فوٹو بشکریہ فیس بک

سی ٹی ڈی پنجاب نے ساہیوال واقعے پر نئی وضاحت جاری کر دی
20 جنوری 2019 (11:12) 2019-01-20

لاہور: سی ٹی ڈی پنجاب نے ساہیوال واقعے پر نئی وضاحت جاری کر دی، سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز سیف سٹی کیمرے سے ایک مشتبہ کار کی نشاندہی ہوئی، جس میں اگلی سیٹ پر 2 مرد موجود تھے اور وہ لاہور سے ساہیوال جارہے تھے۔ ساہیوال میں سی ٹی ڈی ٹیم کو کار کو روکنے کے احکامات دیے گئے، جس پر عمل کیا گیا تو کار نہیں رکی اور کار کے ڈرائیور ذیشان نے سی ٹی ڈی ٹیم پر فائرنگ شروع کردی۔

کار کے پیچھے آنے والے ایک موٹر سائیکل پر سوار 2 ملزمان نے بھی سی ٹی ڈی اہلکاروں پر فائرنگ کی۔ دو طرفہ فائرنگ کے تبادلے میں دہشت گرد ذیشان ہلاک ہوگیا، جبکہ اس کے ساتھ کار میں سوار خاندان کے افراد بھی گولیوں کا نشانہ بنے۔

ترجمان کے مطابق گاڑی کے کالے شیشوں کی وجہ سے پچھلی سیٹ پر بیٹھی خاتون اور بچے نظر نہیں آئے اور وہ بھی گولیوں کا نشانہ بنے۔

سی ٹی ڈی کے مطابق ہلاک ہونے والے ملزم ذیشان نے اپنی پوزیشن کا غلط استعمال کیا اور خاندان کو بورے والا تک کی سواری فراہم کی۔

ذیشان کے پاس دھماکا خیز مواد تھا اور خاندان کو بورے والا چھوڑنے کے بعد اس کا منصوبہ تھا کہ وہ اسے خانیوال یا ملتان میں کہیں چھوڑ دے۔

ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق شاید خلیل کے خاندان کو ذیشان سے متعلق معلوم نہیں تھا کہ وہ دہشت گرد بن چکا ہے، دہشت گردوں نے خاندان کو استعمال کیا اور وہ اس کی بھینٹ چڑھ گئے۔


ای پیپر