سیاسی ہٹ دھرمی اور الیکشن ۲۰۱۸ء
20 جولائی 2018 2018-07-20

میں نے اپنے ۵؍اگست ۲۰۱۷ء کے کالم ’’نظریاتی ہٹ دھرمی‘‘میں دو طرح کے سپورٹرز کا ذکر کیا تھا‘ سیاسی اورمذہبی۔اب چونکہ پاکستان کی تاریخ کے سب سے اہم الیکشن ہونے جا رہے ہیں سو میں نے سوچا کہ کیوں نہ گزشتہ کالم کا حوالہ دیتے ہوئے سیاسی سپورٹرز کو دوبارہ تفصیل سے زیرِ بحث لایا جائے۔میں نے مذکورہ کالم میں سیاسی سپورٹرز کی نفسیات کا ذکر کیا تھا کہ لوگ سیاسی وابستگی میں جنون کی حد تک چلے جاتے ہیں‘یہ کسی بھی سیاسی یا پارٹی لیڈر کی بات کو یوں حرفِ آخر مان لیتے ہیں کہ انہیں اس سیاسی لیڈٖر کی ہر بری’’ سٹیٹ منٹ‘‘ اور ہر گالی بھی دل کے قریب لگتی ہے‘یہ سیاسی جنونیت میں اس حد تک چلے جاتے ہیں کہ یہ اپنے پیشوا کی گالیوں کو بھی مذہبی دلائل سے ثابت کرنے لگتے ہیں۔یہ سیاسی جنونی آئیڈیل ازم میں اس حد تک بت پرست ہو جاتے ہیں کہ یہ منی لانڈرنگ‘جھوٹ اور چوری کو بھی کسی کھاتے میں نہیں رکھتے ‘کیوں؟ کیوں کہ اس میں ان کا رہنما ملوث ہوتا ہے لہٰذا یہ اس کی ہر اچھی اور بری پریس کانفرنس پر بھی پردہ ڈال دیتے ہیں۔اسی لیے میں نے کہا تھا کہ سیاسی وابستگی اچھے بھلے انسان کا بیڑا غرق کر دیتی ہے‘کیوں کہ یہ کبھی دماغ سے نہیں سوچنے دیتی‘محبت اور جنون صرف دل کی سنتا ہے‘اس کے لیے دماغ کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی سو جو جو دل کہتا ہے‘یہ ورکرز کرتے جاتے ہیں‘یہ ایسی بیماری ہے جو ہر جماعت میں یکساں طور پر موجود ہے۔

آپ پاکستان مسلم لیگ(ن)کے سپورٹرز کی مثال لے لیں۔یہ سپورٹرز پانامہ پیپرز کے بعد بھی اس بات پر شدت سے قائل رہتے ہیں کہ انہیں مسلم لیگ (ن )نہیں چھوڑنی چاہیے اور نہ ہی نواز شریف کو مستعفی ہونا چاہیے اور پھریہ اپنی تمام تر توانائیاں نواز شریف کے حق میں نعرے بازی میں صرف کر دیتے ہیں۔میاں نواز شریف پر نیب میں کیس چلے‘یہ پھر بھی میاں صاحب کے نعرے لگاتے رہے۔میاں صاحب نا اہل ہوئے یہ جنونی ورکرز پھر بھی میاں صاحب کے ساتھ کھڑے تھے۔میاں صاحب فوج اور عدالتوں کے خلاف بیان بازی کرتے رہے‘یہ سپورٹرز تب بھی کہتے رہے کہ’’میاں دے نعرے وجن دے‘‘۔میاں صاحب کو بیٹی اور داماد سمیت سزا ہو گئی‘وہ لندن سے ذبردستی پاکستان بلائے گئے‘یہ پھر بھی میاں صاحب کے ساتھ تھے۔یہ میاں صاحب کو ایئرپورٹ پر استقبال کرنے کے لیے بھی پرتولتے رہے یہ الگ بات کہ ’’امیرِ جماعت‘‘کے شیڈیول میں ہی ایئرپورٹ جانا نہیں تھا لیکن اس کے باوجود یہ ورکرز بے چارے پولیس کا لاٹھی چارج برداشت کرتے رہے‘گرفتاریاں بھی دیتے رہے اور میاں صاحب کے نعرے لگاتے رہے۔آج جب میاں صاحب کو جیل گئے ایک ہفتہ ہونے کو ہے ‘جنید صفدر واپس آیا تو ان سیاسی سپورٹرز سے اس کا بھی ایسا استقبال کیا جیسا میاں صاحب کا کرنے چاہتے تھے ۔آپ اندازہ کریں میاں صاحب پر ہر دور میں اور کیسے کیسے کرائسز آئے مگر یہ میاں صاحب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہے اگر چہ یہ جانتے تھے کہ انہیں اس’’ ہٹ دھرمی‘‘ کا آج تک نہ تو کوئی فائدہ ہوا ور نہ ہی مستقبل میں ہوگا مگر پھر بھی یہ انتہائی مستقل مزاجی سے اپنے ’’نظریے‘‘پر قائم ہیں۔مجھے پورا یقین ہے کہ اگر نون لیگ کے باقی سارے لوگ بھی جیل چلے گئے تب بھی یہ ورکرز یہ کہتے رہیں گے کہ’’میاں دے نعرے وجن دے‘‘۔کیوں کہ انہیں اس چیز سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ شریف برادران نے کتنی کرپشن کی‘ان کا ایک ہی جواب ہے’’کھاتے ہیں تو لگاتے بھی تو ہیں‘‘۔ان جنونیوں اور پاگلوں کی اسی سوچ نے ملک کا ستیا ناس کر دیا اور یہ لوگ آج پھر بھی نہیں سدھرے۔

ُٓٓ آپ پاکستان تحریک انصاف کے ورکرز کا جائزہ لیں۔عمران خان نے دوسری اور تیسری شادی کی‘ان کی ریحام سے علیحدگی ہوئی مگر ان ورکرز کو کوئی فرق نہ پڑا۔خان کو یہودی ایجنٹ کہا گیا‘ان کو خلائی مخلوق کا نمائندہ کہا گیا مگر یہ سپورٹرز سر اٹھائے خان کو اپنا فخر سمجھتے رہے۔عمران خان نے دھرنے دیے‘شریف برادران کے خلاف زہر اگلا‘عوام کو بے وقوف اور گدھا کہتا رہا مگر جنونی ساتھ ڈٹ کر کھڑے رہے ۔عمران خان نے ایک نہیں بلکہ بیسیوں مرتبہ ایسے جذباتی اور کچے بیان دیے جن سے ان کا گراف بہت نیچے گیا مگریہ انصافین ’’اب آئے گا عمران ‘ بنے گا نیا پاکستان‘‘کے نعرے لگاتے رہے۔یہ جنون میں اس حد تک اندھے ہو گئے کہ گدھے پر نوازشریف کا نام لکھ کر ‘اسے مار مار کر اس کی ٹانگیں توڑ دیں۔یہ جنون کی وہ اسٹیج ہے جس کا نتیجہ صرف نقصان ہے اور کچھ نہیں۔ایساکیوں؟‘کیوں کہ یہ لوگ عمران خان سے جنون کی حد تک پیار کرتے ہیں‘ان کا ایمان ہے کہ عمران خان کبھی قوم سے جھوٹ نہیں بولے گا‘کبھی ملک کو نقصان نہیں پہنچائے گا اور نہ ہی کبھی عالمی طاقتوں کے سامنے ہمیں شرمندہ کرے گا لہٰذا یہ ہر حال میں عمران خان کے ساتھ ہیں اور اسے وزیر اعظم بنا کر دم لیں گے۔

قارئین آپ پاکستان پیپلز پارٹی کے ورکرز کو دیکھ لیں۔۲۰۱۳ء میں پی پی پی کا جب نام و نشان تک مٹ چکا تھا‘اس کے روکرز کے بھی اس کے سا تھ کھڑے رہے ‘یہ جانتے ہوئے بھی کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے تمام سیاست دانوں نے کرپشن کی انتہا کر دی‘ذرداری صاحب نے کسی سے کبھی کسی بجٹ اور خزانے کا حساب نہیں لیا۔اس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔آج جب ذرادری صاحب کے ۳۵ جعلی اکاؤنٹس کی بھی تصدیق ہو گئی مگر ان کے نظریاتی ورکرز ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور آج بھی کہتے ہیں کہ’’بھٹوزندہ ہے‘‘۔یہ بھٹو کو کبھی مرنے نہیں دیں گے۔آپ اندازہ کریں کہ پاکستان کی تین اہم ترین جماعتوں کے سپورٹرز کا یہ حال ہے‘تو باقی کا کیا ہوگا۔اگر چہ تمام جماعتوں کے سپورٹرز سے جماعت کا مینی فیسٹو پوچھ لیں‘نوے فیصدکو نہیں پتا ہوگا مگر یہ پکے’’نظریاتی ‘‘ہیں۔میں آج اس کالم کے توسط سے ہاتھ جوڑ کے گزارش کروں گا کہ خدا کے لیے اب کے بار جنون اور جوش سے نہیں ہوش سے انتخاب کریں‘یہ ملک اگر اب دوبارہ پانچ سال کے لیے لٹیروں کے ہاتھوں میں چلا گیا تو جو باقی رہ گیا ہے اس کا بھی ستیا ناس ہو جائے گا‘اب یہ ملک کسی بھی نقصان کا متحمل نہیں ہو سکتا۔خدارا اب اپنی اندھی تقلید کو ایک جانب رکھتے ہوئے کسی ایسے شخص کا انتخاب کریں جو واقعی آپ کو رسوا نہ کرے بلکہ دنیا کے سامنے آپ کا سر فخر سے بلند کرے۔ہمیں ایسا کیوں لگتا ہے کہ ملک جہاں مرضی جائے‘ہمیں اپنی سیاسی جماعت اور سیاسی بت کی پوجا نہیں چھوڑنی چاہیے۔یہ ہٹ دھرمی اور اندھی تقلید ہمیں کہاں سے کہاں لے آئی‘ہم اس بارے میں کیوں نہیں سوچتے؟خدا کے لیے اس بار تو اس بارے میں سنجیدگی سے سوچیں کیوں کہ یہ آخری موقع ہے۔اب اگر ہم نے ہٹ دھرمی سے کام لیا تو یقین کریں ہمارے پاس نہ تو ملک سلامت بچے گا اور نہ ہی یہ قوم۔


ای پیپر