رائو انوار کو دھماکہ خیز مواد کیس میں بھی ضمانت مل گئی
20 جولائی 2018 (15:41) 2018-07-20

کراچی:انسداد دہشت گردی کی عدالت نے نقیب اللہ قتل کیس کے مرکزی ملزم را ئوانوار کی دھماکا خیزاد مواد رکھنے کے کیس میں بھی ضمانت منظور کرلی۔ نقیب اللہ ماورائے عدالت قتل کیس کے مرکزی ملزم را ئوانوار کی اس سے قبل بھی عدالت نے ضمانت منظور کی تھی اور 10 لاکھ روپے زرضمانت کے مچلکے جمع کرانے کاحکم دیا لیکن غیر قانونی اسلحہ اور دھماکا خیز مواد رکھنے کے مقدمے میں ضمانت نہ ہونے کے باعث انہیں رہائی نہیں مل سکی تھی۔


تفصیلات کے مطابق کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں را ئوانوار کے خلاف غیر قانونی اسلحہ اور دھماکا خیز مواد رکھنے سے متعلق کیس کی سماعت کی اور ملزم کی درخواست ضمانت منظور کرلی۔عدالت نے را ئوانوار کو 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔13 جنوری کو ملیر کے علاقے شاہ لطیف ٹائون میں سابق ایس ایس پی ملیر رائو انوار نے نوجوان نقیب اللہ محسود کو دیگر 3 افراد کے ہمراہ دہشت گرد قرار دے کر مقابلے میں مار دیا تھا۔بعدازاں 27سالہ نوجوان نقیب محسود کے سوشل میڈیا اکائونٹ پر اس کی تصاویر اور فنکارانہ مصروفیات کے باعث سوشل میڈیا پر خوب لے دے ہوئی اور پاکستانی میڈیا نے بھی اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس معاملے پر آواز اٹھائی اور وزیر داخلہ سندھ کو انکوائری کا حکم دیا۔


نقیب اللہ کے والد خان محمد نے واقعے کا مقدمہ درج کرایا تھا جس میں را ئوانوار کو نامزد کیا گیا تھا۔ پولیس کے اعلی افسران پر مشتمل کمیٹی نے معاملے کی تحقیقات کرکے را ئوانوار کے پولیس مقابلے کو جعلی قرار دیاتھااور نقیب اللہ کو بے گناہ قرار دے کر پولیس افسر کی گرفتاری کی سفارش کی تھی۔تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے ابتدائی رپورٹ میں را ئوانوار کو معطل کرنے کی سفارش کے بعد انہیں عہدے سے ہٹا کر نام ای سی ایل میں شامل کردیا گیا، جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے اس معاملے پر از خود نوٹس لیا گیا تھا۔ملزم رائو انوار کچھ عرصے تک روپوش رہے تاہم 21 مارچ کو وہ اچانک سپریم کورٹ میں پیش ہوگئے جہاں عدالت نے انہیں گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔


ای پیپر