مختاریا بمقابلہ خودمختار
20 جنوری 2021 2021-01-20

پارٹی لیڈر سے اصولی اختلاف کا جو نتیجہ نکلتا رہا ہے وہی اب کے بھی ہے ندیم افضل چن جیسے آدمی کو گنوانا اسی روایت کا تسلسل ہے جسے گزشتہ حکومتیں دہراتی رہی ہیں آنکھیں ترس گئیں کہ ”تبدیلی“ کا کوئی رنگ ہی کبھی دکھائی دے جائے جو گزشتہ سے پیوستہ نہ ہو مگر توبہ توبہ خدا خدا کیجئے.... وہی رعونت وہی خوشامدیوں کا نرغہ اور وہی سچ بولنے والے سے دوری خوامخواہ چودھری نثار یاد آگئے جو میاں نواز شریف کے کان میں کہا کرتے تھے” آپ عام انسان ہیں“ یاد رہے مگر فیصل واوڈا اور مرادسعید جیسے خوشامدیوں نے انسان کو ”انھابولا“(اندھا بہرہ) کردیا ہوتا ہے وہاں ”ناصح“ کہاں اچھے لگتے ہیں ظل سبحانی ”باادب باملاحظہ ہوشیار“ کی صدائیں دم لینے دیں تو کوئی اور بات ہو.... چلواقتصادی سطح پر اتنی تو تبدیلی ممکن ہوئی کہ لوگوں کاروٹی پانی”اُکائی ی“ختم ہوگیا کسان ”رڑھ گیا ،بتی “ بجھنے کو ہے چینی سے مٹھاس نکل کر قیمت نے کڑواہٹ بھردی آٹا چوری ہوگیا اور بیسیوں انٹرنیشنل منی سیکنڈلز مگر”ڈھڈ“ اب پراپیگنڈے سے کہاں”رجھتا“ ہے؟اخلاقی لحاظ سے اور خوشامدیوں کی چھٹی کرکے پرخلوص رائے سننے کا پہلا اصولی تبدیلی کا مظاہرہ بغیر”دھیلہ“ (پھر میاں شہبازشریف یاد آگئے) ہوسکتا ناہنگ لگی نہ پھٹکری‘، اور رنگ ہی ....چوکھا.... آتا تبدیلی کا رنگ جے جے کار ہوجاتی لوگ کہتے عمران خان نے بے شک لاشوں تک سے متھہ لگایا مگر ایسے کرنے سے روکنے والوں کا استعفیٰ قبول نہیں کیا .... مگر 

اِن بتوں کو خداسے کیا مطلب

توبہ توبہ خداخدا کیجئے....

یہ بت حکومت کے ”بت“ ہیں جن کی آنکھ نیلم بدن کانچ کے دل پتھر کا.... ان بتوں.... کے لباس میں کیسی ہی تقریریں کرنے والا وجود فٹ کردو یہ ”بت“ ہی رہیں گے ۔یہ لوگ رکے ہوئے منظر جیسے ہیں اپنا شعر” تاراج سے 

بتوں کی آنکھ میں کیا خواب جھلملاتا ہے

 رکا ہوا ہو جو منظر تو کون آتا ہے 

انسانی سامری کی تاریخ میں شاید ہی کسی نے اتنی عمدہ تشبیہ دی ہو جیسی فیض نے دی 

دل میں اب یوں تیرے بھولے ہوئے غم آتے ہیں

 جیسے بچھڑے ہوئے کعبے میں صنم آتے ہیں 

فراز کی تشبیہہ یہاں تک نہیں پہنچتی زیادہ بڑے شاعر ہونے کا فرق دیکھئے....

ابکے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں

 جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

 کتابوں میں سوکھے ہوئے پھول تو مل ہی جاتے ہیں مگر کعبے میں صنم کہاں آتے ہیںمحض بھولے بھٹکے خیال کی صورت....

خیال آتے ہیں دل میں تری محبت کے 

گلی سے جیسے گزرتا ہو کوئی ڈرتے ہوئے

کنویں میں ڈالا ہے یادوں نے پھر سے کرمنڈل

شکستہ اینٹوں پہ ڈرتی ہوں پاﺅں دھرتے ہوئے 

اپنی شاعری بھی درآتی ہے جو باقاعدہ سیاست دان ہوتے تھے وہ کافی ادب فہم تھے اپنے دندان ساز صدرنے بھی ایک آدھ مشاعرہ کرواکر تبدیلی کو ثابت کرنا چاہا مگر کہاں صاحب جو چیز سرے سے نہ ہو وہ کہاں سے آئے گی ۔

پہلے شیخ رشید کہا کرتے تھے سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا مگر اب تو لگتا ہے سمعی بصری معاونت بھی بالکل ہی آف ہے۔ 

ندیم افضل چن کی شخصیت ”مختاریا“ سے ہمدردی میں کافی ملک گیر شہرت حاصل کرچکی ہے جس میں ان کی ایک لفظ پنجاب کی گیلی مٹی میں نقش بناتا چلا جاتا ہے، انہوں نے خان کو بھی ”مختاریا“ سمجھ کر ہمدردی ویگانگت کا اشارہ دے دیا ہوگا مگر آگے ”مختاریا“ نہیں انتہائی ”خودمختار“ شخص کھڑا تھا۔ وہ مختاریا تھا جو ہمدردی ومحبت کی زبان سمجھتا تھا”خودمختار“ نہیں یہ بھی سچ ہے کہ خودمختار بننے کے لیے بھی کہیں نہ کہیں ”مختاریا“ بننا پڑتا ہے مگر مانگی ہوئی ”خودمختاری“ بڑی خوفناک ہوتی ہے، اس کا تکبر اس کا طنطنہ اس لیے زیادہ ہوتا ہے کہ اس کے لیے ضمیر کا سودا کرنا پڑا ہوتا ہے جو اندر سے کچو کے لگاتا رہتا ہے اس خودمختاری میں غصہ بھی شامل ہوتا ہے اس لیے ایسے شخص کو مشورہ دینے سے پہلے بہتر ہے بندہ مستعفی ہو جائے سچ مچ والا استعفیٰ دے جس کے ساتھ ہی گاڑی دفتر اور لوازمات چھوڑ دے، نہ واپسی کی تمنا اور نہ کوئی توقع بالکل ایسے ہی جیسے غالب نے کہا ۔

نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پرواہ

 نہ سہی گر میرے اشعار میں معنی نہ سہی

 پاکستانی سیاسی تاریخ میں جب کبھی چودھری نثار، ندیم افضل چن جیسی قبیل کی آوازیں آتی ہیں تو دل خوشی سے بھرجاتا ہے یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جواپنی انفرادی جگہ بناتے ہیں۔ 

خوشامدی بھی ایسے بے وقوف نہیں ہوتے انہیں پتہ ہوتا ہے کہ ہم حکمران کو بے وقوف بنارہے ہیں ایسے میں زرتاج گل یاد نہ آئے کیسے ممکن ہے جنہوں نے پوری نسائی وقار کی دھجیاں یہ بیان دے کر اُڑادیں کہ مجھے وزیراعظم کہیں گے جھاڑو لگاﺅ تو میں وہ بھی لگاﺅں گی آفرین ہے ان کے شوہر پر جنہوں نے اس بیان کے بعد انہیں بیگم بنارکھا ہے اصل میں لوگ غصہ بھی بغیر مقصد کے نہیں کرتے حقیقی غصہ کے لیے بھی خلوص کی ضرورت ہوتی ہے نہ محبت خالص نہ نفرت ایسے میں کیا توقع کیجئے.... مزید برآں محترمہ وزیراعظم کی بلین ڈالر سمائل کی بھی توصیف کرتی ہیں، حالانکہ واقعی عمران خان کہا کرتے تھے کہ میں خوشامدی جملوں پر کان نہیں دھروں گا.... شاید عقل ماﺅف ہوجاتی ہے حکمرانی کی گھن گرج میں تالیاں جب تک ”پھکڑی میں تبدیل نہ ہوجائیں سمجھ ہی نہیں آتی۔ پی ٹی آئی کارکنان نے خصوصی ٹریننگ وہدایت سے میڈیا اٹیک پالیسی کو سیکھا ہے اور یقیناً اس کے محرکات بھی ہوں گے ینگ تو اولڈ اینگری پالیسی شاید تبدیلی اور جوش وجذبے کی بھونڈی کاوش ہو مگر وقت نے ہمیشہ یہی ثابت کیا ہے کہ غلط کام کا غلط نتیجہ ہی ہوتا ہے شرافت میں صبر ہے اور صبر میں خاموشی ادب آداب کو کسی صورت ہاتھ سے نہ جانے دینا بہت بڑی کامیابی ہے غصہ میں گالیاں بکنا خود پر سے کنٹرول ختم ہوجانا ازخود ناکامی کا مظہر ہے انسان تب ناکام ہوتا ہے جب خود سے ہار جاتا ہے اس کا اختیار اس پر سے ختم ہوجاتا ہے اس میں فیصلہ سازی کی ہمت جواب دے جاتی ہے کامیابی وہ نہیں ہوتی جودکھائی دیتی ہے کامیابی پس پردہ مہین سی مسکراہٹ کو کہتے ہیں قہقہے کھوکھلے ہوتے ہیں، لوگ جب خوشامد کی نوکری کرکے گھر تنخواہ لے کرجاتے ہیں تو یقیناً (اگر زندہ ضمیر ہوں) محظوظ نہیں ہوسکتے ۔

ندیم افضل چن صاحب نے ثابت کردیا ہے کہ ابھی چودھری نثار کی مضبوط شخصیت اور اپنی رائے رکھنے والے سیاست دان کی لڑی چل رہی ہے مجھے حیرت ہوتی تھی کہ ابکے پی ٹی آئی ترجمانوں کی فوج کس طرح خان صاحب کو Defendکرے گی مگر آفرین ہے وہ کہتے رہے پہلے لاشیں سفر کرکے مٹی تلے جائیں پھر خان صاحب آئیں گے حالانکہ پتھرائی ہوئی آنکھوں میں کتنے ہی سوال ہوں گے جو بطور پدرانہ حکمران انہیں پڑھنے چاہیں تھے مچ کے شہیدوں کی پتھرائی آنکھوں کے نام اپنے اشعار....

سرخ آنچل میرے چہرے سے ہٹا دے کوئی

کب سے سوئی ہوں مجھے آکے جگا دے کوئی 

صدمہ دید سے پتھراگئی آنکھیں میری 

مژدہ ہجر سنا کر ہی رُلا دے کوئی 


ای پیپر