Dr Fareed Ahmed columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
20 جنوری 2021 (12:38) 2021-01-20

٭… پاک افواج دنیا کی ٹاپ ٹین…؟

٭… میرا ایمان ہے کہ قدرت کسی لمحہ بھی پاکیزہ دل اور نیک خصلت انسان کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونے دیتی۔ اس میں بھی شک نہیں کہ یہ دنیا مختلف ذہنوں، معاشروں اور تہذیبوں کا حسین امتزاج ہے۔ کچھ ایسے ہی عجیب و غریب خیالات میں گم صم مَیں کالم لکھنے بیٹھا تو روزنامہ نئی بات کی اس خبر پہ نظر پڑی تو جیسے بے نام سی خوشی پورے جسم میں سرایت کر گئی۔ یعنی ’’پاک فوج عالمی رینکنگ میں دنیا کی ٹاپ ٹین افواج میں شامل‘‘۔ الحمدللہ سچی قربانیاں رنگ لائیں اور گزشتہ کئی سالوں سے بالخصوص چند عشروں سے امن عالم کیلئے پاک فوج کا ہر قدم آزمائش اور ہر نظر کسی امتحان سے کم نہ تھی۔ دنیا کی کسی فوج میں اتنی ہلاکتیں نہ ہوئیں جتنے شہید پاک فوج نے اپنے کندھوں پے اٹھائے۔ صدشکر رنگ آسمان بدلا۔ دنیا نے حقیقت تسلیم کی اور آج عالمی سطح پر افواج کی صلاحیت اور کارکردگی کے اعتبار سے جاری ہونے والی درجہ بندی میں پاک فوج دنیا کی ٹاپ ٹین افواج میں شامل ہو گئی جبکہ دنیا کی طاقتور افواج کی 2021 کی رینکنگ رپورٹ کے مطابق پاک فوج نے گلوبل فائر پاور میں دسواں نمبر حاصل کر لیا ہے۔ اس سے قبل پاک فوج کی رینکنگ 15 تھی۔ یاد رہے کہ اس رینکنگ کی Measurment تقریباً 60 کے قریب ٹیکنیکل فیکٹرز کے پیش نظر ترتیب دی جاتی ہے۔ ان فیکٹرز میں تعداد، فنانشل پوزیشن، خطے کے حالات، جیسے عوامل کارفرما ہوت ہیں۔ اگرچہ دنیا کی طاقتور افواج میں امریکہ پہلے، روس دوسرے، چین تیسرے نمبر پر ہے مگر خوشی کی بات یہ ہے کہ دنیا کی پہلی پندرہ فوجی طاقتوں میں پاکستان کے علاوہ کسی کی رینکنگ میں کوئی ترقی نہیں ہوئی جبکہ یہ امر بھی قابل تحسین ہے کہ پاک فوج مالی 

وسائل میں دنیا کے بیشتر ممالک سے پیچھے ہونے کے باوجود صلاحیتوں اور کارکردگی میں دنیا کے ٹاپ ٹین ممالک میں شامل ہو گئی ہے۔

صَبا نے پھر دَر  زنداں پہ آ کے دی دستک

سحر قریب ہے دل سے کہو نہ گھبرائے

………………

٭… جھوٹا بھارت…؟

٭… بھارت پھر بے نقاب ہو گیا۔ ویسے تو 1948ء سے بھارتی دہشت گردی سے لے کر مقبوضہ جموں و کشمیر میں مداخلت تک وہ کون سا ایسا پراپیگنڈہ ہے جو دنیا کے سامنے بے نقاب نہیں ہوا۔ مگر کیا کیا جائے۔ دنیا کا آسمان بھی الگ ہے اور انصاف کا پیمانہ بھی الگ ہے۔ بہرحال آج ایک بار پھر بھارت کے ٹی وی اینکر ارنب گوسوامی اور بی اے آر سی کے سربراہ کے مابین جونہی واٹس ایپ پیغامات دنیا نے دیکھے تو انگشت بدنداں رہ گئی۔ کیونکہ ان سے پتا چلتا ہے کہ نہ صرف بالاکوٹ حملے کا پیشگی منصوبہ تھا بلکہ پلوامہ حملہ بھی مودی جو بھارتی فوجیوں کی لاشوں پر کھڑا ہو کر ڈرامہ رچاتا رہا اور مگرمچھ کے آنسو بہاتا رہا اس کے متعلق بھی خدا کی قدرت نے ارنب گوسوامی اور بھارتی براڈ کاسٹ آرڈیننس ریسرچ کونسل کے سربراہ پرتھوداس گپتا کی واٹس ایپ گفتگو نے سارے کا سارا ڈرامہ فلاپ کر دیا ہے۔ کیونکہ صرف جھوٹ کی بنیاد پر بھارت نے پلوامہ حملے کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالی تھی۔ خدا کا شکر ہے کہ اب پلوامہ حملے پر پاکستانی مؤقف جیت گیا ہے۔ ارسطو نے کہا تھا کہ غربت انقلاب اور جرم کی ماں ہے ۔

………………

٭… چین ارونا چل پردیش میں…؟

٭… آج جس طرح سے بھارت میں معاشی، سیاسی اور معاشرتی کشمکش جاری ہے۔ ان حالات کے پیش نظر امکان غالب ہے کہ جارحیت پسندی کے چکر میں گھرا بھارت کسی ایسے خلفشار کا شکار ہو جائے کہ وہاں فوج اور عوام میں ٹکرائو کی نوبت آ جائے۔ بہرحال، نپولین بوناپارٹ نے کہا تھا کہ جنگ وحشی انسانوں کا پیشہ ہے جبکہ بھارت اس وقت ہر ایک سے جنگ لڑ رہا ہے۔ جس کے جواب میں تازہ خبر یہ ہے کہ بھارت گزشتہ کئی ماہ سے چین کو بھی دبے انداز میں جنگ کی دھمکیاں دے رہا تھا۔ جس کے نتیجے میں متعدد بار وہ ان غیرمفتوحہ سرحدات پے خفت بھی اٹھا چکا ہے۔ مگر اپنی سازشوں سے باز نہ آیا۔ لہٰذا چین نے بھارتی سازشوں کو بھانپتے ہوئے بھارت کے زیرقبضہ علاقے کے پانچ کلومیٹر اندر گھس کر ایک اپنا نیا گائوں آباد کر لیا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل چین اور بھارت کی لداخ میں بھی کئی جھڑپیں رپورٹ ہوئی ہیں۔ عالمی میڈیا تو بڑی خطرناک خبریں دے رہا ہے۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ لداخ میں بھی چین نے زیادہ تر مقامات پر قبضہ حاصل کر لیا ہے اور اب وہ مسلسل شرمندگی اور خفت سمیٹے ہوئے دم دبا کر ہر محاذ پر بھاگ رہا ہے کیونکہ خود بھارتی میڈیا اس کی تصدیق کر رہا ہے کہ سیٹلائٹ تصاویر سے صاف واضح ہے کہ چین نے متعدد فتوحات حاصل کرتے ہوئے بھارت کے کئی زیرقبضہ علاقوں پر اپنا تسلط قائم کر لیا ہے اور اب چینی افواج ضلع بالائی، سبانسری میں دریائے ٹساری چُو کے کنارے دکھائی دے رہی ہیں۔ جہاں چین نہ صرف نئی نئی سڑکیں بلکہ ملٹری پوسٹ بھی تعمیر کر رہا ہے۔ ہٹلر نے کہا تھا کہ بزدل کے پاس خواہ کتنا ہی بڑا ہتھیار ہو وقت آنے پر وہ استعمال نہیں کر سکتا۔ لیکن بہادر آدمی بے دست و پا بھی میدان فتح کر لے گا۔ 


ای پیپر