Hameed Ullah Bhatti columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
20 جنوری 2021 (12:44) 2021-01-20

گرفتار ٹی وی اینکر ارنب گوسوامی اور بی اے آر سی کے سربراہ کے پیغامات منظرِ عام پر آنے سے سفاک بھارت پہلی بار بے نقاب نہیں ہوابلکہ اکثر وبیشتر بھارتی چالبازیوں کا پردہ چاک اور سفاکیت بے نقاب ہوتی رہتی ہے پاکستان کے خلاف بنائی گئیں جعلی ویب سائٹس کا ای یو ڈس انفولیب نے بھانڈا پھوڑا جس سے بھارت کے جھوٹ، مکرو فریب اور سازشی کردار کی حقیقت کھلی اب پلوامہ حملے کی سچائی طشت ازبام ہونے سے بھارتی ساکھ مزید مجروح ہوئی ہے لیکن ہمارے لیے بھی کچھ کرنے کاکام ہے اگر کلبھوشن جیسے دہشت گرد کی گرفتاری سے ہم سفارتی سطح پر کوئی کامیابی حاصل نہیں کر سکے توسوال یہ ہے کہ کیا بھارت داعش،الاحرار،بی ایل اے،ٹی ٹی پی کے گٹھ جوڑ سے آئندہ بھی دہشت گردانہ کاروائیاں کرتا رہے گا تخریب کاروںکی سرپرستی ،قریبی روابط، اور مالی معاونت سربستہ راز نہیں جن کی گزشتہ برس اکتوبر میں امریکی جریدہ فارن پالیسی تفصیل شائع کرچکاہے بھارتی کمپنی سری واستوگروپ کی قائم سینکڑوں ویب سائٹس اور این جی اوز کے بے نقاب ہونے کے بعد مودی حکومت کے غیر اعلانیہ ترجمان ارنب گو سوامی کے انکشافات دل دہلا دینے والے ہیں اپنے فوجیوں کو نچلی ذات سے تعلق ہونے کی بناپر مار دینا اور پاکستان پر الزام لگانا بھارتی فطرت ہے جس کے خلاف عالمی سطح پر ایک مربوط اور منظم مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ 

پلوامہ حملے کی پاکستان نے مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اگر بھارت کے پاس شواہد ہیں تو پیش کرے کاروائی کریں گے نیز مشترکہ تحقیقات کی بھی پیشکش کی لیکن بھارت کی جنونی قیادت نے ہوش وخُرد کے ناخن لینے کی بجائے پیش کی گئی تجاویز کو رَد کرتے ہوئے بدلہ لینے کے اعلان کردیا لیکن پاکستان نے کوئی ایسی حرکت کرنے گریز کیا جس سے خطے کا امن دائو پر لگتا حالانکہ بھارت نے بات چیت کے دروازے بند کرنے اور بدلہ لینے کے سوا کچھ بھی تسلیم کرنے پرآمادہ نہ تھا بھارتی اینکر ارنب گوسوامی اور براڈ کاسٹ آڈیئنس ریسرچ کونسل کے سربراہ پراتھوداس گپتا کے درمیان ہونے والی واٹس ایپ لیک ہونے سے دنیا پر حقیقت آشکار ہو گئی ہے کہ کیسے نچلی ذات کے چالیس فوجیوں کو قتل کرانے کا ڈرامہ کیا گیا اور پھر پاک بھارت جنگ کی فضا بنائی گئی سچ سامنے آنے پر بھارت کورسوائی ، شرمندگی اورہزیمت کا سامنا ہے ایسا کسی اور ملک میں واقعہ ہوتا تو اب تک لوگ سڑکوں پر ہوتے اور اپنی قیادت کا محاسبہ کررہے ہوتے لیکن بھارتی حکومت کی طرح عوام بھی جنونی ہے کیونکہ ذات پات کی تقسیم مذہب میں شامل ہے اِس لیے نچلی ذات کا خون بہانے میں عار محسوس نہیں کیاجاتا لہٰذا یہ پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ پلوامہ میں اپنے فوجی مارنے اور پھر مگر مچھ کی طرح آنسو بہانے کا مودی ڈرامہ دنیا کوبتائے  کیونکہ دونوں شخصیات کی گفتگو سے بھارتی کالے سیاہ کردار میں ابہام نہیں رہا یہ اِس امر کا بین ثبوت ہے کہ پاکستان ایک ایسی امن پسند ریاست ہے جو کسی ملک میںعدم مداخلت کی پالیسی پر کاربند ہے اور کسی ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتا ضرورت اِس امر کی ہے کہ سفارتی محاذ پر فائدہ اُٹھانے کے لیے مستعدی وفراست سے لائحہ عمل بنا کر کام کیا جائے اور یہ جو ترجمانوں کی فوج ہے اُسے اپوزیشن کے لتے لینے کی بجائے ملکی مفاد ات کے تحفظ کے لیے استعمال کیا جائے۔

کیا اِس میں کسی کو شک ہے کہ پلوامہ حملے کے بعد پاکستان اور بھارت ٹکرائو کی پوزیشن پر اآگئے تھے مگر پاکستان کی امن پسندی اور تحمل سے ٹکرائو کی نوبت نہ آئی بھارتی طیاروں نے نہ صرف پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی بلکہ بالاکوٹ میں خیالی دہشت گردی کے مراکز تباہ کرنے کی غرض سے حملہ کیا مگر پاکستان کی فضائیہ نے بروقت حرکت میں آکر نہ صرف بھارت کے جنگی جہازوں کو راہ فراراختیار کر نے پر مجبور کر دیا بلکہ اگلے ہی دن بھارت کی حساس تنصیبات کے قریب بمباری کرکے ایسا دندان شکن جواب دیا جس سے نہ صرف دنیا کو پاکستان کی جنگی مہارت کا اندازہ ہوابلکہ دولڑاکاطیارے تباہ ہونے اور ایک پائلٹ ابھی نندن کی گرفتاری سے بھارت کو سُبکی کا سامنا کرنا پڑا۔

مادہ سانپ زیادہ ترنوزائیدہ سنپولیے کھا جاتی ہے ارنب گو سوامی پلوامہ حملے کے بعد گفتگو میں دعویٰ کرتا ہے کہ ہم جیت گئے ہیں حالانکہ چالیس فوجی مارے گئے اپنے فوجیوں کی جان جانے کو بھلا کوئی فتح کہہ سکتا ہے؟علاوہ ازیں بی اے آر سی کے سربراہ سے بات چیت کرتے ہوئے 23 فروری کو ارنب گوسوامی پاکستان کے حوالے سے بڑی خبر کی اطلاع دیتا ہے واضح طور پر لکھتا ہے کہ 26 فروری 2019کو پاکستان کے خلاف بھارت معمول سے کچھ بڑھ کر کاروائی کرنے والا ہے اُسے آرٹیکل 370 کی منسوخی کا بھی پیشگی علم تھایہ بات چیت گھٹیا بھارتی سوچ کی عکاس ہے اور اِس بات کی تصدیق ہے کہ مادہ سانپ تو اپنے سنپولیے کھاتی ہے لیکن بھارت ایسا ملک ہے جو اپنے محافظوں کو بھی نہیں بخشتا اور اُن کی جان لے لیتا ہے پلوامہ حملے میںپنہاں پیغام یہ ہے کہ جو ہندو قیادت انتخابی کامیابی کے لیے اپنے محافظوں کی سفاکی سے جان لے سکتی ہے اُس کے شر سے کوئی ملک یا قوم محفوظ نہیں رہ سکتی ۔   

بھارت بلاشبہ ہندو ریاست بننے کا سفر بڑی تیزی سے طے کرتا جارہا ہے اُس کے اِدارے اورایجنسیاں بھی بدمعاشی کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے یہ ایسا ملک ہے جو اپنی عوام کی غربت دور کرنے اور انھیں سہولتیں دینے کی بجائے خطے کا امن برباد کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے بی جے پی بزور ہندو راج قائم کرنے پر یقین رکھتی ہے اقلیتوں کی زندگی اجیرن بنانے کے ساتھ ہمسایہ ممالک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے مگر دنیا نے ریاستی بدمعاشی کی کچھ زیادہ مذمت نہیں کی بلکہ عملاََ چشم پوشی  اختیارکر رکھی ہے یہی وجہ ہے کہ نریندرمودی کی فاشسٹ حکومت بلاخوف و خطر مذموم منصوبوں پر عمل پیرا ہے لیکن ہندوراج سے چشم پوشی کرنے والوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ 2017  میں نئے سال کی تقریبات کے آغاز پر ترکی کے کلب پر ہونے والے حملے میں نہ صرف بھارتی شہریوں کے ملوث ہونے کی تصدیق ہو چکی بلکہ اسی برس نیو یارک سمیت اسٹاک ہوم حملوں میں بھی بھارتی شہری ملوث پائے گئے 2019 میں ایسٹر کے موقع پر سری لنکا میں ہونے والے بم دھماکوں کی تحقیقات میں بھی بھارتی ہاتھوں کی کارستانی کی تصدیق ہوچکی لہذا ضرورت اِس امر کی ہے کہ دنیا بھارتی خطرے اورسیاہ کاریوں کا نہ صرف ادراک کرے بلکہ سدِ باب کے لیے نتیجہ خیز لائحہ عمل ترتیب دے چین سے تجارتی جنگ کے لیے بھارت کو بطور مُہرہ استعمال کرنے والے امریکی بھی رویے پر نظرثانی کریں کہیں ایسا نہ ہو تاخیر سے دنیا کے امن کوایک مہیب خطرہ لپیٹ میں لے لے۔ 


ای پیپر