Chaudhry Shujaat Hussain, Chaudhry Pervaiz Elahi, NAB, Lahore High Court, cases
20 جنوری 2021 (15:34) 2021-01-20

لاہور ہائیکورٹ نے چودھری برادران کے خلاف انکواٸری بند کیے جانے پر چیئرمین نیب کے اختیارات کے خلاف چوہدری شجاعت حسین اور پرویز الہی کی درخواست نمٹا دی۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس صداقت علی خان کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے چودھری پرویز الہی اور چودھری شجاعت حسین کی درخواستوں پر سماعت کی، عدالتی حکم پر ڈی جی نیب نے رپورٹ پیش کی۔

سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہی اور چودھری شجاعت حسین کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ نیب سیاسی انجینئرنگ کرنیوالے ادارہ ہے ، نیب کے کردار اور تحقیقات کے غلط انداز پر عدالتیں فیصلے بهی دے چکی ہیں ، انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب نے 20 سال پرانے معاملے کی دوبارہ تحقیقات کا حکم دیا ہے ، 20 سال قبل آمدن سے زائد اثاثہ جات کی مکمل تحقیقات کیں مگر کچھ ثابت نہ ہوا ۔ چیئرمین نیب کو 20 سال پرانی اور بند کی جانیوالی انکوائری دوبارہ کھولنے کا اختیار نہیں۔

چودھری شجاعت نے کہا کہ چودھری پرویز الہی کے خلاف بطور وزیر بلدیات کرپشن کے الزامات عائد کیے گئے مگر کوئی ٹھوس شواہد نہ ملے ، کسی بھی مالی ادارے کی جانب سے نیب کو کرپشن کے شواہد نہ ملے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نیب کا 20 برس پرانے آمدن سے زائد اثاثہ جات کی انکوائری دوبارہ کھولنے کا اقدام غیرقانونی قرار دیا جائے۔

ادھر ڈی جی نیب لاہور سلیم شہزاد ریکارڈ لے کر عدالت میں پیش ہوئے ، نیب کے پراسیکیوٹر چودھری خلیق الزماں نے عدالت کو بتایا کہ چودھری برادران کیخلاف نیب انکوائری میں ٹھوس شواہد نہیں ملے جس پر انکوائری بند کر دی ہے۔

سماعت کے بعد ڈی جی نیب سلیم شہزاد نے صحافیوں کے سوالوں کا جواب نہ دیا ، نیب کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ چودھری برادران کے خلاف تحقیقات بند کر دی ہیں ، اب ان کے خلاف نیب کوئی تحقیقات نہیں کر رہا، عدالت نے نیب وکیل کے بیان پر دائر درخواست نمٹا دی۔


ای پیپر