dr azhar waheed columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
20 جنوری 2021 (12:36) 2021-01-20

ولایت جوہر ِکلّیت ہے۔ ایک ولی اللہ کے نام ،کام اور پیغام کی بہت سی جہتیں ہوتی ہیں۔ اِس دَور کے ولی ٔ کامل حضرت واصف علی واصفؒ کی شخصیت کا مطالعہ کریں تو یہ حقیقت مزید واضح ہو جاتی ہے۔ آپؒ شاعروں میں شاعر ہیں ، ادیبوں میں ایک صاحبِ طرز ادیب ہیں ، دانش کی چوپال میں ثقہ دانشور آپؒ کا پانی بھرتے نظر آتے ہیں۔ اصلاحِ فکر کے باب میں آپؒ کو مصلح ِ پاکستان کہا جاتا ہے، اس موضوع پر ظہیر بدرکاایک ایم فل کا مقالہ تفصیل فراہم کرتا ہے۔ سالکین ِ طریقت آپؒ کی تحریروں کو’’کشف المحجوب‘‘ کی تشریحِ جدید کے طور پرلیتے ہیں۔’’نہج البلاغہ‘‘ کی نہج ِ بلاغت پر آپؒ کی تحریر و تقریر’’سلونی سلونی‘‘کی بازگشت ہے۔باطن کے رموز جاننے والی شخصیات نے آپؒ کو قطب ِ ارشاد لکھا۔ بہت سی خانقاہوں میں زیرِ تربیت سالکوں کو سب سے پہلے تصانیف ِ واصفؒ کا مطالعہ کرنے کا کہا جاتا ہے۔ فقر کا پرچار ایک کارِ دشوار ہے ، اِس لیے کہ اِس کے لیے خود فقیر ہونا شرط ہے۔ فقر روایت نہیں‘ درایت ہے، یہ گفتار نہیں‘ کردارہے!! تصوف روحِ دین ہے اور فکر واصفؒ روحِ تصوف ہے۔ ماہرینِ نفسیات معاشرے میں نفسیا تی رویوں پر تعلیماتِ واصفؒ کے اثرات کے موضوع پر مقالے لکھ چکے ہیں، نفسیاتی معالج ڈیپریشن کے مریضوں کو حضرتِ واصفؒ کی کتابیں پڑھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اُمید اور مثبت سوچ کے حوالے سے اقوالِ واصفؒ ہمارے موٹیوشنل اسپیکرز کی تقریروں میں جان ڈال دیتے ہیں۔

فکرِ واصفؒ کو اگر بڑے بڑے موضوعات میں بانٹا جائے تو بنیادی طور پر اِس کے تین بنیادی ستون نظر آتے ہیں۔ اخلاقیات، حبّ ِ رسولؐ اور پاکستانیت!!  یوں تو برصغیر میں جس صوفی کی بھی آمد ہوئی ‘ اْس نے دراصل پاکستان ہی کے لیے کام کیا۔ناموں میں نہ پڑیں، بیضۂ باطن میں بچے کا کوئی نام نہیں ہوتا، نام اس وقت تجویز کیا جاتا ہے جب بچہ ظاہر کی دنیا میں جنم لیتا ہے۔اجودھن کو پاک پتن بنانے والے بابا فریدالدین گنج شکر ؒ بھی دراصل پاکستان ہی کا دیباچہ لکھ رہے تھے۔پاک پتن کا سفر پاک وطن پر مکمل ہوتا ہے ہے۔ دَورِ جدید میں تصوّف کو ریاست سے ہم آہنگ کرنے کی ایک بھرپورشعوری کوشش ہمیں حضرت ِ واصف علی واصفؒ کے ہاں نظر آتی ہے۔

’’پاکستان نور ہے، نور کو زوال نہیں‘‘ یہ لازوال قول یاس کے  بھنور میں ڈولتے ہوئے فکر کے سفینے کو اُمید کے ساحل پر لنگر انداز کر رہا ہے۔ اِس قول کی وضاحت آپؒ نے خود ہی فرمائی ہے، اسی قول کے تسلسل میں کہا گیا تھا ’’ آپؐ ہی کی بخشی ہوئی نورِ ایمان کی روشنی میں پاکستان بنا اور آپؐ ہی کے فیض ِ نظر سے اِس کا قیام و دَوام ممکن ہے‘‘ آپؒ کا فرمان ہے’’ اِس ملک کی خدمت اسلام کی خدمت ہے‘‘  

مسالک اور فرقوں کی تقسیم اور تفریق تودُور کی بات‘ وحدت ِ ملت کے تقاضوں کے پیشِ نظر آپؒ طریقت کے سلاسل کو بھی سلسلۂ پاکستان میں ضم کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ آپؒ فرماتے ہیں کہ پاکستان بننے کے بعد ہم سب کی طریقت’’پاکستانی‘‘ ہے، اور اِس طریقت کے بانی قائدِ اعظمؒ ہیں۔ وحدتِ ملت کے لیے وحدتِ فکر کا ہونا لازم ہے۔ نصابِ تعلیم سے مستقبل کا نصابِ فکر متعین ہوتا ہے۔ نصابِ تعلیم کے یکساں ہونے کی نصیحت آپؒ نے آج سے پینتس برس قبل کر دی تھی۔ مقام ِ شکر ہے کہ آج یکساں تعلیمی نصاب پر بات ہو رہی ہے۔  نصاب مرتب کرنے والوں کو مضامینِ واصفؒ اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹی کی سطح پر شامل کرنے چاہییں۔ فکرِ واصفؒ وحدتِ ملت کے لیے ایک ایسا فکری سرمایہ ہے جس کا اسلوب جدید ہے اور جوہر قدیم !!   

ایک محفل میں کسی نے سوال کیا کہ اسلام تو ایک مقدس آفاقی دین ہے اور پاکستان ایک جغرافیائی خطہ ہے، اسلام کی آفاقی تقدیس کو ہم کسی جغرافیائی خطے سے کیسے منسلک کر سکتے ہیں؟ اِس کے جواب میں آپؒ نے ایک نکتہ ارشاد فرمایا جس سے یہ پیراڈاکس ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حل ہوگیا، آپؒ نے فرمایا کہ جس قطعۂ زمین کو مسجد کے لیے حاصل کر لیا جائے‘ وہ تقدیس کا حامل ہو جاتا ہے ، اس کا احترام شعائر اسلام کے احترام میں داخل ہو جاتا ہے۔ ایک ولی اللہ کی کوئی بات قرآن و حدیث کی سند کے بغیر نہیں ہوتی۔ وہ روحِ دین کی جہت سے خطاب کرتا ہے۔ شریعت کے کلیات میں یہ شامل ہے کہ جس جگہ مسجد بن جائے ‘ وہ جگہ کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں ہو سکتی۔ قائدِاعظمؒ سے پوچھیں کہ پاکستان کس مقصد کے لیے بنایا گیا۔ پاکستان جس مقصد کے لیے بنا ‘ اِس کے سوا اَب یہاں کوئی مقصد پنپنے کا نہیں ! پاکستان بر صغیر کے مسلمانوںکا ایک متفقہ اجتہاد ہے، اورکلیہ یہ ہے کہ جس بات پر ایک مرتبہ اجتہاد ہو چکا ہو‘ اس پر دوبارہ نہیں ہو سکتا۔ پاکستان مشیتِ خداوندی کا ایک جغرافیائی اظہار ہے۔ 

یہ سوال بھی کیا جاتا ہے کہ اگر’’پاکستان نور ہے اور نور کو زوال نہیں‘‘  تو پھر بنگلہ دیش کیسے بن گیا؟  بغیر کسی جذباتی لے دے کے ‘ اس فکری پیراڈاکس کو فکری انداز میں سمجھیں۔ پاکستان ’’خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیؐ‘‘ کے اصول پر بنا۔ یہ قوم الاقوام ہے، یہاں درجنوں قومیتیں آباد ہیں۔ علامہ اقبالؒ کی فکر کے زیر سایہ اور قاید اعظم ؒ کی سیادت کے زیر ِ قیادت مسلمانانِ ہند نے اپنے نسلی ، لسانی اورجغرافیائی عصبیتیں ترک کرتے ہوئے کلمۂ طیبہ کی شناخت پر ایک ملک کی صورت میں خود کو آباد کیا۔ یعنی ہجرت کرنے والوں نے اور یہاں انہیں قبول کرنے والوں نے اپنی تمام زمینی شناختیں موقوف کرتے ہوئے کلمے کی شناخت کے تحت خود کو ایک نئی شناخت دی۔ سیاسی اور اقتصادی وجوہات سے قطع نظر‘فکری اعتبار سے تخریب کاری یہ ہوئی کہ ہمارے بنگالی بھائیوں پر پاکستان بننے کے فوراً بعد ہی بنگالی زبان کی عصبیت غالب آگئی، قائد اعظمؒ کے پہلے دَورۂ مشرقی پاکستان ہی میں انہوں نے بنگالی زبان کا نعرہ لگانا شروع کردیا، اس پر قائدِ اعظمؒ نے سختی سے کہا کہ پاکستان کی قومی زبان اُرود ، اُرود اور صرف اُردو ہو گی۔اہلِ بنگال کو اُن لسانی عصبیت نے کلمے کی وحدت کے تحت اکٹھے ہونے والے گروہ سے فکری طور پر علیحدہ کر دیا۔ پس! پہلے فکر جدا ہوتا ہے‘ پھر جسم!!  پاکستان نہیں ٹوٹا ، بلکہ وہ پاکستان سے ٹوٹ گئے ، یعنی وہ پاکستانیت سے ٹوٹ گئے۔ بنگلہ دیش کے قیام نے نظریۂ پاکستان پر ضرب نہیں لگائی بلکہ نظریۂ پاکستان مزیدمستحکم ہو گیا… پاکستان سے نکلنے کے بعد منطقی طور پرچاہیے یہ تھاکہ مشرقی اور مغربی بنگال باہم ضم ہو جاتے ، بنگالی زبان اور کلچر کی سانجھ صدیوں سے موجود تھی۔ لیکن ایسا نہیں ہوا… نہ تو ہندوستان والوں نے انہیں اپنے ساتھ ضم کیا ، اور نہ انہوں نے گوارا کیا کہ واپس متحدہ ہندوستان میں جا شامل ہو جائیں۔کیوں؟؟ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ درمیان میں کلمہ حائل تھا۔ مسلمان کلمے سے جان نہیں چھڑوا سکتا ، اگر وہ کلمہ بھول بھی جائے تو ہندو اْسے یاد کروا دیتا ہے۔

 نظریۂ پاکستان دراصل دو قومی نظریہ ہے۔اس کی حفاظت از حد ضروری ہے۔ تخریب کار سب سے پہلے آپ کی فکر پر حملہ آور ہوتا ہے۔ نظریے کی حفاظت کے لیے شخصیت کا موجود ہو نا بہت ضروری ہوتا ہے۔ اگر نظریے کو نظریہ دینے والے شخصیت سے جدا کر دیا جائے تو نظریہ فکری تخریب کاروں کے ہاتھوں ہائی جیک ہو جاتا ہے۔ ہمیں نظریۂ پاکستان قائد اعظمؒ نے عطا کیا ہے، اس نظریے کی مختصر اور مستند الفاظ میں قائد ِ اعظمؒ نے یوں تعریف کر دی ہے’’پاکستان اْسی دن قائم ہو گیا تھا‘جس دن برصغیر میں پہلا ہندو کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوا تھا‘‘ نظریۂ پاکستان کی اس سے بہتر تعریف شاید ممکن نہیں۔ نظریۂ پاکستان کی حفاظت مطلوب ہے تو قائد اعظمؒ کے تقدس کی حفاظت کریں۔ قائدِ اعظمؒ کے تقدس پر انگشت نمائی بھی قابلِ تعزیر جرم تصور ہونا چاہیے۔ اپنے مشاہیر کی حفاظت کریں‘ آپ کا شہرہ قائم رہے گا۔ قلندرِ لاہوری علامہ اقبالؒ نے تخیل دیا ، قائدِ اعظم ؒ نے اس تخیل کو پیکر میں ڈھال کر دکھایا ، تعمیر کے بعد اب استحکام کا دَور ہے۔ استحکام فکری استحکام سے وابستہ ہے۔ فکری استحکام کے لیے قلندِر وقت حضرت واصف علی  واصفؒ کا فکری سرمایہ قدم قدم پر ہماری راہنمائی کرتاہے۔

( 18 جنوری‘ یومِ وصال حضرت واصف علی واصفؒ کی مناسبت سے لاہور ہائیکورٹ میں جاوید اقبال آڈیٹوریم میں ایک  تقریب میںگفتگو)


ای پیپر