sajid hussaim malik columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
20 جنوری 2021 (12:45) 2021-01-20

غیر ملکی بینکوں میں پاکستانیوں کی مبینہ طور ناجائز ذرائع سے کمائی دولت کے بینک اکاونٹس کا سراغ لگانے اور اس دولت کی بازیابی میں معاونت فراہم کرنے کی دعویدار برطانوی کمپنی بڑاڈ شیٹ پر پانچوں گھی میں اور سر کڑاہی کا محاورہ صادق آتا ہے کہ ایک طرف اس کمپنی کا سربراہ کاوے موساوی (موسوی) پاکستانی عوام اور حکمرانوں پر الزامات کی طومار باندھے ہوئے ہے کہ "پاکستانی حکمران جھوٹے ، انھیں عوام کا کوئی درد نہیں ، یہ مفاد پرست، رشوت خور، کمیشن خور، یہ دھوکہ باز ، یہ جھوٹ بولنے والے اور وقت ضائع کرنے والے ہیں۔"تو دوسری طرف یہ کمپنی پاکستانی خزانے سے 28ملین ڈالر (450کروڑ روپے) کی بھاری رقم بطو ر تاوان وصول کر چکی ہے اور مزید 250کروڑ روپے وصول کرنے کی دعویدار ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ ایسی کمپنی جس کی کریڈیبلٹی مشکوک ہے اور جو خود زیادہ معتبر ، مستند اور قابل اعتبار نہیں سمجھی جاتی اور اس کا ایرانی نژاد سربراہ کاوے موسوی ایک ہی وقت میں متضاد خیالات اور دعووں کا اظہار کرتا پھرتا ہے ۔ وہ ہماری حکومتی یا دوسرے لفظوں میں نیب کی نااہلی ، نالائقی ، بد انتظامی اور سب سے بڑھ کر ہمارے موجودہ حکمرانوں کی مخصوص مقاصد کے حصول کے لیے معاملات کو ایک خاص زاویے (Angle)  سے دیکھنے کی روش کی بنا پر اپنے آپ کو بڑی معتبر ،  قابل اعتبار اور اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی مالک سراغ راساں کمپنی کے روپ میں پیش کر رہی ہے۔ 

مان لیا کہ براڈ شیٹ کے ساتھ نیب نے 2000ء میں معاہدہ کیا اور اسے 200ایسے پاکستانیوں کی فہرست دی گئی جن میں ایسے سیاست دانوں ،بیوروکریٹس ، سابقہ فوجی افسران اور کاروباری افراد کے نام شامل تھے جن کے بارے میں نیب یا اس وقت کی جنرل پرویز مشرف کی حکومت کا گمان تھا کہ ان کے بیرونی ملکوں میں بینک اکاونٹس ہیں جن میں ناجائز ذرائع سے کمائی دولت چھپائی گئی ہے۔ کہا گیا کہ براڈ شیٹ ان افراد کے اکاونٹس اور ان میں موجود رقوم کا سراغ لگائے گی تو اسے دریافت شدہ یا بازیافت رقم کا پانچواں حصہ (20%) بطور کمیشن یا معاوضہ دیا جائے گا۔ براڈ شیٹ نے اس ضمن میں کچھ اونا پونا کام کیا اور فہرست میں دیئے گئے بعض افراد جن میں خیبر پختون خواہ کے سابق وزیر اعلیٰ آفتاب شیر پائو ، پاک بحریہ کے سابق سربراہ ایڈمرل ریٹائر منصور الحق اور ان کے ساتھ عامر لودھی اور جلیل انصاری وغیرہ شامل تھے ان کے مبینہ طور پر بیرونی ملک اکاونٹس اور ان میں موجود رقومات کا سراغ لگایا۔براڈ شیٹ کی یہ سراغ رسانی کس حد تک معاہدے کی شرائط پر پورا اترتی تھی یا نہیں اس سے قطع نظر 2003میں نیب نے اس وقت کی حکومت کی ایماء پر براڈ شیٹ سے کیا گیا معاہدہ منسوخ کردیا ۔ اس پر براڈ شیٹ نے چارٹرڈ انسٹی ٹیوٹ آف لندن کی مصالحتی عدالت میں نیب (حکومت پاکستان ) کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ۔ مصالحتی عدالت نے نیب پر تقریباً 28ملین ڈالر (450کروڑ روپے ( کا جرمانہ عائد کیا ۔ پچھلے دنوں لندن ہائی کورٹ کے فنانشل ڈویژن نے اس پر مزید کاروائی کرتے ہوئے نیب (حکومتِ پاکستان) کو یہ رقم 30دسمبر تک براڈ شیٹ کوادا کرنے کا حتمی تھرڈ پارٹی حکم جاری کر دیا ۔ یونائیٹڈ بینک لندن برانچ میں پاکستان ہائی کمیشن برطانیہ کے اکاونٹس میں سے یہ رقم براڈ شیٹ کو اس طرح ادا کر دی گئی ہے کہ کسی سفارت خانے( ہائی کمیشن ) کے اکاونٹس میں سے جرمانے کی رقم ادا کرنے کی ایک نئی نظیر ہی قائم نہیں ہوئی بلکہ لندن ہائی کورٹ کے عدالتی فیصلے کا جادو اس طرح سر پر چڑھ کر بولا ہے کہ اگر جرمانے کی رقم ادا نہ کی جاتی تو 

پاکستانی ہائی کمیشن لندن کے اکاونٹس کو منجمد کر دیا جاتا۔ بات اسی پر ختم نہیں ہوئی کہ براڈ شیٹ 28ملین ڈالر (450کروڑ روپے) وصول کر چکی ہے بلکہ مقدمے کے اخراجات اور واجب الادا رقم پر سود کی مد میں مزید لاکھوں ڈالر (تقریبا 11ملین ڈالر / 250کروڑ روپے) کی وصولی کی بھی دعویدار ہے اور نیب کے وکلاء اس رقم کی ادائیگی کے مطالبے کو پورا کرنے کی تحریری ضمانت دے چکے ہیں۔ 

نیب اور براڈ شیٹ کے اس قضیے کی تفصیل میں اگر جائیں تو کئی ایسے پہلو سامنے آتے ہیں جن کو پڑھ سن کر جہاں بے ساختہ یہ کہنے کو جی چاہتا ہے کہ پڑھتا جا ، سنتا جا، شرماتا جا وہاں ملک میں پچھلے دو عشروں کے دوران اقتدار پر براجمان حکومتوں کی قومی مفاد اور قومی غیرت سے متعلقہ معاملات سے برتی بے اعتنائی ، بے رخی اور بے نیازی اور ہر گام اپنی اعلیٰ کارکردگی کا ڈھنڈورا پیٹنے والے ادارے احتساب یبورو (نیب) کی نااہلی اور نالائقی کا جان کر اور بھی دل دکھتا ہے ۔ براڈ شیٹ کا ایرانی نژاد سربراہ (CEO) کاوے موسوی لندن میں مقیم پاکستانی صحافی عرفان ہاشمی کے یوٹیوب چینل اور برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو دیئے گئے اپنے انٹرویوز میں پاکستانی حکمرانی کی مٹی ہی پلید نہیں کر چکا ہے بلکہ پاکستان کے مستقل ریاستی اداروں سے تعلق رکھنے والے ذمہ دار افراد پر کک بیکس، کمیشن اور رشوت لینے کا مطالبہ کرنے کے گھنوانے الزامات بھی عائد کر چکا ہے۔ لیکن ہمارے موجودہ حکمرانوں اورحزب مخالف کے اہم رہنماوںکی شان ہی نرالی ہے کہ وہ بجائے اس کے کہ وہ کاوے موسوی کے الزامات اور فرمودات کو جھوٹا اور ریاست پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی قرار دیں وہ انہیں ایک دوسرے کی کردار کشی کرنے اور ایک دوسرے کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ عمران خان اور ان کے ساتھیو کا کاوے موسوی کے بیانات کی آڑ لیکر سارا زور مسلم لیگ ن کے قائدین میاں محمد نواز شریف ، میاں شہباز شریف اور ان کے گھرانے کے دوسرے افراد کو چور، ڈاکو، لٹیرے، قومی دولت لوٹ کر غیر ملکی بینکوں میں چھپانے اور غیر ممالک میں جائیدادیں بنانے والے قرار دینے پر ہے تو محترمہ مریم نواز اور کچھ دوسرے مسلم لیگی راہنما کاوے موسوی کے بیانات کو اپنی بے گناہی اور اپنے پاک بازی کے ثبوت کے طور پر ہی پیش نہیں کر رہے ہیں بلکہ براڈ شیٹ کو 450کروڑ روپے کی خطیر رقم بطور زر تاوان ادا کیئے جانے کے فیصلے کو عمران خان اور ان کے حکومتی ساتھیو کی نااہلی ، نالائقی اور بد نیتی کا نتیجہ بھی قرار دے رہے ہیں۔

براڈ شیٹ کے حوالے سے کس کس بات کا ذکر کیا جائے اور دل کو جلایا جائے ۔ کیا اس سے بڑھ کر تکلیف کی کوئی بات ہو سکتی ہے کہ چارٹر ڈانسٹی ٹیوٹ آف لندن کی مصالحتی عدالت میں نیب کے خلاف براڈ شیٹ کا مقدمہ چل رہا تھا کہ 2008میں جیری جیمز نام کا ایک امریکی جو کسی زمانے میں براڈ شیٹ کمپنی میں حصہ دار تھا یہ دعویٰ لیکر سامنے آتا ہے کہ وہ براڈ شیٹ کا اصلی مالک ہے اور مصالحتی عدالت سے بالا بالا نیب سے اس کے معاملات طے کروا دے گا، اس کے لیے اسے 1.5ملین ڈالر معاوضہ دینا ہوگا۔نیب کے ذمہ داران کی سادگی یا نااہلی کہ اسے 1.5ملین ڈالر کی خطیر رقم ادا کر دی گئی لیکن بعد میں پتہ چلا کہ جیری جیمز کا دعویٰ جھوٹا اور براڈ شیٹ سے اس کا تعلق سب فراڈ ہے۔ اس طرح پاکستان کوبیٹھے بٹھائے  15لاکھ ڈالر کی خطیر رقم کا نقصان برداشت کر نا پڑا۔کاوے موسوی نے یہ دعویٰ بھی کر رکھا ہے کہ میاں محمد نواز شریف کے ایک عزیز جس کا نام انجم ڈار تھا اس سے رابطہ کرکے اسے 25ملین ڈالر رشوت کی پیش کش کی کہ وہ میاں محمد نواز شریف فیملی کی مبینہ دولت کی سراغ رسانی سے باز ہی نہ آجائے بلکہ انھیں قومی دولت لوٹ کر چھپانے کے الزام  سے بھی بری الذمہ قرار دیدے ۔انجم ڈار پر رشوت کی پیش کش کرنے کا الزام دھر کر کاوے موسوی نے میاں محمد نواز شریف کو قومی دولت لوٹنے کابالواسطہ ذمہ دار قرار دیا ہے لیکن اس بارے میں کوئی ٹھوس ثبوت مہیا نہیں کیا ہے ۔

براڈ شیٹ کے حوالے سے کس کس بات کا ذکر کیا جائے آخر میں سینئر صحافی ، معروف کالم نگار اور انگریزی معاصر دی نیوز کے ایڈیٹر انوسٹی گیشن جناب انصار عباسی کے "عمران خان کی گڈ گورنس "کے عنوان سے چھپنے والے ایک کالم کا براڈ شیٹ کے حوالے سے مختصر سا اقتباس نقل کیا جاتا ہے ۔ انصار عباسی لکھتے ہیں "اس کیس (براڈ شیٹ) میں بھی اربوں کا نقصان پاکستان کے قومی خزانے کو ہو چکا اورنہ جانے مزید کتنا نقصان ہوگا لیکن نہ کسی انکوائری کا حکم ہوا نہ ہی اس معاملے میں دلچسپی لی جا رہی ہے کہ ذمہ داروں کو پکٹرا جائے۔۔۔۔ ایک طرف لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کے اکاونٹس سے براڈ شیٹ کو اربوں کی ادائیگی کے لیے زبردستی پیسہ نکال لیا جاتا ہے اور دوسری طرف اسی براڈ شیٹ سے پی ٹی آئی حکومت نواز شریف کے سنگاپور میں پڑ ے مبینہ ایک ارب ڈالر کے حصول کے لیے بات چیت کرتی ہے اور اس بات کی متعلقہ دستاویزات میں یہ بھی سنگین الزام لگایا گیا کہ مبینہ طور پر پاکستان کے ایک اعلیٰ افسر نے براڈ شیٹ سے نواز شریف کے مبینہ ایک ارب ڈالر ریکور کرنے کی صورت میں کمیشن مانگا۔ ہاں حکومت اور وزیر اعظم کی طرف سے براڈ شیٹ کے معاملات کو ن لیگ اور نواز شریف کو ٹارگٹ کرنے کے لیے ضرور استعمال کیا جا رہا ہے۔ جواباً  ن لیگ بھی اس معاملہ پر سیاست کر رہی ہے  اور اس سے حکومت کے خلاف ایک سکینڈل بنا کر پیش کر رہی ہے۔"


ای پیپر