ٹھنڈا موسم گزرنے کا انتظار
20 جنوری 2019 2019-01-20

لانے والے شاید مایوس ہوگئے ہیں اسی لیے معاملات آہ و فغاں تبدیل ہو رہے ہیں آنے والے تبدیلی نہیں لاسکے، اس لیے لانے والے تبدیلی کا سوچنے لگے ہیں تبدیلی پر پاپولر میرٹھی یاد آگئے کہا کہ

ایسی تبدیلی تو ہم نے کبھی دیکھی نہ سنی

اب اندھیرے نہ اجالے ہیں خدا خیر کرے

فی الحال سیاسی طوفان کی موجوں میں طغیانی ہے اچھی بات نہیں، طغیانی کسی خطرے کا پیش خیمہ بھی تو ہوسکتی ہے اس پر سرد سیاسی موسم، حد نگاہ تک دھند، دیکھنے والوں کو بھی کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ لانے والے بھی چپ ہیں کوئی دلاسہ نہ کوئی ٹوئٹ ہر محاذ پر خاموشی بس وزیر مشیر بولے جا رہے ہیں ،کاروبار ریاست منجمد ،کچھ بھی نہیں ہو رہا، مانگے تانگے کی غیبی امداد سے معاملات چل رہے ہیں، اسٹیٹ بینک کی رپورٹس خطرے کی گھنٹی بجا رہی ہیں، 6 ماہ میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں77 فیصد کمی ہوگئی، غیر ملکی قرضوں میں اس قلیل مدت کے دوران 22 کھرب 40 ارب کا اضافہ ہوا، سرکلر ڈیٹ 1400 ارب ہوگیا، کسی بزرجمہر وزیر بے تدبیر نے کہا تھا کہ روپے کی قدر گھٹانے سے برآمدات بڑھیں گی روپے کی قدر 33 فیصد گھٹ گئی ڈالر 144 روپے تک چلا گیا وزیر موصوف کے مطابق 150 روپے تک جاسکتا ہے، برآمدات کہا ں بڑھیں 24 ارب سے گھٹ کر 20 ارب ڈالر ہوگئیں جس سے تجارتی خسارہ 44 ارب ڈالر تک جا پہنچا، بیرون ملک سے ترسیلات زر میں اضافہ کے دعوے بھی ہوائی نکلے ترسیلات زر میں 40 کروڑ ڈالر کی کمی ہوگئی، بڑھوتی کہاں ہوئی؟ مہنگائی قابو سے باہر، غربت کی بجائے غریب ختم ہو رہے ہیں آبادی کنٹرول کرنے کا آسان نسخہ ڈھونڈا ہے بقول شخصے

کل پھر کسی غریب نے تنگ آ کے بھوک سے

اپنے جگر کے ٹکڑے کو نیلام کردیا

کاروبار ریاست چلے تو موسم خوشگوار ہو ، ابھی تو ’’ہوا خوشبو سے خالی ہے فضا میں اک گھٹن سی ہے، کہاں ہیں پھول والے تتلیاں آواز دیتی ہیں‘‘ لانے والے شاید اسی لیے مایوس ہوگئے ہیں اپوزیشن کو ’’گرین سگنل‘‘ مل رہے ہیں،دیکھانہیں چشم زدن میں متحد ہوگئی ،آصف زرداری تم روٹھے ہم چھوٹے کے قائل، نواز شریف کی شکل دیکھنے کے روا دار نہ تھے ایک ہی اجلاس میں شہباز شریف سے آن ملے وہ گلے سے آ ملے سارے گلے جاتے رہے، چار پانچ جماعتیں حلقہ اتحاد میں آگئیں باقی پر تول رہی ہیں علیحدگی سے پہلے اپنی شرائط منوانے کے لیے کوشاں ہیں مگر شرائط ماننا حکومت کے بس میں نہیں، راستے میں بعض سخت مقام آتے ہیں ،لانے والوں نے ہی بریکر بنا دیے تھے، پھلانگنا مشکل اتحادی جماعتیں بالآخر رسی تڑا کر بھاگ نکلیں گی، آزاد پرندوں کی ضرورت نہیں موسمی جانور ہیں موسم بدلتے خود ہی دانہ دنکا چگنے آجائیں گے لیکن صرف دو جماعتوں نے رسی تڑالی تو پھر اللہ خیر کرے تبدیلی آئی رے، اپوزیشن کسی اشارہ غیبی پر ہی متحد ہوئی ہے، مشترکہ حکمت عملی کے لیے کمیٹی تشکیل، ٹف ٹائم دینے پر اتفاق ،کسی نے کہا دس بارہ ا رکان کا فرق کوئی معنی نہیں رکھتا، ایک اشارے پر (شاید کوئی انگلی اٹھ جائے) کچے دھاگے سے بندھی آئیں گی سرکار میری کے مصداق چھلانگیں لگا کر ادھر جانے والے پھلانگ کر واپس آجائیں گے تب آنیاں جانیاں دیکھ کر دیکھنے والے حیران رہ جائیں گے، حالیہ دنوں میں ضمانت منظور، نیب کی درخواست مسترد، خاموشی کا صلہ یا واقعی، ’’آمد بہار کی ہے جو بلبل ہے نغمہ سنج، اڑتی سی اک خبر ہے زبانی طیور کی‘‘ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ 6 ماہ میں کیا کیا ہے؟ چور ڈاکو کی گردان سے تو مسائل حل نہیں ہوتے، آٹے میں نمک کے برابر بھی ریکوری نہیں ہوئی، وزیر اعظم ہاؤس کا خرچہ چلنا مشکل ملک کیسے چلے گا؟ بیرونی امداد بھی اندرونی آشیرواد سے ملی کسی نے سر سے ہاتھ اٹھا لیا تو کیا باقی بچے گا؟ رہے گا نام اللہ کا۔ کٹر قسم کے حامیوں نے بھی کہنا شروع کردیا کہ کیا ان کرتوتوں پر ریاست مدینہ بنے گی ایک ایس ایم ایس آیا کہ خدا کے لیے ریاست مدینہ کو بدنام مت کریں۔ خدا کی مدد سے مکہ فتح ہوگیا تو اہل مکہ کو لاتثریب علیکم الیوم کی خوشخبری سناتے ہوئے نبی ختمی مرتبتؐ نے ابو سفیان کے گھر میں پناہ لینے والوں کو بھی امان دینے کا اعلان فرمایا یہاں سیاسی دشمن کی زندگی کے در پے، انجائنا کا خطرہ ظاہر کیا گیا تو مذاق میں اڑا دیا، ایک منی وزیر نے کہا کچھ نہیں ہوا سہولتیں لینا چاہتے ہیں، پہلے ہی دل کی چیر پھاڑ ہوچکی، دل ناتواں کتنے صدمے برداشت کرے گا، اللہ نہ کرے کچھ ہوا تو کون ذمہ دار ہوگا، ذاتی معالج جیل کے دروازے پر دستک دیتے رہے لیکن ’’کسے نے میری بات نہ سنی ‘‘کے مصداق معائنہ کی اجازت نہ دی گئی، بلکہ کل آنے کا کہہ کر کھڑکی بند کردی گئی۔ یہ رویہ، یہ رعونت،تکبراورغرورکتنے دن اور چلے گا؟ موسم ٹھنڈا ہو رہا ہے ،گرما گرمی ختم ہو رہی ہے، انتظار کرنا ہوگا،’’ موسم گل کے آتے آتے کتنے چمن ویران ہوئے‘‘ اس ویرانی کو نام نہاد مبصرین بھی تبدیلی کا پیش خیمہ قرار دینے پر مجبور ہوئے ہیں، موسم بہار کے آثار نمودار ہونے پر ہی آصف زرداری نے کہا کہ ٹھنڈا موسم گزرنے کا انتظار کرلیا جائے موسم بہار آنے کو ہے کلیاں چٹخنے لگیں تب کارکنوں کو متحرک کریں گے، اپوزیشن کا اتحاد خوش آئند ہے بہت پہلے ہوجاتا تو شاید جو کچھ ہوا نہ ہوتا ،آصف زرداری نے جانے کیا سوچ کر وہ سب کچھ کیا جو نہیں کرنا چاہیے تھا۔ سیانے بیانے دونوں لیڈروں نے بڑی غلطیاں کی ہیں قوموں کی زندگی میں شاید چھوٹی موٹی لغزشیں تو معاف کردی جائیں لیکن’’ گناہ کبیرہ‘‘ معاف نہیں کیے جاتے دیکھا نہیں دونوں بھگت رہے ہیں اپوزیشن کا اتحاد نہ چاہنے والوں کو ایک آنکھ نہیں بھایا اس لیے گالم گلوچ، صوبائی حکومتیں گرانے کی سیاست شروع ہوگئی ہے قومی اسمبلی میں گرما گرمی اور پرجوش تقریروں کے دوران ذاتیات پر رکیک حملے ہونے لگے ہیں ،کسی نے شہباز شریف کو گالی دی اپوزیشن واک آؤٹ کر گئی ،کسی کو منانے کی بھی توفیق نہ ہوئی، ایک وفاقی وزیر کو تو شائستہ گفتگو سکھائی ہی نہیں گئی، چھوٹتے ہی بولے ’’کسی کا باپ بھی ہماری حکومت نہیں گرا سکتا، اللہ خیر کرے، 1956-57ء کا دور یاد آگیا جب قومی اسمبلی میں تلخ جملوں کے بعد حملوں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا شاید کوئی شہید بھی ہوا تھا۔ بزرگ کہتے ہیں وہیں سے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی بنیاد پڑی تھی، قومی اسمبلی کے اسپیکر مولوی تمیز الدین سخت ذہنی دباؤ میں تھے ایک دن اچانک ہارٹ اٹیک ہوا، خالق حقیقی سے جا ملے نماز جنازہ مولانا احتشام الحق نے پڑھائی، جسد خاکی ڈھاکہ پہنچا تو لاکھوں سوگواران کا ہجوم ایئر پورٹ پر امڈ آیا، اس کے بعد ہی جنرل ایوب خان کا مارشل لاء لگ گیا، جمہوریت کی بساط الٹ دی گئی اس کے بعد سے آج تک جمہوریت برہنہ سر ایوان اقتدار کی راہداریوں میں بین ڈالے پھر رہی ہے، 19 وزرائے اعظم منتخب ہوئے لیکن وقت سے پہلے رخصت کردیے گئے، غلطیاں وزرائے اعظم سے ہوئیں یا دوسروں سے خمیازہ ملک کو بھگتنا پڑا، اب تک بھگت رہا ہے، 20 ویں وزیر اعظم کو دونوں جانب سے خطرہ ہے اپوزیشن متحد ہوگئی تو اندر سے تبدیلی، شنید ہے کہ اپوزیشن کے حالیہ اجلاس میں تحریک عدم اعتماد کے آپشن پر بھی بات ہوئی لیکن کہا گیا کہ کیوں شہید بنانے پر تلے ہو، ٹھنڈا موسم گزرنے دو، چند دن انتظار، معاملات کھل رہے ہیں لندن کے بعد دبئی اور دبئی کے بعد نیو جرسی میں املاک منظر عام پر آرہی ہیں، ’’آج ہم کل تمہاری باری ہے‘‘ 19 کے بعد 20 ہی ہوتا ہے شاید اسی لیے آصف زرداری نے ٹھنڈا موسم گزرنے کا انتظار کرنے کا اشارہ دیا ہے، نئے سیٹ اپ میں نئی پیشرفت ہوسکتی ہے 43 از خود نوٹس تاریخ کا حصہ بن گئے ، اب نئے باب لکھے جائیں گے ایڈونچرازم اور ایکٹو ازم میں کمی ہوئی تو حالات بدلیں گے اچھے خواب دیکھنے چاہئیں آنکھوں کو سکھ دل کو سکون ملتا ہے تعبیر اللہ کے ہاتھ میں ہے جو رب العالمین ہے ،کیا حرج ہے رت بدلنے کا انتظار کرلینا چاہیے۔


ای پیپر