اسلامیہ کالج، چند یادیں
20 جنوری 2019 2019-01-20

اسلامیہ کالج سے گھر جانے کے لیے نکلا۔ کچھ دور پیدل چلتا گیا۔ ریلوے روڈ پر کینووں کی ریڑھی نظر آ گئی۔ کینو میری کمزوری ہیں۔ وہیں کھڑے کھڑے بیس تیس کینو کھا گیا جب پیسے دیے تو ریڑھی کا مالک ایک نوجوان لڑکا پیسے نہ لے۔ کہنے لگا۔ سر شرمندہ نہ کریں۔ آپ کا شاگرد ہوں۔ آپ سے پیسے لیتا اچھا نہیں لگتا۔ ویسے بھی آج جو ہوں آپ کی وجہ سے ہوں۔

ہرٹال اور سرتال

ہرٹال جاری تھی اور ہرٹالیوں نے ایک احتجاجی جلسہ اسلامیہ کالج برائے خواتین، کوپر روڈ میں رکھا تھا۔ مرد حضرات اس جلسے میں شمولیت کے لیے خاصے بے قرار تھے اور کئی دنوں سے زور و شور سے تیاری جاری تھی۔ ادھر لاہور کی مقامی انتظامیہ نے یہ پورا جلسہ اٹھا لینے کا فیصلہ کر رکھا تھا اور ان کی بھی تیاری مکمل تھی۔ بروز جلسہ ہم سج دھج کر اپنے ایک کولیگ کے ساتھ اسلامیہ کالج کوپر روڈ کے گیٹ پر پہنچے۔ گیٹ بند ملا اور بند گیٹ پر چند پولیس اہلکار ملے۔ ہم نے بڑے چاو سے پوچھا۔ ادھر جلسہ تھا ؟ پولیس والے نے ہانک لگائی۔ دو بھارو اور آئے جے۔ بند گیٹ کے عقب سے ہٹے کٹے پولیس والوں کا ایک جتھہ نکلا اور انہوں نے آتے ہی ہمیں دبوچ لیا اور ایک کرخت آواز ہماری سماعت سے ٹکرائی۔ اٹھا کر ٹرک میں ڈال دو۔ ان کمبختوں نے ہمیں ایسے اٹھایا جیسے سیمنٹ کی بوری ڈوری ڈنڈا کرکے ٹرک میں پھینکتے ہیں۔ ٹرک میں نظر پڑی تو گرفتار ہرٹالیوں کی ہلکی ڈھولکی کی سر تال پر تواضع جاری تھی۔

بائیکاٹ بائیکاٹ

ایم اے انگریزی کی کلاس جاری تھی اور ہم چارلس ڈکنز کے ناول ہارڈ ٹائمز پر لیکچر دے رہے تھے۔ طلباء و طالبات انہماک سے یہ لیکچر سن رہے تھے۔ اتنی دیر میں کلاس روم کا دروازہ کھلا اور طلبہ یونین کے صدر جو کہ اس کلاس کے سٹوڈنٹ تھے، اندر داخل ہوئے۔ ہم نے مسکرا کر کہا۔ ماشااللہ آپ تشریف لائے ہیں۔ زہے نصیب۔ کلاس کے مقدر جاگ گئے۔ ہماری اس بے ساختگی پر پوری کلاس ہنسنے لگی اور صدر ساب مائنڈ کر کے الٹے قدموں باہر نکل گئے۔ کچھ دیر بعد باہر سے نعروں کی آوازیں آنے لگیں۔ بائیکاٹ بائیکاٹ ، سر طارق ہائے ہائے ، سر طارق نا منظور، بائیکاٹ بائیکاٹ، یعنی ہمارے خلاف یدھ چھڑ گیا تھا اور ہمارا اپنا ہارڈ ٹائم شروع ہو گیا تھا۔ ہم نے کلاس کو دیکھا جیسے کہہ رہے ہوں۔ آپ ہنس لیں اور کلاس نے ہمیں دیکھا جیسے کہہ رہی ہو۔ آپ جگتیں مار لیں پھر چند طلباء و طالبات نے کہا۔ سر آپ لیکچر جاری رکھیں۔ ہم ابھی آئے۔ پتا نہیں ان بچوں نے باہر کیا مذاکرات کیے لیکن کچھ دیر بعد نعروں کی آوازیں آنا بند ہو گئیں اور یہ بائیکاٹ خیر خیریت سے اختتام پزیر ہو گیا۔

کیسے کیسے لوگ

چائے پارٹی تھی۔ چنانچہ چائے تھی۔ ایک پلیٹ میں بسکٹ تھے اور برفی تھی۔فی پلیٹ چار بسکٹ تھے اور برفی کی چار ڈھیلیاں تھیں جو چائے کے ساتھ رکھی تھیں۔ ہم قطاروں میں تھے اور ہمارے ساتھ حسیم جاوید تھے اور احمد علیم تھے۔ ہم سے آگے جو صاحب تھے۔ انہوں نے اپنی پلیٹ میں برفی کی چاروں ڈھیلیاں منتقل کر لیں اور چار میں سے تین بسکٹ اٹھا لیے۔ ہمیں تقریباً غش سا پڑ گیا۔ مڑ کر حسیم جاوید اور احمد علیم کو خود ترسی والی نگاہوں سے دیکھا۔ انہوں نے آنکھوں آنکھوں میں حوصلہ دیا جب ہماری باری آئی تو ہم نے کچھ غصے اور کچھ طنزیہ طور پر اس پلیٹ میں رکھے آخری بسکٹ کو پلیٹ سمیت اٹھایا اور انہی صاحب کو آفر کرتے ہوئے کہا۔ کچھ لیں جناب ، اور ان جناب نے ہمارا شکریہ ادا کیا اور اس آخری، اکیلے ، ہماری چائے کی کل متاع حیات، قیمتی بسکٹ کو بھی اٹھا کر اپنی پلیٹ میں ڈال لیا اور ہم خالی خالی نظروں سے اس خالی پلیٹ کو دیکھتے رہ گئے۔ حسیم جاوید اور احمد علیم نے ہمیں خیر کیا معاف کرنا تھا۔ ہم خود اپنے اس طنزیہ اخلاق کو آج تک معاف نہیں کر پائے۔

سلام

ہم کلاس لینے کے لیے ڈیپارٹمنٹ سے نکلے تو ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ سے آمنا سامنا ہو گیا۔ فرمانے لگے۔ پرنسپل صاحب نے حکم جاری کیا ہے۔ آپ سے ایم اے کی کلاسز واپس لے لی جائیں۔ مزید فرمایا، آپ پرنسپل صاحب سے ابھی جا کر مل لیں۔ ہم نے وہیں سے یو ٹرن لیا اور سیدھا پرنسپل آفس پہنچ گئے۔ پرنسپل صاحب حسب معمول ایک دربار لگائے بیٹھے تھے۔ چائے اور خوشامد کا دور چل رہا تھا۔ بسکٹ کھائے جا رہے تھے اور پرنسپل صاحب کی عظمت، ذہانت ، فطانت ، دیانت کے گیت گائے جا رہے تھے اور یہ کہ ان کے انقلابی اقدامات نے کس طرح کالج ہذا کی کایا پلٹ دی ہے۔ ہمیں دیکھتے ہی پرنسپل صاحب نے کچھ چہک کر کہا۔ اب آپ کو ہماری یاد آئی۔ چھ ماہ سے آپ مجھے ملنے اور سلام کرنے نہیں آئے۔ ہم نے سامنے بیٹھے ایک خوشامدی کولیگ کو آنکھ ماری اور مکمل جھک کر پرنسپل صاحب کو ایک فرشی سلام پیش کیا اور اوپر اٹھتے ہوئے پرنسپل صاحب کو بھی شرارت سے ہلکی آنکھ مار دی۔ مابدولت ہماری اس لن ترانی پر ہلکا سا مسکرائے اور فرمایا۔ چلیں جائیں اور جا کر کلاس پڑھائیں اور ہمیں سلام کرنا نہ بھول جایا کریں۔ بس اتنی سی بات تھی۔


ای پیپر