گائے کے بیوپاری اور پجاری 
20 جنوری 2021 2021-01-20

 قارئین محترم ، حضرت آدم علیہ السلام کے آگے سجدہ کرنے سے، اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے حکم کے باوجود، جس نے انکار کیا وہ ”شیطان“ کہلایا، اور شیطان، جن ہوتے ہیں، تاہم جنوں اور انسانوں میں ایک خاصیت مشترک ہوتی ہے جنوں کے بھی انسانوں کی طرح مذاہب ہوتے ہیں، مثلاً وہ مسلمان بھی ہوتے ہیں، اور ہندو، اور عیسائی بھی اس حوالے سے ہمارے حضور کے فرمان کے علاوہ اولیائے کرام نے بھی اس نازک مگر صلائے عام کیلئے لب کشائی کی ہے مولانا جلال الدین رومیؒفرماتے ہیں کہ جس کے افعال شیطانوں اور درندوں جیسے ہوتے ہیں، کریم لوگوں سے متعلق اس کو بدگمانی ہوتی ہے، حضرت علی ہجویریؒ فرماتے ہیں کہ نفس کی مثال شیطان جیسی ہوتی ہے، اور اس کی مخالفت وہ کرتے ہیں، جن کی عبادت وریاضت کمال کی ہوتی ہے، اسی لیے تو مفکر اسلام حضرت علامہ محمداقبالؒ فرماتے ہیں کہ 

کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے!

مومن کی یہ پہچان کہ گم اس میں آفاق

کل ساحل دریا پہ کہا مجھ سے خضر نے

تو ڈھونڈ رہا ہے سم افرنگ کا تریاق!

قارئین دراصل میں بات کررہا ہوں، مسلمانوں اور کافروں میں فرق ازلی وابدی کا، ان کا بھگوان ہمارا مرغوب پکوان ہے، کچھ عرصے قبل نیتن یاہو کے یار مودی کے دیس میں ایک اعلان ہوا تھا، کہ بھارت ماتا میں ہندوماتا، گائے ماتا کے باقاعدہ شناختی کارڈ بنیں گے، اور اس کے ساتھ ساتھ بھارت میں مسلمان قصابوں کی دوکانیں بند کرکے انہیں زبردستی بے روزگاری پر مجبور کردیا گیا، ایسا کرکے مودی نے بیک وقت دوفوائد حاصل کرلیے ایک طرف اس نے مسلمانوں کو قلاش کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، اور دوسری طرف اس نے دلی مطلوبہ مقصد بھی حاصل کرلیا، اس حوالے سے اس نے زبردستی اس پہ کام بھی شروع کرادیا ، اور تقریباً آدھا کام کرنے کے بعد اس پہ مزید کوئی پیش رفت اس لیے نہیں ہوسکی، کہ ایسا کرنا مشکل ہی نہیں بالکل ناممکن دکھائی دیتا ہے، کیونکہ اس وقت قول وفعل میں بے انتہا تضاد رکھنے والا مودی، جس کو ماں کہتا ہے، یعنی گائے ماتا، اپنی اس ماں کو بیچ دیتا ہے اور دنیا بھر میں وہ گائے برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، اور اس طرح وہ زرمبادلہ میں ڈالروں کے ان گنت ذخائر اکٹھا کرتا رہتا ہے۔ اس سے قبل صرف مودی کو ہی نہیں، تمام حکمرانوں کو یہ مسئلہ درپیش تھا، کہ بندروں کو وہ ہنومان کا نام دے کر اس کی پوجا کردینے کو ہی اپنی عبادت وریاضت کا حصہ سمجھ کر اپنی زادراہ سمجھتے تھے، اور اس طرح بندروں کی تعداد خصوصاً بھارتی صوبے بھارت کے دارالخلافے دلی سمیت ہزاروں کی تعداد میں موجود ہیں مودی اپنی ماں گاﺅماتا، کو تو بیچ دیتا ہے، مگر اپنے باپ بندر یعنی ”ہنومان“ کو اس لیے نہیں بیچ سکتا کہ ان کو دنیا میں خریدنے والا کوئی ایسا ملک نہیں ہے، اس لیے وہ ہزاروں کی تعداد میں دارالخلافے میں بھی سڑکوں پہ پھرتے رہتے ہیں، اور نازیباحرکات کے مرتکب ہوتے رہتے ہیں، گھروں، دکانوں اور دفتروں سے بعض اوقات فائلیں لے کر اور کبھی گھروں سے پکا ہوا کھانا ،سبزیاں، اور پھل لے کر غائب ہوجاتے ہیں، اور تو ہم کے مارے ہندو ان کو کچھ بھی نہیں کہتے، مگراندر ہی اندر تلملاتے رہ جاتے ہیں ۔

قارئین آپ کو سن کر حیرت ہوگی، کہ بھارت کی ہندوستان نما آبادی تو غالباً ایک ارب تیس کروڑ کے قریب ہے، جبکہ وہاں جانوروں کی تعداد تین ارب سے بڑھ گئی ہے، جبکہ پوری دنیا میں جانوروں کی آبادی پونے دس ارب ہے، مگر خدا کا شکر ہے، کہ وہ انسان ہیں جبکہ مودی کے بھارت، میں جب سے مودی آیا ہے، آئے روزہندومسلم فساد ہونا ایک معمول ہوگیا ہے، حتیٰ کہ گائے کا سودا کرتے ہوئے، گائے کو لے جاتے ہوئے، اور گھروں میں بھی اگر خفیہ طورپر کوئی مسلمان قصاب گائے ذبح کررہا ہو، تو اس کو فوراً موت کے گھاٹ اُتار دیا جاتا ہے، اس طرح سے دنیا میں یہ پیغام مودی نے ٹرمپ تک تو پہنچا دیا ہے مگر وہ ڈھیٹ حکمران حقوق انساں کے بارے میں پاکستان کی مذمت کرتا، اور بھارت کی تعریف کرتا نظر آتا ہے، ٹرمپ جس کے دل پہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے مودی کے طرح مہرلگادی ہے، اسے مقبوضہ کشمیر میں روزانہ کی بنیاد پر مسلمانوں کا قتل عام، عصمت دری، اور گھروں کو خاکستر کردینے کا بالکل پتہ نہیں چلتا، اور قدرت نے ان کی آنکھوں پہ پٹی باندھ دی ہے اگر گاﺅماتا کے ساتھ کسی مسلمان کو دیکھ لیا جاتا ہے، تو اسے فوراً قتل کردیا جاتا ہے، اس طرح سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، کہ ایک مسلمان کی جان کی قیمت، گائے کی جان سے کہیں زیادہ ارزاں ہے مگرحیرت ہے کہ بھارت کی معیشت گرنے کے باوجود بھی پاکستانی دوروپے میں بھارت کا ایک روپیہ آتا ہے، ایک حوالے سے مجھے ایک حدیث پاک یاد آئی ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے امور پر فائز فرمایا ہے، اور اس نے ان کی ضرورت اور فقرومحتاجی کو ختم نہ کیا، تو اللہ تعالیٰ بھی قیامت کے دن اس کی ضرورت اور حاجت ومحتاجی کو ختم نہیں کریں گے، میں اس حوالے سے مودی کے بھارتی کسانوں کے ساتھ روارکھے جانے والے سلوک کی بات اس لیے نہیں کروں گا، کہ وہ مسلمان نہیں، مگر اپنے پاک وطیب وطن عزیز میں، تحریک انصاف کے صف اول کے راہ بروراہ نما ندیم افضل چن نے سانحہ مچھ بلوچستان میں گیارہ افراد کی ہلاکت پر حکمرانوں کے نارواسلوک اور نامناسب روےے کی وجہ سے نخوت وغرور کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے استعفیٰ دے دیا، اس حوالے سے بہت سی مثالیں اور باتیں کی جاسکتی ہیں، مگر اس بات پہ آپ کو حیرت توضرور ہوگی، کہ کافر ملک میں جانوروں کے بھی شناختی کارڈ بن جاتے ہیں مگر ایک مملکت اسلامیہ جمہوریہ پاکستان میں، بلوچستان کے ہم وطن لوگوں کو اپنے شناختی کارڈ بنوانے کے لیے گیارہ انسانوں کو اپنی گردن تن سے جدا کرانی پڑتی ہے، یہ ایک ایسا مطالبہ ہے کہ جو متاثرین نے وزیراعظم کے سامنے پیش کیا اور انہوں نے کمال شفقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے گورنر ہاﺅس میں بیٹھ کر منظور کرلیا۔ (جزاک اللہ)


ای پیپر