زرعی بحران اور چھوٹے کسانوں کی حالت زار
20 جنوری 2019 2019-01-20

وہ کسان جو زمین کا سینا چیر کر فصلیں اُگاتے ہیں۔ جن کے دم خم سے کھیت لہلہاتے ہیں۔ جو فصلوں کا اپنے بچوں کی طرح خیال رکھتے ہیں ۔ سردیوں کی یخ بستہ راتوں میں وہ کھیتوں کو پانی لگاتے ہیں۔ یہ کتنا مشکل اور تکلیف دہ ہوتا ہے۔ یہ وہی سمجھ سکتے ہیں جو کہ اس عمل سے گزرے ہوں۔

کسان جب کھیتوں میں بیج بوتے ہیں تو وہ چند خواہشات اور خواب بھی آنکھوں میں سجاتے ہیں۔ جیسے جیسے فصل بڑھتی ہے اور کھیت لہلہاتے ہیں تو ویسے ویسے ان کے سپنے اور خواب بھی پروان چڑھتے ہیں۔ کسی نے بیٹی کی شادی کرنی ہوتی ہے تو کسی نے ماں باپ کا علاج کروانا ہوتا ہے۔ کسی نے بیٹے بیٹی کی فیس ادا کرنی ہوتی ہے۔ کسی نے بیوی یا بہن کی کوئی فرمائش پوری کرنی ہوتی ہے۔ کسی کو قرض اتارنے کی فکر ہوتی ہے۔ ان سب کو اچھی فصل کا انتظار ہوتا ہے۔ وہ اس امید پر مہینوں محبت کرتے ہیں کہ جب فصل تیار ہو جائے گی تو انہیں ان کی محنت کا صلہ مل جائے گا ۔

وہ کسان جو اپنی فصل کو جانوروں اور موسمی اثرات سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے وہ اس مقصد کے لیے راتوں کو جاگتا ہے۔ مگر جب وہ خود ہی اپنی محنت سے اگائی گئی فصل کو آگ لگاتا ہے۔ اسے لاہور کی مال روڈ پر پھینک دیتا ہے۔ کھیتوں میں ہل چلانے اور فصلوں کی دیکھ بھال کرنے کی بجائے وہ ملک کے شہروں کی سڑکوں پر دھرنا دیتا ہے اور حکومت کے خلاف نعرے لگاتا ہے تو یہ اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں ہے کہ وہ کتنا دکھی اور تکلیف میں ہے ۔ کسان کے لیے اس فصل کو آگ لگانا اور اسے ضائع کرنا کتنا تکلیف دہ اور مشکل مرحلہ ہو گا ۔ جسے وہ اپنے خون پسینے سے پروان چڑھاتا ہے۔ لیکن جب وہ یہ سب کچھ کرنے پر مجبور ہو جائے تو اس کی بے بسی، تکلیف اور غصے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ پنجاب کے کسان آج کل اسی قسم کی کیفیت سے دو چار ہیں۔ اور جب میں کسانوں کی بات کر رہا ہوں تو میری مراد ہر گز شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین جیسے بڑے زمیدار نہیں ہیں بلکہ چھوٹی ملکیت رکھنے والے کسان ہیں۔ کیونکہ آج کل تو ہزاروں ایکڑ کے مالک جاگیردار بھی خود کو کسان کہلوانا پسند کرتے ہیں۔ اس لیے یہ وضاحت ضروری ہے ۔ ان جاگیرداروں اور بڑے زمینداروں کے مجھ جیسے چھوٹے سے قلم کار کی ضرورت نہیں ہے وہ خود ہر ایوان میں موجود ہیں اور حکمران طبقے کا اہم ترین قصہ ہیں۔

اس وقت پنجاب کے کسان بری طرح پس رہے ہیں۔ ان کو اپنی فصلوں کا مناسب معاوضہ اور قیمت نہیں مل رہی۔ کسانوں کی آنکھوں میں سجے خواب اور دل میں مچلتی خواہشات بجھ چکی ہیں۔ ان کی امیدیں مایوسی میں بدل گئی ہیں۔ جن کسانوں نے اس امید پر آلو کاشت کیے تھے کہ جب فصل تیار ہو گی تو اسے بیچ کر وہ اپنی ضروریات پوری کریں گے۔ وہ تمام قرض چکائیں گے جو انہوں نے فصل بونے سے کاٹنے تک لیا تھا ۔ مگر جب آلو کی قیمت اس حد تک گر جائے کہ اسے بیچ کر خرچہ بھی پورا نہ ہو تو پھر مایوسی اور غصے کے سوا کسانوں سے اور کسی رد عمل کی توقع کی جا سکتی ہے۔

جب کسان کا خرچہ 9 روپے فی کلو ہو اور اسے یہ آلو 4 سے5 روپے فی کلو میں فروخت کرنا پڑے تو اس کا گزارہ کیسے ہو گا۔ اس کی معیشت کا پہیہ کیسے چلے گا ۔ ایسی صورت حال میں اس کے پاس احتجاج کے سوا اور کیا راستہ بچتا ہے۔ یہ احتجاج سڑکوں پر بھی ہوتا ہے اور ٹوٹے دل کے ساتھ کھیتوں میں بھی۔ مگر لگتا ہے کہ حکومت کو دونوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ حکومت کو معاشی اعداد و شمار کو درست کرنے سے فرصت ملے گی تو وہ کسانوں کی حالت زار پر توجہ دے گی ۔

1947 ء میں آزادی کے وقت پاکستان ایک زرعی سماج تھا۔ معیشت کا زیادہ دارو مدار زراعت اور تجارت پر تھا ۔ گزشتہ 71 برسوں میں حکمران طبقات پاکستان کی نہ تو صنعتی سماج میں تبدیل کر سکے ہیں اور نہ زراعت کو جدید خطوط پر استوار کر سکے ہیں۔ زرعی شعبہ ایک بحرانی کیفیت سے دو چار ہے مگر نہ تو گزشتہ حکومت نے اس بحرانی کیفیت کو ختم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے اور نہ ہی موجودہ حکومت سنجیدگی سے اس معاملے کو دیکھ رہی ہے۔

اس وقت زراعت کے حوالے سے دو اہم مسئلے ہیں ۔ ایک طرف تو بڑی زمینداری اور جاگیرداری موجود ہے ۔ 21 ویں صدی میں بھی ایک ایک خاندان کے پاس ہزاروں ایکڑ زمین موجود ہے ۔ جب تک بڑی زمینداریوں کا خاتمہ نہیں ہوتا اور زرعی اصلاحات کے ذریعے جاگیرداری کی باقیات کا مکمل خاتمہ نہیں ہوتا اور زمینیں باریوں اور بے زمین کسانوں میں تقسیم نہیں ہوتیں ،زراعت کو جدید خطوط پر استوار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح دوسری طرف 60 فیصد سے زائد کسانوں کے پاس چھوٹی ملکیت ہے۔ اتنے چھوٹے زرعی یونٹ میں جدید مشینری اور ٹیکنالوجی کا استعمال ممکن نہیں ہے۔ اس مسئلے کا حل اجتماعی فارمنگ ہے۔ اجتماعی فارمز کے ذریعے جدید خطوط پر زراعت کو ترقی دی جا سکتی ہے۔ بہت چھوٹی ملکیت بھی اس مسئلہ بن گیا ہے جسے حل کرنے کی ضرورت ہے۔

گنے کے کاشت کار بھی بحرانی کیفیت سے دو چار ہیں۔ ہزاروں کسانوں کو ابھی تک پچھلے سال کے گنے کے پیسے شوگرملوں سے نہیں ملے۔ اس سیزن میں گنے کے سرکاری نرخ 180 روپے فی من ہیں مگر کسانوں سے اس نرخ پر گنا نہیں خریدا جا رہا۔ کئی علاقوں میں تو 100 سے 120 روپے میں گنا خریدا جا رہا ہے۔ کم قیمت اگر ایک عذاب ہے تو دوسری طرف کرشنگ سیزن دیر سے شروع ہونے کی وجہ سے بے شمار کسان بر وقت گندم کاشت نہیں کر سکے۔ شوگر مل مالکان کو نہ تو کسانوں کی پروا ہے اور نہ ہی ملکی قوانین اور قواعد و ضوابط کی ۔ اگر حکومت سرکاری نرخوں پر عملدرآمد نہیں کروا سکتی تو پھر وہ سرکاری نرخ مقرر کیوں کرتی ہے۔ منڈی کی حرکیات اور عوامل کے نام پر کسانوں کابد ترین استحصال کیا جا رہا ہے۔ جبکہ مڈل مین بھی بھر پور منافع کما رہے ہیں۔ مگر حکومت اس استحصال کو رکوانے کے لیے اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہی۔

شہروں میں رہنے والے صارف خوش ہیں کہ انہیں سستے داموں ٹماٹر، آلو، پیاز اور دیگر زرعی اجناس دستیاب ہیں۔ حکومت خوش ہے کہ افراط زر قابو میں ہے۔ سبزیاں اور پھل سستے ہیں۔ مگر کسانوں کا دیوالیہ نکل رہا ہے۔ ان کی معاشی حالت خراب ہو رہی ہے۔ زرعی بحرانی کیفیت کی وجہ سے دیہی غربت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

حکومت کو فوری طور پر بیجوں، کھاد، بجلی اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کرنے کے اقدامات کرنے چاہئیں۔ زرعی لاگت میں کمی کیے بغیر زرعی پیداوار کو منافع بخش بنانا ممکن نہیں ہے۔ پوری دنیا میں خوراک اور زرعی اجناس کی قیمتوں میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔ امریکہ اور یورپی یونین ہر سال اپنے کسانوں کو اربوں ڈالر سبسڈی فراہم کر رہے ہیں۔ مگر آئی ایم ایف اور عالمی بینک جیسے عالمی مالیاتی اداروں کے ذریعے کمزور معیشتوں کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ ہر طرح کی سبسڈی کو ختم کریں۔

حکومت اگر زرعی اجناس کی امدادی قیمت کو نہیں بڑھا سکتی تو کم از کم پیداواری لاگت کو ہی کم کر دے تاکہ کسان اپنا خون پسینہ بہا کر کم از کم اپنے خاندانوں کا پیٹ تو پال سکیں۔ وہ اپنے بچوں کو تعلیم دلا سکیں۔ وہ بیمار ہونے پر دوائی خرید سکیں۔


ای پیپر