ہچکو لے لیتی معیشت
20 جنوری 2019 2019-01-20

ا گر قا رئین کرا م کو میں کچھ دیر کے لیئے تحر یکِ انصا ف کے دھر نو ں وا لے ایا م میں وا پس لے جا ؤ ں تو انہیں عمر ان خا ن اپنی پا ر ٹی کے بر سرِ اقتدا ر آ نے کی صو رت میں خو شحا لی بخشنے وا لے معا شی نظا م کی نو ید سنا تے نظر آ ئیں گے۔ مگر اب جبکہ ان کی پا رٹی ایک عر صے سے بر سرِ اقتدا ر آ چکی ہے تو ہو یہ رہا ہے کہ روز ایک نئی معاشی صورت حال کا منظر نامہ سامنے آتا ہے اور روز اقتصادی ماہرین، و زر ا ء اور حکومتی حلقے اس پر بحث کے بے نتیجہ اختتام پر پہنچتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کی رائے بھی معاشی یکسوئی، شفاف پیش رفت اور یقینی معاشی بریک تھرو کی بجائے اس استدلال کی طرف مڑ گئی کہ وزیر اعظم اور ان کے رفقاء نازک ترین اور اہم معاشی ایشوز پر حقائق سے مکمل لا تعلقی برتتے ہوئے بیانات دے رہے ہیں جو صورتحال کی بہتری کے برعکس مارکیٹ میں قیاس آرائیوں کا سبب بنتے ہیں اور ملک کو سرمایہ کاری کے امکانات مزید دھندلاہٹ کا شکار ہیں۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی ششماہی جولائی تا دسمبر کے دوران غیرملکی سرمایہ کاری میں غیر معمولی کمی آئی۔ اس کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی تا دسمبر مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری 77 فیصد کم رہی۔ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے دوران 3 ارب 95 کروڑ ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری کی گئی تھی جو رواں مالی سال 90 کروڑ ڈالر تک محدود رہی۔ اسی طرح 3 ارب ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ 6 ماہ کے دوران براہِ راست غیرملکی سرمایہ کاری کی مالیت 19 فیصد کمی سے ایک ارب 31 کروڑ ڈالر رہی۔ انہوں نے 42 کروڑ ڈالر کی پورٹ فولیو سرمایہ کاری نکال لی ۔ یوں یہ ایک ارب 50 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں 90 کروڑ ڈالر تک محدود رہی۔ دسمبر 2018ء کے دوران مجموعی غیرملکی سرمایہ کاری23 کروڑ ڈالر رہی جس میں براہِ راست غیرملکی سرمایہ کاری 32 کروڑ ڈالر اور پورٹ فولیو سرمایہ کاری منفی 9 کروڑ ڈالر رہی۔ دسمبر 2017ء میں دسمبر 2018ء کی ایف ڈی آئی قدرے زائد رہی۔ جبکہ دسمبر 2017ء میں براہِ راست غیرملکی سرمایہ کاری 27 کروڑ 28 لاکھ ڈالر تھی۔ غیرملکی سرمایہ کاری میں نمایاں کمی گزشتہ دور حکومت میں یورو بانڈز کے ذریعے حاصل کردہ قرضوں کا نتیجہ ہے۔ اس نے 5 سالہ مدت کے لیے ایک ارب ڈالر کے سکوک اور 10 سالہ مدت کے لیے ڈیڑھ ارب ڈالر کے بانڈز فروخت کیے تھے جن پر شرح منافع بالترتیب 5.625 اور 6.875 فیصد مقرر کی گئی۔ موجودہ حکومت نے عالمی منڈی میں تاحال بانڈ جاری نہیں کیے جبکہ مالیاتی جمود کے اس غیر یقینی تناظر میں وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کا رجائیت پسندی کے ساتھ کہنا ہے کہ چین کے بی آر آئی پروگرام کے تحت چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ کی تکمیل اور توسیع سے یہ خطہ 21 ویں صدی کی عالمی معیشت کا محور بن جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دوست ممالک نے مشکل وقت میں ساتھ دیا ہے، یہ آخری مرتبہ ہے کہ پاکستان نے مدد مانگی ہے۔ ہم ایران، بھارت اور ترکی سمیت تمام ہمسایہ اور علاقائی ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات بڑھانا چاہتے ہیں۔ پاکستان کو ایسی معیشت بنادیں گے کہ آئندہ بیرونی پروگرام کی ضرورت نہ پڑے۔ انہوں نے متحدہ عرب امارات اور دیگر دوست ممالک سمیت سب کو یقین دہانی کرائی کہ یہ آخری مرتبہ ہے کہ جب پاکستان نے ان سے مدد لی ہے۔وفا قی وز یرِ خز ا نہ کے ان بیا نا ت کی رو شنی میں یہی دعا کی جاسکتی ہے کہ خدا کرے یہ سب خوا ب نہیں بلکہ حقیقت ثا بت ہو۔ البتہ یہ دعا مانگتے وقت حا ل کی صو رتِ حا ل سے آ نکھیں چرا نا خو د کو دھو کا دینے والی حر کت ہو گی۔ کیو نکہ سٹیٹ بینک ہی کی رپو رٹ کے مطا بق رواں ما لی سا ل کے ابتد ائی چھ ما ہ کے دورا ن بیرو نی سرما یہ کا ری میں ا نیس فیصد کمی آچکی ہے۔ رو پے کی قیمت میں پچھلے سا ل، یعنی جنوری تا دسمبر تیس فیصد کمی وا قع ہو ئی ہے اور اس میں بڑا حصہ تحر یکِ انصا ف کی حکو مت کا ہے۔ گو پچھلی حکو مت یعنی مسلم لیگ ن نے اپنا مو قف اعدا دو شما ر کی رو شنی میں بیا ن کیا مگر تحریک انصاف حکومت نے لیگی حکومت کے 5 سالہ اقتصادی اعداد و شمار مسترد کردیئے۔ حکومت نے گزشتہ 5 سالہ اقتصادی اعداد و شمار کی جانچ پڑتال کا عمل بھی شروع کردیا۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی مخدوم خسرو بختیار کا کہنا تھا کہ لیگی حکومت 5 سال میں تمام اقتصادی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ یہ دلچسپ حقیقت ہے کہ حکومتی وزراء بقول اپوزیشن رہنما اس بات پر متفق ہیں کہ معاشی مسائل کا سارا ملبہ ان پر ن لیگ نے گرایا ہے اور اس انداز فکر سے حکومت کو اپنا کوئی معاشی راستہ تلاش کرنے میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ تاہم اتنا ضرور ہوا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے وزیر توانائی اور پٹرولیم کو صوبوں کے ساتھ مل کر نئی انرجی پالیسی مرتب کرنے کی ہدایت کردی، تاکہ نئی انرجی پالیسی میں گیس اور تیل کے ذخائر تلاش کرنے سمیت ملک کو درپیش بحران سے نمٹنے کا پلان مرتب کیا جاسکے۔ بہرحال ہیجانی کیفیت کی لہر تاحال تازہ دم ہے۔ دو سری جا نب سندھ اسمبلی کے اجلاس میں بدھ کو گرما گرمی ہوئی، ایوان الزامات سے گونجتا رہا۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے پانی کی قلت اور ارسا کے معاملے پر تحریک التوا پر بحث کرتے ہوئے کہ سندھ کے ساتھ بھارت والا سلوک ہورہا ہے۔ جب سیلاب آتا ہے تو پانی سندھ کی طرف بھیج دیا جاتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ڈیم کے لیے پانی کی ضرورت پڑتی ہے۔ کیا ڈیم ہوا سے بھریں گے؟ مو جو دہ دور میں کسی بھی ملک کی معا شی حیثیت کو جا نچنے کا بڑا ذریعہ اس کی سٹا ک ما ر کیٹ سے جڑا ہو تا ہے۔ اسی تنا ظر میں اگر و طنِ عزیز کی سٹا ک ما رکیٹ کا جا ئز ہ لیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں انہی دنو ں 2 روزہ تیزی کے بعد کاروباری ہفتے کے تیسرے روز بدھ کو اتار چڑھاؤ کے بعدمندی رہی اور کے ایس ای 100 انڈیکس 36400, 3500, 39600 اور 36300 کی نفسیاتی حدوں سے گر گیا۔ مندی کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کے 50 ارب 3 کروڑ سے زائد ڈوب گئے۔ کاروباری حجم گزشتہ روز کی نسبت 24.10 فیصد کم جبکہ 65.46 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ ملکی معاشی ابتری کی صورتحال کے باعث مقامی سرمایہ کار تذبذب کا شکار نظر آئے اور سرمایہ کاری سے گریز کیا جس کے نتیجے میں تیزی کے اثرات زائل ہوگئے۔ کہنا یہ ہے کہ اس و قت ضرورت ایک روبسٹ اکنامک پالیسی کی تشکیل کی ہے جو ملکی معیشت کو اپنے پیروں پر جلد کھڑ اکرسکے۔ عوام ایک اور منی بجٹ اور روایتی اعداد و شمار کے گورکھ دھندے اور غیرملکی اکاؤنٹس کا پتا لگانے کے محض انکشافات سے زیادہ لوٹی ہوئی دولت کی فوری واپسی چاہتے ہیں۔ اگر عمر ان حکو مت ملک سے لو ٹ کر با ہر پہنچا ئی گئی دو لت وا پس لا نے میں مکمل طو ر پر کا میا ب ہو جا تی ہے تو اس کے بر سرِ اقتدا ر آ نے کی منطق کو ملکی مفاد کا نا م دیا جا سکے گا۔


ای پیپر