں۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف پر سب سے بڑا الزام یہ عائد کیا جاتا ہے کہ وہ آمریت کے دور کی پیداوار ہیں ۔ اسی طرح ذوالفقار علی بھٹو کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ جنرل ایوب کو ڈیڈی کہا کرتے تھے۔ پاکستان میں ایسے سیاستدانوں کی ایک لمبی قطار ہے جو آمریت کے گملے میں پروان چڑھے۔ لیکن کیا کسی نے آج تک یہ سوچنے کی بھی کوشش کی ہے کہ بھٹو ، جنرل ایوب کو ڈیڈی نہ کہتے تو سیاست میں کیسے آتے؟ ۔ لوگوں کو اس بات پر کوئی اعتراض نہیں کہ آخر آمریت کا گملا لگتا ہی کیوں ہے ؟ کیا مصیبت در آتی ہے کہ ان محب وطن جرنیلوں کو طوہاً کرہاً ، ناک پہ ہاتھ رکھ کر ان گندے ، بدبو دار سیاستدانوں کے بیچ آنا پڑا ۔بلکہ اعتراض یہ ہے کہ ان آمروں کے ہوتے کیوں کسی سیاستدان کی مجال ہوتی ہے کہ وہ سیاست میں آنا چاہے ، ان کرپٹ سیاستدانوں کی یہ مجال ؟۔ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ آخر ذوالفقار علی بھٹو کے پاس سیاست میں وارد ہونے کے کتنے طریقے تھے ؟ ۔ ملک پر جنرل ایوب خان کی کرپشن سے پاک آمریت کا سایہ تھا اور ملک دن دوگنی ، رات چوگنی ترقی کر رہا تھا تو بھٹو کیا کرتے؟ انہیں چاہیے تھا کہ وہ اپنی جوانی کے دن ، پاکستان سے محبت ، جوش و جذبے کو کسی ٹائم مشین میں فٹ کر کے روک دیتے کہ کب جنرل ایوب اقتدار ، جنرل یحییٰ کو دے ، کب جنرل یحییٰ عوامی مینڈیٹ حاصل کرنے والے سیاستدانوں کو حکومت منتقل نہ کرے اور کب اسی وجہ سے ملک میں انارکی پھیلے ، عوام اپنے ووٹ کی تذلیل ہونے پر سڑکوں پر نکلیں ، ملک دو لخت ہو ، جنرل ٹائیگر نیازی پلٹن میدان میں خوش گوار موڈ میں بھارتی جنرل کو گندے لطیفے سنائے اور پھر اپنا پستول اس کے حوالے کرے ، خوش و خرم آدھے ٹوٹے ہوئے پاکستان میں واپس آئے اور پھر جنرل ایوب ، جنرل یحییٰ ، جنرل نیازی فوجی اعزاز کے ساتھ دفن ہوں اور ذوالفقار علی بھٹو کو آمریت کے سائے میں پروان چڑھنے کی پاداش میں آمریت ہی کے محفوظ سائے میں پھانسی پر چڑھا دیا جائے۔

بالکل اسی طرح آمریت کے گملے میں پروان چڑھنے والا نواز شریف بھی انتظار کرتا کہ ابھی تو ملک پر جنرل ضیاء الحق کے سنہری اسلامی دور کے ثمرات پھیلے ہوئے ہیں تو وہ انتظار کرے کہ کب تقریبا دس سالوں بعد جنرل ضیاء الحق کسی حادثے میں اس ملک کی جان چھوڑے ۔ اس دوران سیاست میں آنے کے خواہش مند نواز شریف بھی کسی بنگالی بابے سے اپنی جوانی ، جوش و جذبہ روکے رکھنے کا طریقہ پوچھ کر سنیاس لے کر بیٹھ جاتے اور انتظار کرتے کہ کب اس ملک سے آمریت کا سایہ دور ہو اور کب وہ سیاست میں تشریف لائیں تاکہ ان پر کوئی یہ الزام نہ لگا سکے کہ آپ آمریت کی پیداوار ہیں اور ہر دور میں اسی آمریت نے آپ کو گھر بھیجا ہے۔

سکولوں ، کالجوں میں مطالعہ پاکستان پڑھنا ضروری ہوتا ہے کیونکہ اس کے بغیر آپ امتحانات کی سیڑھیاں نہیں چڑھ پاتے مگر کس نے روکا ہے کہ آپ پاکستان کی اصل تاریخ سمجھنے کیلئے کوئی کوشش نہ کریں۔اگر صاحب اختیار معاشرتی علوم کا متن درست کرنے پر تیار نہیں تو کم از کم پاکستانیوں کو ہی اپنے ملک کی تاریخ جان لینے کی کوشش کرنی چاہیے۔ حقیقتاً پوری دنیا پر ایک بنیادی اصول لاگو ہوتا ہے اگر رشوت لینے والی غلط ہے تو رشوت دینے والا بھی گناہ گار ۔ لیکن مملکت خدادا میں معاملات کچھ اور طرح سے چلتے ہیں۔ یہاں پر سلیمانی ٹوپی پہلے قطار اندر قطار کچھ فرشتے گردوں سے اترتے ہیں اور سیاستدانوں کو غلط کاریوں پر آمادہ کر کے آسمان کی وسعتوں میں کہیں کھو جاتے ہیں۔ پھر لعن طعن کا شکار صرف سیاستدان ہی ٹھہرائے جاتے ہیں اور فریق دوم کے بارے کوئی بات تک نہیں کرتا۔

الزام عائد کیا جاتا ہے کہ نواز شریف نے آئی جے آئی کے دور میں پاکستانی ایجنسیوں سے پیسے لئے ۔ بہت غلط کام کیا ، واقعی شرمناک حرکت تھی ، اس پر نواز شریف کو کڑی سزا ملنی چاہیے۔ لیکن اگر یہ واقعہ درست بھی ٹھہرا تو نواز شریف کے ساتھ ساتھ فریق دوم بھی تو سزا کا پابند ٹھہرا کیونکہ اگر پیسے لینے والا سزاوار ہے تو پیسے دینے والا کیوں سزا گناہ گار نہیں ٹھہرتا۔ پھر جب آپ قانون کی تلوار ہاتھ میں تھامے فیصلے صادر فرماتے ہیں تو اس موقع ہر دو فریق کے بارے میں ایک جیسا قانون اور رویہ ہونا چاہیے۔ اگر کوئی یہ الزام عائد کرتا ہے کہ نواز شریف آمریت کی پیداوار ہے تو پھر آئین کے آرٹیکل 6کے تحت وہ تمام افراد بھی سزا کے مرتکب ہیں جو پاکستان میں آمریت قائم کرنے کے مرتکب ہوئے اور ان سب کو ایک ساتھ ہی کٹہرے میں سزا ملنی چاہیے اور جب تک ایسا ممکن نہ ہو اس معاملے کو ختم سمجھا جائے اور سیاستدانوں کیخلاف یہ بودا الزام نہ لگایا جائے۔خلیل جبران نے کہا تھا کہ ’’سچ کی بالادستی کیلئے دو لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک سچ کہنے والا اور دوسرا سچ سننے والا ‘‘۔

پس تحریر: ان انتخابات میں آمریت کی پیداوار ہونے کا الزام لگا کر کسی بھی سیاستدان کو مسترد نہ کیا جائے بلکہ جب تک آمروں کو آمریت مسلط کرنے پر سزا نہ ملے اس وقت تک سیاستدانوں کو بھی آمریت کا سہارا لینے پر معصوم الخطاء قرار دیا جائے۔


ای پیپر